BN

آصف محمود


عمران خان ایماندار تو ہے


تبدیلی سے جو امیدیں اور خوش گمانیاں لپٹی تھیں وہ پہلے پت جھڑ میں ہی سوکھ گئیں۔خواب اب پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔خزاں کے قاصد کا مگر آج بھی یہی دعوی ہے اگلے ساون میں شہر کی ساری گلیاں عنبر ہو جائیں گی۔عالم یہ ہے چکور اڑ گئے اوربلبل غم زدگی سے سہمے پڑے ہیں ، سندیسہ ِ بہار اب الوئوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دانا ہی بہت ہوتے ہیں۔شام اترتی ہے تو وہ سمجھانے آ جاتے ہیں: دیکھو حوصلہ رکھو ، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔معیشت کا ستیا ناس اور کاروبار کا سوا ستیا ناس
جمعرات 13 فروری 2020ء

حکومت کا معاشی ویژن کیا ہے؟

منگل 11 فروری 2020ء
آصف محمود
کیا ان ڈائرکٹ ٹیکسوں کے سونامی سے معیشت بہتر کی جا سکتی ہے؟ کیا افراط زر کے آزار سے معیشت کو قدموں پر کھڑا کیا جا سکے گا اور کیا ڈاکومنٹیشن آف اکانومی کے نام پر پھیلائے گئے خوف کے اس ماحول میں کوئی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کو تیار ہو گا؟ قوالوں اور ہمنوائوں کے وجد کے سوز و وارفتگی کا انکار نہیں، وہ واقعی سماں باندھے ہوئے ہیں ، اشیاء خوردو نوش سستی ہو چکیں ، بستی میں دودھ اور شہد کی نہروں میںطغیانی ہے ، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں ،
مزید پڑھیے


ورنہ ہمارا گائوں یوں ویران تو نہ تھا

هفته 08 فروری 2020ء
آصف محمود

راولپنڈی کے مضافات میں اپنے دوست راجہ فہد کی شادی تھی۔لالہ عطا ء اللہ عیسی خیلوی بھی آئے ہوئے تھے۔ سارا گائوں انہیں سننے امڈ آیا تھا ۔ہنستی مسکراتی محفل کے بیچ اچانک لالے نے گائوں کو موضوع بنایا اور وجود میں اداسی سی اتر گئی۔ تھیں جن کے دم سے رونقیں ، شہروں میں جا بسے ورنہ ہمارا گائوں یوں ویران تو نہ تھا کافی وقت گزر گیا ، اس لمحے کی اداسی ابھی تک نہیں گئی۔ کوئی دکھ سا دکھ تھا جس نے گرفت میں لے لیا۔رات گئے واپسی پر میں یہی سوچتا رہا کیا سارا قصور انہی
مزید پڑھیے


جانے کیا بات ہے ، کس چیز کی یاد آتی ہے؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
آصف محمود
سردیاں آتی ہیں تو گائوں یاد آتا ہے ۔ جاڑے کی شبِ ماہتاب میں خنکیِ فسوں پھونکنے لگتی ہے ۔ رات جلد گھر لوٹتا ہوں ، علی کو کہانی سنانا ہوتی ہے۔کہانی سنے گا تو سوئے گا اور وقت پر سوئے گا تو سکول جائے گا ورنہ وہی حکمت بھرے مشورے کہ بابا سکول کو اتنی فیس دینے کا کیا فائدہ ، اس کے کھلونے لے لیتے ہیں اور پڑھائی تو گھر بیٹھ کر بھی ہو ہی سکتی ہے۔ہماری کہانی میں نئے زمانے کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ یہ تتلیوں ، جگنوئوں ، برفزاروں ، گلہریوں ، لومڑیوں اور جنگلوں کی
مزید پڑھیے


غربت اور دانشوری

منگل 04 فروری 2020ء
آصف محمود
جیسے ڈگری ڈگری ہوتی ہے ، جعلی ہو یا اصلی ،اسی طرح رئیس رئیس ہوتا ہے بھلے وہ کوئی روایتی رئیس ہو یاکوئی دانشور رسول بخش رئیس ہو۔جناب رسول بخش رئیس کا روزنامہ 92 نیوز میں شائع ہونے والا ایک’’ فکر انگیز‘‘ انٹرویو میرے سامنے رکھا ہے اور اس کے مندرجات نے مجھے واقعی فکر میں مبتلا کر دیاہے۔ عوامی مسائل اور محرومیوں کے بارے میں اگر ان جیسے صاحب علم کی بے نیازی کا یہ عالم ہے تو اہل اقتدار سے کیسا شکوہ اور کاہے کا گلہ؟ احمد اعجاز صاحب نے یہ انٹر ویو کیا ہے اور چونکہ ان
مزید پڑھیے



مولانا ۔۔۔۔ریاست اور سیاست

هفته 01 فروری 2020ء
آصف محمود
چونکہ مفتی محمود اکیڈمی کے ڈائرکٹر کا بطور ناشر یہ دعوی ہے ’’ مشافہات‘‘مولانا کے محض انٹرویوز ہی نہیں بلکہ یہ ’’ جے یو آئی کی ملی تاریخ کا اثاثہ اور جمعیت علمائے اسلام کی قومی معاملات میں پالیسی کا مجموعہ بھی ہے جس کا مطالعہ سیاسیات کے طالب علموں کے لیے ناگزیر ہے‘‘ ، اس لیے ایک طالب علم کے طورپر آج یہ دیکھتے ہیں کہ ریاست اور سیاست کے بارے میں مولانا کیا فرماتے ہیں یا یوں کہیے کہ ریاست اور سیاست کے باب میں جمعیت علمائے اسلام کی قومی پالیسی کے خدوخال کیا ہیں؟ جلد اول میں
مزید پڑھیے


ٹرمپ کا فلسطین فارمولا۔۔۔۔انٹرنیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

جمعه 31 جنوری 2020ء
آصف محمود
ڈونلڈ ٹرمپ نے امن فارمولا نہیں دیا ،اپنی قوت قاہرہ سے غلامی کی ایک نئی دستاویز لکھ کر حکم صادر فرمایا ہے کہ فلسطینیو ! تمہاری زرہ خون میں ڈوب چکی ہے ، تمہارے لیے یہ آخری موقع ہے ، اس کے بعد شاید ہم اس کا تکلف بھی نہ کر یں۔سوال یہ ہے کہ انٹرنیشنل لاء کی روشنی میں اس فارمولے کی کیا حیثیت ہے؟ذرا منصوبے کی جزئیات پڑھیے ۔فلسطین کی ایک ریاست ہو گی لیکن وہ ریاست اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھ سکے گی۔ اس کی کوئی فضائیہ نہیں ہو گی۔اسے بری فوج رکھنے کی اجازت نہیں ہو
مزید پڑھیے


مولانا ، افغان جہاداور مشافہات

منگل 28 جنوری 2020ء
آصف محمود
افغان جہاد اب ایک تاریخ ہے۔ تاریخ گزر جائے تو اس پر تبصرہ دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ یہی فریضہ آج کل مولانا فضل الرحمن بھی پوری سنجیدگی سے ادا فرما رہے ہیں اور ہمیں بتا رہے ہیں کہ مدرسے کے طالب علموں کو اس جہاد کی ترغیب دینا تو اصل میں امریکی سازش تھی۔جے یو آئی کے احباب اس ویڈیو کو شیئر کر رہے ہیں اور ساتھ ہی گویا کوسنے سے بھی دے رہے ہیں کہ ہمارے بالغ نظر رہنما کی بات مان لی ہوتی تو خطہ اس قتل و غارت سے نہ گزرتا۔حقیقت مگر اس سے مختلف
مزید پڑھیے


تبدیلی۔۔۔۔ کپتان کی

هفته 25 جنوری 2020ء
آصف محمود
یہ کابینہ ہے یا بختِ نگوں پر لام الف کی کہکشاں سجی ہے؟ میر نے کہا تھا : دلی کے نہ تھے کوچے ، اوراق مصور تھے۔ رجال کار کے یہاں لشکر اترے پڑے ہیں اور ہر جنگجو زبان بے نیام لیے رزم گاہ میں ہے ، آدمی کس کس سورما کو داد دے؟ اہل دانش گرہ لگاتے ہیں : حزب اختلاف کہاں ہے؟ میرے جیسا طالب علم مگرسوچتا ہے اس بندوبست کو حزب اختلاف کی حاجت ہی کیا؟ جس کشتہ ستم کی مانگ ایسے ستاروں سے روشن ہو اسے اب کسی حریف کی کیا ضرورت۔ عمران خان کے لیے
مزید پڑھیے


زینب الرٹ بل ۔۔ ایک غیر معیاری قانون سازی

جمعه 24 جنوری 2020ء
آصف محمود
زینب الرٹ بل ، اپنی روح کے اعتبار سے مبارک مگر متن کے اعتبار سے ناقص کوشش ہے۔ قانون سازی تو یہ بہر حال خوش آئند چیز ہے لیکن اقوال زریں کے جس مجموعے کو پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے علم اور زمینی حقائق کی دنیا میں یہ ایک نامعتبر دستاویز ہے ۔ بل کی دفعہ 1 میں کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق صرف اسلام آباد میں ہو گا۔جس بچی سے یہ بل منسوب کیا گیا وہ قصور کی تھی۔ اس بچی کا قتل قصور میں ہوا۔اس کا قاتل بھی قصور کا رہنے والا تھا۔ بچوں پر
مزید پڑھیے