BN

آصف محمود



مجاوروں کا پاکستان؟


معاشرے کی تماش بین نفسیات سے خوف آنے لگا ہے ۔کوئی ہے جو اس سماج کا نفسیاتی مطالعہ کر سکے؟ نواز شریف صاحب کے خلاف مقدمہ قائم ہوا ، سزا ہو گئی ، سزا معطل بھی ہو گئی ، پیرول کی ضرورت پڑی ایک گھنٹے میں حکم بھی جاری ہو گیا اور رہائی بھی ہو گئی ، بیمار ہوئے تو بہترین ہسپتال لے جائے گئے وہاں سے تشفی نہ ہوئی تو جیل کے اندر خصوصی میڈیکل یونٹ قائم کر دیا گیا۔ اس پر بھی وہ مطمئن نہ ہوئے تو سزا معطل کر کے 6ہفتوں کے لیے رہا کر دیا
جمعرات 28 مارچ 2019ء

ہندو لڑکیوں کی شادی۔۔۔۔حقائق کیا ہیں؟

منگل 26 مارچ 2019ء
آصف محمود
سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کی حقیقت کیا ہے ،کیا یہ سب کچھ جبر کے تحت ہو رہا ہے؟ ہمارے سماج کا ایک بڑا المیہ پولرائزیشن ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی اپنی عصبیتوں کے مطابق ایک پوزیشن لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ہماری فکری صلاحیتیں اس عصبیت کے حق میں دلائل تلاش کرنے میں برباد ہو جاتی ہیں۔ تازہ معاملے پر بھی مورچے سنبھالے جا چکے ہیں۔اب کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حقیقت کیا ہے، ترجیح صرف یہ ہے اس چاند ماری کے اختتام پر میدان اس کے
مزید پڑھیے


پیغام پاکستان ۔۔۔چند سوالات

هفته 23 مارچ 2019ء
آصف محمود
بہاولپور میں ایک استاد کا قتل خبر دے رہا ہے کہ معاشرے میں انتشار فکر کتنا شدید ہو چکا ہے۔اس سانحے کے صدمے سے کچھ سنبھلا تو یاد آیا ایک نیشنل ایکشن پلان ہوتا تھا اور ایک پیغام پاکستان ۔ نیشنل ایکشن پلان پارلیمان نے دیا ۔آج اہل سیاست میں سے کسی کو نیشنل ایکشن کے فکری پہلو یاد ہوں تو حقیقی معنوں میں ایک بریکنگ نیوز ہو گی۔پیغام پاکستان ، بتایا جاتا ہے کہ ، سینکڑوں جید علماء کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا اور مدارس کے تمام وفاق اس پر متفق تھے۔مجھے نہیں معلوم ان ایک سو اسی
مزید پڑھیے


فکری جمود اور دانشوران خود معاملہ

جمعرات 21 مارچ 2019ء
آصف محمود
مسلم سماج انتشار فکر کا شکار ہے، اسے فکری یکسوئی کی ضرورت ہے۔ سوال اب یہ ہے کہ جو حضرات علم و فکر کی مسند پر براجمان ہیں کیا ان میں اتنی استعداد اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہم طالب علموں کی اس باب میں کوئی رہنمائی کر سکیں؟ نیم خواندہ معاشرے کے حسن کمالات قوس قزح کے رنگوں جیسے ہوتے ہیں، تنوع ہی تنوع ۔یہاں کالم نگاروں اور اینکروں کے سر ’ صاحب دانش‘ کی تہمت ہی نہیں دھری جاتی ، یہاں تیسرے درجے کا ایک غیر معروف شاعر بھی بیک وقت محقق، مفکر ، نقاد ، ادیب اور
مزید پڑھیے


تصادمِ تہذیب یا الہامی مذاہب میں مکالمہ

بدھ 20 مارچ 2019ء
آصف محمود
دنیا تصادم ِ تہذیب کی طرف بڑھ رہی ہے یا الہامی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان با مقصدمکالمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے؟ اس میں کیا کلام ہے کہ سانحہ نیوزی لینڈ غیر معمولی حد تک تکلیف دہ ہے ۔تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اس حادثے سے پھوٹنے والے امکانات بھی معمولی نہیں ۔ اب یہ ہمارے اوپر منحصر ہے ہم مغرب کے لیے حرفِ دشنام لکھ لکھ کر صرف اپنا کتھارسس کرتے رہیں گے یا ہمارے اندر یہ خواہش اور اہلیت موجود ہے کہ لمحہِ موجود کے ریگزار میں سے امید اور امکان کا کوئی نخلستان تلاش
مزید پڑھیے




عسکری اسلاموفوبیا

هفته 16 مارچ 2019ء
آصف محمود
نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں ہونے والا قتل عام بتا رہا ہے کہ مسلمانوں سے نفرت اب عسکریت کی صورت میں سامنے آ رہی ہے، اسے عسکری اسلاموفوبیا کہا جا سکتا ہے۔ مسلم معاشرے تو عسکریت کے نتائج بھگت چکے، اب شاید مغرب کی باری ہے۔ آج تک مغرب نے بہت دور سے بیٹھ کر دوسروں کے سماج کو جلتے دیکھا ہے۔ یہ شعلے اب اس کے اپنے سماج کو اپنی لپیٹ میں لینے والے ہیں۔ بہت جلد اسے معلوم ہو جائے گا معاشروں میں عسکریت پسندی پیدا ہو جائے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے


نواز شریف سے10 سوالات

جمعرات 14 مارچ 2019ء
آصف محمود
نواز شریف علیل ہیں ،اللہ انہیں صحت دے ۔ جیل کی تنہائی اہلِ سیاست کو وہ فرصت مہیا کرتی ہے جو انہیں لکھنے پڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ نواز شریف البتہ ایسے تردد میں نہیں پڑیں گے ۔ ان کے ذوق کے بارے میں کرسٹینا لیمب کی گواہی ہے کہ جب وہ نوازز شریف کا انٹرویو کرنے ان کے گھر گئیں تو وہاں صرف ایک کتاب پڑی تھی ؛ فون ڈائرکٹری۔فرصت کے اس ماحول میں ، نواز شریف صاحب کی خدمت میں چند سوال البتہ ضرور رکھنے چاہئیں۔ کیا معلوم جیل کی تنہائی میں عرفان ذات کا کوئی لمحہ انہیں
مزید پڑھیے


کیا امریکہ بھی اپنے پرائیویٹ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے گا؟

منگل 12 مارچ 2019ء
آصف محمود
نجی عسکریت اور پرائیویٹ جنگجوئوں کے خلاف پاکستان تو کارروائی کر رہا ہے ، سوال یہ ہے کیا امریکہ بھی اپنے پرائیویٹ جنگجوئوں اور اپنے ہاں موجود نجی عسکریت کے خلاف کارروائی کرے گا ؟ پاکستان نے تو حافظ سعید وغیرہ کے خلاف ضروری اقدامات کر لیے ہیں کیا امریکہ بھی ایرک پرنس کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا؟نیشن سٹیٹ کے جدید تصور میں مسلح کارروائی صرف اس ریاست کی باقاعدہ افواج کر سکتی ہے اور وہ بھی اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیے گئے دائرہ کار کے اندر رہ کر۔ کسی نجی گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ
مزید پڑھیے


بلوچستان عمران خان کی راہ دیکھ رہا ہے

اتوار 10 مارچ 2019ء
آصف محمود
بلوچستان میں سیلاب نے تباہی مچا دی لیکن ہماری صحافت اور سیاست اس المیے سے لاتعلق ہیں۔پارلیمان ، جسے عوامی نمائندگی کا دعوی ہے، پوری تندہی سے مچھر چھان رہی ہے۔ کچھ آگ بگولہ ہیں کہ بلاول نے عمران خان کی توہین کر دی اور کچھ آتش فشاں بنے بیٹھے ہیں کہ اسد عمر نے بلاول کے تارک الدنیا اور درویش الطبع باپ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کر دیا۔ ٹاک شوز میں وہی اہل سیاست کی دن بھر کی چاند ماری پر رجز اور قصیدے پڑھے جا رہے ہیں اور اخبارات کی بے نیازی کا عالم یہ ہے
مزید پڑھیے


وردی بدلنے سے کیا ہو گا؟

جمعرات 07 مارچ 2019ء
آصف محمود
پنجاب پولیس کی وردی ایک بار پھر تبدیل کر دی گئی ہے۔عثمان بزدار صاحب کا ایک عدد ارشاد مبارکہ بھی خبر کے ساتھ طلوع ہوا ہے۔ فرماتے ہیں: وردی تبدیل ہونے سے پولیس کا سافٹ امیج اجاگر ہو گا۔ کیا ہمارے وسیم اکرم واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ وردی کا رنگ بدلنے سے سافٹ امیج اجاگر ہو جائے گا۔ ایک فیاض چوہان کو کیا روئیںیہاں تو معلوم ہوتا ہے لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند۔بس فرق اتنا ہے کہ کچھ زبان حال سے جلوہ افروز ہیں اور زبان قال سے چمک رہے ہیں۔ سانحہ ساہیوال کے لاشے ابھی عوامی
مزید پڑھیے