BN

آصف محمود


اے امت مسلمہ !سارا ہی جلا دیا؟


26 سال بیت گئے ہیں لیکن ایسے لگتا ہے کل کی بات ہو۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ ہوا ، شام کی کلاسز ہوتی تھیں۔ مسئلہ مگر یہ تھا کہ پہلو میں جنگل اور پہاڑ ہو تو شام کے وقت کون کلاس لے سکتا ہے۔ ڈوبتے سورج کی سرخی جب مارگلہ پر پھیل جاتی تو کلاس روم میں دل بھی ڈوبنے لگتا۔ جیفری چاسر کو پڑھاتے ہوئے ،کلاس میں جب سر نے Love at first Sight پر ’ روشنی ‘ ڈالی تو بریک میں کیفے ٹیریا پر چائے پیتے افتخار نے پوچھا کون کون اس تجربے سے
منگل 07 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

گورنر پنجاب اور سلطنت عثمانیہ کا ’ فرمانِ رمضان‘

هفته 04 دسمبر 2021ء
آصف محمود
معیشت پر گورنر پنجاب کے ’ انکشافات‘ سنے تو سلطنت عثمانیہ کا ’ فرمان رمضان‘ اور فرما ن محرم‘ یاد آ گئے۔اب بیٹھا سوچ رہا ہوں کیا ہم بھی اپنی معیشت کے ساتھ وہی کر رہے ہیں جو عثمانیوں نے اپنی معیشت کے ساتھ کیا تھا؟ سلطنت عثمانیہ کتنی بڑی سلطنت تھی لیکن ایک وقت آیا اسے قرض لینا پڑ گیا اور اس نے یورپی ممالک کے آگے دست سوال دراز کر دیا۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ دربار شاہی اور اس سے جڑی اشرافیہ کے غیر معمولی اخراجات تھے۔ قرض لیا جاتا رہا اور اللوں تللوں
مزید پڑھیے


ماحول کو عزت دو

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
آصف محمود
غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں صرف دو سالوں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ کیا کسی کے پاس وقت ہے کہ وہ بیٹھ کر سوچے پانچ دس سال کے بعد یہاں زندگی کیسی ہو گی؟کوئی اور ملک ہو تو شاید برداشت کر جائے ، ہم تو ہیں ہی ایک زرعی ملک۔ ہمارا کیا بنے گا؟ یہی کوئی دس سال پہلے کی بات ہو گی۔جاڑے میں مارگلہ کی پگڈنڈی پر دور تک جانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ دسمبر کی دوپہر میں جنگل کی چھائوں میں سستانے بیٹھتے تو دانت بجنا شروع ہو جاتے تھے۔ مارگلہ کا جاڑا اب
مزید پڑھیے


مسلم معاشرے منجمد کیوں؟

هفته 27 نومبر 2021ء
آصف محمود
مسلم معاشروں میں جو کچھ ہوتا ہے ، حالات کے جبر کے تحت ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوںکی وہ دانشِ اجتماعی کیا ہوئی جو بدلتے حالات کے تقاضے بر وقت بھانپ کر معاشرے کو غیر محسوس طریقے سے فکری اور مادی ارتقاء کی طرف لے جاتی ہے؟ معاملے کو سمجھنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کو دیکھ لیجیے۔دونوں معاشرے ، یوں لگتا ہے کہ برف کی باٹ صورت منجمد ہیں۔ حالات کا جبر کچھ بدل دے تو الگ بات ہے ورنہ فکری اور شعوری ارتقاء کہیںنظر نہیں آتا۔افغانستان سے سوویت یونین نکلتا ہے اور اس کے بعد مجاہد رہنمائوں
مزید پڑھیے


احسن اقبال صاحب کی خدمت میں

جمعرات 25 نومبر 2021ء
آصف محمود
کلبھوشن یادیو پر لکھے گئے کالم پر احسن اقبال صاحب کا موقف موصول ہوا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’ میں نے آپ کا کالم پڑھا اور حیرت زدہ رہ گیا کہ آپ جیسے کالم نویس سے یہ بات کیسے پوشیدہ ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے کنونشن میں شامل ہے۔ پاکستان کے پاس اس کیس سے فرار کی آپشن نہیں تھی وگرنہ یکطرفہ فیصلہ آ سکتا تھا جو زیادہ خطرناک ہو سکتا تھا۔آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس مقدمہ کے جملہ معاملات ان قوتوں کی نگرانی میں کیے گئے جنہیں آپ مقتدرہ قوت لکھتے ہیں۔لہذا مسلم لیگ
مزید پڑھیے



مودی اور کانگریس۔۔۔۔۔فرق کیا ہے؟

منگل 23 نومبر 2021ء
آصف محمود
گذشتہ چند ماہ میں ، کشمیر پر متعدد کانفرنسزاور سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ان میں ایک بات جو میں نے واضح طور پر محسوس کی یہ ہے کہ مقررین مودی کو نازیوں جیساظالم سفاک حکمران ثابت کرنے کے لیے ایک ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے کانگریس تو بڑی اچھی ، معتدل اور انسان دوست جماعت تھی اور اس کے بابرکت دور میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیا کرتے تھے اور بھارت میں مسلمانوں کے لیے بڑا مثالی ماحول تھا اور اس خطے کی ساری کوئلیں امن اور محبت کے گیت گاتی تھیں لیکن اب جب سے
مزید پڑھیے


کلبھوشن کیس: احسن اقبال کس کو رو رہے ہیں؟

هفته 20 نومبر 2021ء
آصف محمود
کلبھوشن یادیو پر ہونے والی قانون سازی پر میرے جیسا ایک بے بس شہری دکھی ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ احسن اقبال کس کو رو رہے ہیں؟ کیا انہیں یاد نہیں ، فصیلوں میں ریت انہی کی حکومت کے دور میںبھری گئی تھی۔وہ سادہ بہت ہیں یا چالاک بہت؟ کس بے نیازی سے پروفیسر صاحب نے ایوان میں کھڑے ہو کر نوحہ پڑھا۔ آسکر والوں کو سیاست سے رہ و رسم نہیں ،ورنہ اداکاری کا یہ جوہر اس بات کا مستحق ہے کہ اسے ایوارڈ عطا کیا جائے۔ فرماتے ہیں :’’ بھارت کشمیر میں ظلم ڈھا رہا
مزید پڑھیے


الیکٹرانک ووٹنگ سے پہلے پہلے

جمعه 19 نومبر 2021ء
آصف محمود
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کی قانون سازی مبارک۔درخواست یہ ہے کہ اس مرحلہ شوق سے پہلے پہلے کچھ چھوٹے چھوٹے کام کر لیے جائیں۔میں اپنے مشاہدے کی چند چیزیں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں،اپنے اپنے مشاہدے کی روشنی میں آپ اس درخواست کے متن میں اضافہ فرما سکتے ہیں۔ کشمیر پر تقریر کے علاوہ اس حکومت کا واحد کام جو نظر آتا ہے،ڈپلومیٹنک انکلیو کی دہلیز پر نصب وہ کرفیو کائونٹر ہے جو بتاتا ہے کہ کشمیر میں حالیہ بھارتی غاصبانہ اقدام کو کتنا وقت گر چکا ہے۔کتنے دن،گھنٹے اورمہینے،یہ کائونٹر لمحہ لمحہ گن رہا ہے۔دلچسپ بات یہ
مزید پڑھیے


پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اور اپوزیشن کا ’’ ٹف ٹائم‘‘

جمعرات 18 نومبر 2021ء
آصف محمود
ایک زمانہ تھا لوگ اونٹ سے پوچھا کرتے تھے کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ آج کل وہ یہی سوال پی ڈی ایم سے پوچھ رہے ہیں۔ دو دن ہی کی تو بات ہے سمندر کی لہروں نے پیاسوں کے لیے شبنم اچھالی اور جناب بلاول حضرت مولانا سے جا کر ملے۔ خلق خدا کو یہ نوید سنائی گئی کہ ’’ اب ہم پارلیمان میں حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے‘‘۔آج مگر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے اپنے سارے بل منظور کروا لیے ہیں اور حزب اختلاف ز بان حال سے یہ کہتے ہوئے واک آئوٹ
مزید پڑھیے


جوتوں میں شراب

منگل 16 نومبر 2021ء
آصف محمود
آسٹریلیا کے کھلاڑیوں نے ورلڈکپ میں فتح کے بعد جوتوں میں شراب پی۔ ان کے ہاں سماجی سطح پر اگر یہ ایک مستحسن عمل ہے تو ہمیں اس پر اعتراض یا تنقید کا ظاہر ہے کوئی حق حاصل نہیں۔یہ سوال البتہ نہ چاہتے ہوئے بھی دیوار دل سے آن لگا ہے کہ جن احباب کو مقامی تہذیب کا ہر رنگ پریشان کر دیتا ہے اور غیر مقامی تہذیب کے مظاہرجن کے لیے معیار شرافت و شرف ہیں،وہ اس رسم پر کب عمل پیرا ہوں گے؟ اندریں حالات درخواست یہ ہے کہ اگر انتہائی مقامی احباب کے ہاں ایسی کوئی رسمِ
مزید پڑھیے








اہم خبریں