Common frontend top

آصف محمود


سیاسی جماعتوں کے منشور کہاں ہیں؟


انتخابات سر پر ہیں۔ اس وقت اہل سیاست و صحافت کا مرغوب موضوع یہی ہے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور کہاں ہیں؟ انتخابات کی صف بندی کیا منشور کے بغیر ہو گی؟ کیا ہمارے عصبیتوں میں لپٹے نیم خواندہ معاشرے میں انتخابی منشور کی کوئی اہمیت بھی ہے یا نہیں؟ کیا یہ محض ایک قانونی ضرورت ہے یا سیاسی بیانیے میں اس کی کوئی اہمیت و افادیت بھی ہے؟ انتخابات کے لیے جلسے بھی جاری ہیں اور جوڑ توڑ بھی ہو رہے ہیں۔ سیاسی اتحاد بھی بن اور ٹوٹ رہے ہیںلیکن کیسا عجب
هفته 09 دسمبر 2023ء مزید پڑھیے

پاکستان نے فلسطین کے لیے کیا کیا؟

جمعرات 07 دسمبر 2023ء
آصف محمود
پاکستان پر تنقید بعض حلقوں میں فیشن بن چکی ہے۔کبھی یہ مشق ستم قوم پرست ادا کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی مذہبی حلقہ اسی میں مصروف عمل ہو جاتا ہے۔ اس چاند ماری کا تازہ موضوع یہ ہے کہ پاکستان نے فلسطین کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آئیے ذرا تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ پاکستان نے فلسطین کے لیے کیا کچھ کیا؟ دل سب کے گھائل ہیں، دکھی ہیں ، شکوے بھی ہیں لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے کہ پاکستا ن نے فلسطین کے لیے کچھ نہیں کیا۔بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور بہت کچھ
مزید پڑھیے


کیا بیرسٹر گوہر میاں داد پلس ہیں؟

منگل 05 دسمبر 2023ء
آصف محمود
بیرسٹر گوہر خان کی تحریک انصاف کے چیر مین کے منصب پر تعیناتی نے ایک بار پھر اس سوال کی معنویت میں اضافہ کر دیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اصل میں ایک ادارہ ہیں یا قائد محترم کی جاگیر ؟ یہ سوال اس وقت بھی پیدا ہوا تھا جب بلاول صاحب کو وراثت میں قیادت آئی تھی اور شاہد خاقان عباسی صاحب کی اپنی جماعت سے تازہ ناراضی کی شان نزول بھی یہی بیان کی جاتی ہے۔ کچھ وہ ہیں جو قیادت کا منصب گھر سے باہر نہیں جانے دیتے ا ور کچھ وہ ہیں جو کسی قابل ذکر شخصیت
مزید پڑھیے


’’وڈیرہ اب پانی نہیں چھوڑے گا‘‘

هفته 02 دسمبر 2023ء
آصف محمود
وڈیرہ اب پانی نہیں چھوڑے گا ۔ وڈیرا تو وڈیرا ، اس کا باپ بھی اب پانی نہیں چھوڑے گا کیونکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے اب کی بار معاملہ پاکستان کے اپاہج نظام قانون و انصاف سے نہیں جہاں مظلوم کو فیصلہ ( انصاف نہیں ، فیصلہ) لینے کے لیے ایوب علیہ السلام جیسا صبر اور قارون جیسا خزانہ اور بیس پچیس سال کی مکمل فراغت درکار ہوتی ہے بلکہ اب معاملہ ان سے آن پڑا جہاں نہ حکم امتناعی کی بھول بھلیاں ہیں ، نہ بھاری فیسوں والے وکیلوں کے قانونی کھلار ، نہ یہاں
مزید پڑھیے


قیادت کی ’’ذاتی زندگی‘‘کی حدود کہاں تک ہیں؟

جمعرات 30 نومبر 2023ء
آصف محمود
ذاتی فعل اور نجی زندگی جیسے تصورات کی حیثیت آج کے دور میں مسلمہ ہے ۔ سوال مگر یہ ہے کیا قیادت بھی ان تصورات کو اپنی ڈھال بنا سکتی ہے؟ قانون اور اخلاقیات کی بحث بہت پرانی ہے۔یہ سوال صدیوں سے زیر بحث ہے کہ اخلاقیات کی عمل داری کہاں تک ہے اور قانون کی دنیا کہاں سے شروع ہوتی ہے۔یعنی ایک چیز جو اخلاقی طور پر عیب سمجھی جاتی ہو،کیا اسے قانون کا موضوع بھی ہونا چاہیے؟اس بحث میں اس نکتے پر اہل علم کا اجماع ہے کہ بہت سارے مقامات پر اخلاقیات اور قانون کی حدیں مل
مزید پڑھیے



صہیونیت اور جنرل اسمبلی

منگل 28 نومبر 2023ء
آصف محمود
صہیونیت کے بارے میں اس وقت قریب قریب پوری دنیا کے عام لوگ جس طرح سوچ رہے ہیں ، ایک وقت تھا اسی سوچ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی زبان دی تھی۔ آج بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے صہیونیت کو نسل پرست اور نسلی امتیاز کا شکار قرار دے رکھا ہے۔ دنیا کی یہ واحد ریاست ہے ،جو اس بد ترین نسل پرست شاونزم کا شکار ہے ۔ اس فسطائیت کو اقوام عالم نے سنجیدگی سے نہ لیا تو آج یہ مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے کل
مزید پڑھیے


غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی: قانون کیا کہتا ہے؟

هفته 25 نومبر 2023ء
آصف محمود
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی افراد کی ان کے وطن واپسی کا معاملہ بھی ، دیگر معاملات کی طرح ، افراط و تفریط کا شکار ہو رہا ہے۔اس ماحول میں ، مناسب ہو گا کہ اس معاملے کو اپنی پسند اور نا پسند پر نہیں ، بلکہ دنیا کے مسلمہ قوانین کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جائے اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ درست کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ مہاجرین اور تارکین وطن کے بارے میں جتنے بھی قوانین ہیں و ہ کچھ بنیادی اصولوں کے تابع ہیں۔ یہ بنیادی اصول اقوام متحدہ نے مختلف
مزید پڑھیے


صدر محترم اور اسرائیل

جمعرات 23 نومبر 2023ء
آصف محمود
ایک ایسے وقت میں جب فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹی پڑی ہے، صدر محترم جناب عارف علوی نے پاکستانی ریاست کے دیرینہ موقف کو پامال کرتے ہوئے ’ ایک ریاستی حل‘ کی بات کر دی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ عارف علوی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے اور اسی لیے دفتر خارجہ نے صدر کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے ۔ بلکہ اس کے ساتھ ہی او آئی سی اور اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ عارف علوی کے بیان سے
مزید پڑھیے


بھارت اور ایف اے ٹی ایف

منگل 21 نومبر 2023ء

ورلڈ کپ کی ٹیمیں تو بھارت سے روانہ ہو چکیں۔ایف اے ٹی ایف کی ٹیم البتہ بھارت پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ ہے کیا ایف اے ٹی ایف کی ٹیم بھارت کے معاملات بھی اسی طرح دیکھے گی جیسے اس نے پاکستان کے معاملات دیکھے یا بھارت کے ساتھ اسی طرح ترجیحی بنیادوں پر معاملہ ہو گا جیسے اسرائیل کے ساتھ ہوتا آیا ہے؟ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا انٹر نیشنل لا کی دفعات ، سامنے جب اسرائیل ہو تو یہ سب قوانین و ضوابط اپنے معانی کھو دیتے ہیں اور بین الاقوامی برادری زبان حال سے یہ اقرار کر
مزید پڑھیے


اسرائیلی آباد کار: عام شہری یا مسلح دہشت گرد؟

هفته 18 نومبر 2023ء
آصف محمود
مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں ناجائز طور پر اسرائیل نے جو بستیاں قائم کر رکھی ہیں، یہاں کے باشندے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہاں مقیم اسرائیلی شہریوں کا قانون کی نظر میں کیا مقام ہے؟ کیا وہ عام شہری ہیں یا جنگ جو اور دہشت گرد؟ ان غیر قانونی بستیوں کے مکین دو دائروں میں تقسیم کیے جا سکتے ہیں۔ ایک وہ جو واقعتا عام شہری ہوں گے۔ ان میں بچے بھی ہوں گے اور عورتیں بھی۔ ان میں ایسے بھی ہوں گے جن کا اسرائیل کی فوجی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں
مزید پڑھیے








اہم خبریں