BN

آصف محمود



کتنے ماتم ، کتنے کالم؟


ہزارگنجی سے لے کر کوسٹل ہائی وے تک دشمن یکسو ئی سے حملہ آور ہے، سوال یہ ہے ہمارا انتشارِ فکر کب ختم ہو گا؟ طریقہ واردات کو سمجھیے۔ پہلے دشمن اپنے مسلح کارندوں کے ذریعے حملہ کرتا ہے ، پھر اس کے فکری کارندے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ یہ پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ مقتول پاکستانیوں کو علاقائی ، مسلکی اور گروہی عنوان سے پکارنا شروع کر دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس طوفان کی لپیٹ میں سارا پاکستان آیا ہے۔ کون ہے جس تک یہ آگ نہیں پہنچی؟ لیکن یہ کارندے مقتولین کی شناخت پاکستانی
هفته 20 اپریل 2019ء

عمران ، ہم اور تم

جمعرات 18 اپریل 2019ء
آصف محمود
ہم جیسے طالب علم عمران خان پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ہمیں اصلاح احوال کی امید تھی اور یہ امید بر آتی دکھا ئی نہیں دے رہی لیکن شریف اور زرداری خاندان کے دستر خوان پر عشروں پیٹ کے بل رینگنے والے یہ گداگرانِ سخن کس منہ سے تنقید کر رہے ہیں؟ کیا وہ بھول گئے، خواجہ آصف نے فرمایا تھا: کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے۔ عمران خان کے خلاف ہمارا بنیادی مقدمہ کیا ہے؟ یہی کہ دعووں کے مطابق وہ اصلاح ااحوال نہیں کر پائے۔ باقی جو بھی کہا جائے
مزید پڑھیے


ایسے کیسے چلے گا؟

منگل 16 اپریل 2019ء
آصف محمود
حکومت بنانے کے لیے اگر کمپرومائز کیے جا سکتے ہیں تو حکومت چلانے کے لیے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ حکومت بنانے کے لیے تو ہم سب نے دیکھا کہ اصولوں پر کمپرومائز کیا گیا، حکومت چلانے کے لیے تو صرف رویوں اور افتاد طبع پر کمپرومائز کی ضرورت ہے؟پاکستانی سیاست میں اللہ کا ولی یا مرد قلندر اب کوئی بھی نہیں۔ طریق واردات کے معمولی فرق کے ساتھ کم و بیش سبھی ایک جیسے ہیں۔ کوئی ایک گروہ نیک نیت اورصالحین کا ہوتا اور دوسرے گروہ میں صرف ابلیس اور شیاطین ہوتے تو معاملہ بہت آسان ہوتا۔ ایسے میں
مزید پڑھیے


اگر عمران ناکام ہو گئے؟

هفته 13 اپریل 2019ء
آصف محمود
ضد اور خوش گمانی کا معاملہ الگ ہے ورنہ دیوار پہ لکھا نظر آ رہا ہے کہ کارِ حکومت احباب کے بس کی بات نہیں۔ ہاں ، کوہ ہمالیہ سونا بن جائے اور سمندر کا پانی پٹرول میں تبدیل ہو جائے تو الگ بات ہے۔سوال اب سیاست کا نہیں ، بقاء کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس حکومت کی ناکامی سماج کی نفسیات پر کیا اثر ڈالے گی؟ حکومت کی ناکامی اب مزید کسی دلیل کی محتاج نہیں۔لوگ اب تک زندہ ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ رازق اور مالک اللہ کی ذات ہے ورنہ ا
مزید پڑھیے


’’قانون کے آگے ‘‘۔۔۔۔فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا تھا؟

جمعرات 11 اپریل 2019ء
آصف محمود
برسوں پہلے میں نے فرانز کافکا کی کہانی ’’ قانون کے آگے‘‘ پڑھی تھی ۔ کہانی تو منٹوں میں ختم ہو گئی لیکن میں گھنٹوں سوچتا رہا کافکا کہنا کیا چاہتا ہے۔کل پھر یہ کہانی یاد آئی ، یوں محسوس ہوا کافکا نے کل ہی اسے راوی کے کنارے بیٹھ کر لکھا ہو۔ تمثیل کا یہ حسن ہوتا ہے وہ کسی سماج میں اجنبی نہیں ہوتی ۔ ’’ قانون کے آگے‘‘ کی معنویت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جرمنی کا یہ یہودی صرف ایک با کمال لکھاری ہی نہ تھا ، ایک وکیل بھی تھا۔آپ بھی یہ کہانی
مزید پڑھیے




پنجاب میں کس کی حکومت ہے؟

منگل 09 اپریل 2019ء
آصف محمود
پنجاب میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ تحریک انصاف کے پاس ہے یا مالِ غنیمت کے طور اپنے سیاسی حلیفوں میں بانٹ دیا گیا ہے ؟ کیا عمران خان پنجاب کی اہمیت سے بے خبر ہیں یا مصلحتوں نے ان کا سارا بانکپن ہی چھین لیا ہے؟ پاکستان کی سیاست میں پنجاب کی غیر معمولی اہمیت ہے۔وزارت عظمی کا راستہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں پنجاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ تینوں صوبوں کے قومی اسمبلی کے حلقے جمع کر لیے جائیں تب بھی پنجاب سے کم ہیں۔پنجاب سے قومی اسمبلی
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل ۔۔۔رُخسار ، تہہ نقاب جگمگ جگمگ

هفته 06 اپریل 2019ء
آصف محمود
نیب آرڈی ننس میں کچھ چیزیں بلاشبہ ایسی ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں لیکن نیب کے حوالے سے جو موقف اسلامی نظریاتی کونسل نے جاری فرمایا ہے اس کا دفاع بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس ریلیز میرے سامنے رکھی ہے اور میں ایک طالب علم کے طور پر سراپا حیرت ہوں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے فرمایا ہے:’’ نیب کی طرف سے ملزموں کو ہتھ کڑیاں پہنانا پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کی میڈیا میں ہتک عزت اسلام میں تکریم انسانیت کے اساسی
مزید پڑھیے


شکر ہے ، شکر ہے

جمعرات 04 اپریل 2019ء
آصف محمود
وہ مغلیہ دور حکومت تھا جسے ہم نصابوں میں پڑھتے آئے تھے ، یہ شغلیہ دور حکومت ہے جسے ہم حیرت اور صدمے سے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔تو کیا یہ واقعتا ایک سونامی ہے جس نے ہنستے بستے شہروں کا رخ کر لیا ہے۔ وزرائے کرام کے ارشادات گرامی پڑھ کر پہلے غصہ آتا رہا پھر ہنسی، اب خوف آتا ہے۔حریفوں کے اختراع و تصرف کی عمران کو کیا حاجت، اس کے لیے تو اس کے خوش زباں وزراء ہی کافی ہیں، باغِ عالم میں ایسی بلبلیں کب کسی کے حصے میں آئی ہوں گی؟ ارشادِ تازہ
مزید پڑھیے


پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کا احتجاج ۔۔۔حکومت کہاں ہے؟

منگل 02 اپریل 2019ء
آصف محمود
پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے اساتذہ لاہور میں سڑک پر بیٹھے ہیں لیکن بیوروکریسی کو حیا آ رہی ہے نہ پنجاب حکومت کو کچھ احساس ہے۔ نئے پاکستان میں شاید اب صرف ثانیہ نشتر کا ’احساس‘ـ: ہے۔ اساتذہ عزت نفس کے معاملے میں حساس ہوتے ہیں اس لیے افسران کے ناجائز فیصلوں کو بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر آئے ہیں تو بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیسی نفسیاتی اذیت ہو گی جس نے انہیں اس پر مجبور کیا ہو گا۔یہ تین مطالبات لے کر آئے ہیں ۔کیا حادثاتی وزیر اعلی کی کابینہ
مزید پڑھیے


کیا مدارس کا نصاب امریکہ نے بنایا تھا؟

هفته 30 مارچ 2019ء
آصف محمود
وزیر اطلاعات برادرم فواد چودھری کا ارشاد گرامی میرے سامنے رکھا ہے ، فرماتے ہیں : دینی مدارس کا نصاب امریکہ نے تیار کیا تھا ۔ اس فرمان عالی شان کو پڑھ کر میں سوچ رہا ہوں ایسے فاضل وزراء کے ہوتے ہوئے کیا عمران خان کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟وزرائے کرام نے غالبا طے کر رکھا ہے کہ ہم نے عمران خان کو سکون کا سانس نہیں لینے دینا اور جس دن ہم نے دیکھا عمران خان کے دامن سے کوئی بحران نہیں لپٹا اس روز ہم خود ایک بحران پیدا کر کے کپتان کی دہلیز پر چھوڑ
مزید پڑھیے