BN

آصف محمود


مشرف کیس۔۔۔۔آرٹیکل 12کیا کہتا ہے؟


اٹھائیس نومبر کو مشرف کیس کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے، کیا پر ویزمشرف کو اس مقدمے میں سزا ہو جائے گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اس مقدمے کے بنیادی حقائق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے ہاں اس مقدمے پر جتنی بھی بحث ہوئی ، آرٹیکل 6 کے تناظر میں ہوئی۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ اس مقدمے کو اس وقت تک سمجھا ہی نہیں جا سکتا جب تک آئین پاکستان کے آرٹیکل 12 کو نہ سمجھ لیا جائے۔ اس مقدمے میں جتنی اہمیت آرٹیکل 6 کی ہے، اتنی ہی اہمیت آرٹیکل
اتوار 24 نومبر 2019ء

فارن فنڈنگ کیس ۔۔۔۔ عمران خان سے 10 سوال

هفته 23 نومبر 2019ء
آصف محمود
فارن فنڈنگ کیس نے تحریک انصاف کو قانونی ہی نہیں اخلاقی بحران سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ قانونی اعتبار سے تو ، جیسا بھی ہے ، تحریک انصاف اپنا دفاع کر رہی ہے سوال یہ ہے کیا اسے کچھ خبر ہے اس کا اخلاقی وجود کتنے بڑے بحران سے دوچار ہو چکا ہے؟میں ایک خیر خواہ کے طور پر جناب عمران خان کی خدمت میں چند سوال رکھ دیتا ہوں ، تحریک انصاف کے پاس اگر ان سوالات کا کوئی جواب ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا اس کا اخلاقی وجود محفوظ ہے ۔ بصورت دیگر سب
مزید پڑھیے


میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا؟

جمعه 22 نومبر 2019ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے بیانیے کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم انصاف کے علمبردار ہیں ، کرپشن ہمیں گوارا نہیں ، سارے کرپٹ ہمارے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن ہم نے اب کسی کو نہیں چھوڑنا۔آئیے آج پاکیٔ داماں کی اس حکایت پر بات کر لیتے ہیں۔ احتساب کے لیے وطن عزیز میں ایک آئین اور خود مختار ادارہ نیب موجود ہے ۔ اس کا ایک آئینی سربراہ ہے جس کے عہدے کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ حکومت اسے نہیں ہٹا سکتی۔احتساب کرنا اب اس ادارے کا کام ہے۔ کس کے خلاف ریفرنس بنانا ہے، کسے گرفتار کرنا
مزید پڑھیے


بائیس سالہ جدوجہد ؟

جمعرات 21 نومبر 2019ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے بیانیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم نے بائیس سال جدوجہد کی تب جا کر گوہر مقصود، یہ اقتدار، ہمارے ہاتھ آیا۔سوال یہ ہے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے۔کابینہ سے آغاز کر تے ہیں ، میر کے دیوان کی طرح جو گلشن کشمیر ہے۔سب سے اہم وزارت ان حالات میں خزانہ کی ہے۔ اس کے مدارلمہام جناب حفیظ شیخ ہیں۔جدوجہد کے عظیم بائیس سالوں میں انہوں نے بیس منٹ بھی دیے ہوں تو بتائیے۔ان کی بے نیازی کا یہ عالم ہے آصف زرداری کا وزیر خزانہ رہنے کا باوجود بھری محفل میں مسکرا کر کہتے
مزید پڑھیے


مشرق وسطی کے خطرناک رجحانات ۔۔۔ہماری دہلیز پر

منگل 19 نومبر 2019ء
آصف محمود
مشرق وسطی کی سیاست کا آزار پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ، یہ فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے کواڑ مقفل کر لینے ہیں یا دروازے وا کر کے اس آزار کو گلے لگانا ہے۔ سوال یہ کہ داخلی سیاست کے گرداب میں پھنسے اس سماج کو کچھ احساس ہے کہ مشرق وسطی سے ہمارے لیے کون کون سے چلینجز پیدا ہو چکے ہیں؟ مشرق وسطی کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی۔ پہلے یہاں دو حریف تھے: ایران اور سعودی عرب ۔ ہمارے لیے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ایک برا امتحان ہوتا
مزید پڑھیے



کارکردگی کہاں ہے؟

پیر 18 نومبر 2019ء
آصف محمود
سترہ روپے کلو ٹماٹر اور پانچ روپے کلو مٹر سے قوم کے شعور اجتماعی کی توہین کے بعد اب ارشادِ تازہ یہ ہے کہ کسی بے روزگار کو نوکری دینا حکومت کا مینڈیٹ ہی نہیں۔جناب حفیظ شیخ کی اس رفو گری سے یاد آیا وہ کیسی حسین شام تھی جب عمران خان نے پلکوں میں سپنوں کی حدت لیے اپنا انتخابی منشور پیش کیا تھا ۔منشور کے باب چار میں لکھا تھا ہم اگر اقتدار میں آ گئے تو ہم پانچ برسوںمیں 10 ملین ملازمتیں فراہم کریں گے۔یعنی ہر سال میں بیس لاکھ ملازمتیں، یعنی ہر ماہ میں ۱یک لاکھ
مزید پڑھیے


لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟

هفته 16 نومبر 2019ء
آصف محمود
لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ آئیے آج اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کی پہلی وجہ اس سماج کی نفسیاتی تشکیل کا عمل ہے جہاں آج تک ٹیکس دینے کو شعوری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔یہ جاننے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ برصغیر میں باقاعدہ ٹیکس کب لگا اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔ یہ ٹیکس 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانیہ نے لگایا اور اس کی اعلانیہ وجہ یہ قرار دی گئی کہ عظیم برطانوی سلطنت کو چونکہ ہندوستان میں اس جنگ آزادی میں بھاری اخراجات کرنے پڑے اس لیے اس نقصان
مزید پڑھیے


واہ واہ کیا معتدل ہے باغِ عالم کی ہوا

جمعه 15 نومبر 2019ء
آصف محمود
نواز شریف کا نام کس وقت ای سی ایل سے نکلتا ہے ،اس پر اہل ہنر مضامین باندھ رہے ہیں ۔ کہیں قانون دوستی کی آبشاریں پھوٹ رہی ہیں اور پیچیدہ قانونی نکتوں کے جواہرات دریافت ہو رہے ہیں کہ نہیں جی ہم انہیں بانڈز لیے بغیر تو نہیں جانے دیں گے تو کہیں انسان دوستی کے چشمے بہے چلے جارہے ہیں اور حشرات الارض کو جنہیں تفنن طبع کی مستی میں گاہے عوام کہا جاتا ہے ، یہ بتایا جا رہا ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم نے انسانی ہمدردی کے عظیم اظہار کے طور پر آئوٹ آف دی
مزید پڑھیے


قومی سیاست اور نیا فضل الرحمن

جمعرات 14 نومبر 2019ء
آصف محمود
آزادی مارچ کے بعد مولانافضل الرحمن کا تعارف کیا ہے؟ ان کی شناخت ایک محدود علاقے یا ایک فرقہ بند مذہبی سوچ کے نمائندے کی ہے یا قومی سطح کے ایک سیا سی رہنما کی؟ مولانا فضل الرحمن کی تازہ مہم جوئی ، کیا ان کے لیے قومی دھارے کی سیاست میں کچھ امکانات پیدا کر سکے گی یا وہ اب بھی چند علاقوں میں ایک مخصوص مکتب فکر تک محدود رہیں گے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہم یہ بات جان لیں کہ مولانا آج جہاں کھڑے ہیں اس کا فکری اور
مزید پڑھیے


’’علی گیلانی کو اب کوئی خط نہیں لکھتا‘‘

بدھ 13 نومبر 2019ء
آصف محمود
سرینا کے سامنے سے گزرتے ہوئے’ کرفیو کائونٹر‘ پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کشمیر میں کرفیو کو 100 دن ہو چکے۔ دل لہو سے بھر گیا۔ گیبریئل گارشیا مارکیز کا ’’تنہائی کے 100 سال‘‘ یاد آ گیا۔ اب بیٹھا سوچ رہا ہوں سری نگر کے محلے حیدر پورہ میں بیٹھے علی گیلانی بھی ’’ تنہائی کے 100 دن‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھ دیں تو نارسائی کے ان موسموں میںکیا عجب ایک ایسا شاہکار تخلیق ہو جائے کہ Magic Realism کو حقیقی معنوں میں مجسم کر دے۔ علی گیلانی ایک فرد واحد نہیں، وہ عزیمت کا استعارہ ہیں۔ جانے
مزید پڑھیے