Common frontend top

آصف محمود


پاکستان کے خلاف جنگ کا میدان بدل چکا ہے


پاکستان کے خلاف جنگ کا میدان بدل چکا ہے۔ جنگ اب سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی ۔ یہ کہیں اور لڑی جا رہی ہے۔ پاکستان کے چیلنجز کو دشمن نے بڑی کامیابی سے انٹرنلائز کر دیا ہے۔ اب جتنے بھی بڑے خطرات ہیں وہ اندر سے لاحق ہیں۔ لازم ہے کہ ہماری دفاعی پالیسی بھی جنگ کے اس نئے میدان کی ضروریات کی روشنی میں مرتب کی جائے۔ نیا میدان جنگ معیشت ہے اور اس جنگ کے تین اہم مورچے ہیں۔داخلی سکیورٹی یعنی دہشت گردی کا چیلنج ، سیاسی عدم استحکام یعنی ہمہ وقت کا انتشار و ہیجان اور ابلاغ
منگل 25 جون 2024ء مزید پڑھیے

کیا مارگلہ نیشنل پارک وائلڈ لائف بورڈ کا مال غنیمت ہے؟

هفته 22 جون 2024ء
آصف محمود
اسلام آباد کے مارگلہ نیشنل پارک میں ماحولیات کے نام پر ، جنگل کے نام پر اور قدرتی حسن کے نام پر جو واردات کی جا رہی ہے ، یہ ایلیٹ کیپچر کی ایک ابتدائی مگر بد ترین شکل ہے ۔ اسلام آباد اگر گونگوں اور بہروں کا شہر نہیں ہے تو اس واردات کو ابھی سے سمجھ لیا جانا چاہیے اور اس کے خلاف آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ یہ جنگل اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا مال غنیمت نہیں ہے۔ میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ نیشنل پارک میں سی ڈی اے کی عملداری نہیں ہونی
مزید پڑھیے


کتاب اور ماحولیات کا ایلیٹ کیپچر

جمعرات 20 جون 2024ء
آصف محمود
کتاب اور درخت ، دنیا کی دو خوب صورت چیزیں ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ دونوں ہی طبقاتی رعونت کی زد میں ہیں۔ ایک طرف ماحولیاتی ایلیٹ کیپچر ہے اور دوسری جانب مطالعاتی ایلیٹ کیپچر۔ یہ اگر چہ ایک مقامی واردات ہے تاہم اس کی جڑیں سفید فام بالادستی کے فکری آزار میں ہیں۔اور مقامی ایلیٹ کیپچر کی یہ واردات اتنی ہی غلیظ ہے جتنی سفید فام بالادستی کی واردات غلیظ تھی۔ پاکستانی معاشرہ کتاب دوستی اور ماحول دوستی کے نام پر اس وحشت کدے میں دھکیلا جا رہا ہے۔ کیا کسی کو احساس ہے؟ سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ایک
مزید پڑھیے


بجٹ میں زراعت کے لیے کیا ہے؟

هفته 15 جون 2024ء
آصف محمود
بجٹ پیش کیا جا چکا اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ زرعی ملک کے اس بجٹ میں زراعت کے لیے کیا ہے؟پاکستان کے پاس زراعت کے شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں لیکن کوئی ڈھنگ کی پالیسی نہیں۔ جو پالیسی ساز ہیں وہ زراعت سے منسلک چیزوں کا نام لیتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں پینڈو نہ سمجھ لیا جائے۔ پوری پارلیمان میں بیٹھے تمام معززین کو دیکھ لیجیے ، ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے زراعت پر کبھی بات کی ہو۔ تمام چینلز پر تشریف فرما تمام اینکرز اور اخبارات کے تمام کالم نگاروں کو
مزید پڑھیے


مارگلہ : سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد

جمعرات 13 جون 2024ء
آصف محمود
مارگلہ نیشنل پارک میں ہوٹلوں کی بندش کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ شان دار ہے اور اس سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ مارگلہ کی دیوار گریہ پر رکھے دیگر نوحوں کا بھی ایک نہ ایک دن جواب آئے گا کیونکہ مارگلہ میں ابھی بہت سارے مقامات آہ و فغاں باقی ہیں۔ نیشنل پارک جانوروں کی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ اس میں ہوٹل نہیں کھلا کرتے۔ ظلم مگر یہ ہوا کہ مرغزار سے لے کر اوپر منال تک جا بجا ہوٹل کھل گئے۔ سرشام جنگل میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں '' توند ہمراہ ہے'' کا اعلان
مزید پڑھیے



چیئر مین پی سی بی کی اہلیت کا معیار کیا ہے؟

منگل 11 جون 2024ء
آصف محمود
امریکہ کے بعد بھارت سے شکست پر کرکٹ کے شائقین سوال اٹھا رہے ہیں کہ فلاں فلاں کھلاڑی کس خوبی کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ ہے ، یہ قومی کرکٹ ٹیم ہے جہاں اہلیت کی بنیاد پر انتخاب ہوتا ہے یا یہ داماد الیون اور ذاتی دوستوں کا ایک کلب ہے جہاں اہلیت کی بجائے اقربا پروری سے کام چلتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم سہی لیکن میرے دامن سے ایک اور سوال لپٹا ہے۔ کھلاڑیوں کی بات بعد میں کریں گے اس سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چیئر مین پی سی
مزید پڑھیے


بھارتی انتخابات ہمارے لیے کون سے سوالات چھوڑ گئے؟

هفته 08 جون 2024ء
آصف محمود
بھارت میں ہونے والے انتخابات ہمارے لیے کچھ سوالات چھوڑ گئے ہیں۔ اگر ہم چاہیں توا ن پر غور کر سکتے ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ بھارت میں کسی نگران حکومت کے تماشے کے بغیر کیسے انتخابات ہو گئے؟بھارت میں بھی ایک عدد سپریم کورٹ تھی اس کے کسی سابق چیف جسٹس کو نگران وزیر اعظم بنا کر نوازا جا سکتا تھا۔ کسی سیاسی یتیم کی 90 دنوں کے لیے لاٹری نکالی جا سکتی تھی تا کہ وہ ہر روز نیا سوٹ اور نئی ٹائی لگا کر بھارتی شہریوں کی سماعت کا امتحان لیتا رہتا۔ لیکن ایسا کچھ
مزید پڑھیے


کیا واقعی شیخ مجیب کو اقتدار دینے سے انکار کیا گیا؟

جمعرات 06 جون 2024ء
آصف محمود
ہمارے ہاں یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جاتی رہی ہے اور کہی جا رہی ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے باوجود شیخ مجیب کو اقتدار سونپنے سے انکار کر دیا گیا تو وہ رد عمل میں پاکستان سے الگ ہو گیا اور یوں بنگلہ دیش بن گیا۔ حقائق اور دلائل کی دنیا سے رجوع کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ بالکل درست نہیں ہے۔سچائی کچھ اور ہے۔ سیاسی عصبیت سے جس نے جی بہلانا ہے وہ بہلا لے لیکن اگر کسی کو تاریخ کا اس کے درست تناظر میں مطالعے کا فہم اور ذوق ہے تو
مزید پڑھیے


حمود الرحمن کمیشن رپورٹ : دستاویز حماقت

منگل 04 جون 2024ء
آصف محمود
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ایک بار پھر زیر بحث ہے اور تحریک انصاف نے اسے پرچم بنا لیا ہے۔حقیقت مگر یہ ہے کہ یہ ایک ناقص، ادھوری، یک طرفہ اور بد نیتی پر مبنی وہ رپورٹ ہے جس کا علم اور دلیل کی دنیا میں کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ یہ کمیشن بھٹو صاحب کا ایک سیاسی شعبدہ تھا۔ سانحہ ہو چکا تھا عوامی پریشر تھا۔ لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے ایک کمیشن بنایا گیا لیکن بد نیتی یہ کی گئی کہ کمیشن کا مینڈیٹ انتہائی محدود کر دیا گیا تا کہ مرضی کی چاند ماری کی جا سکے۔ہمیں
مزید پڑھیے


شیخ مجیب الرحمن : جمہوریت پسند یا فاشسٹ؟

هفته 01 جون 2024ء
آصف محمود
شیخ مجیب کے جن تازہ عشاق کا خیال ہے کہ شیخ صاحب بطل جمہوریت تھے اور حقیقی آزادی کی خاطر ووٹ کو عزت دیتے دیتے ملک توڑ کر الگ ہو گئے، ان حضرات کو تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ سیاسی مفاد کی خاطر یوٹرن تو گوارا کیے جا سکتے ہیں لیکن کیا سیاسی مفادات کی خاطر شیخ مجیب جیسے بد ترین آمر اور طالع آزما کو اب ’ بابائے جمہوریت‘ بھی بنا لیا جائے گا؟ کسی کی کسی بھی غلطی کا دفاع مقصود نہیں۔ ہاں اس سانحے کے کرداروں میں سب سے گھنائونے کردار کو اگر کوئی جمہوریت کا
مزید پڑھیے








اہم خبریں