BN

آصف محمود


لنڈی کوتل کی لالٹین


سجاد اظہر کی ’’ لنڈی کوتل کی لالٹین ‘‘ دیکھی تو ہیمنگوے کا ناول ’’ اے فیئر ویل تو آرمز‘‘ یاد آگیا۔ہیمنگوے نے ناول لکھا تھا اور سجاد نے نثری نظمیں لیکن الجھن ایک جیسی ہے۔ اے فیئر ویل تو آرمز پڑھا تو یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس میں اسلحے اور جنگوں کو الوداع کہا جا رہا ہے یا اپنے بچھڑ جانے والے پیار کو ۔یعنی’ آرمز ‘ کا تعلق اسلحے سے ہے یا بانہوں سے۔ اور لنڈی کوتل کی لالٹین کو دیکھا اسلحے کے اوپر حجرے میں رکھی لالٹین کی جلی ہوئی چمنی دیکھ کر خیال آیا کیا
منگل 21  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

نیوزی لینڈ…چیزوں کی ترتیب درست رکھیے

اتوار 19  ستمبر 2021ء
آصف محمود
نیوزی لینڈ کا فیصلہ افسوسناک ہے لیکن اس فیصلے پرہمارا اجتماعی رد عمل اس سے ز یادہ افسوسناک ہے۔ ہرمرتبہ جب کوئی بحران ہماری دہلیز پر دستک دیتا ہے اور ہمیں بطور قوم رد عمل دینے کی ضرورت ہوتی ہے ہم سیاسی فرقہ واریت کا شکار ہو جاتے ہیں اور داخلی سیاست کے گندے کپڑے دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ہر بحران ہمارے فکری افلاس کو مزید نمایاں کر جاتا ہے۔اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا۔ یوں لگتا ہے کہ خلط مبحث ہمارا قومی عارضہ بن چکا ہے اور ہر بحران کے ہنگام ہم خلط مبحث کا شکار ہو کر اپنی
مزید پڑھیے


تبدیلی مذہب کا قانون ۔۔۔۔چند گزارشات

هفته 18  ستمبر 2021ء
آصف محمود
جبر کی بنیاد پر کسی کو مسلمان بنانے کی تو شریعت میںہر گز اجازت نہیں اور جبر کی بنیاد پر پھر کسی سے شادی کر لینا تو ایک ایسا ظلم ہے جس کا شریعت میں تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔چنانچہ اس عمل کی ہر گز تائید نہیں کی جا سکتی لیکن معاملہ یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے جو قانون سازی متعارف کرائی جا رہی ہے اس کی تائید کرنا بھی ممکن نہیں۔یہ قانون نہیں ، نقص فہم کا دیوان ہے۔ اس قانون میں جبر اور زبردستی کا پیمانہ عمرکو قرار دے دیا گیا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی
مزید پڑھیے


مسئلہ رمیز سے ہے یا عمران سے؟

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
آصف محمود
ناقدین کا مسئلہ معلوم نہیں رمیز راجہ ہے یا عمران خان، سامنے کی حقیقت مگر یہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے طور پر رمیز راجہ کا انتخاب ( کاردار صاحب کے واحد استثناء کے ساتھ) اب تک کا بہترین انتخاب ہے۔ رمیزراجہ نے جس ناتراشیدہ لہجے میں گفتگو کی اس نے ان کا مقدمہ کمزور کر دیا ورنہ سچ تو یہ ہے کہ رمیز راجہ کا مقدمہ کمزور نہیں تھا۔ اس منصب کے لیے وہ ایک موزوں ترین نہیں تو موزوں تر انتخاب ضرور تھے لیکن منصب سنبھالنے کے ساتھ ہی انہوں نے جس لہجے میں کلام کیا ،
مزید پڑھیے


ایک مستری کا قانونی سوال

منگل 14  ستمبر 2021ء
آصف محمود
گھر میں مستری لگے ہیں۔چٹے ان پڑھ ہیں۔ کام کر کر کے تھک گئے تو سستانے بیٹھ گئے۔میں نے انہیں چائے پیش کی ۔چائے پیتے پیتے ایک نوجوان مزدور نے سوال کیا : سر جی یہ جو اسلام آباد میں لڑکی کا قتل ہوا تھا ، اس میں قاتل بھی پکڑا گیا ، لڑکی کا جسم اور جسم سے کٹا ہوا سر بھی مل گیا ، گواہی بھی موجود ہے تو اب اس کو سزاکیوں نہیں مل رہی؟ مل جائے گی ، تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ مجھے کوئی مسئلہ نہیں سر جی ، پر آپ قانون جانتے ہیں اس لیے پوچھ رہا
مزید پڑھیے



ہمارا مسئلہ کیا ہے؟

هفته 11  ستمبر 2021ء
آصف محمود
تین سال پہلے کا واقعہ ہے ،رات پونے بارہ بجے کا وقت تھا۔ لائونج میں پڑاموبائل فون بج اٹھا ۔ اسے آف کرنا بھول گیا تھا ۔ یہ سوچ کر نظر اندا زکیا کہ چند لمحے کال اٹینڈ نہیں ہو گی تو خود ہی بند ہو جائے گی۔ لیکن وہ بجتا ہی چلا جا رہا تھا۔جا کر دیکھا تو ایک جان پہچان والے صاحب کی کال تھی۔ پاسِ وضع میں فون اٹھا لیا ۔ آصف صاحب ، فلاں مسئلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ حیرت تو بہت ہوئی کہ بھلا یہ کون سا وقت ہے لیکن مروتا عرض کر دی کہ
مزید پڑھیے


آفرین ہے صاحب

منگل 07  ستمبر 2021ء
آصف محمود
سید علی گیلانی کی رحلت پر بین الاقوامی میڈیا نے جزوی طور پر انہیں ’’ علیحدگی پسند‘‘ اور’’ سخت گیر ‘‘ رہنما کے الفاظ کے ساتھ یاد کیا۔ سوال یہ ہے کیا صحافتی اخلاقیات کے تحت یہ ایک درست حرکت ہے ؟کیا ان اصطلاحات کا استعمال بین الاقوامی میڈیا کے معیار ِ صحافت پر سوال نہیں اٹھا رہا۔ سید علی گیلانی Seperatist یعنی علحدگی پسند کیسے ہو گئے؟ وہ تو آزادی پسند تھے۔انہیں مگر حریت پسند نہیں لکھا جا رہا علیحدگی پسند لکھا جا رہا ہے۔ کیا کشمیر بھارت کا حصہ بن چکا ہے کہ سید علی گیلانی اس سے
مزید پڑھیے


سید علی گیلانی

جمعه 03  ستمبر 2021ء
آصف محمود
سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر ملی تو میں جھیل کے کنارے بیٹھا تھا اور پو پھٹ رہی تھی۔ یوں لگا جیسے جھیل سمٹ کر آنکھوں میں آ گئی ہو۔ ٹیلوں پر کھڑے ہو کر رونے والاامرو القیس یاد آگیا جسے ایک شتر بان نے صبر کا مشورہ دیا تو اس نے کہا آج کے دن میری شفاء آنسوئوں میں رکھی ہے اور تو صبر کا کہتا ہے۔ یک فرد کی موت نہیں ہے ، یہ ایک عہد تھا جو تمام ہوا۔ سابق وزیر خارجہ عبد الستار کہا کرتے تھے کہ یہ تو ہو سکتا ہے کبھی میں اپنی پاکستانیت
مزید پڑھیے


حیدر علی تو صوفی تھا، ٹیپو سلطان؟

جمعرات 02  ستمبر 2021ء
آصف محمود
تاریخ بھی ایک عبرت کدہ ہے۔ حیران کر دیتی ہے۔ یہ 1799 کا مارچ تھا۔نماز جمعہ پڑھ کر لوگ نکلے تو منادی کرنے والے نے منادی کی : ’’ اے مسلمانو! سنو،میسور کے صوفی بادشاہ حیدر علی کا بیٹا فتح علی ٹیپو وہابی ہو گیا ہے‘‘۔۔۔۔ یہ اعلان کرناٹکا کے مقبوضہ مضافات سے لے کر نظام کی ریاست حیدر آباد کے گلی کوچوں میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی بہادر ، مرہٹے اور نظام آف حیدر آباد میسور کے ٹیپو سلطان کے خلاف چوتھی جنگ لڑنے جا رہے تھے اور یہ اسی جنگ کی تیاری ہو رہی
مزید پڑھیے


ٹرانزٹ ویزے۔۔پاکستان کا درست فیصلہ

منگل 31  اگست 2021ء
آصف محمود
افغانستان سے غیر ملکیوں کے انخلاء کے لیے پاکستان نے چند ہزار لوگوں کو ٹرنزاٹ قیام کی اجازت دی تو اس پراعتراضات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔تنقید کا یہ طوفان نا قابل فہم ہے۔ناقدین کے خلوص میں شک نہیں لیکن ان کی بصیرت کا عالم دیکھ کر امین احسن اصلاحی مرحوم کی بات یاد آ جاتی ہے کہ ’’ اللہ نے بعض لوگوں کو عقل کی جگہ بھی اخلاص عطا کر رکھا ہے‘‘۔ پہلے اس مسئلے کو پاکستان کے قانون کی روشنی میں دیکھتے ہیں اس کے بعد تزویراتی اور سفارتی حوالے سے اس کا جائزہ لیں گے۔ قانونی مطالعے
مزید پڑھیے








اہم خبریں