BN

آصف محمود


عورت مارچ


پدر سری معاشرے میں عورت مارچ پورے اہتمام سے زیر بحث ہے۔ ، سوال یہ ہے ہم ہر معاملے میں رد عمل کی نفسیات کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں۔کیا یہ صلاحیت ہم سے چھن چکی کہ ہم چیزوں کو تحمل ، اعتدال اور خیر خواہی سے دیکھ سکیں؟عورت کون ہے؟ ماں ، بہن اور بیٹی۔لیکن ان رشتوں کے ساتھ ساتھ وہ ایک زندہ وجود بھی ہے جس کی بطور انسان ایک شناخت ہے۔ یہ وجود اگر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک فطری تقاضا ہے اور انسانی حق بھی۔ اس حق پر یہ
جمعه 06 مارچ 2020ء

کیا شادیاں سادگی سے نہیں ہو سکتیں؟

منگل 03 مارچ 2020ء
آصف محمود
شادی کیا ہے؟ اپنی دولت کی نمائش کے ذریعے اپنے احساس کمتری کو چھپانے کی ایک کوشش یا زندگی کے سفر کا ایک نیا باب اور ایک فریضہ ؟یہ احساس کمتری کو چھپانے کی ایک کوشش ہے تو سوال یہ ہے کیا دولت کے اندھے استعمال اور نمودونمائش سے یہ چھپ جاتا ہے یا اس کے مطالبات مزید بڑھ جاتے ہیں اوراگر یہ سفرِ زندگی کا ایک نیا باب اور ایک فریضہ ہے تو سوال یہ ہے کیا اس کی ادائیگی کے لیے اسراف لازم ہے یا یہ فریضہ سادگی سے باوقار انداز سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے؟ حلال
مزید پڑھیے


کرونا وائرس : یہ کیسی صحافت ہے؟

هفته 29 فروری 2020ء
آصف محمود
پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد پیدا ہونے سوالات میں سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ قوم کو جب کسی افتاد یا آزمائش کا سامنا ہو تو میڈیا کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا افتاد کے ہر فسانے پر سینہ زنی کا نام صحافت ہے؟ صبح کا وقت تھا ، میں چک شہزاد کے نواح میں ایک ہسپتال میں بیٹھا تھا، ٹی وی سکرین پر نظر پڑی توایک اودھم مچا تھا۔ خوفزدہ کر دینے والے ٹکرز کے ساتھ سنسنی خیز انداز میںپڑھی جانے والی خبریں ، دل دہل گیا۔ ابلاغ کے چند مظاہر آپ بھی دیکھ لیجیے:’’کرونا
مزید پڑھیے


مودی ۔۔۔۔۔ہمارے سیکھنے کو کیا کچھ ہے؟

جمعرات 27 فروری 2020ء
آصف محمود
مودی کی پالیسیوں کے نتیجے میں ہندوستان کا تو جو حشر ہو گا سو ہو گا، سوال یہ ہے وحشت اور اس جنون کے اس کھیل میں ہمارے سیکھنے کو بھی کچھ ہے ؟ مودی ایک غیر تعلیم یافتہ شخص ہے ۔ جاہل ہی کہہ لیجیے۔ مطالعے سے محروم ۔ تہذیب انسانی کے ارتقاء سے لاعلم۔ اسے کچھ خبر نہیں شعور انسانی کیا ہوتا ہے اور اس کے مطالبات کیا ہوتے ہیں۔ عصر حاضر کے شعوری دھارے سے لاعلم شخص کا ویژن انتہائی محدود ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا سے کٹ جاتا ہے اور اپنے کنویں کی وسعت کے
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا ۔۔۔دوست یا دشمن؟

پیر 24 فروری 2020ء
آصف محمود
سوشل میڈیا کا سونامی آ چکا ہے ، یہ فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے ہم نے اپنی توانائیاں اس کے سامنے بند باندھنے میں ضائع کرنی ہیں یا ہم نے اس پہلو پر غور کرنا ہے کہ اس سونامی کو اپنی قوت کیسے بنایا جائے۔ ہر دور کی اپنی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ کامیاب وہی ہوتا ہے جو اس حقیقت کو بروقت سمجھ لے۔ بدلتے دور کے حقائق سے لڑا نہیں جا سکتا ۔ زمانہ جب کروٹ بدل لیتا ہے تواس کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ بر صغیر میں جب پرنٹنگ پریس آیا تو زمانے نے ایسی ہی کروٹ
مزید پڑھیے



کٹے ، مرغیاں ، بکریاں اور عمران کا مذاق اڑانے والے ڈیجیٹل منگول

اتوار 23 فروری 2020ء
آصف محمود
شام سے دوست احباب چند تصاویر واٹس ایپ کیے جا رہے ہیں۔ ایک تصویر میں عمران خان ایک خاتون کو ’’ کٹا‘‘ یا ’’کٹی‘‘ دے رہے ہیں اور دوسری تصویر میں چند بکریاں۔ واٹس ایپ پر ان تصاویر کے ساتھ تمسخرانہ اور طنز بھرے فقرے بھی موصول ہو رہے ہیں۔میں کل سے یہ میسجز پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں اس قوم کا احساس کمتری کتنا شدید ہو چکا ہے۔ جون اور جولائی میں بھی جس معاشرے کے وکیل اور اینکر ٹو پیس سوٹ پہن کر اور ساتھ ایک عدد ٹائی لٹکا کر منظر عام پر آتے
مزید پڑھیے


کیا ہمیں گورنروں کی کوئی ضرورت ہے؟

جمعرات 20 فروری 2020ء
آصف محمود
ہر صوبے میں ایک عدد لاٹ صاحب تشریف فرما ہیں۔غریب قوم اپنی رگوں سے لہو نکال کر لاٹ صاحب کے چہرہ تاباں کی لالی برقرار رکھے ہوئے ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس غریب قوم کو کسی گورنر کی کوئی ضرورت ہے؟کیا کبھی کسی نے سوچا ایک پارلیمانی جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے گورنر کے منصب کی ضرورت اور افادیت کیا ہے؟ غلامی کی اس یادگار کو کب تک سینے سے لگا کر رکھا جائے گا؟کیا آپ کو کچھ علم ہے ، گورنر ہائوس نامی ان شاہی محلات میں ، ہم نے جو رجال ِ کار بٹھا رکھے ہیں
مزید پڑھیے


غنچے ذرا آرٹیکل 6 لانا

منگل 18 فروری 2020ء
آصف محمود
سودا کے بارے میں روایت ہے کہ ہجو کے ماہر تھے۔ انہوں نے بھی دل ہی دل میں ٹھان رکھی تھی کہ چھوڑنا میں نے کسی کو نہیں۔ وہ کسی این آر او کے قائل نہیں تھے چنانچہ جب کسی سے خفا ہوتے تو وہیں حساب چکا دیتے۔مزاج بگڑتا تو آواز لگاتے: غنچے میاں ذرا قلم دان لانا۔ غنچے میاں قلم دوات حاضر کر دیتے اور پھر مرزا سودا اپنے حریفوں کا حلیہ بگاڑ دیتے۔سودا کا زمانہ اب ماضی ہو چکا اب نیا دور ہے جہاں مزاج یار کسی پر برہم ہو تو آواز لگائی جاتی ہے: غنچے میاں
مزید پڑھیے


مدرسہ ، منشیات، مولانا ، کپتان اور آرٹیکل 6

هفته 15 فروری 2020ء
آصف محمود
شہر یار آفریدی ، جان جنہوں نے اللہ کو دینی ہے ، ایسے ایسے نوشتے اغیار کو دکھاتے ہیں کہ حیرتوں کو صحرا بھی تنگ پڑ جائے۔ شدت جذبات میں بات کرنے سے پہلے اس تکلف کا یارا نہ ہو تو ازرہ مروت آدمی بات کرنے کے بعد ہی سوچ لیا کرے کہ شیریں دہنی نے آج کتنی قیامتیں ڈھا دی ہیں۔ ایک روز آپ نے ارشاد فرمایا: اسلام آباد کے 70 فیصد طلباء منشیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ اتنی غیر سنجیدہ اور غیر ذمہ دارانہ بات تھی کہ انسداد منشیات فورس کے ڈائرکٹر جنرل ، میجر جنرل عارف ملک
مزید پڑھیے


عمران خان ایماندار تو ہے

جمعرات 13 فروری 2020ء
آصف محمود
تبدیلی سے جو امیدیں اور خوش گمانیاں لپٹی تھیں وہ پہلے پت جھڑ میں ہی سوکھ گئیں۔خواب اب پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔خزاں کے قاصد کا مگر آج بھی یہی دعوی ہے اگلے ساون میں شہر کی ساری گلیاں عنبر ہو جائیں گی۔عالم یہ ہے چکور اڑ گئے اوربلبل غم زدگی سے سہمے پڑے ہیں ، سندیسہ ِ بہار اب الوئوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دانا ہی بہت ہوتے ہیں۔شام اترتی ہے تو وہ سمجھانے آ جاتے ہیں: دیکھو حوصلہ رکھو ، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔معیشت کا ستیا ناس اور کاروبار کا سوا ستیا ناس
مزید پڑھیے