BN

آصف محمود


ایا صوفیہ


سادہ سا ایک سوال تھا: ترکی نے ایا صوفیہ کو مسجد بنا کر احترام مذاہب اور عبادت گاہوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین میں سے کس قانون کے کس ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے؟ جواب میں مگر آہ و فغاں اور طنز اور کوسنوں کے سوا کچھ نہیں۔ علم کی دنیا مگر دلیل مانگتی ہے اور نفرت سے قہر برساتے لہجوں کو آج تک کسی نے دلیل کے باب میں نہیں لکھا۔انتہا پسندی بہت بری چیز ہے اور انتہا پسندی کا تعلق وضع قطع سے نہیں رویوں سے ہے۔ انتہا پسندی مذہبی فکر کی صورت میں ظہور کرے
منگل 14 جولائی 2020ء

ہم کیا کھا رہے ہیں؟

هفته 11 جولائی 2020ء
آصف محمود
کبھی ہم نے سوچا ،ہم کیا کھا رہے ہیں؟ جنک فوڈ کا آزار تو چھوڑ ہی دیجیے ، کبھی غور کیجیے کہ سبزیوں ، پھلوں اور اجناس کے نام پر کیا کچھ ہمیں کھلایا جا رہا ہے؟ پھل اور سبزیاں کہنے کو تو موجود ہیں اور برائلر مرغیوں کی طرح صحت مند ہوتے جا رہے ہیں لیکن ان کا ذائقہ ان سے روٹھ چکا ہے۔دیسی بیج ہم نے برباد کر دیے اب احساس ہی نہیں رہا کہ کیا کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں۔چک شہزاد میں اب بھی کچھ فارمز بچ رہے ہیں جہاں سبزیاں وغیرہ کاشت کی جاتی ہیں اور سیوریج
مزید پڑھیے


سرگودھا اور کوٹ مومن کے پلُوتے

جمعرات 09 جولائی 2020ء
آصف محمود
یہ کیا کہانی ہے کہ بالوں میں سفیدی اترتی ہے تو اپنی زمین اورا س سے جڑی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ اپنا گائوں ، اپنی ثقافت ، اپنے لوگ ، اپنی تہذیب ، یہ سب میٹھا میٹھا درد بن کر وجود سے لپٹ سے جاتے ہیں؟گائوں میں ہوتا تھا تو گائوں کی قدر ہی نہ تھی ۔اب پچیس سال سے اسلام آباد میں ہوں اور عالم یہ ہے کہ بیٹھے بیٹھے گائوں کا ذکر آتا ہے اور اداسی لپٹ جاتی ہے۔ ڈاکٹر معین نظامی میرے خالہ زاد بھائی ہیں۔ علمی وجاہت اور نجیب طبیعت انہیں قبیلے کا فخر بناتی
مزید پڑھیے


کیا حکومت سکیورٹی رسک بنتی جا رہی ہے؟

منگل 07 جولائی 2020ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے دو سالہ اقتدار کا حاصل ایک ہی سوا ل ہے: کیا یہ حکومت سکیورٹی رسک بنتی جا رہی ہے؟ عمران خان کی خیر خواہی سے لے کر ان سے حسن ظن تک اور ان کی سادگی اور سچائی سے لے کر ان کے بھولپن تک ، جتنی تاویلات کی جا سکتی تھیں کر کے دیکھ لیں ۔اس سوال کے آسیب سے مگر جان نہیں چھڑا سکا ۔آپ کی نیت اب بھی خالص ہو گی اور آپ کا جذبہ سچا ہو گا لیکن حکومت محض نیک نیتی اور سچے جذبوں کا نام نہیں ، یہ کارکردگی کا نام
مزید پڑھیے


پی آئی اے : کیا سرور خان جواب دیں گے؟

هفته 04 جولائی 2020ء
آصف محمود
تبدیلی تو آ نہیں رہی، آ گئی ہے لیکن مشکلات آنہیںگئیں، آ رہی ہیں۔حادثوں کی تسبیح جیسے ٹوٹ جائے اور دانہ دانہ نوحے گرنا شروع ہو جائیں۔طفلانِ خود معاملہ کے ناخن اب پی آئی اے کے دامن سے الجھے ہیں۔لیکن دھجیاں صرف قومی ایئر لائن کے دامن تار کی نہیں اڑیں گی ، آثار بتا رہے ہیں کہ معاملہ زیادہ سنگین ہے ۔ چند سوالات ہیں ، اگر وزیر ہوا بازی ان پر رہنمائی فرما سکیں تو شاید الجھی ڈور کا کوئی سرا ہاتھ آ جائے۔ 1۔وزیر ہوا بازی نے محض پائلٹس پر انگلی نہیں اٹھائی۔ان کی فرد جرم سول ایوی
مزید پڑھیے



شبرا قصائی کے نام

جمعرات 02 جولائی 2020ء
آصف محمود
گرمیاں گزرتی جا رہی ہیں لیکن نہ کوئی شام خانس پور میں گزر سکی ہے نہ بیسل کی اس حسین بستی میں پہاڑوں کی اوٹ سے دریا پر اترتی صبح کی زیارت ہو پائی ہے۔ ٹریل فائیو پر بھی عجب سی اداسی ہے ۔کورونا نے زندگی کی ترتیب ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ دیدہِ دیدار سے عجب سی اداسی آن لپٹی ہے۔ گھر میں پڑی ساری کتابیں بار بار پڑھی جا چکیں اب کیا کیا جائے؟ ارطغرل اب کوئی کتنی بار دیکھے ، عثمان تو پنجابی فلموں جیسا ہے ،کوئی کیسے دیکھے؟لاسٹ کنگڈم بھی دیکھ لیا اور وائکنگز بھی اختتام
مزید پڑھیے


کیا انتہا پسند صرف مذہبی طبقے میں ہوتے ہیں؟

منگل 30 جون 2020ء
آصف محمود
انتہا پسندی کیا ہے؟ انتہا پسندکیا صرف مذہبی طبقے میں پائے جاتے ہیں اور باقی کا سماج بات کرتا ہے تو باتوں سے خوشبو آتی ہے؟ اہل سیاست جب پارلیمان میں گفتگو کرتے ہیں ، جب وہ ایک دوسرے کو القابات دیتے ہیں ، جب وہ کسی ٹاک شو میں کسی سیاسی حریف کے ساتھ مکالمہ فرما رہے ہوتے ہیں اور جب وہ کسی عظیم الشان جلسہ عام میں خطاب فرما رہے ہوتے ہیں تو کیا ان کا طرز گفتگو مہذب ، معتدل اور شائستہ ہوتا ہے؟ جب اہل مذہب اپنے مذہبی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے یا قومی سیاست
مزید پڑھیے


سید منور حسن: بندہ اچھا تھا

هفته 27 جون 2020ء
آصف محمود
سید منور حسن بھی چل دیے ۔اتفاق دیکھیے ، میری ان سے ایک ملاقات بھی نہیں اور آج ان کی رحلت کی خبر سن کر یہ سمجھ بھی نہیں آ رہی کہ تعزیت کس سے کی جائے؟ اول خیال آیا جماعت اسلامی ہی سے تعزیت کر لی جائے ، جناب سراج الحق سے یا جناب فرید پراچہ سے ، پھر کچھ ایسے ناگفتہ بہ واقعات نے قدم روک دیے جن کا تذکرہ ، ڈر ہے کہیں ، سجدوں سے سجی جبینوں پر شکنیں نہ ڈال دے۔ سید منور حسن ، میری رائے میں سیاست کی دنیا کے آدمی ہی نہیں تھے۔وہ
مزید پڑھیے


کیا عمران کی حکومت خطرے میں ہے؟

جمعرات 25 جون 2020ء
آصف محمود
کیا واقعی عمران خان کی حکومت خطرے میں ہے؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ نہ صرف حکومت کا وجود خطرے میں ہے بلکہ ان خطرات کی نوعیت اتنی سنگین ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت ،بقاء بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسرا سوال اب یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کو خطرہ کس سے ہے؟ اس کا جواب بہت سادہ سا ہے۔ خطرہ عمران خان کو عمران خان سے ، ان کے ناتراشیدہ وزراء سے اور سوشل میڈیا کے اپنے شعلہ بیان جنگجوئوں سے ہے۔جس کھیت کو اس کی
مزید پڑھیے


سیف الاعظم ۔۔ ایک مانوس اجنبی کا دکھ

منگل 23 جون 2020ء
آصف محمود
فائٹر پائلٹ کا انتقال وہاں ڈھاکہ کے ملٹری ہسپتال میں ہوا اور درد کی لہر یہاں اسلام آباد میں ، میرے وجود میں سرایت کر گئی۔ذوق نے کہا تھا : آتشِ سوز محبت تھی ، جلا کر لے گئی۔ایم ایم عالم کا معاملہ اور تھا کہ سرگودھا والوں کو اس شخص سے محبت ماں کی لوریوں میں ملتی ہے لیکن سیف الاعظم صاحب کا تو ہم جیسوں نے نام ہی نہیں سن رکھا پھر دل ومژگاں کی اس روبکار نے ہمارا گھر کیوں دیکھ لیا۔ دم گھٹتا محسوس ہوا تو پہلو کو ٹٹول کر دیکھنا چاہاکہ یہاں دل رکھا
مزید پڑھیے