BN

آصف محمود



کیا کرونا ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے؟


کیا کرونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے اور یہ کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا مشکل ہے۔ تو کیا کرونا ایک قدرتی وائرس ہے جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں دینا انتہائی مشکل ہے۔ہر دو کے امکانات موجود ہیں اور جب تک کوئی چیز واضح طور ہمارے سامنے نہیں آتی تب تک کسی سازشی تھیوری کا ، کامل یقین کر لینا یا اسے آخری درجے میں رد کرنا ، دونوں ہی نا معتبر رویے ہیں۔ حیاتیاتی اسلحہ یا حیاتیاتی جنگ ، یہ کسی خیال
منگل 31 مارچ 2020ء

کرونا : وائرس یا ورلڈ آرڈر؟

هفته 28 مارچ 2020ء
آصف محمود
کرونا سے اگر ہم نے احتیاط کی تو یہ محض ایک وائرس ہے جو انشاء اللہ ایک دن ختم ہو جائے گا،ہم اس سے خوفزدہ ہو گئے تو یہ ایک ورلڈ آرڈر ہے جو سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔یہ وہ بات ہے جوا فراد کو بھی سمجھ لینی چاہیے اور دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی۔ خوف کیا ہوتا ہے؟ معاشی تناظر میں سمجھنا ہو تو جان لیجیے یہ خوف کارپوریٹ دنیا کی مبادیات میں سے ایک ہے۔اس بات کو یوں سمجھیے کہ نلکے کے پانی سے بھلے ہم کبھی بیمار ہوئے ہوں یا نہیں لیکن اس کا خوف
مزید پڑھیے


جامعہ الازہر کا فتوی۔۔۔۔۔صدر محترم سے دس سوالات

جمعه 27 مارچ 2020ء
آصف محمود
صدر پاکستان جناب عارف علوی کا کرونا وائرس کی وبا کے دوران عبادات کے حوالے سے جامعۃ الازہر سے رہنمائی کا طالب ہونا یہ بتا رہا ہے کہ اس حکومت کا فکری بحران کتنا شدید ہے۔صدر محترم کی اس علمی جستجو کا حاصل سوالات ہی سوالات ہیں۔ شیخ الازہر نے صدر محترم کی رہنمائی فرما دی ہے، اب کیا صدر محترم ہم طالب علموں کی رہنمائی فرمانا گوارا کریں گے؟پہلا سوال یہ ہے کہ اگر سربراہ ریاست کو کسی علمی و فکری معاملے میں کوئی الجھن درپیش ہو جس کی نوعیت مذہبی ہو اور وہ اس پر رہنمائی چاہتا
مزید پڑھیے


’’سینئر صحافی‘‘ اور ’’دانشور‘‘

جمعرات 26 مارچ 2020ء
آصف محمود
وزیر اعظم کی ’’ سینیئر صحافیوں ‘‘ سے ہونے والے گفتگو سے عمران خان بد مزہ اور ان کے وابستگان خفا ہیں۔ جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ ’’ سینئر صحافیوں سے ملاقات‘‘ کے عنوان سے جو محفل آپ نے برپا کی یہ آپ ہی کی نگاہ ناز کا انتخاب تھا۔ اب اگر خطبوں کی صورت سوال پوچھے گئے اور گاہے صحافتی اقدار سے بھی بے نیازی برتی گئی تو وفور غم کی یہ روبکار صحافت کے نام کیوں بھیجی جا رہی ہے؟ جھنجھلاہٹ اور تلملاہٹ کا یہ کوڑا اپنے ذوق ، اپنے انتخاب اور
مزید پڑھیے


کرونا : کردار کے غازی بے داغ ماضی کہاں ہیں؟

منگل 24 مارچ 2020ء
آصف محمود
الخدمت سمیت درجنوں رفاہی اور سماجی تنظیمیں میدان عمل میں ہیں ۔ لوگ اپنی بساط کے مطابق بروئے کار آ رہے ہیں۔ کہیں ماسک مفت تقسیم ہو رہے ہیں کہیں کھانا بانٹا جا رہا ہے۔ کہیں مہینے بھر کے راشن کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں اور کہیں اس راشن کو گھر گھر پہنچانے کے لیے رضاکاروں کا اندراج ہو رہا ہے۔ خیر اور ہمدردی کے یہ مناظر دیکھ کر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابتلاء کے دنوں میں وہ اہل ثروت کہاں ہیںہر الیکشن میں جو عوام کے غم میں دبلے ہوئے پھرتے تھے۔ یہ کردار کے
مزید پڑھیے




کرونا: روس میں کیوں نہ پھیل سکا؟

پیر 23 مارچ 2020ء
آصف محمود
کیا آپ نے غور کیا کرونا جس نے ساری دنیا کو سراسیمگی میں مبتلا کر رکھا ہے ، روس میں کیوں نہ پھیل سکا۔ روس بھی تو چین کا پڑوسی ہے اور پڑوسی بھی ایسا کہ مشترکہ سرحد چار ہزار دو سو نو کلومیٹر پر پھیلی ہے۔یہ دنیا کی چھٹی طویل ترین سرحد ہے۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے اور اس میں ہمارے لیے عبرت اور حکمت ، دونوں کا سامان موجود ہے۔ 31 دسمبر کو چین میں نمونیے کے کچھ ایسے کیس سامنے آئے جو عام نمونیا سے مختلف تھے۔ آپ چین کا رد عمل دیکھیے ، اسی شام سائنسدانوں
مزید پڑھیے


کرونا: لبرلز اور اہل مذہب کی تازہ صف بندی

اتوار 22 مارچ 2020ء
آصف محمود
مذہبی اور سیکولر رجحان میں شدت رکھنے والے احباب ایک بار پھر صف آراء ہیں۔ تازہ فکری تصادم کا عنوان کرونا ہے۔ سوال یہ ہے کیا یہ دونوں گروہ ایک ایک قدم پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟دونوں کو معلوم ہونا چاہیے دونوں غلطی پر ہیں۔دونوں سے درخواست ہے اس قوم پر رحم فرمائیں۔ کرونا کی وجہ سے بیت اللہ کو جزوی طور پر بند کیا گیا تو سیکولر حضرات حساب برابر کرنے آ پہنچے ۔ مسلمانوں کو طعنے دیے گئے کہ اب رب کے گھر میں جا کر شفا مانگنے کی بجائے ڈاکٹروں کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو۔ بظاہر اچھے خاصے
مزید پڑھیے


کرونا : امریکہ ایران کشیدگی کی قیمت کون ادا کرے گا؟

هفته 21 مارچ 2020ء
آصف محمود
ایران میں کرونا بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور امریکہ اور ایران کی قیادت اس معاملے کو انسانی المیے کی بجائے سیاسی عنوان کے تحت دیکھ رہی ہیں اور کوئی بھی اپنی انا کے خول سے باہر آنے کو تیار نہیں۔سوال یہ ہے کہ انا اور ضد کی اس جنگ میں ایران کے عوام کا کیا بنے گا ؟ اور اس سے جڑا سوال یہ ہے کہ ایران میں یہ وبا قابو سے باہر ہو گئی تو ہم جو اس کے پڑوس میں ہیں ہمارا کیا بنے گا؟ واشنگٹن پوسٹ میں، کل ، ایڈم ٹیلر کی ایک تحریر نظر سے
مزید پڑھیے


’’آدمی میں انسان کی تلاش‘‘

جمعه 20 مارچ 2020ء
آصف محمود
گھر کے ایک کونے میں ایسی کتابوں کا انبار لگا ہے جنہیں برسوں سے کھول کر نہیں دیکھا۔ یہ وہ کتابیں ہیں جو بار بار چھانٹی کے باوجود بچ گئی ہیں۔ ایک محدود اور حسین سٹاک ہے جو نہ کسی دوست کو دیا جا سکتا ہے نہ کسی لائبریری کو۔ ایک متاع عزیز کی طرح ایک گوشے میں رکھا ہے۔دیکھتا ہوں اور شانت ہو جاتا ہوں۔ان دنوں فراغت ہی فراغت ہے۔ سوچا ایک پہر ان کتابوں کے ساتھ گزارا جائے۔ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے میں ان کتابوں کے پاس جا بیٹھا اور پھرپورا پہر ایک ہی کتاب
مزید پڑھیے


صرف جماعت اسلامی؟

جمعرات 19 مارچ 2020ء
آصف محمود
عمران خان سے مایوسی بڑھی تو جماعت اسلامی نے نعرہ دیا : حل صرف جماعت اسلامی ، سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے متحرک نوجوانوں نے اس نعرے کو تفنن طبع کا عنوان بنا کر اڑا دیا۔ اس کا منطقی انجام بھی یہی تھا کیونکہ جماعت اسلامی کے محدود تر ووٹ بنک کے پیش نظر یہ نعرہ غیر معمولی مبالغہ آمیزی اور سادگی کا حسین مرقع تھا۔لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے ، اس ملک میں جب بھی افتاد آن پڑی ، وہ زلزلہ ہو ، سیلاب ہو ، کرونا وائرس کی وبا ہو ، سیاسی جماعتوں میں جماعت
مزید پڑھیے