BN

آصف محمود


ابن الوقتی کی دستار !!


پی ڈی ایم کے سر پر عزیمت کا سہرا سجانے والے اہل دانش حیران ہیں کہ ہمت و جرات کے اس قافلے نے ابن الوقتی کی دستار پھر سے سر پر کیوں سجا لی ہے اور میں ان حیرتیوں کی حیرت پر ’’ حیرت ناک‘‘ ہوں کہ یہ’ دستار فضیلت‘ ان کے سر سے اتری ہی کب تھی؟ میر تو سادہ تھے، عطار کے لونڈے سے دوا لے کر خوش ہو رہتے تھے ، اہل فکر تو معصوم اور ضدی بھی ہیں کہ ’’ بیعانیے‘‘ کو بیانیہ قرار دیے چلے جا رہے ہیں، چوٹ کھاتے ہیں ، مسکراتے ہیں مگر
بدھ 03 فروری 2021ء

اسلام آباد یا چور پور؟

منگل 02 فروری 2021ء
آصف محمود
میں تو ہتھیلی پر یہ سوال رکھے نور پور شاہاں آیا تھا کہ سید شاہ عبد الطیف کاظمی ؒ کو ’’ بری امام‘‘ کیوں کہا جاتا ہے لیکن دربار کے باہر آگ تاپتے ملنگوں میں سے ایک نے میری ہتھیلی پر انگارے کی صورت ایک اور سوال رکھ دیا کہ اسلام آباد سے آئے ہو یا ’’چور پور‘‘سے؟حیرت نے ہجوم کیا اور ام مشتاق یاد آ گئیں : کمالِ عقل اک دیوانہ پن ہے۔ درہ جنگلاں میں بوہڑ کا چار سو سالہ قدیم درخت بری امام ؒ کی چلہ گاہوں میں سے ایک ہے۔ ایک روز اس کی
مزید پڑھیے


انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کس کا راجواڑا ہے؟

هفته 30 جنوری 2021ء
آصف محمود
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہے جو کسی قانون اور ضابطے کے تحت کام کر رہا ہے یا یہ بزرگوں کا راجواڑا ہے جہاں مزاجِ یار ہی حرف آخر قرار پاتا ہے؟ چند روز قبل ایک کالم لکھا تھا کہ جناب ریکٹر سے حسن ظن متقاضی ہے ، وہ جواب دیں یا استعفیٰ دیں۔ اس کالم نے شاید مزاج یار کو مزید برہم کر دیا اور اب یونیورسٹی میں ایک ایسا اودھم مچا ہے کہ قانون ہی نہیں احساس اور اخلاقیات بھی منہ چھپائے بیٹھے ہیں کہ اس جامعہ میں زوال کا ساون یوں تو کبھی نہ برسا تھا۔ایک
مزید پڑھیے


راجہ ظفر الحق کہاں ہیں؟

جمعرات 28 جنوری 2021ء
آصف محمود
راجہ ظفر الحق ، روایت یہ ہے کہ ، مسلم لیگ ن کے چیئر مین ہیں۔ اگر چہ مسلم لیگ ن میں اس کے چیئر مین کی اہمیت اور حیثیت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی’ خواب‘ میں ’ وا مادولا‘ کی۔ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن برائے وزن بیت ہی سہی ، ہیں تو وہ چیئر مین پاکستان مسلم لیگ ن۔سوال اب یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی اس تحریک میں راجہ ظفر الحق کہاں ہیں؟ پی ڈی ایم کے کسی جلسے میں انہوں نے کوئی خطاب نہیں کیا ۔کہیں وہ دکھائی نہیں دیے
مزید پڑھیے


آپ بیتی نہیں معلوم ،وہ نادان ہوں میں

منگل 26 جنوری 2021ء
آصف محمود
حکومت عام آدمی کے مسائل حل کرنے کیلئے کس قدر کوشاں ہے اس کا اندازہ وزرائے کرام کے بیانات اور ترجیحات سے لگایا جا سکتا ہے۔ میرے سامنے آج کا اخبار رکھا ہے، آئیے دیکھتے ہیں ہمارے وزرائے کرام اور مشیران گرامی ایک عام آدمی کے غم میں کس طرح دبلے ہوئے جا رہے ہیں ۔سب سے پہلے وزیر ریلوے جناب اعظم سواتی صاحب کا ارشاد گرامی ہے۔فرماتے ہیں:’’تین بار وزیر اعظم بننے والا دھوکے باز نکلا۔پی ڈی ایم والے اسلام آباد آئے تو ان کا منہ کالا ہو گا۔کرپٹ باپ کا بیٹا بلاول پاکستان کی کیا عزت بحال کریگا۔
مزید پڑھیے



مدارس نے کب بندوق اٹھائی تھی؟

هفته 23 جنوری 2021ء
آصف محمود
مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ جناب شیخ رشید نے فرمایا کہ مولانا دینی مدارس کے زیادہ خیر خواہ بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس صورت میں مجھے انہیں یاد دلانا پڑے گا کہ جب دینی مدارس نے بندوق اٹھائی تھی تو مولانا ہماری حکومت کے ساتھ تھے اور ہم سب ایک کمرے میں مل کر بیٹھا کرتے تھے۔سیاسی فقرے بازی کے اس آزار میں مولانا کی مولانا جانیں لیکن ایک شہری کے طور پر میں اپنے وزیر داخلہ سے یہ سوال ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب محترم ذرا رہنمائی فرما دیں مدارس نے
مزید پڑھیے


صرف ایک کتاب

جمعرات 21 جنوری 2021ء
آصف محمود
کتاب تحفے میں ملے یا خریدی جائے ، سوال یہ ہے کہ پڑھ لینے کے بعداس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ اپنے گھر کی تجوری نما لائبریری میں سجا کر سانپ کی طرح اس پر پہرہ دینا چاہیے اور کبھی کبھی اس لائبریری کے سامنے بیٹھ کر وی لاگ کر کے اپنے مبینہ علمی مقام کا ابلاغ کرنا چاہیے یا اسے صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے بانٹ دینا چاہیے؟ ۔۔۔۔ مشکل سوال ہے؟ چلیں مل کر اس پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اس معاشرے کا جائزہ لیجیے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔یہاں شرح خواندگی شرمناک
مزید پڑھیے


ٹریل فور۔۔۔پکا رستہ ، کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی

منگل 19 جنوری 2021ء
آصف محمود
اخبار کے کونے میں ٹوٹے پتے کی طرح یہ خبر گری پڑی تھی کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے ٹریل فور اور ڈھوک جیون ٹریل بحال کر دیا ۔لوگوںنے نگاہ ڈالی ہو گی اور گزر گئے ہوں گے۔لیکن میں تو اسی پتے کے پاس بیٹھ گیا ۔ سالوں پہلے تپتی دوپہروں اور یخ بستہ شاموں میں اس ٹریل پر خوابوںکے جو درخت بوئے تھے ، یہ پتہ انہی کی ٹہنی سے ٹوٹ کر گرا تھا۔کسی سے مزید تفصیل لینے کی ضرورت نہیں تھی ، جنگل کی یہ پگڈنڈیاں مجھے اپنے گائوں کو جانے والے راستے کی طرح یاد
مزید پڑھیے


مدارس کے طلباء سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے؟

هفته 16 جنوری 2021ء
آصف محمود
خبر ہے کہ دینی مدارس کے طلباء کی سیاسی جلسوں میں شرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے اور جناب شیخ رشید کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ آئندہ ماہ پی ڈی ایم کے مارچ میں دینی مدارس کے طلباء کو شرکت سے روکیں۔سوال یہ ہے اس پابندی کا اطلاق صرف دینی مدارس پر کیوں؟کیوں نہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں قائم طلباء تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دی جائے جہاں طلباء کا مختلف عنوانات سے استحصاال کر کے انہیں سیاسی جماعتوں کے مفادات کے چولہے میں ایندھن کے طور پر ڈالا جاتا ہے؟ دینی مدارس کے
مزید پڑھیے


لالٹین کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

منگل 12 جنوری 2021ء
آصف محمود
بجلی کا طویل بریک ڈائون ہوا اور یو پی ایس بھی جواب دے گیا تو موسم کی پہلی بارش کے ہمراہ آنے والے جھونکے کی طرح لالٹین کا خیال آیا۔ یادوں کی سمت دریچہ سا کھل گیا۔ سامنے پروین شاکر کھڑی تھیں: کچا سا اک مکان کہیں آبادیوں سے دور چھوٹا سا ایک حجرہ فرازِ مکان پر وادی میں گھومتا ہوا بارش کا جلترنگ سانسوں میں گونجتا ہوا اک ان کہی کا بھید اتری ہوئی پہاڑ پر برسات کی وہ رات کمرے میں لالٹین کی ہلکی سی روشنی ایک سہہ پہرمیں برف باری کی امید میں خانس پور پہنچا تو تیز بارش نے آ لیا۔ بجلی کی
مزید پڑھیے








اہم خبریں