BN

آصف محمود



ہم اذیت پسند کیوں ہو گئے؟


ہم اذیت پسند کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟لطیف انسانی جذبات دم توڑ رہے ہیں اور خانہ ویراں میں اہلِ دل اب درو دیوار پر اشک بہاتے ہیں۔وحشت کدے میںہیجان ہے ، نفرت امڈ رہی ہے ، بے زاری ہے ، بد گمانیاں ہیں ، دل پتھر ہو گئے ہیں اور سوچیں سفاک۔لہجوں میں آتشِ دوزخ کی تپش ہے ۔ طنز ، تحقیر ، تذلیل، تمسخر ، بستی میں سب کی فراوانی ہے بس ایک خیر خواہی ہے جو جنس نایاب ہوتی جا رہی ہے ۔دیدہِ حیران سراپا سوال ہے: اس سماج کو کیا ہو گیا؟اس کی حسِ لطیف کیا
هفته 06 جولائی 2019ء

پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟

جمعرات 04 جولائی 2019ء
آصف محمود
پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے : کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ باطن میں پاکستان پر فردِ جرم عائد کر دیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو برادرم عامر خاکوانی کی طرح درد مندی اور درد دل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔میرا سوال مگر قدرے مختلف ہے۔سوال یہ ہے سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ پاکستان کاشہری افغانستان کے
مزید پڑھیے


پاک افغان میچ اور نومولود مورخین کرام

پیر 01 جولائی 2019ء
آصف محمود
کھیل کھیل ہوتا ہے اسے نفرت کا عنوان یا جنگ کا میدان نہیںبنایا جا سکتا لیکن نومولود مورخین کرام جو حرکتیں کر رہے ہیں یہ گوارا نہیں کی جا سکتیں۔ این جی اوز کے کارندے تو اپنے ایجنڈے پر ہیں ، سادہ لوح محققین اور نومولود مورخین کے دماغِ عجز ِ عالی سے خواہ مخواہ دھواں اٹھ رہا ہے ۔ رونی صورت بنا کر یہ حضرت ناصح بنے پھرتے ہیں اور ہمیں سمجھاتے ہیں کہ دیکھیے صاحب افغان تماشائیوں کا رد عمل اصل میںپاکستان کی پالیسیوں کے خلاف افغان عوام کا غم و غصہ ہے اس لیے ہمیں اپنی
مزید پڑھیے


ہسپتالوں کا فضلہ کہاں جاتا ہے؟

هفته 29 جون 2019ء
آصف محمود
کیا کبھی ہم نے سوچا ہسپتالوں کے باہر جو منوں کے حساب سے فضلہ پڑا ہوتا ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ اہل سیاست کو اپنے حساب سودو زیاںسے فرصت نہیں اور اہل فکر نے بھی گویا طے کر لیا ہے ہر روز سیاست پر ہی مضامین باندھنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سماج کو کیا ہوگیا؟ سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں کی عالم آرائی کی انتہاء کیا یہی ہے کہ کسی ایک قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں کے ساتھ مل کر کسی دوسرے قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں سے الجھتے رہیں؟ حریت فکر کہاں کھو
مزید پڑھیے


اوربابر اعوان بری ہو گئے۔۔

جمعه 28 جون 2019ء
آصف محمود
بابر اعوان بری ہو گئے۔ غرورِ عشق کے جس بانکپن کے ساتھ منصب سے مستعفی ہو کر وہ کٹہرے میں آن کھڑے ہوئے تھے ، نکلے تو وہ بانکپن سلامت تھا۔ مقدمہ ایسا نہ تھا کہ دفاع نہ کیا جا سکتا، چاہتے تو منصب پر قائم رہتے ہوئے ایک مضمون سو سو رنگ سے باندھ دیتے،لیکن انہوں نے اپنے اخلاقی وجود کو مقدم جانا اور دامن جھاڑ کر کوچہ اقتدار سے الگ ہو گئے۔ورنہ یہاں تو لوگ پوری جرات سے دعوی کرتے ہیں بیرون ملک تو کیا میری اندرون ملک بھی کوئی جائیداد نہیں اور جب جائیدادوں کے دفتر
مزید پڑھیے




استنبول سے بھوربن تک

منگل 25 جون 2019ء
آصف محمود
استنبول سے بھوربن تک ،مسلم معاشروں کے دومختلف رویے ہمارے سامنے ہیں۔ ہم چاہیں تو اس میں سے عبرت اور حکمت دونوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف ترکی ہے۔ اس میں کیا شک ہے طیب اردوان نے ترکی کی تعمیر کی اور اسے اقوام عالم میں سر بلند کیا۔ غیر معمولی مقبولیت نے انہیں بہت طاقتور کر دیا ۔ جب طاقت کا یہ احساس مسائل پیدا کرنے لگا تو ترکی کے سماج کا شعور اجتماعی بروئے کار آیا اور استنبول کے میئر کے انتخابات میں اردوان کی جماعت کو تیرہ ہزار ووٹوں سے شکست ہو گئی۔ اس شکست
مزید پڑھیے


ایک ایم این اے اس قوم کو کتنے میں پڑتا ہے؟

پیر 24 جون 2019ء
آصف محمود
قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ اکابرین، نہ بکنے والے والے ، نہ جھکنے والے ، کردار کے غازی ، بے داغ ماضی ، آپ کے قیمتی ووٹ کے جائز حقدار، کیا آپ کو کچھ خبر ہے ان یہ عظیم فرزندانِ جمہوریت اپنی آنیوں جانیوں سمیت اس غریب قوم کو کتنے میں پڑتے ہیں؟ کیا آپ کو کچھ خبر ہے کہ شوروہنگامے کے بعد جب اجلاس ملتوی کر دیا جاتاہے اور اکابرین اپنی پوشاکیں سہلاتے پارلیمانی لاجز چلے جاتے ہیں تاکہ تازہ دم ہو کر آئندہ اجلاس میں ایک بار پھر داد شجاعت دے سکیں تو اس سارے لایعنی عمل
مزید پڑھیے


’’اخوان‘‘

هفته 22 جون 2019ء
آصف محمود
اس میں کیا کلام ہے کہ اخوان عزیمت کا استعارہ بن چکے۔ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ گریہ عاشق مگر یہ ہے کہ دلوں کو صحرا کھینچتا ہے، کاش عزیمت کے ساتھ کچھ حکمت بھی بروئے کار آئی ہوتی۔کتنے رجال کار تھے جو مقتل کا لہو بن گئے۔ہم غم کشتوں کو دیکھیے ، آج غزل پر بیٹھے رو رہے ہیں۔میر نے کہا تھا : جب زمزمہ کرتی ہے صدا چبھتی ہے دل میں۔ ایک غلطی ہم سے ہوئی اور پہاڑ جیسی۔جب جب مقتل آباد ہوا ہم نے لاشوں کو گلیمرائز کیا ۔ حادثے کا
مزید پڑھیے


’’محمد مرسی‘‘

جمعرات 20 جون 2019ء
آصف محمود
وہ مالک بن انسؒ تھے ، یہ محمد مرسی ہیں۔ بیچ میں صدیوں کی مسافت حائل ہے اور حفظ مراتب کا سمندر بھی کہ کہاں مالک بن انس کہاں محمد مرسی؟ بسملِ ناز کا بانکپن مگر وہی ہے۔مسافت بھی ویسی ہی ہے اور شوق سفر بھی ۔کل شہر کے چوراہے میں مالک بن انس تھے جو پکار رہے تھے : میں ہوں مالک بن انس ، جو جانتا ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ بھی جان لے۔آج تاریخ کے چوراہے میں مرسی کا لاشہ آواز دے رہا ہے :میں ہوں محمد مرسی جو جانتا ہے جانتا ہے ،
مزید پڑھیے


زوال مسلسل

منگل 18 جون 2019ء
آصف محمود
یہ صرف کرکٹ کا معاملہ نہیں ،پورا سماج زوال مسلسل کا شکار ہے۔ زوال جب کسی سماج کا رخ کرتا ہے تو سماج کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ اس میں کمال کے چند جزیرے آ باد کر لے۔سماج کا جو بھی رنگ ہو عمومی ہوتا ہے۔اس میں جزیرے آباد نہیں کیے جا سکتے۔ مسلم لیگ کی قیادت کبھی حضرت قائد اعظم کے ہاتھ میں تھی، آج اس مسند پر نواز شریف اور شہباز شریف براجمان ہیں۔پیپلز پارٹی کا رہنما کبھی ذولفقار علی بھٹو ہوتا تھا اب آصف زرداری اور ان کے صاحبزادے قائد بن چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کی
مزید پڑھیے