BN

آصف محمود



پیپلز پارٹی نے کبھی یو ٹرن نہیں لیا؟


بلاول بھٹو زرداری ، مسند ارشاد جنہیں میراث میں آئی ہے، کس تجاہل عارفانہ سے فرماتے ہیں : پیپلز پارٹی نے کبھی یو ٹرن نہیں لیا۔ قائم علی شاہ صاحب کے زمانوں کے بیان کا تو شاید محل نہ ہو جب ڈکٹیٹر ڈیڈی ہوا کرتا تھا اور قائد عوام صدارتی انتخابات میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابل ایک ڈکٹیٹر کے چیف پولنگ ایجنٹ کے منصب جلیلہ پر فائز ہوا کرتے تھے لیکن یہ دیکھ لینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں ہو گا کہ پیپلز پارٹی دور جدید میں کوئی یو ٹرن لیے بغیرسیاست کے صراط مستقیم پر کس
هفته 08 دسمبر 2018ء

گناہ ٹیکس۔۔۔پڑھے جائو بے خود غزل پر غزل

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
آصف محمود
ارشاد تازہ یہ ہے کہ اب سگریٹ پر ’’ گناہ ٹیکس‘‘ عائد کیا جائے گا۔ فکر و ابلاغ کا ایسا قحط دھرتی پر پہلے کب اترا تھا؟یوں محسوس ہوتا ہے کابینہ میں اس بات پر اتفاق رائے ہو چکا کہ جس روز کوئی اور بحران سر نہ اٹھا سکے اس روز وزرائے کرام خود ایک دلدل عمران خان کی دہلیز پر چھوڑ آیا کریں گے۔وسیم اکرم تو خواب ہوئے اس ٹیم میں تو کوئی منصور اختر بھی نہیں۔ کسی ففٹی سنچری کے تکلف میں پڑے بغیر 41 ون ڈے کھیل کر صرف 593 رنز بنانے والاوہ شریف آدمی بھی آئوٹ
مزید پڑھیے


سارہ تواب اگر اسسٹنٹ کمشنر نہ ہوتیں؟

منگل 04 دسمبر 2018ء
آصف محمود
فرض کریں سارہ تواب ایک اسسٹنٹ کمشنر نہ ہوتیں۔ ننھے سے بچے کو گود میں لے کر پشاور میں تجاوزات کے خلاف مہم کی قیادت کرتی اسسٹنٹ کمشنر سارہ تواب کی پہلی تصویر دیکھی تو اچھا لگا۔ممتا کے ساتھ ایک فرض شناس افسر کا تاثر ابھرا ۔یوں محسوس ہوا جیسے ایک ماں کو اس کی سرکاری ذمہ داریوںنے اچانک ہی آواز دی اور وہ بچہ گود میں لیے چلی آئیں۔لیکن اس کے بعد دفتر میں بچے کو گود میں لے کرفیڈر پلانے کی ویڈیوز جس والہانہ انداز سے ٹی وی چینلز پر چلیں اور جس ڈرامائی انداز سے اسسٹنٹ کمشنر صاحبہ
مزید پڑھیے


انڈے ، مرغیاں ، کٹے اور ہمارا احساس کمتری

اتوار 02 دسمبر 2018ء
آصف محمود
عمران خان نے اپنی تقریر میں انڈوں ، مرغیوں اور کٹوں کا ذکر کیا کر دیا، احباب بد مزہ ہو گئے۔طنز اور تضحیک کے دیوان لکھے جا رہے ہیں۔معلوم نہیں یہ روایتی احساس کمتری کا آزار ہے کہ مرغی ، انڈے اور کٹوں جیسی مقامی اصطلاحات سے مزاج یار برہم ہوگیا یا یہ اپنی تہذیب سے جڑی مقامی معیشت سے جہالت کی حد تک ناواقفیت کی علامت ہے لیکن یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عمران خان کا موقف معیشت کے کسی بھی پیمانے پر پرکھ کر دیکھ لیجیے ، وہ نامعتبر نہیں ہے۔ دنیا محض
مزید پڑھیے


آپ کہاں مصروف تھے؟

جمعه 30 نومبر 2018ء
آصف محمود
حکومت کے 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور عالم یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں ابھی تک کوئی ایک سٹینڈنگ کمیٹی بھی نہیں بنائی جا سکی۔ حالانکہ قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر ایند کنڈکٹ آف بزنس کے رول نمبر 200 کے مطابق یہ لازم ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے تیس دنوں کے اندر اندر یہ کمیٹیاں قائم ہو جانی چاہئیں۔جو لوگ پارلیمانی امور سے واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں اسمبلی میں قانون سازی کے لیے ان قائمہ کمیٹیوں کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔رول نمبر198 کے تحت ہر وزارت کے لیے ایک سٹینڈنگ کمیٹی
مزید پڑھیے




آئیے اپنے ہیرو تلاش کریں

جمعرات 29 نومبر 2018ء
آصف محمود
کیا اس قوم کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ یہ شاہ معظم نوا ز شریف ،کوہ بصیرت قبلہ آصف زرداری ، شاہِ ذی شان عمران خان ، درویش زمان سراج الحق، مدبر عصر فضل الرحمن وغیرہ وغیرہ اور ان کے نورتنوں اور مصاحبین خاص کے حصے کا بے وقوف بن کر ان کے فضائل بیان کرتی رہے ، ان کی دیومالائی کہانیوں پر دادو تحسین کے ڈونگرے برساتی رہے اورا ن کی مافوق الفطرت خوبیوں پر بغلیں بجاتی رہے یا اس کے پاس اتنا وقت ہے کہ گلی کوچوں میں موجود اپنے ہی جیسے ان کرداروں پر نگاہ
مزید پڑھیے


ہم پولیس کے مجرم تو نہیں؟

منگل 27 نومبر 2018ء
آصف محمود
چین کے قونصل خانے پر حملہ تو جوانوں نے جان پر کھیل کر ناکام کر دیا لیکن کیا کہانی یہیں ختم ہو گئی ؟ چلیں تالپور خاندان کی پولیس افسر کے بارے میں سندھ حکومت کے بیانیے پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے اور اسے من و عن تسلیم کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں کہ انہوں نے اس ایک معمولی پستول کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی قیادت کی ہو گی، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ جب وہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ آپریشن کے لیے بڑھ رہی تھیں اور اہلکار چوکنے انداز میں اسلحہ سیدھا کیے ان
مزید پڑھیے


طلباء تنظیمیں اور یرغمال تعلیمی ادارے

هفته 24 نومبر 2018ء
آصف محمود
قائد اعظم یونیورسٹی میںمتحارب گروپوں نے صلح کر لی ہے اور انتظامیہ نے کسی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یعنی اب اگلے تنازعے اور فساد تک سب ہنسی خوشی رہیں گے ۔ نفرت ، بغض اور تعصب کا یہ الائو جب چند ماہ بعد دوبارہ بھڑکے گا تو یونیورسٹی انتظامیہ کے اعلی حضرت رونی صورتیں بنا کر ایک بار پھر پریشان ہونے کی اداکاری کریں گے ۔یہاں تک کہ ایک بار پھر صلح ہو جائے گی اور اگلے فساد تک سب میں ہنسی خوشی رہنے پر اتفاق ہو جائے گا۔ طلباء کی نادانیوں کے ساتھ
مزید پڑھیے


محمد ، پیغمبر اسلام ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

بدھ 21 نومبر 2018ء
آصف محمود
مطالعے کا شوق بچپن ہی سے تھا ، اب جنون بن چکا ، جیب میں چند پیسے آ جائیں تو آج بھی پہلا پڑائو کسی بک شاپ پر ہوتا ہے۔ گھر میں کتابیں ہی کتابیں بکھری پڑی ہیں۔پہلے صرف میں تھا اب علی ، عائشہ اور عروہ بھی ہیں چنانچہ اب بچوں کے ادب کابھی انبار لگا ہے۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں آج تک جتنی بھی کتابیں میرے زیر مطالعہ رہیں ان میں سب سے اچھی کتاب کون سی ہے تو میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر جواب دوں گا: کانسٹنٹ ورجل جورجیو کی محمد ، پیغمبر اسلام
مزید پڑھیے


افغانستان اور نیا پاکستان

هفته 17 نومبر 2018ء
آصف محمود
ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، اسے افتخار درانی اور شہر یار آفریدی جیسے صاحبان پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔اہل اقتدار میں اگر کوئی صاحب مطالعہ اور معاملہ فہم آدمی موجود ہے تو اسے بروئے کار آنا ہو گا۔ کس اعتماد سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار درانی نے کہہ دیا طاہر داوڑ پشاور میں ہیں اور خیریت سے ہیں۔ ایک ایک لفظ سے غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری چھلک رہی تھی۔کیا حکومت کی ترجمانی اس انداز سے کی جا سکتی ہے؟ کیا عمران خان کی ٹیم نے طے کر لیا ہے کہ
مزید پڑھیے