BN

آصف محمود



قیدی ، کورونا اور قانون


وزارت قانون نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا۔ وزارت قانون کے مطابق صدر پاکستان جنہیں سزائے موت تک معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے ، وہ بھی کسی انڈر ٹرائل قیدی کو ضمانت پر رہا نہیں کر سکتے۔ بطور ایک طالب علم میرے پیش نظر سوال یہ ہے کہ کیوں رہا نہیں کیا جا سکتا؟ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں گالم گلوچ کی بجائے کبھی ڈھنگ کی قانون سازی ہوئی ہوتی اور صدیوں پرانے قوانین کی بیساکھیوں سے ملک
منگل 07 اپریل 2020ء

چینی بحران رپورٹ ۔۔۔ایک رخ یہ بھی ہے

پیر 06 اپریل 2020ء
آصف محمود
آٹے اور چینی پر تحقیقاتی رپورٹ کو بالعموم دو انداز سے دیکھا گیا۔ ایک زاویہ نظر یہ تھا کہ انہوں نے اپنی ہی حکومت میں یہ رپورٹ جاری کر کے ایک غیر معمولی کام کیا ہے اور دوسرا زاویہ نگاہ یہ تھا کہ جہانگیر ترین ہی نہیں خود عمران خان بھی کٹہرے میں کھڑے ہیں اور حکومت کا اخلاقی وجود برف کے کسی باٹ کی طرح دھوپ میں رکھا ہے۔ ابتدائی صف بندی میں میرے اکثر دوست پہلی اور میں دوسری صف میں کھڑا تھا۔ لیکن اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دو آراء فروعی اور غیر اہم ہیں
مزید پڑھیے


آئیے دیکھیے ہم نے کیسے ثقافت تباہ کی؟

هفته 04 اپریل 2020ء
آصف محمود
ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ غلام علی خان تشریف لائے ، جن کی آواز سے آپ ہارمونیم سُر کر سکتے ہیں کہ ہارمونیم کے سُر اور ان کے گلے میں کوئی فرق نہیں۔۔۔۔۔یہ میری روایت نہیں ، اس واقعے کے راوی ممتاز مفتی کے صاحبزادے عکسی مفتی ہیں۔عکسی مفتی لکھتے ہیں کہ اس روز غلام علی خان بہت پریشان تھے۔ اس واقعے کی طرف بعد میں آتے ہیں ، آج اپنے ایک پریشان سوال جواب ملا ہے ، پہلے اس پر بات کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں کل دھوپ نکلی تھی ، آج پھر بادلوں کا بسیرا
مزید پڑھیے


یہ گلمرگ کا پہاڑ تھا

جمعه 03 اپریل 2020ء
آصف محمود
یہ پورے چوبیس سال ادھر کی بات ہے جب اسلام آباد نوجوان تھا۔ شاہراہ دستور پر کوئل بولا کرتی تھی اور بلیو ایریا میں سر شام چڑیوں کا شور ہوتا تھا۔آصف پلازہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ہاسٹل ون تھا جہاںگرمیوں کے موسم میں ہم صبح سڑک پر کرکٹ کھیلتے تھے اور بارہ اوورز کی اننگز میں ایک آدھ بار ہی ایسا ہوتا تھا کہ کوئی گاڑی گزرے اور ہمیں کھیل روکنا پڑے۔ آج تو ایسی خاموشی اور سکون کا تصور ہی ممکن نہیں لیکن اس زمانے کے حسن کا عالم یہ تھا کہ اس ہاسٹل کو
مزید پڑھیے


کورونا کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے؟

جمعرات 02 اپریل 2020ء
آصف محمود
ہمارے فکری افلاس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم نے کورونا جیسی وبا کو بھی فرقہ واریت کا عنوان بنا دیا؟ صف بندی ہو چکی ہے اور جنگجوئوں کی شمشیر کی زد میں میں کورونا وائرس نہیں اپنے اپنے حریف ہیں۔فقہی بھی اور سیاسی بھی۔ دشنام بکف لشکری زبان حال سے گویا منادی دے رہے ہیں کہ کورونا سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ، ایک موقع ہاتھ آیا ہے تو اب حریفوں میں سے کسی کی دستار سلامت نہ رہنے پائے۔موضوع اب یہ نہیںرہا کہ کورونا کی ہلاکت خیزی سے نجات کی
مزید پڑھیے




کیا کرونا ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے؟

منگل 31 مارچ 2020ء
آصف محمود
کیا کرونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے اور یہ کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا مشکل ہے۔ تو کیا کرونا ایک قدرتی وائرس ہے جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں دینا انتہائی مشکل ہے۔ہر دو کے امکانات موجود ہیں اور جب تک کوئی چیز واضح طور ہمارے سامنے نہیں آتی تب تک کسی سازشی تھیوری کا ، کامل یقین کر لینا یا اسے آخری درجے میں رد کرنا ، دونوں ہی نا معتبر رویے ہیں۔ حیاتیاتی اسلحہ یا حیاتیاتی جنگ ، یہ کسی خیال
مزید پڑھیے


کرونا : وائرس یا ورلڈ آرڈر؟

هفته 28 مارچ 2020ء
آصف محمود
کرونا سے اگر ہم نے احتیاط کی تو یہ محض ایک وائرس ہے جو انشاء اللہ ایک دن ختم ہو جائے گا،ہم اس سے خوفزدہ ہو گئے تو یہ ایک ورلڈ آرڈر ہے جو سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔یہ وہ بات ہے جوا فراد کو بھی سمجھ لینی چاہیے اور دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی۔ خوف کیا ہوتا ہے؟ معاشی تناظر میں سمجھنا ہو تو جان لیجیے یہ خوف کارپوریٹ دنیا کی مبادیات میں سے ایک ہے۔اس بات کو یوں سمجھیے کہ نلکے کے پانی سے بھلے ہم کبھی بیمار ہوئے ہوں یا نہیں لیکن اس کا خوف
مزید پڑھیے


جامعہ الازہر کا فتوی۔۔۔۔۔صدر محترم سے دس سوالات

جمعه 27 مارچ 2020ء
آصف محمود
صدر پاکستان جناب عارف علوی کا کرونا وائرس کی وبا کے دوران عبادات کے حوالے سے جامعۃ الازہر سے رہنمائی کا طالب ہونا یہ بتا رہا ہے کہ اس حکومت کا فکری بحران کتنا شدید ہے۔صدر محترم کی اس علمی جستجو کا حاصل سوالات ہی سوالات ہیں۔ شیخ الازہر نے صدر محترم کی رہنمائی فرما دی ہے، اب کیا صدر محترم ہم طالب علموں کی رہنمائی فرمانا گوارا کریں گے؟پہلا سوال یہ ہے کہ اگر سربراہ ریاست کو کسی علمی و فکری معاملے میں کوئی الجھن درپیش ہو جس کی نوعیت مذہبی ہو اور وہ اس پر رہنمائی چاہتا
مزید پڑھیے


’’سینئر صحافی‘‘ اور ’’دانشور‘‘

جمعرات 26 مارچ 2020ء
آصف محمود
وزیر اعظم کی ’’ سینیئر صحافیوں ‘‘ سے ہونے والے گفتگو سے عمران خان بد مزہ اور ان کے وابستگان خفا ہیں۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ ’’ سینئر صحافیوں سے ملاقات‘‘ کے عنوان سے جو محفل آپ نے برپا کی یہ آپ ہی کی نگاہ ناز کا انتخاب تھا۔ اب اگر خطبوں کی صورت سوال پوچھے گئے اور گاہے صحافتی اقدار سے بھی بے نیازی برتی گئی تو وفور غم کی یہ روبکار صحافت کے نام کیوں بھیجی جا رہی ہے؟ جھنجھلاہٹ اور تلملاہٹ کا یہ کوڑا اپنے ذوق ، اپنے انتخاب اور
مزید پڑھیے


کرونا : کردار کے غازی بے داغ ماضی کہاں ہیں؟

منگل 24 مارچ 2020ء
آصف محمود
الخدمت سمیت درجنوں رفاہی اور سماجی تنظیمیں میدان عمل میں ہیں ۔ لوگ اپنی بساط کے مطابق بروئے کار آ رہے ہیں۔ کہیں ماسک مفت تقسیم ہو رہے ہیں کہیں کھانا بانٹا جا رہا ہے۔ کہیں مہینے بھر کے راشن کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں اور کہیں اس راشن کو گھر گھر پہنچانے کے لیے رضاکاروں کا اندراج ہو رہا ہے۔ خیر اور ہمدردی کے یہ مناظر دیکھ کر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابتلاء کے دنوں میں وہ اہل ثروت کہاں ہیںہر الیکشن میں جو عوام کے غم میں دبلے ہوئے پھرتے تھے۔ یہ کردار کے
مزید پڑھیے