لاہور (رانا محمد عظیم ) ادویات مہنگی کرانے کے پیچھے با اثر مافیا ملوث ہے ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے 9سے 15فیصد تک ادویات کی قیمتیں بڑھانے کے نوٹیفکیشن سے پچیس دن پہلے ہی ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں نہ صرف بیس فیصد تک اضافہ کیا جا چکا تھا بلکہ کئی ایسی ادویات جو سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہیں ان کی مصنوعی قلت بھی پیدا کر دی گئی تھی حکومتی اعلان کے بعد قیمتوں میں نو فیصد سے لیکر پندرہ فیصد کی بجائے 30سے لیکر 37فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ، سب سے زیادہ اضافہ پاکستان کے اندر ہی بننے والی ادویات کی قیمتوں میں کیا گیا ہے جب کہ پاکستان کے اندر ادویات بنانے والی کمپنیوں میں سے 48فیصد کمپنیاں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کی ملکیت ہے جب کہ 23فیصد کمپنیاں پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان اور بڑے ہسپتالوں میں لگے ہوئے اہم عہدوں پر فائز ڈاکٹرز یا ان کے قریبی عزیزوں کی ہیں ادویات کی قیمتیں بڑھانے کیلئے باقاعدہ اس مافیا نے نہ صرف ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنا شروع کی بلکہ ساتھ ساتھ لابنگ بھی شروع کر دی کہ اگر قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو کئی میڈیسن کمپنیاں بند ہو جا ئیں گی جس سے بہت بڑا بحران آ جائے گا ادویات کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھانے کے حوالے سے بننے والی ایک رپورٹ میں کئی ایسے انکشافات بھی سامنے آ ئے ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ با اثر مافیا جو ہر حکومت میں نہ صرف اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی تک ان کی با آ سانی رسائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کئی مرتبہ از خود قیمتیں بڑھا دیتے ہیں جس پر انہیں کوئی پکڑ نہیں ہوتی، مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیسن مافیا کے حوالے سے اس سے قبل بھی تین مختلف اداروں کی رپورٹس حکومت کو جا چکی ہیں جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میڈیسن مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ اس کے آ گے حکومتی ادارے بے بس نظر آ تے ہیں مصدقہ ذرائع کے مطابق میڈیسن کے مافیا کے حوالے سے بنائی گئی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ 45ایسے سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی ہیں جن کی باقاعدہ میڈیسن کمپنیاں ہیں جب کہ سرکاری ہسپتالوں کے اہم ذمہ داران ان کے عزیز اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان اس مافیا کا نہ صرف حصہ ہیں بلکہ پاکستان کے اندر اکثر ہسپتالوں میں ملنے والی ادویات بھی انہی مافیا کی کمپنیوں کی ہیں ۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوپلیٹ ، اسکارڈ ، اسکارڈ پلس، ویلیسف، ٹونو فلیکس سمیت 55ایسی ادویات ہیں جن کی قیمتوں میں ایک ماہ پہلے ہی بیس فیصد تک اضافہ کر دیا گیا تھا اب حکومتی اعلان کے بعد دوبارہ اضافہ کر کے قیمتیں 30سے 35فیصد تک بڑھ گئی ہیں جب کہ جن ادویات کی مصنوعی قلت جان بوجھ کر پیدا کی گئی ہے ان میں تیرہ ایسی ادویات ہیں جن کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے ان کا حقیقت میں سٹاک موجود ہے مگر انہیں مارکیٹ سے غائب کر کے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 80فیصد بڑے پرائیویٹ ہسپتا لوں میں وہاں کے میڈیکل سٹوروں سے ملنے والی ادویات اسی با اثر مافیا کی ہیں جو اپنی اجاراداری قائم کئے ہوئے ہیں ۔ صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے روزنامہ 92سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اس لئے بہت سی انٹرنیشنل میڈیسن کی کمپنیاں بند ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے ان کو سہولت دینے کیلئے ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ۔