BN

آصف محمود


کیا الیکشن کمیشن پر وزیر اعظم کی تنقید جائز ہے؟


جناب وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے خلاف فرد جرم مرتب کر دی ہے۔عمران خان صاحب کو الیکشن کمیشن سے دو شکایات ہیں۔ پہلی شکایت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے خفیہ ووٹنگ پر اصرار کیوں کیا اور دوسری شکایت یہ ہے کہ اس نے اس مختصر سے وقت میں بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ کیوں نہیں لگایا۔ ان دونوں اعتراضات کو وابستگی ، نفرت اور عقیدت سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ معلوم نہیں ،وزیر اعظم کو ان کے رفقائے کار چیزوں کے بارے میں درست معلومات نہیں دیتے یا یہ ان کا تجاہل عارفانہ ہے لیکن حقیقت
هفته 06 مارچ 2021ء

’’فیصل واڈا ‘‘ ۔۔۔۔ چند سوالات

جمعرات 04 مارچ 2021ء
آصف محمود
فیصل واڈا صاحب قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ان سطور کی اشاعت تک ، امکان ہے ، وہ سینیٹرمنتخب ہو چکے ہوں گے۔ اس استعفے کے بعد ان کی خالی کردہ نشست پر قومی اسمبلی کے لیے ضمنی انتخاب ہو گا۔ بھینسیں بیچ کر کفایت شعاری کی اعلی مثالیں قائم کرنے والی حکومت سے سوال یہ ہے کہ اس ضمنی انتخاب کا خرچہ کون ادا کرے گا؟ تحریک انصاف ، فیصل واڈا یا غریب عوام؟ ہم نے اگر جمہوری عمل کو آگے لے کر چلنا ہے تو ارتقاء کا یہ سفر انتخابی اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔
مزید پڑھیے


جناب جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

منگل 02 مارچ 2021ء
آصف محمود
صدر پاکستان نے سپریم کورٹ سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 186 کے تحت سینٹ انتخابات کے حوالے سے جو رائے مانگی تھی اس کا جواب آ چکا اور ہر دو اطراف اور اہل دانش کی جانب سے اس پر تبصرے جاری ہیں۔ ایسے معاملات میں اختلافی نوٹ بالعموم زیادہ اہم نہیں رہتے اور نظر انداز کر دیے جاتے ہیں لیکن اس رائے میں جناب جسٹس یحیی آفریدی صاحب نے جو اختلافی نوٹ لکھا ہے ،وہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اہل سیاست کے لیے اس میں غور و فکر کی بہت گنجائش موجود ہے اور جناب صدر بھی اگر
مزید پڑھیے


یوسف رضا گیلانی یا حفیظ شیخ؟

پیر 01 مارچ 2021ء
آصف محمود
اسلام آباد کی نشست سے کون کامیاب ہو گا؟ یوسف رضا گیلانی یا حفیظ شیخ؟ اور اگر یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوتے ہیں تو اس کامیابی کے اثرات کیا سینیٹ تک ہی محدود رہیں گے یا عمران خان کی وزارت عظمی بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے؟ دستیاب ووٹوں کے اعتبار سے حفیظ شیخ کا پلڑا بھاری ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ قانون اراکین پارلیمان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ چاہیں تو اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیں اور چاہیں تو کسی اور دے لیں ان پر کوئی پابندی نہیں ۔سپریم کورٹ کو بھیجے گئے
مزید پڑھیے


ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن: خرچے عوام کیوں برداشت کریں؟

هفته 27 فروری 2021ء
آصف محمود
الیکشن کمیشن نے حکم دیا، ڈسکہ میں ضمنی انتخاب دوبارہ ہو گا۔جان کی امان پائوں تو پوچھوں : کس کے خرچے پر ہو گا؟ اخراجات کون برداشت کرے گا؟ بجلی گیس کے بلوں ، پٹرول اور جانے کس کس مد میں عوام کی رگوں سے لہو نچوڑ کر، کیا اس لیے وسائل اکٹھے کیے جاتے ہیں کہ اداروں میں ایک ضمنی انتخاب کرانے کی اہلیت نہ ہو، تو اس نا اہلی کے تاوان میں برباد کر دیے جائیں؟ الیکشن دو بار نہیں ، دو سو بار کرائیے لیکن اتنا بتا دیجیے کہ اس کے اخراجات غریب عوام کیوں برداشت کرے؟ جن
مزید پڑھیے



مارگلہ پر بہار نہیں،پولن آتی ہے

جمعرات 25 فروری 2021ء
آصف محمود
بہار آتی ہے تو اسلام آباد کے راستے پھولوں سے اور ہسپتال مریضوں سے بھر جاتے ہیں۔ پولن الرجی کا یہ عذاب ہمارے فیصلہ سازوں کے فکری افلاس کا تاوان ہے،جو آج ہم ادا کر رہے ہیں،کل ہماری نسلوں کو ادا کرنا ہو گا۔ اسلام آباد سے پہلے مارگلہ کے پہاڑ خشک اور ویران نہ تھے۔ پرانی تصاویر آج بھی دستیاب ہیں، دیکھا جا سکتا ہے، ان میں وہی حسن تھا، جو پوٹھوہار کے باقی پہاڑوں میں ہے۔غیر ملکی ماہرین شہر کی پلاننگ کر رہے تھے ، انہیں مقامی تہذیب کا کچھ علم نہ تھا ۔ایوب خان صاحب فیصلہ ساز تھے
مزید پڑھیے


موٹر وے : جانوروں کی خونی لکیر

منگل 23 فروری 2021ء
آصف محمود
لائن آف کنٹرول انسانی المیے کا عنوان ہے اور موٹر وے جنگلی جانوروں کے دکھوں کا عنوان۔کیسا لمحہ ہجرت تھا ، ایک سڑک بنی اور صدیوں سے پہاڑوں میں سفر کرتے جانور بٹ کر رہ گئے۔ جو اِدھر رہ گئے وہ اُدھر نہ جا سکے اور اُدھر والے پھر اس پار نہ آسکے۔ سڑک کے کناروں پر خاردار تاریں لگا دی گئیں بے زبان مخلوق پر ایک قیامت بیت گئی۔ مارگلہ سے گزرتی سڑک کا دکھ تو گاہے بے چین کر دیتا تھا لیکن کبھی خیال تک نہ آیا کہ موٹر وے نے پوٹھوہار کے جانوروں پر کیا ظلم ڈھائے ہیں۔برادرم
مزید پڑھیے


مارگلہ کی جڑی بوٹیاں :ایک طبی خزانہ

هفته 20 فروری 2021ء
آصف محمود
بچپن میں ایک نظم پڑھی تھی ، نندیا پور۔اس کے سحرسے آج تک نہیں نکل پایا۔ندی سی اک نکلتی ہے جہاں سے اور جنگل میں ہے بڑھیا کا گھر۔ یہ ندی اور بڑھیا کے اس گھر کے تصور میں بچپن بیت گیا۔ پھر ایک روز مارگلہ کی ندی سے گزر کر پگڈنڈی پر چلتے چلتے سچ مچ میں ایک بڑھیا کا گھر آ گیا۔ وادی میں پھیلے جنگل کے اس اکیلے گھر میںمس مصرو رہتی تھی۔مس مصرو کا انتقال ہوا،تو سی ڈی اہلکاروں نے اس کی جھونپڑی کو مسمار کر دیا۔ حالانکہ تھوڑی سی عقل اور ذوق ہوتا تو جنگل
مزید پڑھیے


رملی : ندی سی اک نکلتی ہے جہاں سے

جمعرات 18 فروری 2021ء
آصف محمود
فروری کی دھوپ میں جھیل کنارے بیٹھا تھا ۔ پانیوں پر تیرتے اس سناٹے میں رملی ندی یاد آگئی۔ جس کے کنارے پھولوں سے بھرے رہتے تھے اورساون جس کی مٹی میں بادل گوندھ دیتا توسوندھی سی مہک پورے جنگل میں پھیل جاتی ۔ پتھریلی ندی پھر ہرن کے حیران بچے کی طرح اس وادی میں دوڑ تی پھرتی۔یادوں نے ہجوم کیا تو میں جھیل سے اٹھا اوروادی رملی کی طرف چل پڑا جہاں مارگلہ کے سارے موسموں کی خوشبو کا بسیرا ہوتا تھا۔ رملی وادی اور میرے بیچ بیس سالوں کی مسافت حائل ہو چکی تھی لیکن کسی
مزید پڑھیے


اہل علم کو بولنے دیجیے!

منگل 16 فروری 2021ء
آصف محمود
کبھی آپ نے سوچا ہماری جامعات میں ایک فکری جمود سا کیوں طاری ہے؟ جدید دنیا میں نئی تحقیقات یونیورسٹیوں میں ہو رہی ہیں۔آئے روز کوئی تحقیق پڑھنے کو ملتی ہے اور معلوم ہوتا ہے یہ فلاں یونیورسٹی کی تحقیق ہے۔ کورونا پر بھی ان جامعات میں مسلسل علم و تحقیق کا کام ہو رہا ہے اور روز کوئی نئی بات سامنے آتی ہے تو پتا چلتا ہے یہ فلاں تعلیمی ادارے کی تحقیق کے نتائج ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا تحقیقی کام ہماری جامعات میں کیوں نہیں ہو رہا ؟ ہمارے ادارے فکری جمود کا شکار کیوں ہیں؟
مزید پڑھیے