Common frontend top

آصف محمود


ولی اللہ معروف :ہمارا مقامی ہیرو


میں ولی اللہ معروف سے نہیں ملا، لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ ولی اللہ معروف اس معاشرے کا حقیقی ہیرو ہے۔ ہمارا مقامی اور اصلی ہیرو۔ کیا آپ اسے جانتے ہیںیا آپ نے بھی سوشل میڈیا پر سیاست اور کرکٹ سے ہی دامن کو آلودہ کر رکھا ہے۔ ولی اللہ معروف جو کوئی بھی ہے ، سچ میں اللہ کا ولی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال تو کوئی اس سے سیکھے۔ یہ بچھڑوں کو ملاتا ہے۔ میں چندسا ل سے اس نوجوان کوسوشل میڈیا پر فالو کر رہا ہوں اور مجھے اس نوجوان سے محبت ہو گئی ہے۔ آپ سوچ
هفته 04 مئی 2024ء مزید پڑھیے

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جرمن سفیر کا رویہ: چند سوالات

منگل 30 اپریل 2024ء
آصف محمود
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جرمنی کے سفیر محترم نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ، یہ کسی سفیر کے شایان شان نہیں۔ سفیر ایسے تنک مزاج نہیں ہوتے ۔ یہ ان کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے کہ سفارت کاری کے دوران کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو جائے تو اس سے کیسے نبٹنا ہے ۔ سفیر محترم نے یہ سارے تقاضے پامال کرتے ہوئے جو لہجہ اختیار کیا وہ ان کے منصب سے فروتر تھا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سفیر ایک ملک میں اپنی ریاست کا نمائندہ ہوتا ہے ، وہ نہ وائسرائے ہوتا ہے نہ تھانے دار۔اس
مزید پڑھیے


کیا فلسطین ہار گیا؟

هفته 27 اپریل 2024ء
آصف محمود
اسرائیل جس بے رحمی سے فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور مسلم دنیا جس بے بسی سے، لاتعلق سی ہو کر ، یہ سب دیکھ رہی ہے اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فلسطین اپنی آخری جنگ ہار گیا اور کیا اسرائیل نے اپنی دوست مغربی قوتوں کی سرپرستی میں بالآخر حتمی فتح حاصل کر لی؟ غزہ ہے کتنا سا؟ 41 کلومیٹر طویل اور 12 کلومیٹر چوڑا۔ گھر سے نکل کر اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچوں تو چوڑائی ختم ، اور گھر سے نکل کر موٹر وے تک پہنچوں تو لمبائی ختم۔ یعنی میرے
مزید پڑھیے


القدس (یروشلم) کا دفاع کس کی ذمہ داری ہے؟

جمعرات 25 اپریل 2024ء
آصف محمود
سوال یہ ہے کہ یروشلم کا دفاع کس کی ذمہ داری تھی؟ جواب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جب اپنے ہی چارٹرکو پامال کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ ہی کی سب کمیٹی کی رپورٹ کو ٹھکراتے ہوئے فلسطین کو تقسیم کرکے یہاں فلسطین کے ساتھ ایک یہودی ریاست کے قیام کی قرارداد منظور کی تو اسی قرارداد میں یہ اصول طے کیا کہ القدس (یروشلم) کسی بھی ریاست کا حصہ نہیں ہو گا، اس کی بین الاقوامی حیثیت ہو گی اور یہ اقوام متحدہ کے انتظام میں دیا
مزید پڑھیے


تہذیبی غلامی

منگل 23 اپریل 2024ء
آصف محمود
پاکستان کے صدر محترم نے ، پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب فرمایا مگر انہیں یہ گوارا نہ ہوا کہ پاکستان کی قومی زبان میں گفتگو کرتے۔ معلوم نہیں ریاست پاکستان کا سربراہ اپنی پارلیمان سے خطاب کر رہا تھا یا وہاں موجود غیر ملکی سفیروں کے حضور سپاس نامہ پیش کیا جا رہا ہے۔ خطاب سنتا رہا اور سوچتا رہا ، حفظ مراتب کے تقاضوں کو پامال کیے بغیر ، کوئی تو ہوتا جو، بعد میں ہی سہی ، قومی زبان کا مقدمہ پیش کرتا۔لیکن یہاں تو خطاب کے بعد سب ایسے لاتعلق سے لوٹ گئی
مزید پڑھیے



بھارت جنوبی ایشیا کا اسرائیل بنتا جا رہا ہے

هفته 20 اپریل 2024ء
آصف محمود
بھارت جنوبی ایشیا کا اسرائیل بننے جا رہا ہے۔ صہیونی ریاست کے ساتھ ہندتوا ریاست کی مماثلت بہت زیادہ ہے۔ یہ مماثلت فکری بھی ہے اور عملی بھی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری حکمت عملی کیا ہے؟ ہندتوا کے فکری خدوخال وہی ہیں جو صہیونی ریاست کے ہیں۔ صہیونی ریاست کے فکری خدوخال دو خود ساختہ تصورات پر استوار ہیں۔ پہلا یہ کہ یہودی اللہ کے چنے ہوئے لوگ ہیں ۔ دوسرا یہ کہ اللہ نے اپنے ان چنے ہوئے لوگوں کو نیل سے فرات تک کا سارا علاقہ و دیعت کر رکھا ہے۔
مزید پڑھیے


کیا یہ واقعی تحریک تحفظ آئین پاکستان ہے؟

منگل 16 اپریل 2024ء
آصف محمود
پانچ جماعتی اتحاد نے اپنی تحریک کا نام ـ ’ تحریک تحفظ آئینـ ‘ رکھا ہے اور میرے جیسا طالب علم بیٹھا سوچ رہا ہے کیا نومولود آئین دوستوں کی اس صف بندی کا مقصد واقعی آئین کا تحفظ ہے؟سیاسی جماعتیں سیاست ضرور کریں کہ یہ ان کا حق ہے لیکن تحفظ آئین جیسے خوش نما نعرے سن کر پروین شاکریاد آ جاتی ہیں کہ یہ نئے خواب خوش نما ضرور ہوں گے لیکن کیا کریں تمہارے اعتبار کا موسم گزر چکا ہے۔ جن حضرات نے تحریک تحفظ آئین کے جلسے سے خطاب فرمایا ، سوال یہ ہے کہ ان میں
مزید پڑھیے


اسماعیل ہنیہ :اتنا سناٹا کیوں ہے ؟

اتوار 14 اپریل 2024ء
آصف محمود
ملکہ الزبتھ کا کتا مر ا تھاتو درجن بھر مسلمان ممالک کے سفیر صاحبان نے دکھ اور غم کے عالم میں شاہی محل میں تعزیتی کارڈز روانہ کر دیئے تھے۔ آج اسماعیل ہنیہ کا کنبہ معصوم بچوں سمیت ذبح کر دیاگیا اور مسلمان ممالک کی جلیل القدر حکومتیں ، عالی مرتبت حکمران اور او آئی سی مذمت تو دور کی بات ہے تعزیت کا رسمی سا بیان بھی جاری نہ کر سکیں۔ایک طالب علم کے طور پر میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس سکوت مرگ کی وجوہات کیا ہیں، کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں؟ ایک دلیل جو تواتر کے
مزید پڑھیے


پاکستان میں بھارتی دہشت گردی: انٹر نیشنل لا کیا کہتا ہے؟

هفته 13 اپریل 2024ء
آصف محمود
پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان حکومت نے بھارت پر جو الزام عائد کیا تھا ، اب برطانوی اخبار گارڈین نے بھی اس کی تائید کر دی ہے۔گارڈین کی رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان کے اندراپنی دہشت گرد پراکسی کی مدد سے بیس لوگوں کو قتل کرچکا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے اس رپورٹ کی بین السطور تصدیق کر دی جب انہوں نے انڈین ٹی وی نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں گھس کر مارنے کی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔اس خبر اور اس اعتراف سے
مزید پڑھیے


مشکل فیصلے صرف عام آدمی کے لیے کیوں؟

منگل 09 اپریل 2024ء
آصف محمود
وزیر اعظم نے وزیر اعظم ہائوس کے ملازمین کے لیے چار اضافی تنخواہوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس ملک میں کوئی فرد یا کوئی ادارہ ہے جو جناب وزیر اعظم سے سوال کر سکے کہ کیوں؟ اس فیاضی کی ’ ٹائمنگ ‘ دیکھیے۔ اہل دربار میں یہ مراعات اس وقت بانٹی جا رہی ہیں جب وزیر اعظم امریکہ جانے کی تیاری کر رہے تھے تاکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کر سکیں اور اسے آمادہ کر سکیں کہ میرا ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس لیے دے جا سخیا راہ خدا تیرا اللہ ای بوٹالائے گا۔دربار میں سے
مزید پڑھیے








اہم خبریں