Common frontend top

آصف محمود


مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں کیا ہو رہا ہے……(2)


اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل بھی اسرائیل کی ان بستیوں کو غیر قانونی اور ناجائز قرار دیتے ہوئے اسے انٹرنیشنل لا سے متصادم قرار دے چکی ہے۔ یورپی یونین کے وینس ڈیکلیئریشن میں بھی اسرائیل کی ان بستیوں کو انٹر نیشنل لا کی خلاف ورزی قرار دیا جا چکا ہے۔ یورپی یونین نے 2012 ء میں بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔امریکہ کا موقف اس پر تبدیل ہوتا رہا۔ 1978ء میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیگل ایڈوائزر نے ان بستیوں کو انٹر نشینل لا کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ بعد میں صدر ریگن نے کہا کہ یہ غیر
جمعرات 04 اپریل 2024ء مزید پڑھیے

مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں کیا ہو رہا ہے؟

منگل 02 اپریل 2024ء
آصف محمود
غزہ میں وحشت کا کھیل تو سب کے سامنے ہے لیکن کیا ہمیں معلوم ہے کہ مغربی کنارے میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوتا آیا ہے۔ یہ علاقہ فلسطین کا ہے لیکن اسرائیل مسلسل یہاں قبضے کر کے اپنی ناجائز کالونیاں قائم کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ عشروں سے جاری ہے اور کوئی اسرائیل کو روکنے والا نہیں۔مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیل نے مقبوضہ جات کے اندر فلسطینیوں کی زمین پر قبضے کر کے غیر قانونی اور ناجائز طور پر ہاوسنگ کالونیاں بنا رکھی ہیں۔ ان رہائشی کالونیوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو
مزید پڑھیے


زمین کس کی! مالک کون ؟ ……( 2)

هفته 30 مارچ 2024ء
آصف محمود
انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (یونیورسل ڈیکلیئریشن آف ہیومن رائٹس) کے آرٹیکل 13 کی کلاز 2 کے مطابق ہر آدمی کا یہ حق ہے کہ وہ جب چاہے اپنے وطن لوٹ سکے ۔اس کے بعد جب اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت کا معاملہ اٹھا تو یہ رکنیت اسرائیل کو تین یقین دہانیوں کے بعد دی گئی۔ جس قرارداد میں اسرائیل کی رکنیت کا فیصلہ ہوا، وہ 11 مئی 1949ء کی قرارداد نمبر 273 ہے۔ اس قرارداد میں اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت تسلیم کرنے سے پہلے حوالے کے طور پر قرارداد نمبر 194 کا ذکر کیا گیا جس
مزید پڑھیے


زمین کس کی؟ مالک کون؟

جمعه 29 مارچ 2024ء
آصف محمود
اقوام مغرب کے اپنے وضع کر دہ انٹر نیشنل لا کے مطابق فلسطین کی زمینوں کا جائز اور حقیقی مالک کون ہے؟ جنرل اسمبلی نے جب ناجائز طور پر ، اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کرتے ہوئے ، فلسطین کا ایک حصہ مجوزہ یہودی ریاست کے لیے مختص کر دیا تو یہ صول طے ہوا کہ اس حصے میں جو عرب آ باد ہیں ان کے کچھ حقوق ہوں گے۔ یہ حقوق تب سے اب تک مسلسل پامال ہو رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی حیثیت تماشائی یا سہولت کار کی
مزید پڑھیے


تحریک انصاف،امریکہ اور آزادی

منگل 26 مارچ 2024ء
آصف محمود
کیا امریکہ سے آزادی کی جدوجہد امریکہ کی مدد سے آگے بڑھے گی؟ میری مجال نہیں ، میں تحریک انصاف کی خدمت میں یہ سوال رکھ سکوں ، تحریک انصاف اگر خود سے اس سوال پر غور کرنے پر مائل ہو سکے تو یہ اس کی میانہ روی ہو گی ا ور عین نوازش بھی ہو گی۔ تحریک انصاف کا بنیادی بیانیہ رومان میں لپٹاہے۔ اس کے مطابق تحریک انصاف امریکی دبائو سے آزادی چاہتی ہے۔ دعوی کیا جاتا ہے کہ جب جب دبائو آیا تحریک انصاف نے ایبسولیوٹلی کہہ کر اس دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھا
مزید پڑھیے



اسلامو فوبیا یا صلیبی جنگ؟

هفته 23 مارچ 2024ء
آصف محمود
کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت کتنے برطانوی شہری اسرائیلی فوج اور انتظامیہ کا حصہ بن کر فلسطینیوںکے قتل عام میں مصروف ہیں؟ دنیا میں کوئی مسلمان کسی ایک ملک سے دوسرے ملک جا کر کسی لڑائی کا حصہ بنے تو اس پر شور مچ جاتا ہے کہ یہ دہشت گردی ہو رہی ہے ، یہی کام جب برطانوی شہری مقبوضہ فلسطین میں جا کر کرتے ہیں تو انہیں دہشت گرد کیوں نہیں کہا جاتا ؟ ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ کیوں نہیں بنتا؟ ان پر برطانوی قوانین کیوںنہیں لاگو ہوتے ؟ کیا انٹر نیشنل
مزید پڑھیے


چڑیا کا عالمی دن

جمعرات 21 مارچ 2024ء
آصف محمود
چڑیا کا عالمی دن منایا جا چکا اور میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ یہ ننھا پرندہ اب نظر کیوں نہیں آتا؟یہ کہاں چلا گیا؟ایک زمانہ تھا ہر سو یہ چڑیاں چہچہاتی پھرتی تھیں اور اللہ کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے تھے۔ آج یہ وقت آن پہنچا کہ دنیا اس ننھی مخلوق کا عالمی دن منا رہی ہے لیکن یہ چڑیا اب کہیں نظر نہیں آتی۔یہ پرندہ ہمارے گھر وں کا حصہ ہوتا تھا ہم نے اس کی قدر نہیں کی ، آج یہ نایاب ہوتا جا رہا ہے اور ہم بیٹھے اس کا عالمی دن منا رہے
مزید پڑھیے


پی ٹی وی کی بھی نجکاری کی جائے

منگل 19 مارچ 2024ء
آصف محمود
ہماری لڑکھڑاتی معیشت اگر پی آئی اے اور سٹیل مل جیسے اداروں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تو کیا یہ پی ٹی وی کے لنگر خانے کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟ اگر دیگر اداروں کی نجکاری کا سوچا جا سکتا ہے تو کیا پی ٹی وی کے سفید ہاتھی کی نجکاری نہیں ہو سکتی؟پبلک پرائیویٹ پارٹنر سکیم کا بڑا شہرہ ہے تو کیا اس سکیم کا اطلاق پی ٹی وی پر نہیںہو سکتا؟ کیا عقل اور دلیل کی دنیا میں اس رویے کا کوئی اعتبار ہے کہ بجلی کے بلوں سے تیس پینتیس روپے ٹیکس کاٹ اس ادارے میں منظور
مزید پڑھیے


It's the economy, stupid

هفته 16 مارچ 2024ء
آصف محمود
نیم خواندہ معاشرے میں سیاست کے اپنے تقاضے ہوں گے ، جھوٹ ، بڑھکیں ، نعرے ، تماشے سب کچھ سکہ رائج الوقت ہو گا ۔لیکن کیا ہم اپنے اہل سیاست سے یہ درخو است کر سکتے ہیں کہ کم از کم معیشت کو بازیچہ اطفال نہ بنایا جائے؟ ابتدائی علامات اطمینان بخش ہیں۔ اس وقت جب آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان کے دورے پر ہے ، وزیر اعلی کے پی ، علی امین گنڈا پور وزیر اعظم شہباز شریف سے جا کر ملتے ہیں۔اس ملاقات کے بعد علی امین گنڈا پور کی طرف سے آنے والا
مزید پڑھیے


موسم روٹھ رہے ہیں

جمعرات 14 مارچ 2024ء
آصف محمود
موسم بدل رہے ہیں۔ موسموں کا وہ سارا نظام الاوقات تبدیل ہو رہا ہے جو صدیوں سے قائم تھا۔ سیاست پر لمبی اور لاحاصل بحثوں سے وقت ملے تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ماحولیات سے جڑا چیلنج خوف ناک ہوتا جا رہا ہے۔ مارچ کا آدھا مہینہ گزر چکا اور جنگلوں میں پھول نہیں کھلے۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چیتر کی رت شروع ہو جائے اور جنگل پھولوں سے بھر نہ جائے۔ فروری کے آخری دنوں میں جنگل پھولوں سے بھر جاتا تھا۔جھیل کو جاتے رستے پر پھولوں کا قالین سج جاتا تھا۔ درہ جنگلاں میں
مزید پڑھیے








اہم خبریں