BN

آصف محمود


شکر ہے تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے


سیاسی جماعتیں چند گھرانوں کی جاگیر بن چکی ہیں اور کارکنان غلام ابن غلام بنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔لیکن خدا کا شکر ہے تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے۔ وزیر دفاع پرویز خٹک ہیں۔ ان کے بھائی لیاقت خٹک کے پی کے میں صوبائی وزیر ہیں۔ ان کے صاحبزادے ابراہیم خٹک ایم پی اے ہیں اور پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔پرویز خٹک کے داماد ڈاکٹر عمران خٹک نوشہرہ سے ایم این اے ہیں۔ ان کی بھتیجی ساجدہ بیگم اور ان کی اہلیہ کی بہن نفیسہ خٹک مخصوص نشستوں پر ایم این اے ہیں۔ماضی میں ان کے بھائی نوشہرہ
هفته 05 دسمبر 2020ء

مائی اللہ رکھی کی بکریاں دودھ تو دیتی تھیں

جمعرات 03 دسمبر 2020ء
آصف محمود
کیا آپ کو معلوم ہے کہ جہاں پارلیمان واقع ہے ، عین اسی جگہ کسی زمانے میں مائی اللہ رکھی کی بکریوں کا باڑا ہوتا تھا ۔1960 کے جاڑے تک تو مائی اللہ رکھی زندہ تھی اور اس کا باڑا موجود تھا۔اسلام آباد کی شروعات ہوئیں تو مائی اللہ رکھی بھی ہجرتی پتوں کی طرح بکھر گئی۔ بعد کی کہانی تو بابے دین محمد کو بھی معلوم نہیں کہ مائی اللہ رکھی کہاں گئی اور اس کی بکریوں کا کیا بنا۔ پاس سے ایک کس بہتی تھی ، برسات میں جب مارگلہ پر مینہ برستا تھا تو اس میں طغیانی
مزید پڑھیے


افسوس کوئی محرمِ رازِ خزاں نہ تھا

منگل 01 دسمبر 2020ء
آصف محمود
خزاں رت کا فسوں دل و نگاہ کو کیسے گرفت میں لے لیتا ہے ، جو جانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں۔ جو نہیں جانتے وہ جاڑے کے ان ابتدائی ایام میں فاطمہ جناح پارک چلے آئیںجہاںدرختوں کے پتے پھول بن چکے ہیں اور پت جھڑ میں جھیل کو جاتے راستے پر قوس قزح اتر آئی ہے۔ پارک کے داخلی دروازے کے پہلو میں ایک واکنگ ٹریک بناہے۔ یہ گویا خوابوں کی مسافت ہے۔ چلتے جائیے ، چلتے جائیے ۔یہ نام کا پارک ہے سچ میں تو پورا جنگل ہے اور جنگل میں منگل ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر پھیلا
مزید پڑھیے


سلطنت عثمانیہ سے اسرائیل تک

هفته 28 نومبر 2020ء
آصف محمود
گیارہ ستمبر 1917 کو،جب سلطنت عثمانیہ کی فوجیں پسپا ہوئیں تو جنرل ایلن بی ایک فاتح کی حیثیت سے یروشلم میںداخل ہوا ۔ عرب دنیا نے اس لڑائی میں جس برطانیہ کا ساتھ دیا اسی برطانیہ نے بعد میں اعلان بالفور کے ذریعے فلسطین میں اسرائیل بنا ڈالا۔آج عرب دنیااس اسرائیل کے آگے بے بس ہے۔ کچھ اسے تسلیم کر چکے ہیں اور کچھ کی بابت خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی کر لیں گے۔عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف اس بغاوت کو ’’ الثورہ العربیہ الکبرہ‘‘ عظیم عرب بغاوت کا نام دیا ۔ اس عظیم
مزید پڑھیے


آج ایک کام کیجیے

جمعرات 26 نومبر 2020ء
آصف محمود
ایک کام کیجیے۔ آپ اپنی سوچ اور صلاحیت کے مطابق ایک فہرست بنائیے کہ پاکستان کو درپیش دس بڑے مسائل یہ ہیں۔ اس کے بعد آپ گھر کے کسی پرسکون گوشے میں بیٹھ جائیے اور سوچیے کہ کیا کبھی یہ مسائل پارلیمان میں زیر بحث آئے ؟ کیا کبھی کابینہ نے ان پر سنجیدگی سے غور فرمایا؟ کیا کبھی پاکستان کی فکری اشرافیہ نے ان پر بات کی ؟ کیا کبھی کسی ٹاک شو میں ان پر سنجیدہ مکالمہ ہو سکا ؟ حتی کہ کیا ہم نے اپنی نجی محفلوں میں کبھی ان پر بات کرنے کی زحمت کی؟ نمونے کے
مزید پڑھیے



اورکنول جھیل بحال ہو گئی۔۔۔۔۔

منگل 24 نومبر 2020ء
آصف محمود
کنول جھیل بحال ہو گئی۔۔۔۔۔صبح دم خبر پڑھی تو سیدھا یہاں آن پہنچا۔جاڑے کا موسم اب کی بار جلد ہی آ گیا ہے۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور سردی کی لہر وجود میں اتر رہی تھی لیکن صبح کی پھوار اور یادوں کی رم جھم ہاتھ تھام کر جھیل کنارے لے آئیں۔ سی ڈی اے نے ویرانہ آباد نہیں کیا ، ہم آوارہ گردوں کے دل کی دنیا آباد کی ہے۔سی ڈی اے : بہت شکریہ! مجھے یاد آیا کہ دو سال قبل میں پندرہ سال کے وقفے کے بعد اس جھیل کو تلاش کرتا یہاں پہنچا تھا تو
مزید پڑھیے


اس قوم کو کوئی تعزیت کے آداب سکھائے

هفته 21 نومبر 2020ء
آصف محمود
زوال کی یہ انتہاء ہے کہ گدھوں کی طرح یہاں لوگ کفن نوچنے آ جاتے ہیں۔ِ سوچ رہا ہوں کوئی ہے جو اس قوم کو تعزیت کے آداب سکھا سکے؟ خادم حسین رضوی اپنے اللہ کے حضور پہنچ چکے ۔ یہ وقت وداع ہے۔ اس لمحے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ زبان سے خیر نہ نکل سکے تو زبان تھام لی جائے۔ ہر موقع زہر تھوکنے کا نہیں ہوتا۔ ہر وقت ترکش خالی نہیں کیے جاتے۔ کبھی وجود کو تھام بھی لیا جاتا ہے۔یہ بات ہماری بنیادی قدروں میں سے ہے کہ جانے والے کی خوبیوں کو یاد
مزید پڑھیے


دھوکے کھا کر میں بھی کچھ چالاک ہوا

جمعرات 19 نومبر 2020ء
آصف محمود
گلگت بلتستان انتخابات میں اہم سوال یہ نہیں کہ کون جیتا۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے طے کر رکھا ہے ہم نے انتخابات اسی طرح ’’آزادانہ اور منصفانہ ‘‘ انداز سے کرانے ہیں یا ہم انتخابی اصلاحات کا بھاری پتھر بھی اٹھا پائیں گے۔ مرحوم ضیاء الحق صاحب ، جب ریفرنڈم میں تاریخی کامیابی حاصل کر چکے تو ایک محفل میں انہوں نے شرکاء سے گواہی طلب فرمائی کہ کیا یہ انتخاب آزادانہ اور منصفانہ تھا۔عبد القادر حسن بھی موجود تھے۔ ضیاء الحق صاحب نے ان سے براہ راست مخاطب ہو کر یہی سوال پوچھا تو عبد القادر
مزید پڑھیے


حارث رئوف ! جیتے رہو

منگل 17 نومبر 2020ء
آصف محمود
حارث نے شاہد آٖفریدی کو آئوٹ کیا ، اس کا تعلق کرکٹ سے ہے لیکن آئوٹ کرنے کے بعد حارث نے جس رویے کا مظاہرہ کیا اُس کا تعلق حفظ مراتب اور تہذیب نفس سے ہے۔کرکٹ تو ہر طرف زیر بحث ہے سوال یہ ہے کیا حفظ مراتب کے باب میں ہم حارث سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟تحریک انصاف کے وابستگان تو معیشت کے مسائل بھی کرکٹ کی زبان میں سلجھا رہے ہوتے ہیں، کیا وہ غور کریں گے کامیابی کے ساتھ تہذیب نفس کی دولت بھی میسر آ جائے تو آدمی کیسے سرخرو ہو جاتا ہے؟ وکٹیں تو سب ہی
مزید پڑھیے


باچا خان ۔۔۔۔’’آپ بیتی‘‘ کی روشنی میں

هفته 14 نومبر 2020ء
آصف محمود
برصغیر کے مزاج میں انتہا پسندی اور غلو ہے۔یہاںہجو اور قصیدے کے بیچ کچھ تلاش کرنا آسان کام نہیں رہا۔یہی معاملہ باچا خان مرحوم کے ساتھ ہوا،جو انہیں چاہتے ہیں وہ عظمت کا ہمالہ تراشے بیٹھے ہیں اور ان میں کسی غلطی کا احتمال تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور جو انہیں پسند نہیں کرتے وہ ان کی خوبیوں کے اعتراف سے بھی قاصر ہیں۔نفرت اور عقیدت سے ہٹ کر،آئیے آج،باچا خان کی’’ آپ بیتی‘‘ کی روشنی میں باچا خان کو تلاش کرتے ہیں۔ ’’آپ بیتی‘‘ کو ہند پاکٹ بکس نے 1969 میں دلی سے شائع کیا ۔250 صفحات پر مشتمل
مزید پڑھیے