Common frontend top

آصف محمود


درہ جنگلاں کی دیوارِ محبت


در ہ جنگلاں میں، ندی کنارے پگڈنڈی پر چلتے چلتے ، وادی عبور کر کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کریں تو ایک تھکا دینے والی مسافت کے بعد بوہڑی کا چشمہ آتا ہے۔ اس چشمے کے اوپر کی جانب ایک بڑی سی چٹان کھڑی ہے جس کے سامنے کا حصہ ہموار ہے۔یہ دیوار محبت ہے۔ میلوں پھیلے مارگلہ میں ایک ہی دیوار محبت تھی ، تھکے ہارے کم ہمت عشاق نے اس کا حسن بھی گہنا دیا۔ ایک وقت تھا ، یہاں بہت کم لوگ آتے تھے۔گرمیوں کی سنسان دوپہر میں اس چشمے کے کنارے بیٹھ کر، اس کے
هفته 27 جنوری 2024ء مزید پڑھیے

تحریک انصاف : شخصی وفاداری کا حلف کیوں؟

جمعرات 25 جنوری 2024ء
آصف محمود
انتخابی امیدواروں سے شخصی وفاداری کے حلف ، یہ سیاست نہیں ہے ، یہ سماجی المیہ ہے۔تحریک انصاف میں اگر نجیب الطبع لوگ باقی ہیں تو انہیں اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ہماری سیاست میں فرد واحد سے اندھی عقیدت کوئی نئی بات نہیں ،قریب ہر جماعت کی یہی کہانی ہے۔ تاہم شخصیت پرستی کے یہ نئے مظاہر قومی سیاست کے لیے اجنبی ہیں۔کسی مقصد سے وابستگی پر تو حلف دیا جا سکتا ہے لیکن قرآن کو ہاتھ میں تھام کر کسی سیاسی رہنما کی ذات سے وفاداری کا حلف اٹھانے کا کوئی جواز نہیں اور اس کے دفاع میں کوئی
مزید پڑھیے


انٹرا پارٹی الیکشن: چند بنیادی باتیں؟

منگل 23 جنوری 2024ء
آصف محمود
انٹرا پارٹی الیکشن کیوں ضروری ہیں اور اس ضمن میں الیکشن ایکٹ کی دفعات کیا کہتی ہیں اور ان دفعات کا اطلاق کیا ساری جماعتوں پر کیا جائے گا؟ انٹرا پارٹی الیکشن متعارف کرانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کسی کی جاگیر نہ بن جائیں اور یہ ایک ادارے کی صورت بروئے کار آئیں۔ سوال یہ ہے کیا پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں ایک ادارے کی صورت کام کر رہی ہیں یا یہ سب ہی مختلف آقاؤں کی جاگیر کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ جو جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور جنہیں انتخابی نشان بھی
مزید پڑھیے


یہ لومڑیاں ، یہ جنگل: کب تک؟

هفته 20 جنوری 2024ء
آصف محمود
یہ میں آپ کو دور ، شمال کے پہاڑوں کی، کوئی پرانے وقتوں کی کہانی نہیں سنا رہا ، یہ آج کے اسلام آباد کا حیرت کدہ ہے۔ جاڑے کی شام جنگل کے حزن میں اضافہ کر دیتی ہے۔ یخ بستہ موسم میں ، جب درختوں سے پتے جھڑ چکے ہوتے ہیں ، ڈوبتے سورج کی سرخی پوری وادی کے سولہ سنگھار کر دیتی ہے۔ پھر جب پورے چاند کی رات جاڑے کے جنگل پر اترتی ہے تو درِ دل غبارِ صحرا والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ان راتوں کے دوسرے پہر ، اگر آدمی گھر سے نکلے اور اسے امید ہو،
مزید پڑھیے


عدلیہ ، سوشل میڈیا اور معاشرہ

جمعرات 18 جنوری 2024ء
آصف محمود
عدلیہ کے فیصلوں پر مناسب پیرائے میں علمی تنقید ایک الگ چیز ہے اور ایک کارٹل کی صورت بروئے کار آتے ہوئے عدلیہ کی تذلیل اور تضحیک بالکل ایک دوسری چیز ہے۔اول الذکر ایک ضروری چیز ہے اور نظام انصاف کی جورسپرسڈنس کے ارتقائی عمل میں معاون کا کردار ادا کرتی ہے لیکن دوسرا رویہ تباہ کن ہے اور تخریب کے سوا اس کا کوئی عنوان نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ تضحیک اور تذلیل پر مبنی اس رویے کو کب تک برداشت کیا جائے گا؟اصلاح احوال کی کوئی صورت ہے یا نہیں ؟ ہمارے سامنے کی چیز ہے کہ
مزید پڑھیے



کیا تحریک انصاف کو اس کے وکیلوں نے مروایا؟

منگل 16 جنوری 2024ء
آصف محمود
تحریک انصاف کے کارکنان اور مداح اگر عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو سخت سست کہہ کر اپنا کتھارسس فرما چکے ہوں تو انہیں اس سوال پر بھی غور فرما لینا چاہیے کہ ان کی جماعت کو اس حال تک پہنچانے میں خود ان کے وکیلوں نے کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان کے وکیلوں نے بھی وہی غلطی کی ہو جو بھٹو مرحوم کے وکیلوں نے کی تھی۔ بھٹو صاحب کے وکیلوں سے یہ بنیادی غلطی ہوئی کہ وہ اس مقدمے کو اس سنجیدگی سے لے ہی نہ سکے جس سے لینا چاہیے تھا۔
مزید پڑھیے


اگر میں کسی کو بھی ووٹ نہ دینا چاہوں؟

هفته 13 جنوری 2024ء
آصف محمود
کیا کبھی آپ میں سے کسی نے سوچا ہے کہ اگر بیلٹ پیپر پر چار امیدوار ہوں اور آپ ان میں سے کسی کو بھی ووٹ نہ دینا چاہیں تو اس صورت میں آپ کیا کریں گے؟ کیا اس پارلیمان ، اس کے بنائے الیکشن ایکٹ ، الیکشن کمیشن اور ملک کے آئین و قانون نے آپ کے لیے اس صورت میں اظہار رائے کا کوئی مہذب اور قابل عمل راستہ چھوڑا ہے یا آپ کو ایک قانونی واردات کے ذریعے بے بس کر دیا گیا ہے کہ ان میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے
مزید پڑھیے


حسینہ واجد:اپنے باپ کے نقش قدم پر

جمعرات 11 جنوری 2024ء
آصف محمود
حسینہ واجد اپنے باپ شیخ مجیب کے نقش قدم پر چل رہی ہیں۔ یہ تومعلوم نہیں کہ انجام بھی یکساں ہو گا یا مختلف، تاہم مطالعہ پاکستان کے ناقدین نومولود مورخین کرام اگر اپنی نفسیاتی گرہیں کھول سکیں تو ’مطالعہ بنگلہ دیش‘انہیں دعوت فکر دے رہا ہے۔ جن کا خیال ہے کہ عوامی لیگ اور شیخ مجیب جمہوری قدروں اور ووٹ کو عزت دیتے دیتے ہم سے ناراض ہو گئے اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا لیا،ان مورخین کرام کو عوامی لیگ کی جمہوری تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔ کسی کو یہ غلط فہمی ہے کہ مغربی پاکستان میں
مزید پڑھیے


سینیٹر مشتاق بنام چیئر مین کرکٹ بورڈ

منگل 09 جنوری 2024ء
آصف محمود
سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے کرکٹ میں شرمناک شکستوں کے بعد سینیٹ میں سوال پوچھا کہ چیئر مین پی سی بی کی اہلیت کیا ہے کہ انہیں کرکٹ بورڈ کی سربراہی دی گئی۔ جواب میں بتایا گیا کہ کرکٹ ان کا مشغلہ ہے۔یعنی شغل ہی شغل میں کرکٹ کا حشر نشر کر دیا گیا۔ سینیٹر صاحب یہ جواب ایوان بالا میں لہراتے رہے اور پڑھ کر سناتے رہے اور پوچھتے رہے کہ یہ منصب ایک ایسے شخص کو کیسے دیا جا سکتا ہے جس کا کرکٹ سے کوئی لینا دینا ہی نہ ہو اور کرکٹ جس کا صرف مشغلہ
مزید پڑھیے


ایک کروڑ میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جا سکتا ہے؟

هفته 06 جنوری 2024ء
آصف محمود
گزشتہ کالم میں ذکر کیا گیاکہ کس طرح انتخابی عمل کو عام آدمی کی دسترس سے دور کر دیا گیا اور قانون سازوں نے پارلیمان میں بیٹھ کر کس طرح اپنے مفاد میں ایسی قانون سازی کی ہے کہ عملی طور پر قانون بے معنی ہو کر رہ گیا اوروہ جنگل کے بادشاہ قرار پائے ، انڈے دیں یا بچے دیں ، قانون کی مجال نہیں ان پر گرفت کر سکے۔آج اس دست ہنر کی مزید ہنر کاری کا جائزہ لیتے ہیں۔ اہل سیاست نے پارلیمان کے اندر تشریف فرما ہو کر اس انتخابی نظام کی یوں صورت گری
مزید پڑھیے








اہم خبریں