لاہور( کرائم رپورٹر،نامہ نگار خصوصی، 92 نیوز رپورٹ،آن لائن) موٹروے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے ،متاثرہ خاتون نے ملزم عابد اور شفقت کی شناخت کرلی، ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون نے وزیر اعظم سے دونوں ملزموں کی پھانسی کا مطالبہ کردیا۔پولیس نے متاثرہ خاتون کو دونوں ملزموں کی تصاویر بھیجی تھیں۔ دوسری طرف لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے زیادتی کے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیس کی سماعت کی۔گجر پورہ پولیس نے ملزم شفقت کو بکتر بند گاڑی میں سخت سیکیورٹی میں پیش کیا۔ پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کی شناخت پریڈ کرانی ہے ، 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو 29 ستمبر دوبارہ پیش کیا جائے اور تفتیشی افسر جلد از جلد ملزم کی شناخت پریڈ کرائے ۔ عدالت نے ملزم سے استفسار کیا تم نے کچھ کہنا ہے تو بتاو۔ ملزم نے کہا کہ اس سے مہربانی کی جائے اور اسے چھوڑ دیا جائے ۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ تمہارا ڈی این اے میچ کر گیا تاہم اگر تم نے کچھ نہیں کیا ہو گا تو چھوٹ جائو گے ۔ اس سے قبل پولیس نے ملزم کو سیشن کورٹ میں بھی پیش کیا تاہم دہشت گردی کی دفعات مقدمے میں شامل ہونے کی وجہ سے عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اسے انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو پیش کیا جائے ۔ لاہور پولیس نے سانحہ کی تفتیشی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی ۔مرکزی ملزم عابد کی فرار ہونے کی ذمہ داری پولیس نے میڈیا پر ڈال دی ہے ۔ واقعہ کے بعد میڈیا نے خبر چلائی تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم عابد اپنی بیوی کے ساتھ فرار ہوگیا۔ دریں اثناتحقیقاتی ٹیموں کو مرکزی ملزم عابد کے متعلق اہم معلومات مل گئیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم عابد واردات کے بعد دوسرے شہر میں جا کر رو پوش ہوچکا ہے ملزم عابد کے زیر حراست ساتھیوں اور اس کے علاقہ سے ملنے والے شواہد کی بنا پر ٹیمیں ملزم کی گرفتاری کے لیے روانہ کر دی گئیں ہیں، عابد کی گرفتاری چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہے مرکزی ملزم عابد کا ڈکتیوں میں ملوث ایک اور ساتھی علی شیر پہلے سے جیل میں ہے اس سے بھی پو لیس کو اہم معلو ما ت حا صل ہو ئی ہیں ۔ مرکزی ملزم عابد کے تیسرے ساتھی اقبال عرف بالا مستری دس مختلف موبائل سمز استعمال کررہا تھا۔وقوعہ کی رات موٹروے پر دو نہیں تین افراد موجود تھے ،عابد ملہی، شفقت اور اقبال عرف بالا مستری وہاں تھے ۔زیادتی کیس میں پولیس نے دہشت گردی کی دفعات شامل کر دیں ۔

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،سپیشل رپورٹر ، 92نیوز)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے سزاؤں کو مزید سخت کریں گے ،زینب الرٹ بل میں واقعات کی جلد تفتیش کے نظام کو وضع کیا گیا۔منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سنیٹر ذیشان خانزادہ اور زینب کے والد امین انصاری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادتی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے سے متعلق قانون سازی کو بہتر کریں گے جبکہ سرعام پھانسی کی سزا کیلئے اتفاق رائے سے قانون سازی کی جائے گی۔سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ جنسی درندوں کو ہرصورت نشان عبرت بنائیں گے ، یہ لوگ انسان کہلوانے کے حقدار نہیں،پوری قوم کی آواز ہے کہ جنسی تشدد کے مجرموں کو سرعام لٹکایا جائے ۔۔ انہوں نے کہا کہ اگر پھانسی کا قانون نہیں بھی نافذ ہوسکتا تو ایسے جرم کی کم از کم سزا یہ ہونی چاہیئے کہ مجرم کو جنسی طور پر ناکارہ کر دیاجائے ۔