آصف محمود



کمیشن …نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا


عمران خان رات قوم سے نہیں ، جوان جذبوں والے اپنے ان کارکنان سے مخاطب تھے جو کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنا دینے کی کوئی سی بھی قیمت دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔معاملہ مگر یہ ہے عمران خان کے وابستگان میں صرف اٹھتی جوانیوں کا جوش نہیں ، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی کنپٹیوں کے سفید بال اب رنجِ عشق کھینچ لانے کی تاب نہیں رکھتے ۔ یہ وہ ہیں جو قوم کو اس گڑھے میں لا پھینکنے والوں کے بے رحم احتساب کی تمنا ضرور رکھتے ہیں مگران کی ہتھیلی پر یہ سوال بھی رکھا ہے
جمعه 14 جون 2019ء

’’مطالعہ پاکستان‘‘

منگل 11 جون 2019ء
آصف محمود
برطانیہ میں 8 جون کو سرکاری سطح پر غیر معمولی اہتمام کے ساتھ ملکہ کی سالگرہ منائی گئی، لیکن ملکہ کا یوم پیدائش تو 21 اپریل ہے۔ پھر ان کی سالگرہ کی پر تکلف سرکاری تقریب 8 جون کو کیوں؟’’ مطالعہ پاکستان‘‘ کی پھبتی تو ہم نے بہت سن لی کیوں نہ اب محققین کرام کے ممدوحین کا کچھ تذکرہ ہو جائے؟کیا انہیںکچھ خبر ہے برطانیہ اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں کون سی تاریخ پڑھائی جا رہی ہے؟ امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں جو ہوا کیا وہ برطانیہ کے نصاب کا حصہ ہے؟ کیا نصاب یہ بتاتا ہے
مزید پڑھیے


بچے کیسے مرے؟

منگل 04 جون 2019ء
آصف محمود
ایک تو ہمارے وہ پردہ نشیں وسیم اکرم پلس جو چلمن سے لگے بیٹھے ہیں اور ایک ان کے ہونہار ترجمان ، میرِ سخن ،جو خلق خدا سے لپٹی زمینی حقیقتوں سے بہت دور ٹوئٹر پر بیٹھ کر آبلوں پر حنا باندھ رہے ہوتے ہیں۔ خلق خدا لرزتے ہاتھوں میں حسرتِ اظہار کے شکوے تھامے ہے ، صاحبان اقتدار اکا غرور ِ حُسن کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔چند اقوال زریں انہیں یاد ہیں، صبح شام دہرائے چلے جاتے ہیں۔اقوال زریں کی اس برقِ تجلی کا حاصل یہ ہے کہ خزانہ خالی ہے۔ خزانہ بالکل
مزید پڑھیے


این جی اوز ۔۔۔ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی؟

جمعه 31 مئی 2019ء
آصف محمود
این جی اوز، کرائے کے یہ لشکری ، بیرون ملک سے فنڈ لے کر اپنی سوچ اور ضمیر رہن رکھ دینے والے یہ اہل ہوس، سوال یہ ہے کہ ان کے بارے میں ریاست کب یکسو ہو گی؟ کیا ڈالرز کے عوض شعور رہن رکھ دینے والے ان نابغوں کو جو ہر معاملے کو پیٹ کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ، اس بات کی مکمل اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ سماج ، مذہب ، ریاست جس کو چاہیں ، جب چاہیں اور جہاں چاہیں سینگوں پر لے لیں، کوئی روکنے والا نہیں؟ این جی اوز کوئی
مزید پڑھیے


رویت ہلال اور وزیر محترم

جمعرات 30 مئی 2019ء
آصف محمود
رویت ہلال ایک سنجیدہ عمل ہے اسے فواد چودھری صاحب پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ اصلاح احوال درکار ہے مگر اس کے لیے لازم ہے حکومت کی صف میں کوئی معاملہ فہم ، متحمل مزاج اور معقول آدمی ہو تو سامنے آئے۔ سماج تو پکار رہا ہے: الیس منکم رجل رشید؟سائنس کو جوتے کی نوک پر نہیں رکھا جا سکتا، ایسی بات کہہ کر آپ صرف زخمی انا کی تسکین کر سکتے ہیںلیکن رویت کے معاملے میں سائنس کو اس غیر حکیمانہ انداز سے مسلط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اعتدال ہی اصل راستہ ہے اور اعتدال یہ
مزید پڑھیے




پاکستان تحفظ موومنٹ

منگل 28 مئی 2019ء
آصف محمود
پی ٹی ایم پر بات کریں تو کچھ قابل احترام پشتون دوست شکوہ کرتے ہیں: آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں آپ نے فاٹا میں دیکھا کیا ہے؟ آپ کو کیا معلوم ہم پر کیا بیتی؟ان دوستوں سے پورے احترام کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ اگرچہ فاٹا کے حالات ہم نے دیکھے نہیں مگر ہمیں احساس ہے کہ وار زون کیسا ہوتا ہے۔ یہ احساس اس وقت کرب میں بدل گیا جب ڈی چوک پر ایک احتجاجی کیمپ میں ٹاک شو کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ایک پشتون بیٹی نے سب کو مجھ سے باتیں کرتے دیکھا تو میرا ہاتھ
مزید پڑھیے


علی محمد خان کی خدمت میں

هفته 25 مئی 2019ء
آصف محمود
عزت مآب سعودی سفیر کو لکھا گیا جناب علی محمد خان کا مکتوب گرامی میرے سامنے رکھا تھا اور میں ہجومِ گریہ کی اس مالا کو پھٹی آنکھوں سے تکتا رہا۔دیوارِ غم کدہ کے اُس پار سے پھر خیال امرہوی نے آواز دی : ’’ پھر رہے تھے حکمراں کشکول لے کر در بدر بندگی کی ظاہری صورت گدا سے کم نہ تھی‘‘ سوشل میڈیا پر دروغ گوئی کے جو موسم برس رہے ہیں ، قطرے میں دجلہ دکھائی دیتا ہے ۔ غالب نے کہا تھا : گرم بازارِ فوجداری ہے۔گماں ہوا یہ سب جھوٹ ہے۔علی محمد خان
مزید پڑھیے


ہمارے حقیقی ہیروز

جمعرات 23 مئی 2019ء
آصف محمود
92 نیوز پر چلنے والی اس خبر سے من کا برہما شانت کر دیا۔ دلِ زار نے ہجومِ بلا کے فسانے تو بہت کہہ لیے ، اب کچھ جامِ فرحت فزا کی بات ہو جائے؟ یہ فیصل آباد کی ایک دکان کا منظر ہے۔ دکان اتنی بڑی نہیں مگر تاجر کا دل کشادہ ہے۔اعلان عام ہے : عید کے لیے بچوں کے کپڑے رکھے ہیں ، جو خرید سکتا ہے خرید لے جو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ مفت میں لے جائے اور اپنے بچوں کی عید میں خوشیاں بھرلے۔ ایک غریب سا ، حالات کا مارا بچہ ایک سوٹ
مزید پڑھیے


وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیر

منگل 21 مئی 2019ء
آصف محمود
ایک شاہی خاندان کے ولی عہد نے دستر خوان بچھایا ، دوسرے شاہی خاندان کی ولی عہد تشریف لے آئیں۔دائیں بائیں خدام ادب قطار اندر قطار ہاتھ باندھے حاضرتھے۔روایت ہے کہ یہ دعوت افطار تھی۔شہزادہ اور شہزادی اپنی سلطنتوں کو بچانے اکٹھے ہوئے ، حضرت مولانا فضل الرحمان کا معاملہ یہ ہے اقتدار سے باہر ہیں اور گویا ماہی بے آب ہیں۔ اب ’’ فراقَ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘ ؟تماشا یہ ہوا کہ قبلہ لیاقت بلوچ بھی تشریف فرما تھے۔’ معاذ اللہ ، چمکتے تھے ہوا میںـ‘۔ خواب میں جیسے ’’ وا
مزید پڑھیے


آٹھ نو دس ہوئے، بس انشا ء بس

هفته 18 مئی 2019ء
آصف محمود
وہ مغلیہ دور حکومت تھا جس کے تذکرے ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں ، یہ شغلیہ دور حکومت ہے پھٹی آنکھوں سے ہم جس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ روش روش ٹوٹے وعدوں کی کرچیاں بکھری پڑی ہیں۔ صبح دم فراق گورکھپوری یاد آ جاتے ہیں: ’’ جو کہا تھاا س نے مجھ سے ، جو کیا ہے اس نے مجھ سے میری بے کسی سے پوچھو کہ ہے غم بھی آبدیدہ ‘‘ عمران کے بارے اب بھی حسن ظن ہے لیکن اس کے میمنہ میسرہ پر جو جنگجو کھڑے ہیں اکثریت کا معاملہ یہ ہے کہ شجاعت ،دلاوری،
مزید پڑھیے