BN

آصف محمود

صاف چلی شفاف چلی ؟

منگل 17 جولائی 2018ء
جناب اظہار الحق حیران ہیں کہ عمران خان نے مفتی قوی کو اپنا مذہبی مشیر کیسے بنا لیا۔ عالی جاہ جس جماعت میں ابرارالحق امور خارجہ کا سیکرٹری بن سکتا ہے وہاں مفتی قوی مذہبی امور کا مشیر بن جائے تو حیرت کیسی؟ پہلی فرصت میں انہیں اُٹھا کر باہر پھینک دیجیے ، سپنوں کی کرچیاں گھر میں پڑی رہیں تو تکلیف دیتی ہیں۔ اظہار الحق صاحب کا حکم ہے میں ان روشن ستاروں کی فہرست شائع کر دوں جو الیکشن جیت کر نئے پاکستان کو منور فرمانے پر تلے بیٹھے ہیں۔کس کس کا ذکر کروں صاحب ، یہاں تو
مزید پڑھیے


الیکشن نہ ہوا ، تماشا ہو گیا

هفته 14 جولائی 2018ء
انتخابات سر پرہیں اور انتخابات کے اس حمام میں سبھی قائدین کرام ننگ دھڑنگ کھڑے ہیں۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں جودوسروں پر اخلاقی برتری کا کوئی دعوی کر سکے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ کسے کتنا موقع ملا۔ جس اعلی حضرت کو جتنا موقع ملا وہ اتنا ہی بے نقاب ہوا۔ اب یہ کسی اصول ، اخلاقیات یا اعلی مقاصد کی تگ و دو کم اور ایک تماشا زیادہ لگ رہا ہے۔ جس نے اچھی ڈگڈگی بجا لی وہ مجمع لگا لے گا اور جس نے مجمع لگا لیا اسے پانچ سال کے لیے قومی خزانے کو
مزید پڑھیے


لاڈلا کون ؟

جمعرات 12 جولائی 2018ء
پاکستانی سیاست کا حقیقی لاڈلا کون ہے؟ عمران خان یا نواز شریف؟ آئیے ذرا اپنی تاریخ سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمران خان پر الزام ہے کہ انہیں مقتدر قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔گاہے جنرل(ر) پاشا کا نام اس مقدمے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی عمران خان کی نا اہلی کی درخواست پر آنے والے فیصلے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ بہت لاڈلے ہیں۔تاہم سچ یہ ہے کہ ہر دو الزامات کی نوعیت ابھی محض الزام ہی کی ہے ۔لیکن دوسری جانب معاملہ
مزید پڑھیے


کرپشن ثابت نہیں ہو سکی؟

منگل 10 جولائی 2018ء
ارشاد ہوا نواز شریف کو کرپشن پر سزا نہیں ملی۔ اس سے مجھے مرحوم ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی یاد آ گئے۔یہ پر ویز مشرف کے زمانے کی بات ہے۔ تحریک وکلاء اپنے جوبن پر تھی۔ علی احمد کرد اور ڈاکٹر شیر افگن نیازی میرے ٹاک شو میں مہمان تھے۔ علی احمد کرد نے کہا مشرف نے آئین توڑا ہے انہیں آئین شکنی کی سزا ملنی چاہیے۔ڈاکٹر شیر افگن مسکرائے اور کہا : میں شرط لگانے کو تیار ہوںاور ثابت کر کے دکھا سکتا ہوں کہ پرویز مشرف نے آئین نہیں توڑا۔میں شرط ہار گیا تو پرویز مشرف کا
مزید پڑھیے


احتساب عدالت کا فیصلہ

هفته 07 جولائی 2018ء
احتساب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا یا تو منیر نیازی یاد آ گئے: ’’ ہُن جے ملے تے روک کے پچھاں ویکھیا ای اپنا حال! کتھے گئی اوہ رنگت تیری سپاں ورگی چال گلاں کردیاں گنڈیاں اکھاں وا نال اڈدے وال کتھے گیا اوہ ٹھاٹھاں ماردے لہو دا انہاں زور ساہواں ورگی گرم جوانی لے گئے کیہڑے چور‘‘ کہاں ان کا کروفر، کہاں ان کی دھمکیاں کہ ہم لوہے کے چنے ہیں، کہاں وہ گز بھر لمبی زبانیں کہ ہم تم پر زمین تنگ کر دیں گے، جہاں وہ ناتراشیدہ لہجوں سے ٹپکتا تعفن جسے یاروں نے بیانیے کا نام دے ڈالااور کہاں یہ خانہ ویرانی کہ
مزید پڑھیے


انتخابی نشان ۔۔ الیکشن کمیشن کی خدمت میں چند سوالات؟

جمعرات 05 جولائی 2018ء
الیکشن کمیشن کی خدمت میں چند سوالات رکھنے سے پہلے تمہید کی صورت ایک سوال آپ سے۔ کیا آپ کو معلوم ہے امیدواران کو انتخابی نشان کیوں جاری کیے جاتے ہیں؟ بیلٹ پیپر پر محض امیدواران کا نام دیکھ کر بھی تو ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں پھر یہ ہر امیدوار کو انتخابی نشان کیوں جاری کیا جاتا ہے؟ انتخابی نشان جاری کرنے کی ایک حکمت ہے۔اور وہ یہ کہ ہر ووٹر اتنا باشعور اور پڑھا لکھا نہیں ہوتا کہ وہ امیدواران کے نام دیکھ کر پڑھ سکے اور جان سکے کہ اسے اپنا ووٹ کسے دینا ہے۔بعض ووٹر بالکل ان
مزید پڑھیے


ایک امیدوار کئی حلقے ۔۔یہ تماشا کب تک؟

بدھ 04 جولائی 2018ء
الیکشن ایک سنجیدہ عمل ہے، اسے محض الیکشن کمیشن پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ چند سوالات ایسے ہیں جن پر ہمیں خود بطور قوم غور کرنا ہو گا ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ایک امیدوار کو بیک وقت ایک سے زیادہ حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے؟ ہمارے ہاں ایک سے زیادہ نشستوں پر الیکشن میں حصہ لینا ایک فیشن بن گیا ہے۔کوئی صاحب چار نشستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں تو کوئی پانچ سے۔ کسی کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ ایک نشست سے کھڑا ہو کر کہیں ہار نہ
مزید پڑھیے


کیا سیاست اپنے اخلاقی وجود سے بے نیاز ہو چکی؟

هفته 30 جون 2018ء
کیا سیاست اپنے اخلاقی وجود سے بالکل بے نیاز ہو چکی؟ کیا اب یہ محض بے ہودگی ، یاوہ گوئی اور پگڑی اچھالنے کا اکھاڑہ ہے جہاں میدان اسی کے نام ہو گاجو زیادہ بد زبان ، زیادہ جھوٹا اور زیادہ بد تمیز ہو؟ ابولکلام آزاد نے کہا تھا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کیا اب اس کی آنکھ سے حیا بھی اٹھ چکی؟ یہ پہلا منظر ہے۔کلثوم نواز بیمار ہوتی ہیں، انہیں لندن لے جایا جاتا ہے۔ یہاں شور مچ جاتا ہے کہ یہ سب ڈرامہ ہے اور کلثوم نواز تو بالکل
مزید پڑھیے


اسلام یا اسلام آباد؟

بدھ 27 جون 2018ء
بزرگوں کی ترجیح کیا ہے؟ اسلام یا اسلام آباد؟ اسلام آباد کی محبت میں یہ سب اکٹھے ہو سکتے ہیں تو اسلام کی خاطر ایک کیوں نہیں ہو سکتے؟میں سہیل وڑائچ ہوتا تو پوچھتا بزرگو کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ مجل عمل کے احباب خفا ہیں ، سچ مگر یہ ہے کہ بزرگوں نے اسے غلطی ہائے مضامین بنا چھوڑا ہے۔سیاست اگر ایشوز کی بنیاد پر کی جاتی تو صرف نظر بھی ممکن تھا اور بدلتے پینتروں کو بھی حکمت عملی کا نام دیا جا سکتا تھا۔ لیکن جب صرف مذہب کا سہارا لے کر عوام سے ہمکلام ہو ا
مزید پڑھیے


متحدہ مجلس لطائف؟

هفته 23 جون 2018ء
متحدہ مجلس عمل؟ یہ ایک سیاسی اتحاد ہے یالطائف کا کوئی مجموعہ؟ فرض کریں یہ سارے بزرگ مل کر بیٹھے ہیں اوراسلامی انقلاب لانے کے لیے مسلسل غور و فکر فرما رہے ہیں۔سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے ہیں تا کہ اجتماعی بصیرت سے ایک لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہماری کارکردگی کیا رہی اور اگلے پانچ سالوں کے لیے ہمارا ایجنڈا کیا ہے۔ چشم تصور سے دیکھیے اس نشست کے بانکپن کا عالم کیا ہو گا۔ سب سے پہلے قبلہ سراج الحق اٹھیں گے ۔ وہ جناب امیر العظیم سے کہیں گے
مزید پڑھیے