لاہور (فورم رپورٹ: رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری) وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمانی پارٹیوں سے مل کر اچھا تاثر دیا لیکن اس پر بھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی انا کو ختم نہ کیا اور بائیکاٹ کر کے ثابت کیا کہ عوام کی جان سے ان کو کوئی لگائو نہیں ، وزیر اعظم عمران خان اور حکومتی ارکان کا رویہ سنجیدہ نہیں ، یہ ایک لفظ بھی سننے کو تیار نہیں ، حکومت کو برداشت کا رویہ اپنانا اور اپوزیشن کو بھی سننا ہو گا۔ان خیالا ت کا اظہار سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے روزنامہ 92 نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان کے 22کروڑ عوام کرونا کی وبا میں سیاسی قیادت کی جانب دیکھ رہے ہیں ،حکومت اپنی جگہ پر بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ اس سلسلہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلا جائے ، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انا کو ایک سائیڈ پر رکھنا ہو گا، وزیر اعظم نے اچھا تاثر دیا اور تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں سے خود خطاب کیا لیکن اس کے باوجود اگر شہباز شریف یا بلاول بھٹو نے بائیکاٹ کیا تو اس کا مطلب ہے کہ ان کو اپنی انا عوام کی جان اور مال سے زیادہ پیاری ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا تمام سیاسی جماعتیں کرونا کے ایشو پر ایک ہو سکتی ہیں لیکن اس کیلئے حکومت کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا ،پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں پہلے وزیر اعظم نے لمبی تقریر کی، پھر ظفر مرزا کو تقریر پر لگا دیا،ا س کے بعد شہباز شریف کو کہا گیا کہ وہ بات کریں ،شہباز شریف نے پوچھا کہ وزیر اعظم موجود ہیں جس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک ضروری میٹنگ کیلئے چلے گئے ۔انہوں نے کہا کہ جب حکومتی رویہ ہی یہ ہے تو ہم کس سے بات کریں۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم عمران خان کا رویہ سنجیدہ نہیں ۔ پیپلزپا رٹی کے رہنما عبد القادر پٹیل نے کہا کرونا اس وقت قومی ایشو بن چکا اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہو نا چاہئے لیکن اس موقع پر حکومت کا رویہ سنجیدہ نہیں ، وزیر اعظم کو سنجیدہ رویہ اپنانا ہو گا، وزیر اعظم کو خود نہیں معلوم کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا عمران خان کے رویہ سے واضح ہے کہ وہ سیاستدان نہیں ۔