آصف محمود


ایک شہر کتنے گائوں کھا جاتا ہے؟


کیا کبھی آپ نے سوچا نیا شہر بستے بستے کتنی بستیاں کھا جاتا ہے؟ اسلام آباد میں گھومتے پھرتے کبھی کبھی یہ سوال دستک دیتاہے اور دل کی دنیا اداس کر جاتا ہے۔ شاہراہ دستور پر ، ایوان صدرسے چند قدم کے فاصلے پر سڑک کے کنارے دو قبریں ہیں۔ جگمگاتے شہر میں ان قبروں پر کوئی دیا نہیں جلتا۔ یہاں سے گزرتا ہوں تو سوالات میرے ہمراہ ہو لیتے ہیں۔یہ کن کی قبریں ہیں، یہ کون لوگ تھے، کب فوت ہوئے ، کیا یہاں کوئی بستی ہوا کرتی تھی جو پامال کر کے یہ شہر آباد ہوا، وہ بستی والے
هفته 02 مئی 2020ء

اٹھارویں ترمیم : ایک معاشی واردات؟

جمعه 01 مئی 2020ء
آصف محمود
اٹھارویں ترمیم ایک معاشی واردات تھی اور نواز شریف اس میں شریک جرم تھے۔نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ زرداری صاحب ایک گرگ باراں دیدہ ہیں، بے نظیر بھٹوکی مظلومانہ موت کے رد عمل میں وہ اقتدار تک تو پہنچ گئے لیکن انہیں خوب معلوم تھا یہ اقتدار ان کی صلاحیتوں کے طفیل نہیں ملا ، بے نظیر کے خون کے صدقے میں ملا ہے اور بہت جلد ان کا اثر و رسوخ محض سندھ تک محدود ہو جائے گا ۔ چنانچہ ان کے پیش نظر مستقبل قریب میں اپنے سمٹتے سیاسی کردار کے تناظر میں ، ایک صوبے کی حد
مزید پڑھیے


اٹھارویں ترمیم : چند اہم سوالات

جمعرات 30 اپریل 2020ء
آصف محمود
اٹھارویں ترمیم ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ خبر گردش میں ہے کہ حکومت اس میں کچھ معنوی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ حزب اختلاف اس پر مضطرب ہے اور اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ عصبیت کی بنیاد پر اگلے چند روز میں صف بندی نمایاں ہو جائے گی۔ سیاسی صف بندی کا آزار یہ ہوتا ہے کہ اس کے لشکری اپنی رائے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ گروہی عصبیت کی بنیاد پر اختیار کرتے ہیں۔ یوں ساری بحث خلط مبحث کا شکار ہو جاتی ہے۔ مناسب یہ ہو گا اس سارے معاملے کو عصبیت سے بالاتر ہو
مزید پڑھیے


تجھے ہم دو پہر کی دھوپ میں دیکھیں گے!

منگل 28 اپریل 2020ء
آصف محمود
صبح کے حسن اور شام کے حزن پر بہت لکھا گیا ، دوپہر جانے کیوں نظر انداز کر دی گئی۔ حالانکہ گرمیوں کی دوپہر میں وہ حسن ہے ، آئینہ حیرتی ہو جائے۔شہری زندگی ایک ناگزیر المیہ ہے ، یہاں صبح اور شام کی خبر نہیں ہوتی ، دوپہر کا حسن کوئی کیا جانے۔یہاں صبح کا دم گھٹ چکا ہے ، شام بال کھولے رو رہی ہے اور دوپہر کاروبار کے روپ میں اترتی ہے۔ گھڑیوں سے لوگ اٹھتے ہیں اور گھڑیاں ہی انہیں سلا دیتی ہیں۔صبح دم کہیں مرغان سحر کی اذان ہے نہ شام کے ساتھ کہیں جگنو
مزید پڑھیے


کیا فیصل آباد پولیس نے ٹھیک کیا؟

هفته 25 اپریل 2020ء
آصف محمود
فیصل آباد پولیس نے پانچ سالہ بچے سے زیادتی کے ملزمان کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا ہے۔ پولیس مقابلوں کی عمومی شہرت تو ہمارے سامنے ہے ، اب سوال پولیس مقابلے کے حقیقی یا جعلی ہونے کا نہیں ، سوال صرف یہ ہے کیا پولیس نے ٹھیک کام کیا؟ قانون کے ہاں ، ظاہر ہے اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ اب یہاں ایک دوسرا سوال جنم لیتا ہے کہ قانون میں اگر اس اقدام کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر یہ سوشل میڈیا پر لوگ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا سماج اپنے قانون سے
مزید پڑھیے



سستا اور فوری ۔۔۔۔۔انصاف کب ملے گا؟

جمعه 24 اپریل 2020ء
آصف محمود
فرض کریں آپ کو کوئی طاقتور شخص کسی جھوٹے مقدمے میں ملوث کر دے ، کسی چوراہے پر پولیس اہلکار آپ کو پکڑے اور آپ پر دو کلو ہیروئن ڈال دے ،کوئی نو سر باز جعلی کاغذات تیار کر کے آپ کی جائیداد پر قبضہ کر لے اور قبضہ نہ کر سکے تو اس کا دعوایدار بن بیٹھے ، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا آپ کو یقین ہے ان تمام صورتوں میں آپ کی عمر ، آپ کی جوانی ، آپ کا وقت اور آپ کی معیشت برباد ہوئے بغیر آپ کو سستا اور فوری انصاف مل جائے
مزید پڑھیے


کیا ارطغرل پروپیگنڈا ہے؟

جمعرات 23 اپریل 2020ء
آصف محمود
کیا ارطغرل محض ایک پروپیگنڈا ہے جس نے مذہبی سوچ رکھنے والوں کو اپنے سراب میں جکڑ رکھا ہے؟ کیا یہ ایک فریب ہے جس کی بھول بھلیوں میں کھو کر مسلم سماج کا جذباتی نوجوان ماضی کی چھائوں میں تھوڑی دیر سستا تا ہے اور عہد موجود کی بے رحم حقیقتوں سے فرار اختیار کرتا ہے؟ کیا یہ Muslim youth کا escape ہے؟ کیا خالصتا آرٹ کے پیمانے پر پرکھا جائے تو اس ڈرامے کا کوئی اعتبار ہے؟ کیا یہ واقعی ہالی وڈ کے معیار کا ڈرامہ ہے؟ ۔۔۔۔ پی ٹی وی پر ارطغرل دکھائے جانے
مزید پڑھیے


ملامتی کرونے

منگل 21 اپریل 2020ء
آصف محمود
کرونا وائرس کا تو، انشاء اللہ، آٹھ دس ماہ میں کوئی نہ کوئی علاج سامنے آ ہی جائے گا ، سوال یہ ہے ان’’ ملامتی کرونوں‘‘ کا کیا علاج ہے؟یہ لاعلاج ہی رہیں گے یا کہیں کوئی طبیب حاذق ہے جو اس ناسور سے ہمیں نجات دلا سکے؟ ملامتی کرونا کیا ہوتا ہے؟ آئیے پہلے اس موذی وائرس کو جان لیجیے کہ یہ ہوتا کیا ہے ، پایا کہاں جاتا ہے اور اس کے اثرات کتنے مہلک ہیں؟جس طر ح کیوی ایک پرندہ ہے جو پالش کی ڈبیا پر پایا جاتا ہے اسی طرح یہ ملامتی کرونے سوشل میڈیا پر جائے
مزید پڑھیے


کیا جمہوریت انتخابات جیتنے والوں کی آمریت کا نام ہے؟

جمعه 17 اپریل 2020ء
آصف محمود
جمہوریت کے فضائل پر تو بہت بات ہوتی ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جمہوریت ہوتی کیا ہے؟ کیا یہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کی آمریت کا نام ہے؟ انتخابات ہوئے ، میدان سجا اور پھرایک جماعت کسی بھی طور کامیاب ہو گئی، کیا اب جمہوریت یہ ہو گی کہ جیتنے والا گروہ اپنی آمریت کا نقارہ بجا دے؟پاکستان میں جمہوریت کا دورانیہ مختصر رہا۔یہ یوں ہی آتی رہی ،مقطع میں جیسے کبھی کبھار سخن گسترانہ بات آ جائے۔انتخابات کا نتیجہ سامنے آتا ہے اور ایک گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ کارکنان جشن فتح منا کر گھر
مزید پڑھیے


کون کون اے ٹی ایم ہیں؟

جمعرات 16 اپریل 2020ء
آصف محمود
جہانگیر ترین تو عمران خان کا اے ٹی ایم ہو گئے ، سوال یہ ہے برادر مکرم سینیٹر طلحہ محمود کس کا اے ٹی ایم ہیں؟ ۔۔ یاد رہے یہ ایک ضمنی سوال ہے، اصل سوال کچھ اور ہے۔ تحریک انصاف تو دنیا داروں کی جماعت ہے ، کسی کمزور لمحے میں اے ٹی ایم کو دل دے بیٹھی ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ طلحہ محمود صاحب میں وہ کون سی خوبیاں ہیں کہ ’’ قائد ملت اسلامیہ ‘‘ کی نگاہ ناز میں ان کے سوا کوئی جچتا ہی نہیں؟تحریک انصاف کو اگر یہ طعنہ دیا
مزید پڑھیے