BN

آصف محمود



مہنگا حج، سستے دلائل


ایک تو حج مہنگا ہو گیا اوپر سے عالم وارفتگی میں نونہالان انقلاب کے دلائل۔غالب ہوتے تو کہتے : نمک پاشِ خراشِ دل ہے لذت زندگانی کی۔ خلقِ خدا نے سادہ سا سوال اٹھایاتھا ؛ حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا؟ ملک الشعراء نے سبسڈی کی قوالی چھیڑ دی؛صاحب کیا سبسڈی لے کر حج کرو گے؟ ہمارے وزیر اعظم تمہیں کیوں سبسڈی دیتے؟ کیا سبسڈی پر حج ہو سکتا ہے؟ جب استطاعت نہیں ہو تو حج کی خواہش ہی کیوں رکھتے ہو؟ کیا ہم بھی سابق حکومت کی طرح سبسڈی دیں؟کیا ہم بھی قومی خزانہ لٹا دیں؟ حج
هفته 02 فروری 2019ء

عمران تو سلیکٹڈ ہیں ، بلاول کیا ہیں؟

جمعرات 31 جنوری 2019ء
آصف محمود
عمران خان تو ٹھہرے سلیکٹڈ وزیر اعظم، سوال اب یہ ہے کہ قبلہ بلاول بھٹو کتنے لاکھ ووٹوں سے پیپلز پارٹی کے چیئر مین منتخب ہوئے تھے؟عمران خان پرہم خاک نشیں کچھ تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ بلاول؟ چھاج بولے تو بولے چھلنی کیوں بولے جس میںکم از کم نو سو پچھتر چھید؟ موروثی سیاست کا آزار نہ ہوتا ، سماج کی تہذیب ہو چکی ہوتی یا کم از کم ملک میں میرٹ ہوتا تو بلاول کیا ہوتے اور کہاں ہوتے؟نیم خواندہ سماج میں ، تماشا یہ ہے کہ وہ قائد محترم ہیں۔اعتزاز احسن اور
مزید پڑھیے


جناب وزیر اعظم! یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

منگل 29 جنوری 2019ء
آصف محمود
نمل یونیورسٹی میں عمران خان کے خطاب کا حاصل ایک ہی سوال ہے : کیا انہیں ایک تعلیمی ادارے میں کھڑے ہو کر یہ سب کہنا چاہیے تھا؟کیا بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر کو کچھ خبر ہے تعلیمی ادارے کا کا نووکیشن جلسہ عام نہیںہوتا۔ کانووکیشن کیا ہوتا ہے؟ستم ہائے گردوں مفصل نہ پوچھو۔تعلیم کا ایک مرحلہ تمام ہوتا ہے ۔اب باغ حیات میں بے حجاب اترنے کا وقت ہے۔جو علم حاصل کر لیا اب شاہراہ حیات پر اس کے اطلاق کا امتحان ہے۔خوابوں سے دہکتے جوان وجود ہیں جن کی آنکھوں میں اپنے ہی نہیں ، والدین کے سپنے
مزید پڑھیے


مسلم معاشروں میں جمود کیوں ہے؟

هفته 26 جنوری 2019ء
آصف محمود
گلبدین حکمتیار نے افغانستان میں صدارت کا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم معاشروں کے لیے اس فیصلے میں غوور وفکر کا بہت سارا سامان موجود ہے۔یہ اب ہمارے اوپر منحصر ہے ہم اس فیصلے سے سبق حاصل کریں یا عبرت۔ گلبدین حکمتیار 1993 ء میں افغانستان کے وزیر اعظم تھے۔اب 2019 ء ہے ۔26 سال گزر گئے۔ان 26 برسوں میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، سوچوں کے محور تبدیل ہو گئے ، قیادتیں آئیں اور چلی گئیں ، دنیا بھر میں نئے لوگ نئے رجحانات کے ساتھ سامنے آئے اور قیادت پر فائز ہو گئے۔افغانستان میں مگر
مزید پڑھیے


سوچ کر جواب دیجیے

جمعرات 24 جنوری 2019ء
آصف محمود
چند سوالات آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ ان پر غور فرمائیے اور بتائیے آپ کتنے سوالات کا جواب اثبات میں دے سکتے ہیں۔ فرض کریں آپ کے گھر میں چوری ہو جاتی ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ پولیس کے پاس جائیں گے اور آپ کی داد رسی ہو جائے گی؟ کسی طاقتور کے خلاف نہیں ، آپ ایک عام آدمی کے خلاف ایک معمولی سی ایف آئی آر درج کروانا چاہتے ہیں ، کیا آپ کو یقین ہے تھانے میں رشوت دیے بغیر یہ مرحلہ طے ہو جائے گا؟ کیا اس کالم کے قارئین میں سے کوئی
مزید پڑھیے




عمران خان ! تم بھی عام سے نکلے؟

منگل 22 جنوری 2019ء
آصف محمود
عمران خان کا ٹویٹ میرے سامنے پڑا ہے ، میں حیرت سے اسے بار بار پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں : عمران خان سادہ بہت ہیں یا ہشیار بہت؟ عمران خان قوم کو یقین دلا رہے ہیں: ’’قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا‘‘ اور میں یہ ٹویٹ پڑھ کر سوچ رہا ہوں عمران خان کو امور ریاست کا کچھ علم بھی ہے یا وہ
مزید پڑھیے


کرپٹ‘ اچھے یا بد حواس؟

اتوار 20 جنوری 2019ء
آصف محمود
مرحوم قاضی حسین احمد نے ایک زمانے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے چھوٹی برائی اور بڑی برائی کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ مروجہ سیاسی بیانیے میں حزب اختلاف تو سر تا پا ہے ہی کرپٹ، مجھے چشم تصور سے وہ منظر دیکھ کر خوف آ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات کے وقت لوگ سر پکڑ کر بیٹھے ہوں کہ کرپٹ‘ اچھے یا بد حواس؟ اب ووٹ کسے دیاجائے؟ کتنی امیدوں سے لوگوں نے عمران خان کی صورت امیدوں کا ایک قلعہ تعمیر کیا تھا ، افسوس اس کے اپنے کمانداروں نے فصیل میں ریت بھرنا شروع کر
مزید پڑھیے


نرگسیت کے گھونسلے سے اتر کر زمین پر آ جائیے

هفته 19 جنوری 2019ء
آصف محمود
کیا ہر وہ آدمی بد دیانت، خائن اور چور ہے جو حکومت کا ناقد ہے ؟ صبح دم ا ٹھتے ہی جس جس کا اس با برکت عہد میں بٹتی فیوض و برکات پر اظہار تشکر میں’ نچنے نوں دل نہ کردا ‘ ہو کیا اسے پٹواری کہا جائے گا؟کیا صرف چودھریوں کی ق لیگ اور کراچی کی ایم کیو ایم وہ جماعتیں ہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے حکومت کی اتحادی بنی ہیں اور ان کے علاوہ ہر وہ جماعت جو اپوزیشن کی صف میں ہے اصل میں خائنوں اور لٹیروں کا ایک ٹولا ہے؟ اور
مزید پڑھیے


پیشہ ور اپوزیشن اور خود کش حکومت

جمعه 18 جنوری 2019ء
آصف محمود
اپوزیشن کے بزرگان بقلم خود کی آنیوں جانیوں سے نہیں ، عمران خان کو کوئی خطرہ ہے تو اپنی صف میں کھڑے جنگجوئوں سے ہے۔ بزرگان بقلم خود کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بدحواس ہو چکے ہیں۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں مینڈیٹ کے احترام کے دیوان پڑھنے والے عمران خان کی حکومت کے چار ماہ برداشت نہیں کر پائے اور صف بندی کو بے تاب ہو رہے ہیں۔ حکومت اچھے کام بھی کرتی ہے اور اس سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں لیکن حکومت کے خلاف دوسرے ہی مہینے میں بلا وجہ تحریکیں نہیں چلائی جاتیں۔ سوال یہ
مزید پڑھیے


پرندے کہاں چلے گئے؟

بدھ 16 جنوری 2019ء
آصف محمود
مارگلہ کے ایک چپ چاپ سے گوشے میں ایک دوست کے فارم ہائوس پر دن ڈھل رہا تھا۔اوپر پہاڑی سلسلہ تھا ،نیچے تاحد نظر وادی پھیلی ہوئی تھی ۔ پہلو سے گزرتا ایک برساتی نالہ دور تک بل کھاتے وادی میںچلا جا رہا تھا ۔ مور ، کبوتر اور مرغیاں واپس پنجروں میں بند کیے جا رہے تھے۔فارم پھلدار درختوں سے بھرا ہوا تھا۔فارم کے آ خری کونے پر نیم کے درخت کے پاس پر لکڑی سے جلائی آگ پر بھیڑ کے دودھ کی چائے بنائی جا رہی تھی اور آگ سے اٹھتا دھواں پرانے زمانوں کو
مزید پڑھیے