BN

آصف محمود


مراعات کا کورم کیوں نہیں ٹوٹتا؟


قومی اسمبلی میں آئے روز کورم ٹوٹ جاتا ہے ، سوال یہ ہے کہ معزز اراکین اسمبلی کی مراعات کا کورم کیوں نہیں ٹوٹتا؟عرفان ستار نے کہا تھا : رات مجھ سے مری بے بسی نے کہا ، بے بسی کے لیے ایک تازہ غزل۔ہمیں تو شعر کہنا بھی نہیں آتا ، ہم میر صاحب ہی کو یاد کر سکتے ہیں: ’’روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات اب یہی روزگا ر ہے اپنا ‘ــ‘ کیا آپ کو معلوم ہے معاشی بحران سے دوچار یہ غریب قوم اپنے اراکین قومی اسمبلی کی
اتوار 08 دسمبر 2019ء

قومی اسمبلی کی کارکردگی کیا ہے؟

هفته 07 دسمبر 2019ء
آصف محمود
یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ قومی اسمبلی کے ، جہاں بہت سے نہ بکنے والے ، نہ جھکنے والے ، کردار کے غازی اور بے داغ ماضی اکٹھے تشریف فرما ہوتے ہیں ، ایک دن کے اجلاس پر اوسطا اس غریب قوم کو چار سو لاکھ روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ سوال یہ ہے اتنے بھاری رقم خرچ کرنے کے بعد کیا کوئی ایسا فورم موجود ہے جہاں عوام یہ سوال پوچھ سکیں اے نیک بختو ! اتنے پیسے برباد کرنے کے بعد ذرا بتائو تو سہی تمہاری کارکردگی کیا ہے؟ آج بھی ، جب میں
مزید پڑھیے


آدھے ادھورے خواب ۔۔۔۔دیدہ پُر خوں ہمارا

جمعه 06 دسمبر 2019ء
آصف محمود
آپ سے کوئی پوچھ لے آپ کی فینٹسی کیا ہے تو آپ اسے فورا جواب دے پائیں گے یا آپ سوچنے بیٹھ جائیں گے ؟اس سوا ل کے جواب میں اگر آپ کو سوچنا پڑ جائے تو ، معاف کیجیے ، یہ بھی کوئی جینا ہے ۔ کاروبار حیات کے مسائل اور تلخیاں تو ایک حقیقت ہیں لیکن اب کیا یہی تلخیاں اور مسائل اوڑھ کر زندگی بتا دی جائے ؟سفر حیات کی کہانی کیا بس اتنی سی ہے کہ بی اے کیا ، نوکر ہوئے ، پنشن ملی اور مر گئے؟سفرِ عشق میں ضعف اور راحت طلبی کا تو
مزید پڑھیے


بچوں سے مکالمہ کیجیے

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
آصف محمود
میں تو ایشیاء کو سبز کرنے کے دعووں سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مذہب کی آڑ میں فسطائیت مسلط کرنے کی کوشش ہے تو میں اس ترانے پر کیسے سر دھن سکتا ہوں کہ جب لال لال لہرائے گا پھر ہوش ٹھکانے آئے گا۔ انتہائی بچگانہ اور مجہول قسم کا نعرہ ہے جس کے گانے والوں کی اکثریت کو خود نہیں معلوم، شدت جذبات میںوہ کس کس کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ میرے جیسوں کا ہوش البتہ بہت پہلے ہی ٹھکانے آ چکا ہے کہ ان خوش کن نعروں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور ان
مزید پڑھیے


کیا خواجہ سرا انسان نہیں ہوتے؟

بدھ 04 دسمبر 2019ء
آصف محمود
گلی محلوں میں چلتے پھرتے خواجہ سرائوں کو تو آپ نے اکثر دیکھا ہو گا، کبھی نفرت سے ، کبھی حقارت سے ، کبھی آپ کے متقی وجود نے انہیں غلاظت سمجھ کر منہ موڑ لیا ہو گیا اور کبھی آپ کی مردانگی نے انہیں زمین کا ایک غیر ضروری بوجھ سمجھ کر تمسخر اڑایا ہو گا لیکن سچ بتائیے کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایک بار بھی وہ لمحہ آیا جب آپ نے انہیں ایک زندہ انسانی وجود سمجھ کر ان سے بات کی ہو ، ان کی دل جوئی کی ہو ، ان کا دکھڑا سنا ہو
مزید پڑھیے



خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا؟

منگل 03 دسمبر 2019ء
آصف محمود
آپ ایشیاء کو سرخ یا سبز کرنے کی عظیم جدوجہد سے فارغ ہو چکے ہوں تو آئیے چند سوالات پر غور فرما لیں۔ بازاروں میں تو آپ کا اکثر جانا ہوتا ہے۔آپ کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں ، رسید کے اوپر لکھا ہوتا ہے ’’خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا‘‘۔کبھی آپ نے سوچا کہ خریدا ہوا یہ مال کیوں واپس یا تبدیل نہیں ہو گا؟کیا ہم جانتے ہیں یہ شرط کس حد تک جائز اور قانونی ہے اور یہ تاجر کس طرح بطور خریدارہمارے حقوق کو پامال کر رہے ہیں؟ فرض کریں آپ ایک ہوٹل پر کھانا
مزید پڑھیے


کیا آپ بھی کسی کے حصے کے بے وقوف ہیں؟

هفته 30 نومبر 2019ء
آصف محمود
سوشل میڈیا پر ایک اودھم مچا ہے۔ شائستہ اطوار لوگ بھی موجود ہیں مگر اکثریت ان کی ہے جنہیں دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے واقعی ہر رہنما اپنے حصے کے بے وقوف ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ہر قائد انقلاب کے حصے کے یہ بے وقوف سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کی عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ برسوں کے تعلقات ایک لمحے میں ختم کر دیں۔ یہ صرف اپنے اپنے رہنما کے حصے کے مجاور ہیں۔ ان لشکریوں کو سوشل میڈیا پر چاند ماری کرتے دیکھتا ہوں تو
مزید پڑھیے


عام آدمی کے لیے قانون سازی کب ہو گی؟

جمعه 29 نومبر 2019ء
آصف محمود
اخبارات کے کونے میں ایک خبر تھی : سزائے موت کے ملزم کو 14 سال بعد سپریم کورٹ نے بری کر دیا۔ خوشی کی بات ہے ایک شخص کو انصاف ملا لیکن سوال یہ ہے ان 14 سالوں کا حساب وہ کس سے جا کر مانگے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ،جہاں ریاست کا مملکتی مذہب اسلام ہے اور قرآن و سنت سے منافی کوئی قانون بن ہی نہیں سکتا ، کوئی ہے جو اس سوال کا جواب دے؟بڑے لوگوں کے مسائل زیر بحث آ جائیں تو پورا سماج دانشور بن کر ایران توران کی خبریں لانے لگتا ہے لیکن
مزید پڑھیے


میں اپنا یہ کالم واپس لینا چاہتا ہوں

جمعرات 28 نومبر 2019ء
آصف محمود
میں اپنا یہ کالم واپس لینا چاہتا ہوں، یوں سمجھئے نہ کبھی میں نے یہ کالم لکھا ، نہ کبھی یہ شائع ہوا۔ میری خوش گمانی تھی جو بد گمانی سے بھی بد تر نکلی۔ میں نے جناب عمران خان وزیر اعظم پاکستان سے اس کالم کی صورت میں ایک درخواست کی تھی ، میں یہ درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ جو کالم میرے ریکارڈ میں تھا ،میں نے ضائع کر دیا۔ آپ کے پاس بھی اس کی کوئی کاپی پڑی ہو تو اس کو پھاڑ کر چولہے میں ڈال دیجیے۔عمران خان سے وابستہ کسی بھی خوش گمانی کا یہ
مزید پڑھیے


سفید جزیرہ

منگل 26 نومبر 2019ء
آصف محمود
سیاست سے اب اکتاہٹ سی ہونے لگی ہے۔آج نسیم حجازی کی بات کرتے ہیں۔نسیم حجازی مرحوم کو لوگ ان کے تاریخی ناولوں سے جانتے ہیں جن میں انہوں نے مسلمانوں کے ماضی کو رومانوی انداز سے پیش کیا لیکن ’ سفید جزیرہ ‘ نسیم حجازی کا ایک ایسا ناول ہے جس کے بارے میںخود ان کا دعوی ہے ’’ میں نے ماضی کی بجائے مستقبل میں جھانکنے کی کوشش ہے ‘‘۔ ابتدائیے میں وہ اپنے قارئین کو مشورہ دیتے ہیں ’’الجھن دور کرنے لیے انہیں فرض کر لینا چاہیے کہ وہ آدھ صدی آ گے جا چکے ہیں، جب سفید
مزید پڑھیے