BN

آصف محمود



مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں


مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے بارے میں بہت سوچا لیکن ڈور کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔ سوچا مولانا ہی کی خدمت میں چند سوالات رکھے جائیں ، وہ بلاشبہ پاکستانی سیاست کے جہاندیدہ اور قابل احترام بزرگ ہیں ، رہنمائی فرما دیں تو شاید یہ الجھن دور ہو جائے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس احتجاج کا مقصد کیا ہے؟احتجاج بلاشبہ مولانا کا حق ہے لیکن کیا وہ محض یہ ثابت کرنے تشریف لا رہے ہیں کہ یہ میرا حق ہے یا ان کے ہمراہ کوئی پالیسی بھی ہے جو انہیں کسی منزل مقصود تک پہنچائے
پیر 14 اکتوبر 2019ء

کاش عمران خان 500 لوگوں کو جیل میں ڈال سکتے!

هفته 12 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
وزیر اعظم پاکستان نے دورہ چین کے موقع پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ چین نے 400 کرپٹ وزراء کو جیل میں ڈالا ، کاش میں بھی 500 کرپٹ لوگ جیل میں ڈال سکتا۔ اس بیان کا حاصل چند سوالات ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو کس نے بتایا کہ چین نے 400 وزراء کو جیل میں ڈالا؟حقیقت یہ ہے کہ چین میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں اب تک صرف 2 وزراء کو سزا سنائی گئی ہے۔لی ڈانگ شنگ ، جنہیں پندرہ سال قید ہوئی اور جیانگ جی من جنہیں سولہ سال قید
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر۔۔۔پاکستان سفیر اور وکیل ہے یا فریق؟

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
یہ فقرہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی حیثیت محض ایک سفارتی اور اخلاقی معاون کی ہے یا وہ اس مسئلے میں ایک فریق ہے؟ آئیے انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ سلامتی کونسل نے 20 جنوری 1948 ء کو ایک قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد ( نمبر 39) میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا ایک کمیشن قائم کیا گیا۔ اس کمیشن کا آفیشنل نام تھا ’’ یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار
مزید پڑھیے


ہمارا فریڈم فلوٹیلا کہاں ہے؟

منگل 08 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
صبح نیند سے جاگا تو سامنے رکھے ’ ماوی مرمرا‘ کے ماڈل پر نظر پڑی۔ ماوی مرمرا فریڈم فلوٹیلا ترکی کے اس قافلے کا مسافر بردار بحری جہاز تھا جو غزہ کے محاصرے کو توڑتے ہوئے وہاں محصورین تک ادویات ، خوراک اور بچوں کے کھلونے پہنچانے روانہ ہوا تھا۔ اس بحری جہاز پر جب اسرائیلی فوج نے حملہ کیا تو اس کا کپتان بھی شہید ہو گیا۔ شہید کپتان کے صاحبزادے پاکستان آئے تو خبیب فائونڈیشن کے ندیم احمد خان صاحب کے ساتھ وہ میرے ہاں تشریف لائے ۔جاتے ہوئے انہوں نے مجھے ’ ماوی مرمرا‘ کے اس
مزید پڑھیے


یہ الحاق تھا یا عبوری الحاق؟ انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

هفته 05 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
مہاراجہ کے بھارت سے کیے گئے نامعتبر الحاق کے بارے میں ایک اہم ترین حقیقت ہمارے ہاں کبھی زیر بحث نہیں آئی کہ یہ الحاق نہیں تھا، یہ عبوری الحاق تھا اور یہ بات دستاویز ات میں درج ہے کہ اس الحاق کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کشمیر نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے بلکہ وہاں تحریری طور پر یہ ضمانت موجود ہے کہ ا س عبوری الحاق کے باوجود کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ابھی باقی ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے عوام نے کرنا ہے۔تو کیا خیال ہے تھوڑا سا ’ مطالعہ ہندوستان‘ ہو جائے؟ اس
مزید پڑھیے




کیا انٹر نیشنل لاء کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کی اجازت دیتا ہے؟

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم اور اقوام عالم کی لاتعلقی سے تنگ آ کر کشمیری اگر بندوق اٹھانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو کیا انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں یہ ایک جائز اقدام ہو گا؟میں اس وقت حکمت عملی اور زمینی حقائق کی بات نہیں کر رہا ، میرے پیش نظر صرف معاملے کا قانونی پہلو ہے۔1949 ء کے جنیوا کنونش کے ایڈیشنل پروٹوکول 1کے آرٹیکل 1 کی ذیلی دفعہ 4 میں اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔یہ پروٹوکول بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مسلح تصادم اور جنگوں کے متاثریں کے تحفظ سے متعلق ہے اور
مزید پڑھیے


اقوام متحدہ میں۔۔۔۔’’ پہلی مرتبہـ‘‘ ؟

منگل 01 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
اقوام متحدہ میں عمران خان نے نہایت خوبصورت خطاب کیا، لازم ہے کہ عمران کی تحسین کی جائے لیکن کیا یہ بھی لازم ہے کہ دوسروں کی ہجو بھی کہی جائے اور ثابت کیا جائے کہ ان سے پہلے تو جو بھی وزیر اعظم آیا اس نے تو بس لٹیا ہی ڈبو ڈالی تھی اور قومی جذبات کی ترجمانی کا فریضہ تو بس تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ ادا ہواہے؟مبالغہ نفرت میں ہو یا محبت میں ، آزار ہی ہوتا ہے۔ 1996ء میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ایک بہت بڑا چیلنج در پیش
مزید پڑھیے


کیا انسانی حقوق کونسل میں قرارداد پیش کرنا ضروری تھا؟

هفته 28  ستمبر 2019ء
آصف محمود
اہلِ دانش خفا ہیں کہ حکومت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیر سے متعلق قرارداد کیوں نہ لا سکی اور میں یہ سوچ رہا ہوں اس بے معنی مشق میں اپنی توانائی ضائع ہی کیوں کی جاتی؟ کہا جا رہا ہے پاکستان کو اس قرارداد کے لیے 16 ممالک کی تائید درکار تھی اور اس میں ناکام رہنے کی وجہ سے یہ قرارداد پیش نہ کی جا سکی۔ میری رائے میں سولہ تو کیا بتیس ممالک کی تائید میسر ہوتی تب بھی اس قرارداد کو لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ا س قرارداد کے نتیجے
مزید پڑھیے


کیا کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں ’’ نان بائنڈنگ ‘‘ ہیں؟

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
آصف محمود
ایک غلط فہمی تسلسل سے پھیلائی جا رہی ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں۔کیونکہ یہ باب چھ کے تحت پاس کی گئی ہیں اور باب چھ کے تحت پاس کی گئی قراردادیں محض علامتی ہوتی ہیں انہیں قوت سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔قوت نافذہ صرف ان قراردادوں میں ہوتی ہے جو باب نمبر7 کے تحت پاس کی جائیں۔یہ ایک بالکل غلط موقف ہے۔ انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں یہ قراردادیں نہ صرف معتبر ہیں بلکہ ان پر عمل کرنا بھی لازم ہے۔ ان قراردادوں میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ ’’ نان بائنڈنگ
مزید پڑھیے


ٹرمپ مودی اور کشمیر۔۔۔۔مایوسی کس بات کی؟

منگل 24  ستمبر 2019ء
آصف محمود
ٹرمپ نے مودی کے پلڑے میں وزن ڈال دیا ہے تو حیرت کیسی؟ سینہ کوبی کاہے کی اور مایوسی کس بات کی؟ کیا تحریک آزادی کشمیر عزت مآب ڈونلڈ ٹرمپ کی آشیر باد سے مشروط تھی اور سدھن قبیلے کے اس سپوت سردار ابراہیم خان نے جب یہ کٹھن راستہ اختیار کیا تھا تو کیا وصیت لکھ چھوڑی تھی کہ جس روز وائٹ ہائوس کے مجتہد العصر نے اپنی رائے بدل دی اس روز میری قبر پر بھی ترنگا لہرا جانا؟ عزیمت کے راستے اتنے ہی آسان ہوتے ہر گورکن رستم کہلاتا۔ ہوائیں تیز ہوں تو کیا لوگ دیے
مزید پڑھیے