BN

آصف محمود


کورونا : بس خدا ہی یاد نہ رہا؟


کورونا عروج پر تھا تو ہم نے راتوں کو اذانیں دیں ، اللہ کو یاد کیا ، اس سے رحم کی درخواستیں کرتے رہے اور جب کورونا تھم گیا تو ہم نے دانشوری فرماناشروع کر دی ۔ کسی کے خیال میںیہ ہمارے موسم اور ہماری قوت مدافعت کا کمال ہے تو کوئی اسے جناب وزیر اعظم کی بصیرت کا اعجاز قرار دے رہا ہے۔ اس ساری ترک تازی میں ہم اس اللہ کو بھول گئے جس کے فضل و کرم سے یہ بلا ٹلی۔وبا کے دنوں میں جب جان کے لالے پڑے توہم نے رات دس بجے اذانیں دیں تو
جمعرات 27  اگست 2020ء

نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے؟

منگل 25  اگست 2020ء
آصف محمود
سوال یہ ہے کہ نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب کسی ٹاک شو میں مرضی کے مہمان بلا کر اودھم مچانے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے نفرت کے ہیجان سے نکل کر معقول انداز سے بات کرنا ہو گی۔ ایک مکتب فکر نصاب میں اسلام کے تذکرے سے بد مزہ ہو جاتا ہے اور اعتراضات اٹھاتا ہے۔ ان اعتراضات کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے یہ اعتراض کیا جاتا رہا کہ مذہبی تعلیم صرف اسلامیات کے مضمون میں دی جانی چاہیے ، اردو اور مطالعہ پاکستان میں اسلام سے متعلقہ کوئی چیز نہیں
مزید پڑھیے


عتیقہ اوڈھو کیس : سوموٹو پر قانون سازی کی ضرورت !

هفته 22  اگست 2020ء
آصف محمود
عتیقہ اوڈھو کیس بطور قوم ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے۔اب یہ ہمارے ذوق کا امتحان ہے ہم اپنے لا ابالی پن میں طنز کے چند فقرے اچھال کر آگے بڑھ جاتے ہیں یا ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ رک کر غور کرنے کو تیار ہیں کہ وقت کتنا بدل گیا ہے اور بدلتے وقت کے تقاضے کیا ہیں۔دو سال پہلے جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے سوموٹو کی حدود اور دائرہ کار کے واضح تعین کی ضرورت پر زور دیا تھا۔عتیقہ اوڈھو کیس نے گویا یہی سوال ایک بار پھر قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا سوموٹو
مزید پڑھیے


شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

جمعه 21  اگست 2020ء
آصف محمود
’’ہم پہلی بار اقتدار میں آئے تھے ، ہمیں تجربہ نہیں تھا‘‘ وزیر اعظم کا موقف سنا تو عبد الحمید عدم یاد آ گئے: وہ باتیں تری وہ فسانے ترے شگفتہ شگفتہ بہانے ترے لڑکپن کی اولین محبتوں میں تو ایسے بہانے چلتے ہوں گے ، میدان سیاست میں اتنی معصومیت پہلی بار دیکھی۔آدمی بیک وقت رونے ہنسنے پر قدرت نہیں رکھتا ورنہ جناب وزیر اعظم کی معصومیت کا استحقاق تھا لوگ ہنستے ہنستے رو دیں اور روتے روتے ہنس پڑیں۔ آئیے کابینہ پر ذرا ایک نگاہ ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں اس میں کتنے نونہال ایسے ہیں
مزید پڑھیے


اقتدار کے دو سال: خود احتسابی بہترین حکمت عملی ہے

جمعرات 20  اگست 2020ء
آصف محمود
حکومت کے دو سال مکمل ہوئے اور جناب وزیر اعظم کے ایک انٹرویو کے مندرجات کو پرچم بنا لیا گیا ہے۔ شدت جذبات سے گلو گیر لہجے منادی کر رہے ہیں کہ عمران خان صاحب کی گفتگو میں اتنا سوز اور اتنا درد تھا کہ انہیں پھر سے یقین ہو چلا ہے ،چشمہ یہیں سے نکلے گا۔ خوش فہمی بری چیز نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اقتدار کے فیصلے لذت گفتار سے نہیں کردار سے ہوتے ہیں۔ تقاریر اور انٹرویوز میں تو پہلے دن سے جھیلوں پر شام کے وقت بولنے والی کوئلوں جیسا سوز تھا ، سوال اب
مزید پڑھیے



سمسٹر سسٹم : جنسی اور نفسیاتی استحصال کی بنیاد

منگل 18  اگست 2020ء
آصف محمود
جامعات میں صرف جنسی استحصال ہی نہیں ہوتا یہاں فکری اور نفسیاتی استحصال بھی ہو تا ہے اوریہاں صرف لڑکیوں کا جینا حرام نہیں کیا جاتا یہاں لڑکے بھی محفوظ نہیں۔ ہمارے معاشرے میں سمسٹر سسٹم نفسیاتی مریضوں کو ’’ لائسنس ٹو کل‘‘ جاری کرنے کے مترادف ہے۔ یا اسے لپیٹ دیجیے یا اس میں با معنی اصلاحات متعارف کرائیے۔ایک پوری نسل کو نفسیاتی اور جنسی مریضوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ پی ایچ ڈی کی ایک طالبہ کی خودکشی کی خبر پڑھی تو زمانہ طالب علمی کی یادیں دیواردل سے آ لگیں۔ یہ طالبہ تو
مزید پڑھیے


قیام پاکستان کے وقت فسادات کے پیچھے کون تھا؟

هفته 15  اگست 2020ء
آصف محمود
یہ ٹیس ہر سال خانہ دل میں اٹھتی ہے جب 1947 ء کی ہجرت کے مناظر دیکھتا ہوں۔ لٹے پٹے قافلے ۔راستے میں کتنے جاں سے گزر گئے کوئی حساب ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قتل عام کا ذمہ دار کون تھا؟ ہندو شائونزم کے علمبردار سردار پٹیل کے سوانح نگار کے ایل پنجابی نے اس کا ذمہ دار پاکستانی مسلمانوں کا قرار دے دیا تھا اور اس وقت ’’ مطالعہ پاکستان‘‘ کے ناقدین کے ہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ابتداء مسلمان اکثریتی علاقوں سے ہوئی اور پھر دوسری طرف سے جواب دیا گیا۔
مزید پڑھیے


پاکستان نے کشمیر کے لیے کیا کچھ کیا؟

بدھ 12  اگست 2020ء
آصف محمود
پاکستان کا قومی اور اجتماعی بیانیہ کسی بھی شکل میں ظہور کرے ، ایک گروہ اس پر نقد کرنے چلا آتا ہے۔ تازہ ترین نکتہ آفرینی یہ ہے کہ کشمیر کے لیے پاکستان نے آج تک آخر کیا ہی کیا ہے؟ آئیے آج اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ ۱۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے پہلی جنگ کشمیر کے لیے لڑی۔ جوناگڑھ اور مناوادر بھی پاکستان کا حصہ تھے جن پر بھارت نے قبضہ کر لیا تھا لیکن پاکستان کی عسکری قوت اس وقت اس قابل نہ تھی کہ بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کرتی۔اس وقت کی پاکستان کی
مزید پڑھیے


جونا گڑھ اور مناوادر کا دفاع…حقائق کیا ہیں؟

اتوار 09  اگست 2020ء
آصف محمود
جوناگڑھ اور مناوادر پر لکھے گئے کالموں پر ایک سوال اٹھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ دونوں ریاستیں پاکستان سے الحاق کر چکی تھیں تو بھارت کا حملہ اور قبضہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحا خلاف ورزی تھی اور پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’’ سیلف ڈیفنس‘‘ میں جوابی کارروائی کا حق حاصل تھا تو پھر پاکستان نے جوابی کارروائی کیوں نہ کی؟ جوابی کارروائی کی دو صورتیں ہو سکتی تھیں۔پہلی صورت قانونی کارروائی کی تھی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ کارروائی اسی وقت کر دی گئی۔ جونا گڑھ اور اس
مزید پڑھیے


مناوادر ، جودھ پور اور حیدر آباد۔۔۔مقدمہ کشمیر کی واقعاتی شہادتیں

هفته 08  اگست 2020ء
آصف محمود
پاکستان کے نئے نقشے میں صرف جونا گڑھ شامل نہیں ، اس نقشے میں مناوادر بھی شامل ہے۔مسئلہ کشمیر سے جڑی بھارت کی نفسیات کو درست تناظر میں سمجھنا ہو تو مناوادر ، جودھ پور اور حیدرآباد میں جو ہوا اسے جان لینا چاہیے۔یہ مقدمہ کشمیر کی واقعاتی شہادتیں ہیں۔ ریاست مناوادرکے سربراہ غلام محی الدین کو ہندوستان کی تقسیم کے فارمولے کے تحت دو آپشن دیے گئے کہ آپ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ خان آف مناوادر نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کے فارمولے کے تحت خان آف مناوادر کے اس
مزید پڑھیے