اسلام آباد (خبرنگار)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس1999 میں حزب اختلاف کا ترمیمی بل متفقہ طورپر منظور کرلیا ہے جبکہ نئے صوبوں کے قیام کی آئینی ترمیم پر وزارت قانون سے تحریری وضاحت طلب کرلی گئی ہے ۔ حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے بھی پیپلز پارٹی کے رکن فاروق ایچ نائیک کے بل کی حمایت کردی تاہم حکومتی جماعت تحریک انصاف کے کسی رکن نے کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اجلاس چیئرمین جاوید عباسی کی صدارت میں ہوا۔ نیب آرڈیننس ترمیمی بل کے محرک سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت سے زیادہ چیئرمین نیب کے پاس اختیارات ہیں۔ ترمیم کے تحت 50کروڑ روپے سے کم بدعنوانی کاریفرنس نیب کا اختیار نہیں ہوگا، اس کیلئے انسداد بدعنوانی کے صوبائی محکمے کام کریں گے ، ایف آئی آر کٹنے تک کسی کو گرفتار کیاجاسکے گانہ میڈیا ٹرائل ہوگا، احتساب عدالت کے پاس ضمانت دینے کا اختیار ہوگا کیونکہ معصوموں کو جیلوں میں ڈال دیتے ہیں اور 90 دن بعد جب وہ رہاہوتاہے تو اس سے بڑی کیا سزا ہوگی کہ بغیر کسی قصور کے 90دن بدنامی اورمیڈیا ٹرائل ہوتارہا،ترامیم کے بعد حراستی تفتیش کو ختم کردیا جائے گا ، زیر تفتیش شخص سے بھاری ضمانت لی جاسکتی ہے جیسا کہ برطانیہ میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قانون کیلئے بھی ڈیٹرنس ہونا چاہیے ورنہ جنگل کا قانون ہوگا۔ سیکرٹری قانون نے کہاکہ حکومت نیب ترمیمی بل لارہی ہے جوکہ فاروق ایچ نائیک کے بل کی روح کے مطابق ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ سیکرٹری قانون نے اصولی طورپرفاروق نائیک کے بل سے اتفاق کیا ہے ۔ بیرسٹر سیف نے کہا جس مقصد کیلئے نیب بنا وہ اہداف حاصل نہ ہوسکے اور بل کی حمایت کی ۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت قانون کی جانب سے نئے صوبوں کی آئینی ترمیم پر تیاری کرکے نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر تحریری موقف طلب کرلیا۔ عائشہ رضا فاروق نے کہاکہ وزارت قانون کی اس سے بڑی نا اہلی کیا ہوسکتی ہے کہ یہ تیاری ہی کرکے نہیں آتے ۔