BN

آصف محمود



بڈھے بڈھے جرنیل اور کم سن مولانا


ننھے منے مولانا بڈھے بڈھے جرنیلوں پر برس پڑے تو نوح ناروی یاد آئے کہ ’’ ابھی کم سن ہیں ُ‘‘ بگڑ گئے تو کیا ہوا، عمر ہی ایسی ہے۔ لیکن گنجینہِ معنی کا طلسم کھلا تو معلوم ہوا نشانے پر امجد شعیب تھے ۔ منظر لکھنوی نے کہا تھا: کم سنی کیا کم ہے ، اس پر قہر ہے شکی مزاج۔کم سن مولانا نے الزام بھی لگایا تو کتنا نامعتبر؟ ’’ اسرائیل کے ٹکڑوں پر پلنے والے‘‘۔اس ملک میں کسی بھی شریف آدمی پر کیچڑ اچھال دینا کتنا آسان ہے ،جسے سیاسی عصبیت حاصل نہیں ، اس کے
منگل 22 اکتوبر 2019ء

کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے؟

هفته 19 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
سادہ سا سوال ہے : کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے ؟ جواب اس بھی سادہ ہے: ہر گز نہیں۔ یہ محض بد گمانی نہیں ، ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پولیس کا یہ ادارہ عوام دوستی ، جرائم کے خاتمے یا انصاف کی فراہمی کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ قانون کے لبادے میں ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جو ظلم و بربریت اور اپنے طریق واردات سے اس بات کو یقینی بنائے کہ سماج فرماں بردار غلام کی طرح رہنا سیکھ لے اور کسی میں سر اٹھانے کی
مزید پڑھیے


گالی کی سیاست۔۔۔۔۔روک سکو تو روک لو

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
بھلے وقت تھے جب ابولکلام آزاد نے کہا تھا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اب تو سیاست کی آنکھ سے حیا بھی اٹھ چکی۔ سلسلہ علم و فضل میں نسبت کا کوئی شرف باقی نہیں رہا، بالشت بھر لوگوں کو مسند ارشاد میراث میں آئی ہے اور بشارتوں کی زمین پر گویائی کا عذاب اتر آیا ہے۔ روز اہل سیاست محفل آراء ہوتے ہیں ، روز اخلاقی قدریں پامال ہوتی ہیں۔ ایک زوال مسلسل ہے جس نے ہمارا گھر دیکھ لیا ہے ۔ پورا سماج زبان درازی کے آزار سے گھائل ہوا پڑا ہے۔جس سماج میں کبھی
مزید پڑھیے


عمر قید کتنے سال کے لیے ہوتی ہے؟

منگل 15 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
کیا آپ کو معلوم ہے عمر قید کتنے سال کی ہوتی ہے؟ آپ کو شاید حیرت ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ عمر قید کا دورانیہ کیا ہو گا۔ پارلیمان میں جہاں ایک دن کے اجلاس مبارک پر اس قوم کے قریبا چار سو لاکھ خرچ ہوتے ہیں ، سب کچھ ہوتا ہے لیکن قانون سازی نہیں ہوتی۔ قانون سازی کی کبھی اشد ضرورت پڑ بھی جائے تو صدارتی آرڈی ننس سے کام چلا لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پارلیمان نے قانون سازی نہیں کرنی تو پھر
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کی خدمت میں

پیر 14 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے بارے میں بہت سوچا لیکن ڈور کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔ سوچا مولانا ہی کی خدمت میں چند سوالات رکھے جائیں ، وہ بلاشبہ پاکستانی سیاست کے جہاندیدہ اور قابل احترام بزرگ ہیں ، رہنمائی فرما دیں تو شاید یہ الجھن دور ہو جائے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس احتجاج کا مقصد کیا ہے؟احتجاج بلاشبہ مولانا کا حق ہے لیکن کیا وہ محض یہ ثابت کرنے تشریف لا رہے ہیں کہ یہ میرا حق ہے یا ان کے ہمراہ کوئی پالیسی بھی ہے جو انہیں کسی منزل مقصود تک پہنچائے
مزید پڑھیے




کاش عمران خان 500 لوگوں کو جیل میں ڈال سکتے!

هفته 12 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
وزیر اعظم پاکستان نے دورہ چین کے موقع پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ چین نے 400 کرپٹ وزراء کو جیل میں ڈالا ، کاش میں بھی 500 کرپٹ لوگ جیل میں ڈال سکتا۔ اس بیان کا حاصل چند سوالات ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو کس نے بتایا کہ چین نے 400 وزراء کو جیل میں ڈالا؟حقیقت یہ ہے کہ چین میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں اب تک صرف 2 وزراء کو سزا سنائی گئی ہے۔لی ڈانگ شنگ ، جنہیں پندرہ سال قید ہوئی اور جیانگ جی من جنہیں سولہ سال قید
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر۔۔۔پاکستان سفیر اور وکیل ہے یا فریق؟

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
یہ فقرہ ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر میں پاکستان کی حیثیت محض ایک سفارتی اور اخلاقی معاون کی ہے یا وہ اس مسئلے میں ایک فریق ہے؟ آئیے انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ سلامتی کونسل نے 20 جنوری 1948 ء کو ایک قرارداد پاس کی۔ اس قرارداد ( نمبر 39) میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا ایک کمیشن قائم کیا گیا۔ اس کمیشن کا آفیشنل نام تھا ’’ یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار
مزید پڑھیے


ہمارا فریڈم فلوٹیلا کہاں ہے؟

منگل 08 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
صبح نیند سے جاگا تو سامنے رکھے ’ ماوی مرمرا‘ کے ماڈل پر نظر پڑی۔ ماوی مرمرا فریڈم فلوٹیلا ترکی کے اس قافلے کا مسافر بردار بحری جہاز تھا جو غزہ کے محاصرے کو توڑتے ہوئے وہاں محصورین تک ادویات ، خوراک اور بچوں کے کھلونے پہنچانے روانہ ہوا تھا۔ اس بحری جہاز پر جب اسرائیلی فوج نے حملہ کیا تو اس کا کپتان بھی شہید ہو گیا۔ شہید کپتان کے صاحبزادے پاکستان آئے تو خبیب فائونڈیشن کے ندیم احمد خان صاحب کے ساتھ وہ میرے ہاں تشریف لائے ۔جاتے ہوئے انہوں نے مجھے ’ ماوی مرمرا‘ کے اس
مزید پڑھیے


یہ الحاق تھا یا عبوری الحاق؟ انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

هفته 05 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
مہاراجہ کے بھارت سے کیے گئے نامعتبر الحاق کے بارے میں ایک اہم ترین حقیقت ہمارے ہاں کبھی زیر بحث نہیں آئی کہ یہ الحاق نہیں تھا، یہ عبوری الحاق تھا اور یہ بات دستاویز ات میں درج ہے کہ اس الحاق کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ کشمیر نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے بلکہ وہاں تحریری طور پر یہ ضمانت موجود ہے کہ ا س عبوری الحاق کے باوجود کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ابھی باقی ہے اور یہ فیصلہ کشمیر کے عوام نے کرنا ہے۔تو کیا خیال ہے تھوڑا سا ’ مطالعہ ہندوستان‘ ہو جائے؟ اس
مزید پڑھیے


کیا انٹر نیشنل لاء کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کی اجازت دیتا ہے؟

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم اور اقوام عالم کی لاتعلقی سے تنگ آ کر کشمیری اگر بندوق اٹھانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو کیا انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں یہ ایک جائز اقدام ہو گا؟میں اس وقت حکمت عملی اور زمینی حقائق کی بات نہیں کر رہا ، میرے پیش نظر صرف معاملے کا قانونی پہلو ہے۔1949 ء کے جنیوا کنونش کے ایڈیشنل پروٹوکول 1کے آرٹیکل 1 کی ذیلی دفعہ 4 میں اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔یہ پروٹوکول بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مسلح تصادم اور جنگوں کے متاثریں کے تحفظ سے متعلق ہے اور
مزید پڑھیے