BN

تحریک انصاف کا مہنگائی کیخلاف ملک گیر احتجاج؛ انتخابات نہ ہوئے تو مزید انتشار ہوگا،10جولائی سے پہلے کال دے سکتا ہوں: عمران

پیر 20 جون 2022ء





اسلام آباد ،لاہور ،ملتان ( سپیشل رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی کال پرملک بھرمیں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کیخلاف پی ٹی آئی کارکن سڑکوں پرنکل آئے ،لاہور ،فیصل آباد،اسلام آباد،کرا چی،پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا ،کارکن امپورٹڈ حکومت نامنظوراورعمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے ،مظاہروں میں خواتین اوربچوں نے بھی بھرپورشرکت کی،مختلف شہروں میں عمران خان کاویڈیولنک خطاب براہ راست دکھانے کیلئے بڑی سکرینیں نصب کی گئی تھیں،لاہور میں لبرٹی چوک پرکارکنوں کی بڑی تعدادجمع ہوئی،ڈی جے کارکنوں کالہوگرماتے رہے ،یاسمین راشد،حماداظہرسمیت لاہورکی مقامی قیادت ریلیوں کی شکل میں احتجاج کے مقام پرپہنچی۔گوجرانوالہ میں کھلاڑی بڑی تعدادمیں گوندلانوالہ اڈا پہنچے ،کارکن بھرپورنعرے بازی کرتے رہے ،سیالکوٹ میں پیرس روڈپرسارادن میلے کاسماں رہا،عثمان ڈار،عمرڈاراورچودھری اخلاق سمیت مقامی قیادت اورہزاروں کارکنوں نے احتجاج میں شرکت کی،ترانوں پرکارکنوں کالہو گرمایا جاتا رہا،بہاولپورمیں ختم نبوت چوک میں کارکن جمع ہوئے ،مختلف علاقوں سے خواتین و بچے ،جوان اوربوڑھے ہزاروں کی تعدادمیں پہنچے ،بڑی سکرین پر قائد کاخطاب سنا، اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں احتجاج کیلئے کارکنوں کی بڑی تعدادجمع ہوئی،پنڈال سجایاگیا،بڑی سکرین سجائی گئی، راولپنڈی میں کمرشل مارکیٹ،فیصل آباد میں گھنٹہ گھر،ملتان میں چوک شاہ عباس اور پشاور میں ہشت نگری میں کارکنان جمع ہوئے ،ٹوبہ ،وہاڑی،رینالہ خورد،چشتیاں،ہارون آباد،اوکاڑہ،میلسی،چونیاں،نارووال،نوشہرہ ورکاں،احمدپور شرقیہ سمیت پنجاب کے دیگرعلاقوں میں بھی کارکن سڑکوں پرنکلے ،کراچی میں شاہراہ قائدین پر مظاہرہ ہوا،عمران اسماعیل،خرم شیر زمان سمیت سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی، صادق آباد،دادو،سکھر،جیکب آباد،ٹنڈوالہ یارسمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی کارکن بڑی تعدادمیں سڑکوں پرنکلے ،ایبٹ آباد،باجوڑ،سوات ،دیر،ہنزہ اوربونیرمیں بھی کارکنوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تحریک انصاف کے زیر اہتمام مہنگائی کیخلاف احتجاجی مظاہروں سے ویڈیولنک خطاب کرتے ہوئے کہامجھے خوف ہے قیمتیں جو بڑھی ہیں وہ یہاں پر نہیں رکیں گی بلکہ مزید بڑھیں گے ، ہم اڑھائی سال سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے ہم پربھی قیمتیں بڑھانے کا پریشر تھا لیکن ہم نے اپنے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کی، معیشت کو جو نقصان ہورہا ہے وہ ناقابل تلافی ہے ،آج ہماری معیشت خطرے میں ہے ،موڈیز نے معیشت کو ڈائون گریڈ کردیا جس کامطلب ہے ہمیں عالمی برادری سے قرضے نہیں ملیں گے ،فیٹف سے ملک کو نکالنے کیلئے سارے اداروں نے ملکر حماد اظہر کی سربراہی میں کام کیا،ہم نے فیٹف سے ملک کو نکالنے کیلئے قانون سازی کی ،ان شااللہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا،ہم نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ 6200 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا ،32ارب ڈالر کی ترسیلاب زر آئیں ریکارڈ فصلیں ہوئیں 4.4،فیصد پرہماری زراعت آگے بڑھ رہی تھی، پھر کیا ہوا سارا کچھ نیچے آگیا ،امریکہ سے سازش ہوئی اورپاکستان کے میر جعفر اورمیرصادق ان کیساتھ ملے اورہماری حکومت کو ختم کردیا گیا جس کا اثر معیشت پر پڑا ،میں نے نیوٹرلز کوسمجھایا اگر اس سازش کے تحت ہماری حکومت کو گرادیا گیا تو ان سے سنبھالا نہیں جائے گا ۔ میرا سوال ہے کیا پاکستان کی عدالتیں آزاد نہیں ، ہم نے تو سپریم کورٹ پر حملے کانہیں سوچا، اداروں کو چلنے دیا ،نیب نے اٹھارہ سال میں 280 ارب اور ہمارے تین سال میں 480ارب روپے وصول کئے ،میں ان سے پوچھتا ہوں یہ حکومت روس سے سستا تیل کیوں نہیں لے رہی ہے کیونکہ یہ امریکہ کے غلام ہیں اوراس سے ڈرتے ہیں ، این آراو ٹو لیکریہ قوم کا 1200ارب روپیہ ہڑپ کرجائیں گے ،مجھے خوف ہے یہ پاکستان کو سری لنکا والے راستے پر لیکر جا رہے ہیں ، میں شہبازشریف اورمفتاح اسماعیل سے کہتا ہوں امریکی کوئی چیزفری میں نہیں دیتے بلکہ قیمت لیتے ہیں، امریکہ ہم سے ہماری حقیقی آزادی کی قیمت لے گا۔ بلاول بھٹو کہہ رہا ہے ہمیں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے ہیں ہم بھی چاہتے تھے بھارت سے اچھے تعلقات ہوں لیکن جب بھارت نے کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کیا تو ہم نے تعلقات توڑے ، سلیم مانڈوی والا نے کہا اسرائیل کوتسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں ،میں یہ کہہ رہاہوں کہ اسی لئے تحریک انصاف کی حکومت کو تبدیل کیاگیا ،یہی وہ سازش ہے کیونکہ ان سب کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہوئے ہیں ،موجودہ حکومت نے میچ فکس کرنے کی ساری تیاری کرلی ہے ، الیکشن کمیشن کوساتھ ملایا ہوا ہے ، لاہور میں ہمارے امیدوار کے بیٹے کوگولی لگی اورالٹا اس کے اوپر ہی پرچہ کاٹ دیا ، یہ صحافیوں اور سوشل میڈیا پر کریک ڈائون کررہے ہیں ، یہ خوف طاری کرکے ملک پر مسلط رہیں گے کیونکہ خوف سب سے بڑا بت ہے اس کوتوڑنا ہوگا،ان کے باہر بیٹھے لیڈر انہیں کنٹرول کررہے ہیں، یہ ملک کی آزادی رہنے دینگے نہ اداروں کو چلنے دینگے ، ساری قوم نے ملکرجدوجہد کرناہے ، آپ نے تیاری کرنی ہے ،پرامن ا حتجاج ہمارا حق ہے اورصاف اورشفاف الیکشن کی تاریخ نہیں ملتی اس وقت تک کرینگے ، اگر ملک میں صاف اورشفاف الیکشن نہ ہوئے تو پھر مزید انتشار ہوگا،حالات بگڑیں گے ۔ اسلام آباد میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاآئی ایم ایف تو ہمارے دور میں بھی تھا ہم نے مہنگائی نہیں کی، جتنا عمران خان نے ڈیزل سستا کیا اتنا کسی چیزکو نہیں کیا،ملک پر وہ مسلط ہیں جن کے اثاثے باہر ہیں ، موجودہ حکومت نئے الیکشن کااعلان کرے اور عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے دے ،یہ کچھ بھی کرلیں قوم اب رکنے والے نہیں ہے ۔ لاہورمیں لبرٹی چوک پرکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے حماداظہرنے کہاپاکستان کی وفاداری فروخت کرکے اقتدار پر قبضہ کیاگیا،حکومت کے جبر کو مزید برداشت نہیں کریں گے ،عمران خان اس بارفائنل کال دینے والے ہیں،نالائق حکمرانوں کے محلوں کی بنیادیں ہلادیں گے ۔محمودالرشید نے کہاعمران خان پاکستان اور غریبوں کی بات کرتاتھااسلئے ہٹایا گیا۔ ملتان میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا پوری قوم کی نظریں اس وقت عمران خان کے اوپر ہیں،امپورٹڈ حکومت نے سازش کے تحت اقتدار حاصل کیا ، بحرانوں سے نکالنے کا واحد حل فوری انتخابات ہیں۔اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں کہااس امپورٹڈحکومت کے دو ماہ میں ملکی تاریخ کے مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ،ابھی قیمتوں میں مزیداضافے کی خبر آ رہی ہے ۔فیصل جاوید نے ٹویٹ کیا پر امن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے ۔ شیریں مزاری نے اپنے بیان میں کہا امریکی سازش کوعملی جامہ پہنانے کا عمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے ،ن لیگ معیشت برباد جبکہ پیپلز پارٹی خارجہ پالیسی کو امریکی مطالبات کے تابع کر رہی ہے ۔شہباز گل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا خرم دستگیر کے بیان پر تحقیقات کیلیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔ اسلام آباد (خبر نگار خصوصی ،92نیوز رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوزایجنسیاں)چیئرمین تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے تیاری کر لیں،10جولائی سے پہلے کال دے سکتاہوں،عوام مہنگائی کے باعث غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاتحریک عدم اعتماد کے پیچھے مہنگائی کا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا تھا، آپ حکومت نہیں سنبھال سکتے تھے تو کیوں سازش کی تھی،ڈی جی آئی ایس پی آر یہ طے نہیں کرسکتے کہ سازش نہیں تھی،موجودہ حکومت رجیم چینج سازش کاحصہ بنی،پی ٹی آئی حکومت کیخلاف سازش تھی یا مداخلت اسکی ابھی تک کوئی تحقیقات میرے سامنے نہیں آئیں،جو اس سازش میں ملوث ہیں وہ چاہتے ہیں سائفر کو دبا دیا جائے ، قومی سلامتی کمیٹی نے ہمارا مؤقف تسلیم کیا،بد قسمتی سے پاکستان کے بڑے اورنامور ڈاکوؤں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا،نیب میں ترامیم سے ایک ایک ڈاکو کو این آر او ملے گا، ان کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے لوگ باری باری مر رہے ، کوئی ہارٹ اٹیک سے مر رہا ،کوئی خودکشی کر رہا ،مشتاق چینی والا رہ گیا ہے لگتا ہے اسکا اگلا نمبر ہے ، سوشل میڈیا صارفین دہائیاں دے رہے ہیں خان صاحب اسکو بچا لیں، 25مئی کو جسطرح پولیس نے تشدد کیا اسکی مثال نہیں ملتی، جیسی شیلنگ یہاں کی گئی وہ سارا منظر نامہ مقبوضہ کشمیر جیسا تھا،رائٹ ٹو پروٹیسٹ اور رائٹ ٹو موومنٹ کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی حیدر زیدی نے این اے 240ضمنی الیکشن کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ سیاسی کمیٹی نے ایک حلقہ میں پُرامن ، صاف اور شفاف الیکشن نہ کرانے پر الیکشن کمیشن کی استعداد کاراور صلاحیت پر تشویش کا اظہار کیا اورضمنی انتخاب کالعدم قرار دینے کی سفارش کی۔عمران خان نے کہا الیکشن کمیشن کی کارکردگی مایوس کن ہے ، این اے 240میں تشدد اور دھاندلی کی غیر معمولی اطلاعات کے باوجود انتخاب کالعدم قرارنہ دینے کا فیصلہ باعث تعجب ہے ، محض 8 فیصد لوگوں کی ووٹنگ میں شمولیت بڑے پیمانے پر عوام کے انتخابی عمل سے لاتعلقی کا اظہار ہے ،الیکشن کمیشن نے ڈسکہ ضمنی انتخاب میں 40 فیصد ٹرن آؤٹ کے باوجود انتخاب کالعدم قرار دیا، فیصلہ سازی میں دوہرے معیارات الیکشن کمیشن کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔انہوں نے کراچی ضمنی الیکشن کے نتائج کالعدم قراردینے اور دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ عمران خان نے علی زیدی اورعمران اسماعیل سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور رکن سندھ اسمبلی شبیر قریشی کی گرفتاری کی تفصیلات معلوم کیں۔ عمران خان نے سندھ میں پولیس گردی کی شدید مذمت کی ۔ عمران خان نے لاہور سے مقامی رہنما خالد گجر کو بھی فون کیا ۔عمران خان نے کہا سندھ اورپنجاب میں غنڈہ گردی کوفروغ دیا جا رہا ہے ،کسی مہذب ملک میں پولیس کے ذریعے ایسی کارروائیوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں










اہم خبریں