آصف محمود



’’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ‘‘۔۔۔حقائق کیا ہیں؟


ایک صریحا غلط بات یہ کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مہاراجہ نے ’ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ‘‘ کر رکھا تھا لیکن پاکستان نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی معاشی ناکہ بندی کی ، پھر قبائل کو لڑنے کے لیے بھیج دیا ، جارحیت کی اور اقوام متحدہ نے بھی اس کو جارح قرار دے دیا۔اس بے بنیاد استدلال کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ پاکستان جارحیت نہ کرتا تو مہاراجہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ نہ کرتا۔ چلیے آج اسی پہلو پر بات کر لیتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھتے
هفته 24  اگست 2019ء

کشمیر ۔۔۔۔۔ انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

جمعرات 22  اگست 2019ء
آصف محمود
’مطالعہ پاکستان‘ کی پھبتی کس کر پاکستان کے قومی بیانیے کوبے توقیر کرنے کی کوشش کرنے والے سورمائوں نے اب کشمیر پر پڑائو ڈال لیا ہے ۔ قوم کو باور کرایا جا رہا ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ صرف حق خود ارادیت کی بات نہیں کر رہیں بلکہ وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ پہلے پاکستان آزاد کشمیر سے فوجیں ہٹائے ، اس کے بعد استصواب رائے ہو گا اور اس استصواب رائے تک بھارت کی فوج کشمیر میں موجود رہے گی۔ اس کے بعد یہ حضرات فوری
مزید پڑھیے


کشمیر ۔۔۔۔ عربی ادب میں؟

منگل 20  اگست 2019ء
آصف محمود
اردو ادب میں فلسطین کا توبہت ذکر ہے سوال یہ ہے کیا عربی ادب میں کشمیر پر لکھی گئی دو سطریں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں؟ انتظار حسین کا افسانہ ’ کانا دجال‘ میں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھ کر پڑھا تھا۔مسلمانوں کے سرنڈر کی خبر سن کر بوڑھا دیہاتی جب ٹھنڈی سانس لے کر کہتا ہے : ’ جہاں ہمارے حضور ﷺ بلند ہوئے تھے وہاں ہم پست ہو گئے‘‘ تو آنکھیں بھر آتی ہیں۔ میں اس افسانے کا حسن بیان نقل کرنے سے قاصر ہوں۔ آپ خود پڑھ کے دیکھ لیجیے
مزید پڑھیے


حکومت نے کشمیر کا سودا کر دیا؟

هفته 17  اگست 2019ء
آصف محمود
تو کیا حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا؟کچھ ساکنان ِ کوچہِ دلدار اپنے روایتی اہتمام کے ساتھ اس کا جواب اثبات میں دے رہے ہیں اور کچھ اپنی دائمی سادہ لوحی میں اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ بہت سارے معاملات میں حکومت کا ناقد ہونے کے باوجود میرے نزدیک البتہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں۔ دشمن باہر سے حملہ آور ہے اور کچھ لوگ اندر سے۔یہ جو اندر سے حملہ آور ہیں یہ دشمن سے کم خطرناک نہیں۔یہ منصوبہ بندی سے وار کرتے ہیں ، افواہیں پھیلاتے ہیں ، مایوسی کو فروغ
مزید پڑھیے


شاہ محمود قریشی کیا کہنا چاہتے ہیں؟

جمعرات 15  اگست 2019ء
آصف محمود
شاہ محمود قریشی صاحب کا غیر معمولی بیان میرے سامنے رکھا ہے اور میں اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ بھی اس مشق کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھیے یہ مراد سعید یا شیخ رشید کا بیان نہیں ہے، یہ پاکستان کے وزیر خارجہ کا بیان ہے۔ یہ کسی جلسہ عام میں اچھالا گیا فقرہ بھی نہیں ہے، یہ بات آزاد کشمیر میں کھڑے ہو کر کہی گئی ہے۔ غیر ذمہ دار اور غیر سنجیدہ فقرے بازی شاہ محمود قریشی کا عمومی مزاج بھی نہیں ہے۔ انہیں خوب احساس ہو گا کہ وہ
مزید پڑھیے




پارلیمان کا شعور اجتماعی کہاں ہے؟

هفته 10  اگست 2019ء
آصف محمود
قوموں پر بحران آتے رہتے ہیں ، ان میں وہی رشتہ ہے جو تیر اور مشکیزے میں ہوتا ہے۔ قیادت کے منصب پر فائز لوگ اگر بالغ نظر اور صاحب بصیرت ہوں تو قوم بحران سے سرخرو ہو کر نکل آتی ہے اور ایسا نہ ہو تو المیے اس کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں۔ ہماری دہلیز پر بھی اس وقت غیر معمولی بحران دستک دے رہا ہے ۔سوال یہ ہے پارلیمان کا شعور اجتماعی کہاں ہے؟ انسان پیالہ و ساغر نہیں ، ایک زندہ وجود کا نام ہے۔ دکھ آتے ہیں تو وہ پریشان بھی ہوتا ہے اور مضطرب
مزید پڑھیے


نیا ہندوستان

جمعرات 08  اگست 2019ء
آصف محمود
مودی نے نیا ہندوستان بنا دیا ہے ۔ یوں سمجھیے پورے بھارت کو آتش فشاں پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالم اسباب کی نفی نہیں کی جا سکتی لیکن انسانی مشاہدہ بتاتا ہے کہ یہ بھی خدا کی سنت ہے جو سماج انتہا پسندی سے مغلوب ہو جائے اس کا ہر قدم زوال کے راستے پر ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے اس آزار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ، اب بھارت کی باری ہے۔ عالم اسباب میں دنیا اسی کی ہے جو طاقت میں ہے لیکن قوموں کا عروج و زوال بھی اسی عالم اسباب کا حصہ ہے ۔ محض قوت
مزید پڑھیے


کشمیر ۔۔۔۔۔۔ کیا ہم امکانی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

منگل 06  اگست 2019ء
آصف محمود
بھارت نے جو کرنا تھا کر دیا ۔ سوال یہ ہے اب ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں؟ کشمیر کے مسئلے پر ، جذباتی اعتبار سے میں بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں ایک عام پاکستانی کھڑا ہے۔میں مسئلہ کشمیر کے مثالی حل پر یقین رکھتا ہوں اور میری خواہش ہی نہیں حسرت بھی ہے کہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہو۔لیکن میں اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتا کہ مثالی حل پر اصرار اگر محض دکھوں میں اضافہ کر رہا ہو اور آپ کے آپشنز لمحہ لمحہ محدود تر ہوتے جا رہے ہوں تو اس
مزید پڑھیے


سینٹ ۔۔ چھاج بولے سو بولے چھلنی کیوں بولے؟

هفته 03  اگست 2019ء
آصف محمود
سینٹ میں جو کچھ ہوا ، مجھے شاہد خان اورکزئی یاد آ گئے۔ یہ بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ شاہد اورکزئی صاحب کو لوگ ان کی پیٹیشنز کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن ان کی ایک اور وجہ تعارف بھی ہے ۔مجھے ان کی شخصیت کے اس پہلو کا اس وقت علم ہوا جب وہ خود عدالت تشریف لے گئے اور کہا کہ نواز شریف ان کے پیسے نہیں دے رہے اس لیے عدالت سے درخواست ہے وہ انہیںمیاں صاحب سے پیسے لے کر دے۔ میاں صاحب نے شاہد اورکزئی کے کون سے پیسے دبائے ہوئے تھے؟ یہی اصل کہانی ہے۔ یہ
مزید پڑھیے


کیا حج انتظامات ناقص ہیں؟

جمعرات 01  اگست 2019ء
آصف محمود
کیا واقعی حج انتظامات انتہائی ناقص ہیں اور حجاج کرام حکومت اور وزیر اعظم کو بد دعائیں دے رہے ہیں؟ ایک ٹویٹ آیا ہے لیکن جن کی بیرون ملک تو کیا ، پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہ ہو ان کے ٹویٹ کا کیا اعتبار؟ حکومت سے جہاں غلطی ہو وہاں تنقید ضرور ہونی چاہیے ۔لیکن محض نفرت ، بغض اور ہیجان میں ایک مہم کھڑی کر دینا انصاف نہیں۔حکومت پر تنقید کے معاملے میں ان سطور میں کبھی بھی کوتاہی نہیں کی گئی لیکن فکری دیانت کا کم از کم تقاضا یہ ہے کہ کسی کی خوبی کی تعریف
مزید پڑھیے