آج 6 ستمبرکوملک بھر میں یوم دفاع و شہدا ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہاہے۔ آج دن کا آغاز مساجد و مدارس میں نماز فجر کے بعد شہدائے جنگ ستمبر کے لئے قرآن خوانی اورملک و قوم کی سلامتی و استحکام کی خصوصی دعائوں سے ہو ا، جبکہ دفاع وطن کے لئے جانیں قربان کرنے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی یادگاروں پر پھول چڑھانے کی تقاریب کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی شہداء کے گھروں میں جانے کا اعلان کیا گیاہے ،اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پرومو بھی جاری کیا ہے۔6ستمبر 1965ء کو مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں ہم پر جنگ مسلط کی لیکن افواجِ پاکستان نے دفاع وطن کے تقاضے نبھاتے ہوئے ہر محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔ جنگ ستمبر نے قوم میں ایک ولولہ اور بے پایاں جذبہ پیدا کیا تھا جس کے نتیجے میں پاک فوج نے اپنے سے تین گنا زیادہ دفاعی صلاحیتوں کے حامل مکار دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا۔ بالآخر بھارتی لیڈر شپ نے اقوام متحدہ کے در پر جنگ بندی کی دہائی دی۔ یہ پاک فوج کی جنگی صلاحیتیں اور قوم کا جوش و جذبہ ہی تھا کہ اس کے بعد دشمن نے کبھی بھی جنگ کا ارتکاب نہیں کیا۔ کارگل کے محاذ پر بھی دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد جب بھارت نے ایک بار پھر غلطی دھراتے ہوئے رات کے اندھیرے میں بالا کوٹ کے جنگلات میں کچھ ہتھیار پھینکے تو عسکری قیادت نے اعلان کیا کہ بزدل بھارت ہمارے حیران کن جواب کا انتظار کرے۔ وقت اور جگہ کا انتخاب ہم خود کرینگے۔27فروری کی صبح پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں 3 مختلف مقامات پر بھارتی سپلائی ڈپوزکو ٹارگٹ کیا اور 2بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جبکہ ایک پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا۔ اب بھی پاکستان جارحیت کا جواب امن سے دے رہا ہے۔ 5اگست کے مودی کے اقدام کے بعد پاکستان نے انتہائی صبر و تحمل سے کام لیا اور سفارتی محاذ پر بھارت کو تنہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی فضا اس وقت سوگوار ہے۔ آئے روز گھروں سے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کے محاصرے کا آج 33واں روز ہے لیکن کشمیریوں کے جذبے ماند پڑے ہیں نہ ہی ان کی جدوجہد آزادی میں کمی آئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جنگ کا بیج بو رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی کوئی پالیسی نہیں۔ کشمیر شہ رگ ہے ،جس کے لئے آخری گولی ،آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے۔ اب عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے بڑھے اور خطے کے حالات کو معمول پر لانے کے اقدامات کرے۔ پاک فوج نے اندرونی ملک میں بھی بڑی لمبی جنگ لڑی ہے۔ آپریشن ضرب عضب‘ خیبر ون ‘ ٹواور اب آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک بھر میں امن وامان قائم کیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے سپوتوں کی شہادتوں سمیت 70ہزار انسانی جانوںاور 106ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھایا ہے۔ اس کے باوجود پاک فوج آگے ہی بڑھتی جا رہی ہے۔پاک فوج اتنی قربانیوں کے باوجود میدان جنگ میں کھڑی دشمن کو للکار رہی ہے لیکن مودی سرکار خطے کو جنگ میں دھکیلنے سے باز نہیں آ رہی۔ پاکستان نے کبھی بھی صبر و تحمل کے دامن کو نہیں چھوڑا، وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی خطے میں امن و امان کو ترجیح دی اور متعدد بار مودی سرکارکو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پیشکش کی۔ لیکن مودی سرکار پر ایک ہی بھوت سوار ہے کہ وہ جنگی جنون کو ہوا دے کر پاکستان کو زیر کرے گا،جواس کی خام خیالی ہے۔ پاکستان نے کشمیر میں جاری بھارتی بربریت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ اپنے منصب کے مطابق اس وقت پوری دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب امارات نے مودی کو ملک کا سب سے بڑا تمغہ دیا تو پاکستان میں اس پر بہت تنقید ہوئی، ناقدین نے پاک عرب تعلقات پر انگلیاں اٹھائیں لیکن کشمیر کے معاملے پر امارات اورسعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اکٹھے دورہ پاکستان اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر پر عرب ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح چینی وزیر خارجہ کا کشمیر کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر دورہ بھارت ملتوی کرنا بھی پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اس وقت دفاع وطن کے لئے پاک فوج مستعد ہے جبکہ پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے جو 6ستمبر 1965ء کے جذبے کو دہرانے کے لئے بے تاب ہیں۔ اس وقت پوری قوم کو دفاع وطن کے لئے متفکر ہونے کی ضرورت ہے۔ آج کا یوم دفاع قومی، سیاسی وعسکری قیادت اور پوری قوم سے تقاضا کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کے تحت دفاعِ وطن کے تقاضے نبھائے جائیں۔ آج ہر محاذ پر اور خصوصی طور پرملکی سرحدات پر قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں تو ہماری سیاسی قیادت کو باہمی لڑائی جھگڑے سے ہٹ کر ان نازک حالات میں ملکی دفاع پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دشمن کو ہمارے اندرونی اور آپسی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ آج کے دن پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرے کہ وہ دفاع وطن کے لئے تن من دھن قربان کرنے اور کشمیریوں کا ساتھ دینے سے کسی بھی مرحلے پر گریز نہیںکرے گی۔