اسلام آباد سے روزنامہ 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے 15 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر اور فنانسنگ کا منصوبہ بغیر بولی چینی کمپنی کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے اس کی مخالفت کی ہے اور اس اقدام کو شفافیت، ہائوسنگ پالیسی اور وفاقی کابینہ کے فیصلے کے منافی قرار دیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر بہت بڑا مالیاتی منصوبہ ہے، اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تو کروڑوں پاکستانیوں کے لئے سر چھپانے کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔ یہ پی ٹی آئی حکومت کا وعدہ بھی ہے اوراسے اب ایفا ہو جانا چاہئے۔ ظاہر ہے اس منصوبے کی تکمیل کے لئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے اور پاکستانی معیشت اتنی مستحکم نہیں ہے کہ وہ اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کو بولی کے بغیر چینی کمپنی کے حوالے کرنے کا سوچ رہی ہے۔ بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے تاہم اس سلسلہ میں وفاقی کابینہ کے تمام ارکان، تمام متعلقہ محکموں کی رضامندی اور تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے سرکاری قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہئے تاکہ کل کلاں اختلافات کی وجہ سے یہ منصوبہ کسی تاخیر کا شکار نہ ہو اور حکومت ،نیک نامی کی بجائے تنقید و اعتراضات کی زد میں نہ آئے۔ تاکہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیاجا سکے۔