BN

آصف محمود


کرونا : خطاب سے پہلے


قوم سے خطاب ضرور فرمائیے لیکن پہلے کچھ اصلاح احوال ۔ جناب وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ کے ذریعے قوم کو بتایا ہے کہ کورنا وائرس کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی وہ ذاتی طور پر نگرانی فرما رہے ہیں اور بہت جلد وہ قوم سے خطاب بھی کریں گے۔ خطاب لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے تو وہ ضرور فرمائیں لیکن جان کی امان پائوں تو عرض کروں کہ معاملات خطاب سے زیادہ اصلاح احوال اور ادارہ جاتی تحرک کے متقاضی ہیں۔ اس ملک میں کسی نے کرونا کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھا تو وہ
منگل 17 مارچ 2020ء

پاکستان: اسلام پسند اور قوم پرست ملامتی طبقے کے نشانے پرکیوں؟

هفته 14 مارچ 2020ء
آصف محمود
اتفاق دیکھیے ، قوم پرستوں اور اسلام پسندوں نے پاکستان کو بیک وقت نشانے پر لے رکھا ہے۔ ہر گروہ کی جیب میں اپنا ایک پاک باز مرد قلندر ، درویش اور جری رہنما موجود ہے اور ہر گروہ کے نزدیک پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی غلطی ہائے مضامین کے سوال کچھ نہیں۔خطے کے جملہ مسائل کی ذمہ دار پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے اور خطے میں امید کی کرن صرف وہ عظیم ہستی ہے ،ہر گروہ نے اپنے اپنے ’’ بٹوے‘‘ میں جس کی فوٹو سجا رکھی ہے۔ قوم پرستوں کے نزدیک پاکستان میں تو کبھی جمہوری حکومت آنے
مزید پڑھیے


کیا جنوبی پنجاب کوصوبہ بننا چاہیے؟

جمعرات 12 مارچ 2020ء
آصف محمود
سوال یہ ہے کیا جنوبی پنجاب کو الگ سے صوبہ بننا چاہیے؟جنوبی پنجاب کی محرومیوں سے آگہی اور جنوبی پنجاب کے دوستوں کے جذبات کے احترام کے باوجود میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ہمیں کسی نئے صوبے کی بجائے انتظامی اصلاحات اور مقامی حکومتوں کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔یہ ہمارے اوپر مسلط سیاسی اشرافیہ کے کمالات میں سے ایک کمال ہے کہ اس نے اس علاقے کی محرومیوں کے عنوان سے ایک ایسا بیانیہ رائج کر دیا ہے جو عام آدمی کی فلاح کی بجائے اسی اشرافیہ کی نسلوں کے مفادات کے تحفظ کی
مزید پڑھیے


بلاول مزے میں ہیں

منگل 10 مارچ 2020ء
آصف محمود
اس عہد بابرکت میں جب خود امید کاہاتھ بھی تنگ ہوتا جا رہا ہے ، ولی عہد جناب بلاول بھٹو مزے میں ہیں۔ پوری شان سے جلوہ افروز ہوتے ہیں اور عمران خان کے خلاف چند رجز اور اور تھوڑے سے میٹھے میٹھے اقوال زریں سنا تے ہیں اور میلہ لوٹ کر واپس سندھ چلے جاتے ہیں۔نیم خواندہ دیہی سندھ میں جہاں آج بھی بھٹو زندہ ہے کسی کو کیا معلوم کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ستیاناس اور سوا ستیاناس کی میراث کی تقسیم میں وفاق کا حصہ کتنا ہے اور صوبوں کے ہاتھ کیا آیا ہے۔ سندھ ہی کیا
مزید پڑھیے


عورت مارچ ۔۔۔مطالبات کیا ہیں؟

اتوار 08 مارچ 2020ء
آصف محمود
گذشتہ کالم میں اس نکتے پر بات ہوئی تھی کہ عورت مارچ خواتین کا حق ہے جسے طاقت سے روکنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔سماج میں ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق حاصل ہے اور ہر معاملے میں رد عمل کی نفسیات کا اسیر ہو کر صف بندی کر لینا مناسب نہیں ہوتا۔ آج کا سوال یہ ہے کہ عورت مارچ کے بنیادی مطالبات کیا ہیں؟ اس باب میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں عورت اپنے اسلامی اور آئینی حقوق سے محروم ہے۔یہاں ہر درجے میں عورت کا استحصال ہوتا ہے۔عورت مارچ میں اگر
مزید پڑھیے



عورت مارچ

جمعه 06 مارچ 2020ء
آصف محمود
پدر سری معاشرے میں عورت مارچ پورے اہتمام سے زیر بحث ہے۔ ، سوال یہ ہے ہم ہر معاملے میں رد عمل کی نفسیات کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں۔کیا یہ صلاحیت ہم سے چھن چکی کہ ہم چیزوں کو تحمل ، اعتدال اور خیر خواہی سے دیکھ سکیں؟عورت کون ہے؟ ماں ، بہن اور بیٹی۔لیکن ان رشتوں کے ساتھ ساتھ وہ ایک زندہ وجود بھی ہے جس کی بطور انسان ایک شناخت ہے۔ یہ وجود اگر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک فطری تقاضا ہے اور انسانی حق بھی۔ اس حق پر یہ
مزید پڑھیے


کیا شادیاں سادگی سے نہیں ہو سکتیں؟

منگل 03 مارچ 2020ء
آصف محمود
شادی کیا ہے؟ اپنی دولت کی نمائش کے ذریعے اپنے احساس کمتری کو چھپانے کی ایک کوشش یا زندگی کے سفر کا ایک نیا باب اور ایک فریضہ ؟یہ احساس کمتری کو چھپانے کی ایک کوشش ہے تو سوال یہ ہے کیا دولت کے اندھے استعمال اور نمودونمائش سے یہ چھپ جاتا ہے یا اس کے مطالبات مزید بڑھ جاتے ہیں اوراگر یہ سفرِ زندگی کا ایک نیا باب اور ایک فریضہ ہے تو سوال یہ ہے کیا اس کی ادائیگی کے لیے اسراف لازم ہے یا یہ فریضہ سادگی سے باوقار انداز سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے؟ حلال
مزید پڑھیے


کرونا وائرس : یہ کیسی صحافت ہے؟

هفته 29 فروری 2020ء
آصف محمود
پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد پیدا ہونے سوالات میں سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ قوم کو جب کسی افتاد یا آزمائش کا سامنا ہو تو میڈیا کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا افتاد کے ہر فسانے پر سینہ زنی کا نام صحافت ہے؟ صبح کا وقت تھا ، میں چک شہزاد کے نواح میں ایک ہسپتال میں بیٹھا تھا، ٹی وی سکرین پر نظر پڑی توایک اودھم مچا تھا۔ خوفزدہ کر دینے والے ٹکرز کے ساتھ سنسنی خیز انداز میںپڑھی جانے والی خبریں ، دل دہل گیا۔ ابلاغ کے چند مظاہر آپ بھی دیکھ لیجیے:’’کرونا
مزید پڑھیے


مودی ۔۔۔۔۔ہمارے سیکھنے کو کیا کچھ ہے؟

جمعرات 27 فروری 2020ء
آصف محمود
مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہندوستان کا تو جو حشر ہو گا سو ہو گا، سوال یہ ہے وحشت اور اس جنون کے اس کھیل میں ہمارے سیکھنے کو بھی کچھ ہے ؟ مودی ایک غیر تعلیم یافتہ شخص ہے ۔ جاہل ہی کہہ لیجیے۔ مطالعے سے محروم ۔ تہذیب انسانی کے ارتقاء سے لاعلم۔ اسے کچھ خبر نہیں شعور انسانی کیا ہوتا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہوتے ہیں۔ عصر حاضر کے شعوری دھارے سے لاعلم شخص کا ویژن انتہائی محدود ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا سے کٹ جاتا ہے اور اپنے کنویں کی وسعت کے
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا ۔۔۔دوست یا دشمن؟

پیر 24 فروری 2020ء
آصف محمود
سوشل میڈیا کا سونامی آ چکا ہے ، یہ فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے ہم نے اپنی توانائیاں اس کے سامنے بند باندھنے میں ضائع کرنی ہیں یا ہم نے اس پہلو پر غور کرنا ہے کہ اس سونامی کو اپنی قوت کیسے بنایا جائے۔ ہر دور کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اس حقیقت کو بروقت سمجھ لے۔ بدلتے دور کے حقائق سے لڑا نہیں جا سکتا ۔ زمانہ جب کروٹ بدل لیتا ہے تواس کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ بر صغیر میں جب پرنٹنگ پریس آیا تو زمانے نے ایسی ہی کروٹ
مزید پڑھیے