BN

آصف محمود



اگر عمران ناکام ہو گئے؟


ضد اور خوش گمانی کا معاملہ الگ ہے ورنہ دیوار پہ لکھا نظر آ رہا ہے کہ کارِ حکومت احباب کے بس کی بات نہیں۔ ہاں ، کوہ ہمالیہ سونا بن جائے اور سمندر کا پانی پٹرول میں تبدیل ہو جائے تو الگ بات ہے۔سوال اب سیاست کا نہیں ، بقاء کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس حکومت کی ناکامی سماج کی نفسیات پر کیا اثر ڈالے گی؟ حکومت کی ناکامی اب مزید کسی دلیل کی محتاج نہیں۔لوگ اب تک زندہ ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ رازق اور مالک اللہ کی ذات ہے ورنہ ا
هفته 13 اپریل 2019ء

’’قانون کے آگے ‘‘۔۔۔۔فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا تھا؟

جمعرات 11 اپریل 2019ء
آصف محمود
برسوں پہلے میں نے فرانز کافکا کی کہانی ’’ قانون کے آگے‘‘ پڑھی تھی ۔ کہانی تو منٹوں میں ختم ہو گئی لیکن میں گھنٹوں سوچتا رہا کافکا کہنا کیا چاہتا ہے۔کل پھر یہ کہانی یاد آئی ، یوں محسوس ہوا کافکا نے کل ہی اسے راوی کے کنارے بیٹھ کر لکھا ہو۔ تمثیل کا یہ حسن ہوتا ہے وہ کسی سماج میں اجنبی نہیں ہوتی ۔ ’’ قانون کے آگے‘‘ کی معنویت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جرمنی کا یہ یہودی صرف ایک با کمال لکھاری ہی نہ تھا ، ایک وکیل بھی تھا۔آپ بھی یہ کہانی
مزید پڑھیے


پنجاب میں کس کی حکومت ہے؟

منگل 09 اپریل 2019ء
آصف محمود
پنجاب میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ تحریک انصاف کے پاس ہے یا مالِ غنیمت کے طور اپنے سیاسی حلیفوں میں بانٹ دیا گیا ہے ؟ کیا عمران خان پنجاب کی اہمیت سے بے خبر ہیں یا مصلحتوں نے ان کا سارا بانکپن ہی چھین لیا ہے؟ پاکستان کی سیاست میں پنجاب کی غیر معمولی اہمیت ہے۔وزارت عظمی کا راستہ پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے۔ پارلیمانی سیاست میں پنجاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ تینوں صوبوں کے قومی اسمبلی کے حلقے جمع کر لیے جائیں تب بھی پنجاب سے کم ہیں۔پنجاب سے قومی اسمبلی
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل ۔۔۔رُخسار ، تہہ نقاب جگمگ جگمگ

هفته 06 اپریل 2019ء
آصف محمود
نیب آرڈی ننس میں کچھ چیزیں بلاشبہ ایسی ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں لیکن نیب کے حوالے سے جو موقف اسلامی نظریاتی کونسل نے جاری فرمایا ہے اس کا دفاع بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی پریس ریلیز میرے سامنے رکھی ہے اور میں ایک طالب علم کے طور پر سراپا حیرت ہوں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے فرمایا ہے:’’ نیب کی طرف سے ملزموں کو ہتھ کڑیاں پہنانا پاکستانی قانون اور اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کی میڈیا میں ہتک عزت اسلام میں تکریم انسانیت کے اساسی
مزید پڑھیے


شکر ہے ، شکر ہے

جمعرات 04 اپریل 2019ء
آصف محمود
وہ مغلیہ دور حکومت تھا جسے ہم نصابوں میں پڑھتے آئے تھے ، یہ شغلیہ دور حکومت ہے جسے ہم حیرت اور صدمے سے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔تو کیا یہ واقعتا ایک سونامی ہے جس نے ہنستے بستے شہروں کا رخ کر لیا ہے۔ وزرائے کرام کے ارشادات گرامی پڑھ کر پہلے غصہ آتا رہا پھر ہنسی، اب خوف آتا ہے۔حریفوں کے اختراع و تصرف کی عمران کو کیا حاجت، اس کے لیے تو اس کے خوش زباں وزراء ہی کافی ہیں، باغِ عالم میں ایسی بلبلیں کب کسی کے حصے میں آئی ہوں گی؟ ارشادِ تازہ
مزید پڑھیے




پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسو سی ایشن کا احتجاج ۔۔۔حکومت کہاں ہے؟

منگل 02 اپریل 2019ء
آصف محمود
پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے اساتذہ لاہور میں سڑک پر بیٹھے ہیں لیکن بیوروکریسی کو حیا آ رہی ہے نہ پنجاب حکومت کو کچھ احساس ہے۔ نئے پاکستان میں شاید اب صرف ثانیہ نشتر کا ’احساس‘ـ: ہے۔ اساتذہ عزت نفس کے معاملے میں حساس ہوتے ہیں اس لیے افسران کے ناجائز فیصلوں کو بھی برداشت کر جاتے ہیں۔ یہ سڑکوں پر آئے ہیں تو بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیسی نفسیاتی اذیت ہو گی جس نے انہیں اس پر مجبور کیا ہو گا۔یہ تین مطالبات لے کر آئے ہیں ۔کیا حادثاتی وزیر اعلی کی کابینہ
مزید پڑھیے


کیا مدارس کا نصاب امریکہ نے بنایا تھا؟

هفته 30 مارچ 2019ء
آصف محمود
وزیر اطلاعات برادرم فواد چودھری کا ارشاد گرامی میرے سامنے رکھا ہے ، فرماتے ہیں : دینی مدارس کا نصاب امریکہ نے تیار کیا تھا ۔ اس فرمان عالی شان کو پڑھ کر میں سوچ رہا ہوں ایسے فاضل وزراء کے ہوتے ہوئے کیا عمران خان کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟وزرائے کرام نے غالبا طے کر رکھا ہے کہ ہم نے عمران خان کو سکون کا سانس نہیں لینے دینا اور جس دن ہم نے دیکھا عمران خان کے دامن سے کوئی بحران نہیں لپٹا اس روز ہم خود ایک بحران پیدا کر کے کپتان کی دہلیز پر چھوڑ
مزید پڑھیے


مجاوروں کا پاکستان؟

جمعرات 28 مارچ 2019ء
آصف محمود
معاشرے کی تماش بین نفسیات سے خوف آنے لگا ہے ۔کوئی ہے جو اس سماج کا نفسیاتی مطالعہ کر سکے؟ نواز شریف صاحب کے خلاف مقدمہ قائم ہوا ، سزا ہو گئی ، سزا معطل بھی ہو گئی ، پیرول کی ضرورت پڑی ایک گھنٹے میں حکم بھی جاری ہو گیا اور رہائی بھی ہو گئی ، بیمار ہوئے تو بہترین ہسپتال لے جائے گئے وہاں سے تشفی نہ ہوئی تو جیل کے اندر خصوصی میڈیکل یونٹ قائم کر دیا گیا۔ اس پر بھی وہ مطمئن نہ ہوئے تو سزا معطل کر کے 6ہفتوں کے لیے رہا کر دیا
مزید پڑھیے


ہندو لڑکیوں کی شادی۔۔۔۔حقائق کیا ہیں؟

منگل 26 مارچ 2019ء
آصف محمود
سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کی حقیقت کیا ہے ،کیا یہ سب کچھ جبر کے تحت ہو رہا ہے؟ ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ پولرائزیشن ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی اپنی عصبیتوں کے مطابق ایک پوزیشن لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہماری فکری صلاحیتیں اس عصبیت کے حق میں دلائل تلاش کرنے میں برباد ہو جاتی ہیں۔ تازہ معاملے پر بھی مورچے سنبھالے جا چکے ہیں۔اب کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حقیقت کیا ہے، ترجیح صرف یہ ہے اس چاند ماری کے اختتام پر میدان اس کے
مزید پڑھیے


پیغام پاکستان ۔۔۔چند سوالات

هفته 23 مارچ 2019ء
آصف محمود
بہاولپور میں ایک استاد کا قتل خبر دے رہا ہے کہ معاشرے میں انتشار فکر کتنا شدید ہو چکا ہے۔اس سانحے کے صدمے سے کچھ سنبھلا تو یاد آیا ایک نیشنل ایکشن پلان ہوتا تھا اور ایک پیغام پاکستان ۔ نیشنل ایکشن پلان پارلیمان نے دیا ۔آج اہل سیاست میں سے کسی کو نیشنل ایکشن کے فکری پہلو یاد ہوں تو حقیقی معنوں میں ایک بریکنگ نیوز ہو گی۔پیغام پاکستان ، بتایا جاتا ہے کہ ، سینکڑوں جید علماء کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا اور مدارس کے تمام وفاق اس پر متفق تھے۔مجھے نہیں معلوم ان ایک سو اسی
مزید پڑھیے