BN

آصف محمود


خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا؟


آپ ایشیاء کو سرخ یا سبز کرنے کی عظیم جدوجہد سے فارغ ہو چکے ہوں تو آئیے چند سوالات پر غور فرما لیں۔ بازاروں میں تو آپ کا اکثر جانا ہوتا ہے۔آپ کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں ، رسید کے اوپر لکھا ہوتا ہے ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا‘‘۔کبھی آپ نے سوچا کہ خریدا ہوا یہ مال کیوں واپس یا تبدیل نہیں ہو گا؟کیا ہم جانتے ہیں یہ شرط کس حد تک جائز اور قانونی ہے اور یہ تاجر کس طرح بطور خریدارہمارے حقوق کو پامال کر رہے ہیں؟ فرض کریں آپ ایک ہوٹل پر کھانا
منگل 03 دسمبر 2019ء

کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

هفته 30 نومبر 2019ء
آصف محمود
سوشل میڈیا پر ایک اودھم مچا ہے۔ شائستہ اطوار لوگ بھی موجود ہیں مگر اکثریت ان کی ہے جنہیں دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے واقعی ہر رہنما اپنے حصے کے بے وقوف ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ہر قائد انقلاب کے حصے کے یہ بے وقوف سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کی عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ برسوں کے تعلقات ایک لمحے میں ختم کر دیں۔ یہ صرف اپنے اپنے رہنما کے حصے کے مجاور ہیں۔ ان لشکریوں کو سوشل میڈیا پر چاند ماری کرتے دیکھتا ہوں تو
مزید پڑھیے


عام آدمی کے لیے قانون سازی کب ہو گی؟

جمعه 29 نومبر 2019ء
آصف محمود
اخبارات کے کونے میں ایک خبر تھی : سزائے موت کے ملزم کو 14 سال بعد سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔ خوشی کی بات ہے ایک شخص کو انصاف ملا لیکن سوال یہ ہے ان 14 سالوں کا حساب وہ کس سے جا کر مانگے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ،جہاں ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے اور قرآن و سنت سے منافی کوئی قانون بن ہی نہیں سکتا ، کوئی ہے جو اس سوال کا جواب دے؟بڑے لوگوں کے مسائل زیر بحث آ جائیں تو پورا سماج دانشور بن کر ایران توران کی خبریں لانے لگتا ہے لیکن
مزید پڑھیے


میں اپنا یہ کالم واپس لینا چاہتا ہوں

جمعرات 28 نومبر 2019ء
آصف محمود
میں اپنا یہ کالم واپس لینا چاہتا ہوں، یوں سمجھئے نہ کبھی میں نے یہ کالم لکھا ، نہ کبھی یہ شائع ہوا۔ میری خوش گمانی تھی جو بد گمانی سے بھی بد تر نکلی۔ میں نے جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان سے اس کالم کی صورت میں ایک درخواست کی تھی ، میں یہ درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ جو کالم میرے ریکارڈ میں تھا ،میں نے ضائع کر دیا۔ آپ کے پاس بھی اس کی کوئی کاپی پڑی ہو تو اس کو پھاڑ کر چولہے میں ڈال دیجیے۔عمران خان سے وابستہ کسی بھی خوش گمانی کا یہ
مزید پڑھیے


سفید جزیرہ

منگل 26 نومبر 2019ء
آصف محمود
سیاست سے اب اکتاہٹ سی ہونے لگی ہے۔آج نسیم حجازی کی بات کرتے ہیں۔نسیم حجازی مرحوم کو لوگ ان کے تاریخی ناولوں سے جانتے ہیں جن میں انہوں نے مسلمانوں کے ماضی کو رومانوی انداز سے پیش کیا لیکن ’ سفید جزیرہ ‘ نسیم حجازی کا ایک ایسا ناول ہے جس کے بارے میںخود ان کا دعوی ہے ’’ میں نے ماضی کی بجائے مستقبل میں جھانکنے کی کوشش ہے ‘‘۔ ابتدائیے میں وہ اپنے قارئین کو مشورہ دیتے ہیں ’’الجھن دور کرنے لیے انہیں فرض کر لینا چاہیے کہ وہ آدھ صدی آ گے جا چکے ہیں، جب سفید
مزید پڑھیے



مشرف کیس۔۔۔۔آرٹیکل 12کیا کہتا ہے؟

اتوار 24 نومبر 2019ء
آصف محمود
اٹھائیس نومبر کو مشرف کیس کا فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے، کیا پر ویزمشرف کو اس مقدمے میں سزا ہو جائے گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں اس مقدمے کے بنیادی حقائق کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ ہمارے ہاں اس مقدمے پر جتنی بھی بحث ہوئی ، آرٹیکل 6 کے تناظر میں ہوئی۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ اس مقدمے کو اس وقت تک سمجھا ہی نہیں جا سکتا جب تک آئین پاکستان کے آرٹیکل 12 کو نہ سمجھ لیا جائے۔ اس مقدمے میں جتنی اہمیت آرٹیکل 6 کی ہے، اتنی ہی اہمیت آرٹیکل
مزید پڑھیے


فارن فنڈنگ کیس ۔۔۔۔ عمران خان سے 10 سوال

هفته 23 نومبر 2019ء
آصف محمود
فارن فنڈنگ کیس نے تحریک انصاف کو قانونی ہی نہیں اخلاقی بحران سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ قانونی اعتبار سے تو ، جیسا بھی ہے ، تحریک انصاف اپنا دفاع کر رہی ہے سوال یہ ہے کیا اسے کچھ خبر ہے اس کا اخلاقی وجود کتنے بڑے بحران سے دوچار ہو چکا ہے؟میں ایک خیر خواہ کے طور پر جناب عمران خان کی خدمت میں چند سوال رکھ دیتا ہوں ، تحریک انصاف کے پاس اگر ان سوالات کا کوئی جواب ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا اس کا اخلاقی وجود محفوظ ہے ۔ بصورت دیگر سب
مزید پڑھیے


میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا؟

جمعه 22 نومبر 2019ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے بیانیے کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم انصاف کے علمبردار ہیں ، کرپشن ہمیں گوارا نہیں ، سارے کرپٹ ہمارے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن ہم نے اب کسی کو نہیں چھوڑنا۔آئیے آج پاکیٔ داماں کی اس حکایت پر بات کر لیتے ہیں۔ احتساب کے لیے وطن عزیز میں ایک آئین اور خود مختار ادارہ نیب موجود ہے ۔ اس کا ایک آئینی سربراہ ہے جس کے عہدے کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ حکومت اسے نہیں ہٹا سکتی۔احتساب کرنا اب اس ادارے کا کام ہے۔ کس کے خلاف ریفرنس بنانا ہے، کسے گرفتار کرنا
مزید پڑھیے


بائیس سالہ جدوجہد ؟

جمعرات 21 نومبر 2019ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے بیانیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم نے بائیس سال جدوجہد کی تب جا کر گوہر مقصود، یہ اقتدار، ہمارے ہاتھ آیا۔سوال یہ ہے اس دعوے کی حقیقت کیا ہے۔کابینہ سے آغاز کر تے ہیں ، میر کے دیوان کی طرح جو گلشن کشمیر ہے۔سب سے اہم وزارت ان حالات میں خزانہ کی ہے۔ اس کے مدارلمہام جناب حفیظ شیخ ہیں۔جدوجہد کے عظیم بائیس سالوں میں انہوں نے بیس منٹ بھی دیے ہوں تو بتائیے۔ان کی بے نیازی کا یہ عالم ہے آصف زرداری کا وزیر خزانہ رہنے کا باوجود بھری محفل میں مسکرا کر کہتے
مزید پڑھیے


مشرق وسطی کے خطرناک رجحانات ۔۔۔ہماری دہلیز پر

منگل 19 نومبر 2019ء
آصف محمود
مشرق وسطی کی سیاست کا آزار پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ، یہ فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے کواڑ مقفل کر لینے ہیں یا دروازے وا کر کے اس آزار کو گلے لگانا ہے۔ سوال یہ کہ داخلی سیاست کے گرداب میں پھنسے اس سماج کو کچھ احساس ہے کہ مشرق وسطی سے ہمارے لیے کون کون سے چلینجز پیدا ہو چکے ہیں؟ مشرق وسطی کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی۔ پہلے یہاں دو حریف تھے: ایران اور سعودی عرب ۔ ہمارے لیے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ایک برا امتحان ہوتا
مزید پڑھیے