کراچی(رپورٹ :ایس ایم امین)سندھ میں8 ارب86کروڑروپے لاگت کا5سالہ زرعی منصوبہ سندھ ایگریکلچرل گروتھ پراجیکٹ ناکام ہوگیا۔محکمہ زراعت اورلائیوسٹاک کے کرپٹ افسران کی طرف سے تجربات کی آڑمیں سرکاری خزانے کو5ارب روپے کاٹیکہ لگانے کا انکشاف ہواہے ،عالمی بینک سے قرضہ حاصل کرکے شروع کیاجانے والامنصوبہ ناکام ہونے کے باوجود مزید قرض لینے کی تیاری کرلی گئی ہے ۔سندھ میں گوشت،دودھ اورسبزیوں کی پیداواربڑھانے کے لیے شروع کیا گیامنصوبہ 5ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجودبدانتظامی اورگورننس کے مسائل کے باعث ناکامی سے دوچارہواہے ۔معتمدترین سرکاری ذرائع کاکہناہے کہ منصوبے کی ناکامی کی وجہ اس پرعملدرآمدکیلئے تعینات سرکاری افسران کی ناتجربہ کاری اورحکومت سندھ کی غیرذمے داری ہے ،منصوبے کے مقاصدپورے نہ ہونے سے تمام فنڈزضائع ہونے کاخدشہ ہے ۔منصوبے کے تحت سندھ میں لال مرچ، پیاز،کھجوراورچاول کی پیداوار و منافع میں 20فیصدتک اضافہ کرناتھاجبکہ لائیواسٹاک کے شعبے میں بہتری لاکردودھ کی پیداوار کو4فیصد تک بڑھاناتھا۔دوسری جانب طاقتوربیوروکریسی نے منصوبے کی ناکامی پرپردہ ڈالنے کے لیے حکومت سندھ سے منصوبے کی مدت میں توسیع کرنے کی سفارش کرتے ہوئے مزید4ارب روپے فراہم کرنے کامطالبہ کردیا ہے ۔سرکاری ذرائع کا کہناہے کہ سندھ میں گوشت اورسبزیوں کی پیدواربڑھانے کا مقصدخلیجی ممالک کوگوشت کی فراہمی میں اضافہ اورملکی ضروریات پوری کرنا تھا۔