BN

آصف محمود


پولیو مہم : چند گزارشات


اللہ نے کرم کیا ہے اور روایت یہ ہے کہ کورونا کی شدت میں نمایاں کمی آ رہی ہے ۔ عید الاضحی پر غیر معمولی بے احتیاطی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ، انشاء اللہ، بہت جلد ہم کورونا سے نجات پا چکے ہوں گے۔کورونا کی بحرانی کیفیت میں اضطراب کا عالم تھا اور دیگر امراض کے علاج پر مناسب توجہ نہ دی جا سکی۔ اس سلسلے میں عوام کافی پریشان بھی رہے کہ دیگر امراض کے شکار مریض کیا کریں۔اب حالات کچھ سنبھل رہے ہیں توامید بندھی ہے کہ معمول کی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو جائیں گی۔
پیر 27 جولائی 2020ء

کلبھوشن جادیو: خواجہ آصف کیوں برہم ہیں؟

هفته 25 جولائی 2020ء
آصف محمود
کلبھوشن جادیو کے معاملے پر خواجہ آصف صاحب کو ایون میں گرجتے برستے سنا تو احساس ہوا ایک نیم خواندہ سماج میں سیاست کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ابولکلام آزاد نے کہا تھا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ سوچتا ہوں سینے میں دل بھلے نہ ہو ، تھوڑی سی یادداشت تو ہونی ہی چاہیے۔معلوم نہیں خواجہ آصف بھولے بہت ہیں یا ہشیار بہت ، لیکن معاشرے کی اجتماعی یادداشت سے کلبھوشن کیس کی جزئیات ابھی محو نہیں ہوئیں کہ خواجہ آصف ہمیں اقوال زریں سنا کر محفل لوٹ لیں۔اب وہ دور نہیں رہا کہ مشاعرے کے بیچ صرف
مزید پڑھیے


بدھا کا مجسمہ توڑنے پر گرفتاری۔۔ایک اہم سوال

جمعرات 23 جولائی 2020ء
آصف محمود
زمین کی کھدائی میں بدھا کا مسجمہ نکلا ، لوگوں نے توڑ دیا، ویڈیو بن گئی ، شور مچ گیا ، پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ اہل فکر و دانش نے حکومت کی بروقت کارروائی پر دادو تحسین فرما دی ۔ میرے پیش نظر مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس گرفتاری کا کوئی جواز ہے؟ یہ سوال قانونی بھی ہے ، سماجی بھی اور معاشرتی بھی۔ فوری طور پر کسی نتیجے پر پہنچ کر رائے قائم کرنے سے بہتر ہو گا آپ ان سوالات پر ایک نگاہ ڈال لیں ۔ ملزمان کو جس قانون کے تحت گرفتار
مزید پڑھیے


آن لائن تعلیم اور آف لائن حکومت

منگل 21 جولائی 2020ء
آصف محمود
آن لائن تعلیم کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت آف لائن ہو چکی ہے۔ کیا نوجوانوں نے تحریک انصاف کا رومان اسی لیے پالا تھا کہ اول نوجوانوں کے امور کے نام پر انتخابات میں شکست کھانے والے ایک غیر منتخب کو مشیر بنا لیا جائے اور اس کے بعد نوجوانوں کے مسائل کی طرف بھول کر بھی توجہ نہ دی جائے۔کیا نوجوانوں کی افادیت اب صرف یہ رہ گئی ہے کہ ان کے جذبوں کا استحصال کیا جائے اور انہیں سیاست کی بھٹی میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے؟ کورونا سے پیدا ہونے والے
مزید پڑھیے


ہمارا کیا بنے گا؟

هفته 18 جولائی 2020ء
آصف محمود
سیاسی وابستگی اوراختلاف کو چولہے میں ڈالیے۔ایک پاکستانی کے طور ہم سوچ سکیں تو سوال ایک ہی ہے: ہمارا کیا بنے گا؟ کیا کوئی ایک شعبہ زندگی ہے جہاں ہم نے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ ہمارے اہداف کیا ہیں اور اگلے دس سال میں ہم نے کہاں کھڑا ہونا ہے؟ تعلیم سے آغاز کر لیتے ہیں۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا ہماری کوئی تعلیمی پالیسی ہے؟ کیا کبھی کسی حکومت نے غور کیا یا پارلیمان میںاس پر بحث کی کہ ہمیں نظام تعلیم کو کن اصولوں پر استوار کرنا ہے؟ کیا کبھی کسی نے اس نکتے پر
مزید پڑھیے



کیا واہگہ راہداری کا کھولنا ایک درست فیصلہ ہے؟

جمعرات 16 جولائی 2020ء
آصف محمود
پاکستان نے افغان برآمدات کے لیے واہگہ بارڈر کو کھول دیا ہے۔ سوال یہ ہے کیا یہ ایک درست فیصلہ ہے؟ سیاق و سباق اور معاملے کو سمجھ لیجیے۔ چند بنیادی چیزوں کی تفہیم ہو جائے گی تو رائے قائم کرنے میں آسانی رہے گی۔ پہلا بنیادی نکتہ یہ ذہن میں رکھیے کہ اس بندو بست کے تحت افغانستان کی اشیاء تجارت بھارت جا سکیں گی۔بھارت کی اشیاء افغانستان نہیں جا سکیں گی۔یہ سہولت بنیادی طور پر افغانستان کو دی گئی ہے۔اس سے افغانستان کی برآمدات کو فائدہ ہو گا، بھارت کی برآمدات کو نہیں۔معاہدے کے مطابق افغانستان سے مال لے
مزید پڑھیے


ایا صوفیہ

منگل 14 جولائی 2020ء
آصف محمود
سادہ سا ایک سوال تھا: ترکی نے ایا صوفیہ کو مسجد بنا کر احترام مذاہب اور عبادت گاہوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین میں سے کس قانون کے کس ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے؟ جواب میں مگر آہ و فغاں اور طنز اور کوسنوں کے سوا کچھ نہیں۔ علم کی دنیا مگر دلیل مانگتی ہے اور نفرت سے قہر برساتے لہجوں کو آج تک کسی نے دلیل کے باب میں نہیں لکھا۔انتہا پسندی بہت بری چیز ہے اور انتہا پسندی کا تعلق وضع قطع سے نہیں رویوں سے ہے۔ انتہا پسندی مذہبی فکر کی صورت میں ظہور کرے
مزید پڑھیے


ہم کیا کھا رہے ہیں؟

هفته 11 جولائی 2020ء
آصف محمود
کبھی ہم نے سوچا ،ہم کیا کھا رہے ہیں؟ جنک فوڈ کا آزار تو چھوڑ ہی دیجیے ، کبھی غور کیجیے کہ سبزیوں ، پھلوں اور اجناس کے نام پر کیا کچھ ہمیں کھلایا جا رہا ہے؟ پھل اور سبزیاں کہنے کو تو موجود ہیں اور برائلر مرغیوں کی طرح صحت مند ہوتے جا رہے ہیں لیکن ان کا ذائقہ ان سے روٹھ چکا ہے۔دیسی بیج ہم نے برباد کر دیے اب احساس ہی نہیں رہا کہ کیا کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں۔چک شہزاد میں اب بھی کچھ فارمز بچ رہے ہیں جہاں سبزیاں وغیرہ کاشت کی جاتی ہیں اور سیوریج
مزید پڑھیے


سرگودھا اور کوٹ مومن کے پلُوتے

جمعرات 09 جولائی 2020ء
آصف محمود
یہ کیا کہانی ہے کہ بالوں میں سفیدی اترتی ہے تو اپنی زمین اورا س سے جڑی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ اپنا گائوں ، اپنی ثقافت ، اپنے لوگ ، اپنی تہذیب ، یہ سب میٹھا میٹھا درد بن کر وجود سے لپٹ سے جاتے ہیں؟گائوں میں ہوتا تھا تو گائوں کی قدر ہی نہ تھی ۔اب پچیس سال سے اسلام آباد میں ہوں اور عالم یہ ہے کہ بیٹھے بیٹھے گائوں کا ذکر آتا ہے اور اداسی لپٹ جاتی ہے۔ ڈاکٹر معین نظامی میرے خالہ زاد بھائی ہیں۔ علمی وجاہت اور نجیب طبیعت انہیں قبیلے کا فخر بناتی
مزید پڑھیے


کیا حکومت سکیورٹی رسک بنتی جا رہی ہے؟

منگل 07 جولائی 2020ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے دو سالہ اقتدار کا حاصل ایک ہی سوا ل ہے: کیا یہ حکومت سکیورٹی رسک بنتی جا رہی ہے؟ عمران خان کی خیر خواہی سے لے کر ان سے حسن ظن تک اور ان کی سادگی اور سچائی سے لے کر ان کے بھولپن تک ، جتنی تاویلات کی جا سکتی تھیں کر کے دیکھ لیں ۔اس سوال کے آسیب سے مگر جان نہیں چھڑا سکا ۔آپ کی نیت اب بھی خالص ہو گی اور آپ کا جذبہ سچا ہو گا لیکن حکومت محض نیک نیتی اور سچے جذبوں کا نام نہیں ، یہ کارکردگی کا نام
مزید پڑھیے