Common frontend top

آصف محمود


کیا ہم ایک بڑے بحران سے دوچار ہونے والے ہیں؟


ملک اور اس کی معیشت کی خیر ہو ، ہم ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن ( اور پیپلز پارٹی ) کی کیفیات کے لیے دو اصطلاحیں بڑی حسب حال ہیں۔ پی ٹی آئی ڈیماگوگ ( demagogue ) کا شکار ہے اور حکومتی اتحاد کی جمہوریت اصل میں ایک تشویشناک جیرنٹو کریسی (gerentocrcay) کی زد میں ہے۔ہر دو گروہوں کے لیے اس سے حسب حال اصطلاح تلاش کرنا فی الوقت ممکن نہیں۔جیرنٹو کریسی اور ڈیما گوگ کے اس مقابلے میں عام آدمی کچلا جا چکا ہے۔ جیرنٹوکریسی
هفته 20 جولائی 2024ء مزید پڑھیے

تحریک انصاف پر پابندی: چند سوالات

منگل 16 جولائی 2024ء
آصف محمود
عطا تارڑ صاحب نے تحریک انصاف پر پابندی کی بات کی تو منیر نیازی یاد آ گئے: ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔ فارسی کا مقولہ ہے کہ :مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید، برکل خود باید زد۔ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے وہ حریف کی بجائے اپنے منہ پر مارنا چاہیے۔ مسلم لیگ ن بہت تاخیر کر چکی ہے۔ یہ فیصلہ اگر کرنا ہی تھا تو اس کا مناسب ترین وقت 10 مئی 2023 کی شام تھی۔9 مئی کو اس ملک میں جو ہوا وہ انتہائی خوف ناک اقدام تھا۔ یہ فیصلے
مزید پڑھیے


پاکستان کو ڈی کالونائز کرنا ہو گا ……(2)

هفته 13 جولائی 2024ء
آصف محمود
نو آبادیاتی نظام قانون کے خاتمے اور اس کے متبادل کے نفاذکی یہ ساری مشق جمہوری طریقے سے ہونی چاہیے، بذریعہ پارلیمان اور عدلیہ ہونی چاہیے اور آئین پاکستان کے متعین دائرہ کار کے اندر رہ کر ہونی چاہیے۔چونکہ ان قوانین کے بعض ضمنی حوالے آئین میں بھی موجود ہیں اس لیے جب یہ سلسلہ آگے بڑھے گا تو آئین پاکستان میں بھی ان چند مقامات پر جزوی ترامیم کی ضرورت پڑے گی اور یہ ترمیم آئین کی اجتماعی روح سے متصادم نہیں بلکہ ہم آ ہنگ ہو گی۔ 2۔ دستور پاکستان میں، اس ضمن میں، تین چیزیں
مزید پڑھیے


پاکستا ن کو ڈی کالونائزکرنا ہو گا

جمعرات 11 جولائی 2024ء
آصف محمود
بجٹ میں جس طرح اشرافیہ اور بیوروکریسی کو نوازا گیاہے، اس کا حاصل ایک ہی نکتہ ہے اور وہ یہ کہ یہاں اگر عوام نے رعایا کی بجائے باعزت شہری کے طور پر رہنا ہے تو اس نظام کو ڈی کالونائز کرنا ہو گا۔اورا س ڈی کالونائزیشن کی شروعات نظام انصاف و قانون سے ہوں گی۔ نو آبادیاتی نظام اپنی روح میں سفاک ہے ، اسے بدلنا ہو گا۔ اس نو آبادیاتی نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاح احوال کے لیے بہت سی کوششیں پہلے ہی کی جا چکی ہیں اور ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ہمارے ہاں بعض قوانین کی
مزید پڑھیے


معیشت اور ’’ فرمان محرم‘‘

بدھ 10 جولائی 2024ء
آصف محمود
’’آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنایا‘‘ ، وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ بیان پڑھا تو سلطنت عثمانیہ کا اعلان محرم یاد آ گیا۔ چند سال پہلے بھی میں نے اسی ڈر کا اظہار کیا تھا اور آج پھر میرے دامن سے یہی خوف لپٹ چکا ہے کہ کیا ہمارے ساتھ بھی وہی ہونے جا رہا ہے جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ہوا تھا؟حالات کی مماثلت بہت زیادہ ہے اور پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔ سلطنت عثمانیہ کا فرمان محرم کیا تھا؟ یہ معاشی سرنڈر کی دستاویز
مزید پڑھیے



نظام انصاف اور ’’ ایف گریڈ‘‘!

هفته 06 جولائی 2024ء
آصف محمود
یہ یقیناً میری ہی غلطی اور کوتاہی ہو گی لیکن سچ بتائوں کہ سپریم کورٹ میں سیاسی مقدمات پر طویل سماعت دیکھنے کی اب ہمت نہیں رہی۔ ٹھنڈے ماحول میں ہونے والی طویل ، صبر آزما ، مطمئن ، برفاب قسم کی یہ لمبی لمبی بحثیں اور نکتہ آفرینیاں سنتا ہوں تو مجھے وہ عام لوگ یاد آ جاتے ہیں جن کے مقدمات کی سماعت میں مہینوں اور سال نہیں عشرے لگ جاتے ہیں اور جو بالآخر بری ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے پہلے ہی پھانسی پا چکے ،جو پھانسی سے بچ رہتے ہیں وہ بری ہوتے ہیں
مزید پڑھیے


بجٹ پر نوازشریف صاحب کا رد عمل کیا ہے؟

جمعرات 04 جولائی 2024ء
آصف محمود
یہ اگست 2022 کی بات ہے تب بھی شہباز شریف وزیر اعظم تھے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو مریم نواز صاحبہ نے ٹویٹ کر کے قوم کو خبر دی کہ جناب میاں نواز شریف اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھے ، وہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ اس میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔اب بجٹ آ چکا ہے، کیا ہم جان سکتے ہیں کہ اس بجٹ پر جناب نواز شریف کا رد عمل کیا ہے؟کیا اب وہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے حق میں ہیں اور کیا اب
مزید پڑھیے


مقبوضہ کشمیر کے انتخابات پر امریکی قرارداد کب آ ئے گی؟

منگل 02 جولائی 2024ء
آصف محمود
پاکستانی انتخابات پر تو امریکی ایوان نمائندگان نے غیر معمولی اکثریت سے قرارداد پاس کر لی ، سوال یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اتخابات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا امریکی ایوان نمائندگان کو معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات انٹر نیشنل لا کی روشنی میں بھی ناجائز ہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں؟کیا وجہ ہے کہ ابھی تک امریکی ایوان نمائندگان ان انتخابات کے بارے میں دو لفظ بھی ادا نہیں کر پائی؟ یہ جو
مزید پڑھیے


کیا امریکہ کا انتخابی عمل شفاف ہوتا ہے؟

هفته 29 جون 2024ء
آصف محمود
جمہوریت اور حقوق انسانی کے تصوارت کے ساتھ کیا امریکہ واقعی مخلص ہے یا یہ اس کے سفارتی ہتھیار ہیں جن کا نام استعمال کر کے یہ حسب ضرورت دنیا کے مختلف ممالک کا بازو مروڑتا رہتا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے سب سے آسان مشق یہ ہے کہ خود امریکی انتخابی عمل کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہاں کی حکومتیں واقعی عوام کی مرضی سے بنتی ہیں یا وہاں سرمائے اور ابلاغ کی دنیا کا ایک کارٹل جمہوریت کے نام پر مسلط ہے۔ کتابی طور پر امریکہ کی جمہوریت مثالی ہے۔ دعوے کی
مزید پڑھیے


ساڈا چڑیاں دا چنبہ

جمعرات 27 جون 2024ء
آصف محمود
برادرمحترم شاکر حسین شاکر کی کتاب’’ساڈا چڑیاں دا چنبہ‘‘کتاب نہیں،یہ ایک طلسم ہے، پڑھنے و الے پر سحر طاری ہوجاتا ہے۔اس کے ہر صفحے میں جادو ہے۔اس کی ہر سطر میں ساون بھادوں ہے۔ میں بالعموم ایک پہر میں کتاب تمام کر لیتا ہوں ، کم مگر ایسا ہوا کہ کوئی کتاب ساری کی ساری پڑھ لوں ۔ کتاب ہاتھ آتی ہے تو ادھر ادھر سے مختلف صفحات کھولتا ہوں اور تحریر کا ذائقہ لیتا ہوں ، دو چار منٹ میں ہی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کتاب کو پڑھنا ہے یا نہیں اور اگر پڑھنا ہے تو کتنا پڑھنا
مزید پڑھیے








اہم خبریں