BN

آصف محمود


انتہاء ہے رب جلیل کے با برکت نام سے


’’ابتدا ہے رب جلیل کے با برکت نام سے ، جو دلوں کے بھد خوب جانتا ہے ۔دیکھتی آنکھوں ، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام ‘‘۔ ہم رفتہ عشق بھلا اس فقرے کو کیسے بھول پائیں گے؟ جس نسل نے آج کے اینکرز کی غارت گری دیکھ رکھی ہے ، اسے کیا معلوم طارق عزیز کیا تھا۔ جو جانتے ہیں ، وہ مگر خوب جانتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا جو آج اٹھ گیا۔دل جو لہو سے بھرا پڑا ہے ، اس میں درد نے خیمے گاڑ رکھے ہیں اور پلکوں میں ساون اتر آیا ہے۔فرد نہیں
جمعرات 18 جون 2020ء

کیا ہم منافق ہیں؟

منگل 16 جون 2020ء
آصف محمود
دستور پاکستان میں لکھا ہے پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی ، دل چسپ بات ہے کہ آئین میں یہ بات انگریزی زبان میں لکھی ہوئی ہے۔بظاہر یہ معمولی سی بات ہے لیکن سوچا جائے تو یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے جو ہمیں بتا رہا ہے ہمارے فکری تضادات کتنے گہرے اور ہماری گرہیں کتنی شدید ہیں۔ آرٹیکل 251میں ، ہمارے اکابر اراکین پارلیمان نے قوم کو یہ بتانے کے لیے کہ ان کی قومی زبان اردو ہو گی ، انگریزی کا سہارا کیوں لیا؟ کیا ان محترم ہستیوں کو اردو نہیں آتی تھی اور ان سب عالی قدر رہنمائوں
مزید پڑھیے


پہلے والے کون تھے؟

هفته 13 جون 2020ء
آصف محمود
ہر سوال کا جواب دیا جاتا ہے ہمارا کیا قصور ، سب کچھ پہلے والوں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے ملک لوٹ کھایا۔ سوال اب یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پہلے والے کون تھے؟ کابینہ ہی کو دیکھ لیتے ہیں۔بجٹ کے دن ہیں اور مشیر خزانہ کا طوطی بول رہا ہے ۔ جب پرویز مشرف حاکم وقت تھے تو موصوف شیخ صاحب صوبہ سندھ کے فنانس منسٹر تھے۔ پھر تین سال بعد لوگ ہم خیال ہونا شروع ہوئے اور ق لیگ پر عروج آیا تو موصوف ق لیگ کے سینٹر بن گئے۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری کا منصب انہیں
مزید پڑھیے


وبا کے دنوں میں میجر صاحب کیوں یاد آئے؟

جمعه 12 جون 2020ء
آصف محمود
کورونا وائرس پرمحققین کرام کی تحقیقات سے مجھے محترم میجر ریاض حسین ملک یاد آگئے۔جی ہاں وہی 1971 کی ’’ البدر‘‘ والے میجر ریاض۔میجر صاحب میرے استاد بھی ہیں ، بزرگ بھی ہیں اور ان سے بے تکلفی کا رشتہ بھی ہے۔عمر کے اس حصے میں بھی ،جب ان کے دوستوں کے بچے بھی جرنیل بن چکے اور ان کا اپنا بیٹا بھی فوج بھی اعلی منصب پر پہنچ چکا، ان کے مزاج کی شگفتگی اور تازگی برقرار ہے۔ان کے ساتھ بیٹھ جائوں تو کمرہ قہقہوں سے گونجتا رہتا ہے۔ان کی محفل کی تازگی سے میر یاد آتے ہیں: کس
مزید پڑھیے


کیا اسلام آباد ایک لاوارث شہر ہے؟

منگل 09 جون 2020ء
آصف محمود
اسلام آباد کا وارث کون ہے؟ کیا یہ ایک یتیم اور لاوارث شہر ہے؟ اسلام آباد کے تین ایم این اے ہیں۔ تینوں کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ ان میں سے ایک وزیر ہے اور ایک وزیر اعظم کا مشیر برائے سی ڈی اے۔ خود وزیر اعظم بھی عام انتخابات میں اسی حلقے سے جیتے تھے۔ یہاں بلدیاتی حکومت بھی موجود ہے۔ ایک میئر اور ضرورت سے کچھ زیادہ ڈپٹی میئرز بھی موجود ہیں ۔ سی ڈی اے نام کا ایک ادارہ بھی ہے جس میں 14 ہزار 4 سو 10 ملازمین کام کر رہے ہیں لیکن اسلام آباد
مزید پڑھیے



وزیر اعظم شاہد آفریدی؟

هفته 06 جون 2020ء
آصف محمود
سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کی تصاویر زیر بحث ہیں اور کچھ لو گ مضامین باندھ رہے ہیںکہ ایک اور وزیر اعظم تیاری کے مراحل سے گزارا جا رہا ہے۔اس بحث میں طنز ، غصہ ، توہین ، تضحیک اورجھنجھلاہٹ ، سبھی عناصر موجود ہیں۔بس ایک چیز کی کمی ہے اور وہ ہے اس سارے قصے کا سنجیدہ سماجی مطالعہ۔ ایک طالب علم کے طور ، فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے ، میں آپ کی خدمت میں چند سوالات رکھ دیتا ہوں۔ آپ کو وقت ملے تو ان پر غور فرما لیجیے۔ پہلا سوال یہ ہے کیا ہم نے یہ
مزید پڑھیے


چرس کی فیکٹری ، بھنگ کا تیل ۔۔۔اس میں غلط کیا ہے؟

جمعرات 04 جون 2020ء
آصف محمود
کچھ عرصہ قبل شہر یار آفریدی نے چرس اور منشیات کے طبی استعمال کے لیے ایک فیکٹری لگانے کی بات کی تو اسے طنز اور حقارت کا عنوان بنا دیا گیا۔ اب پاکستان نے بھنگ کا تیل برآمد کرنے کا کوئی منصوبہ بنا یا ہے تو ناقدین کا حال ایک بار پھر تنگ ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے ہمیں تحقیق اور مطالعے کا ذوق نہیں اور ہم اپنے گردو پیش میں ہونے والی پیش رفت سے لاعلم ہیں تو کیا یہ بھی عمران خان کا قصور ہے؟ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں افیون کا جائز ،
مزید پڑھیے


پرندوں کو مارو گے تو ٹڈی دل ہی اتریں گے

منگل 02 جون 2020ء
آصف محمود
درختوں کو کاٹ کر ، معصوم مکینوں کے گھونسلے برباد کر کے ، جدید طرز تعمیر میں کسی گھونسلے کا امکان تک نہ چھوڑ کر ، بے رحم اور وحشیانہ انداز سے شکار کر کے جب پرندوں کا قتل عام کیا جائے گا تو پھر بستی میں کوئلیں اور بلبلیں نہیں ، ٹڈی دل ہی اتریں گے ۔ہمارا اپنا نامہ اعمال ہے جو ٹڈی دل کی صورت ہمارے سامنے رکھا ہے۔میر نے کہا تھا : دریا دریا روتا ہوں میں ، صحرا صحرا وحشت ہے۔برڈ واچرز کلب کی ایک رپورٹ پڑھ رہا ہوں کہ 1960 میں لاہور میں پرندوں
مزید پڑھیے


ٹڈی دل

پیر 01 جون 2020ء
آصف محمود
کورونا کی وبا پاکستانی معیشت کے لیے اتنی تباہ کن نہیں تھی، ایکسپورٹس ہماری تھیں ہی کتنی کہ متاثر ہوتیں ؟ امپورٹ بل کم ہوا تو فائدہ ہی ہوا۔ بہت بڑا سہارا ہماری زراعت تھی اور ہمیں تسلی تھی کارپوریٹ اکانومی کا جو بھی حشر ہو جائے ہم ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے غذائی بحران سے دوچار نہیں ہوں گے۔لیکن ٹڈی دل کی وجہ سے اب منظر بدل رہا ہے اور ایک خوفناک غذائی بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔کیا کسی کو احساس ہے کہ یہ کتنا بڑا خطرہ ہے؟ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب
مزید پڑھیے


کورونا کو مذاق کس نے بنایا؟

هفته 30 مئی 2020ء
آصف محمود
ڈاکٹرز خفا ہیں اور بعض ’’ ینگ ڈاکٹرز‘‘ تو اب سوشل میڈیا پر عوام کو باقاعدہاتھ نچا نچا کر کوس رہے ہیں کہ یہ کورونا جیسی سنگین اور مہلک بیماری کو مذاق سمجھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کورونا کو مذاق کس نے بنایا؟ عوام نے یا باشعور طبی ماہرین اور مستعد حکومتی مشینری نے؟ عوام کورونا کو واقعی سنجیدہ نہیں لے رہے۔ اگلے روز جوہر آباد اپنے کزن ملک جہانگیراعوان کو فون پر درخواست کی کہ اپنی سرگرمیوں کو تھوڑا محدود کریں اور کورونا کو ایک حقیقت سمجھیں تو انہوں نے آگے سے قہقہہ لگا دیا۔ میں نے ہمت کر
مزید پڑھیے