BN

آصف محمود


کون کون اے ٹی ایم ہیں؟


جہانگیر ترین تو عمران خان کا اے ٹی ایم ہو گئے ، سوال یہ ہے برادر مکرم سینیٹر طلحہ محمود کس کا اے ٹی ایم ہیں؟ ۔۔ یاد رہے یہ ایک ضمنی سوال ہے، اصل سوال کچھ اور ہے۔ تحریک انصاف تو دنیا داروں کی جماعت ہے ، کسی کمزور لمحے میں اے ٹی ایم کو دل دے بیٹھی ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ طلحہ محمود صاحب میں وہ کون سی خوبیاں ہیں کہ ’’ قائد ملت اسلامیہ ‘‘ کی نگاہ ناز میں ان کے سوا کوئی جچتا ہی نہیں؟تحریک انصاف کو اگر یہ طعنہ دیا
جمعرات 16 اپریل 2020ء

لاک ڈائون میں جب ایدھی صاحب کی یادآئی

منگل 14 اپریل 2020ء
آصف محمود
لاک ڈائون ہے اور فراغت ہی فراغت ہے۔ فلمیں بھی دیکھ لیں اور گھر پر پڑی کتابیں بھی ساری پڑھ لیں ، ایسے میں آدمی سوچتا ہے اب کیا کروں۔ ایسے ہی لمحے میں مرحوم ایدھی بابا یاد آئے اور طبیعت بحال ہو گئی۔ ایدھی صاحب سے میری ایک ہی ملاقات تھی۔ ایک نجی چینل کے لیے ان کا انٹرویو کر چکا تو مجھے پورا یقین تھا یہ نشر نہیں ہو سکے گا۔ ڈائریکٹر پروگرام کو فون کیا انٹرویو کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد اسے نشر کیجیے گا۔ شام کو ان کا فون آیا کہ انٹرویو ہر گز نشر کرنے
مزید پڑھیے


جناح صاحب نہیں۔۔۔۔ وہ قائد اعظمؒ تھے

هفته 11 اپریل 2020ء
آصف محمود

جمعیت علمائے ہند کی مارچ 1939ء کی قرار داد میرے سامنے رکھی ہے جس میں مصطفی کمال اتا ترک کے لیے ’’ مجاہد اعظم ، مجاہد اکبر ، غازی اسلام اور مفکر اعظم‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے مصطفی کمال اگر مجاہد اعظم ، مجاہد اکبر ، غازیٔ اسلام اور مفکر اعظم ہو سکتے ہیں ، موہن داس کرم چند گاندھی صاحب اگر مہاتما ہو سکتے ہیں اور محی الدین احمد صاحب کو امام الہند ابو الکلام آزاد کہا جا سکتا تو بابائے قوم کو قائد اعظم کیوں نہیں کہا جا سکتا؟ لوگوں کو اوج و
مزید پڑھیے


تحریک انصاف میں ایک بابر اعوان؟

جمعرات 09 اپریل 2020ء
آصف محمود
چینی بحران کی لپیٹ میں تحریک انصاف کا اخلاقی وجود لڑکھڑاتے دیکھا تو خیال آیا تحریک انصاف میں ایک بابر اعوان بھی تو ہیں۔ پھر ایک اور خیال دیوار دل سے لپٹ گیا کہ قافلہ انقلاب میں کیا یہ ایک بابر اعوان ہی ہیں جو اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں حساس تھے؟ باقی کیا دھرم شالے کے ڈول ہیں جہاں کنواں دیکھا ، پیٹ بھرنے اتر گئے۔ سیاست میں اخلاقی وجود کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور جس طرح کی سیاست کا دعوی تحریک انصاف کو ہے اس میں میں سے اخلاقی وجود منہا کر دیا جائے تو کچھ باقی
مزید پڑھیے


قیدی ، کورونا اور قانون

منگل 07 اپریل 2020ء
آصف محمود
وزارت قانون نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا ہے کہ انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا۔ وزارت قانون کے مطابق صدر پاکستان جنہیں سزائے موت تک معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے ، وہ بھی کسی انڈر ٹرائل قیدی کو ضمانت پر رہا نہیں کر سکتے۔ بطور ایک طالب علم میرے پیش نظر سوال یہ ہے کہ کیوں رہا نہیں کیا جا سکتا؟ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں گالم گلوچ کی بجائے کبھی ڈھنگ کی قانون سازی ہوئی ہوتی اور صدیوں پرانے قوانین کی بیساکھیوں سے ملک
مزید پڑھیے



چینی بحران رپورٹ ۔۔۔ایک رخ یہ بھی ہے

پیر 06 اپریل 2020ء
آصف محمود
آٹے اور چینی پر تحقیقاتی رپورٹ کو بالعموم دو انداز سے دیکھا گیا۔ ایک زاویہ نظر یہ تھا کہ انہوں نے اپنی ہی حکومت میں یہ رپورٹ جاری کر کے ایک غیر معمولی کام کیا ہے اور دوسرا زاویہ نگاہ یہ تھا کہ جہانگیر ترین ہی نہیں خود عمران خان بھی کٹہرے میں کھڑے ہیں اور حکومت کا اخلاقی وجود برف کے کسی باٹ کی طرح دھوپ میں رکھا ہے۔ ابتدائی صف بندی میں میرے اکثر دوست پہلی اور میں دوسری صف میں کھڑا تھا۔ لیکن اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دو آراء فروعی اور غیر اہم ہیں
مزید پڑھیے


آئیے دیکھیے ہم نے کیسے ثقافت تباہ کی؟

هفته 04 اپریل 2020ء
آصف محمود
ایک دن میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ غلام علی خان تشریف لائے ، جن کی آواز سے آپ ہارمونیم سُر کر سکتے ہیں کہ ہارمونیم کے سُر اور ان کے گلے میں کوئی فرق نہیں۔۔۔۔۔یہ میری روایت نہیں ، اس واقعے کے راوی ممتاز مفتی کے صاحبزادے عکسی مفتی ہیں۔عکسی مفتی لکھتے ہیں کہ اس روز غلام علی خان بہت پریشان تھے۔ اس واقعے کی طرف بعد میں آتے ہیں ، آج اپنے ایک پریشان سوال جواب ملا ہے ، پہلے اس پر بات کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں کل دھوپ نکلی تھی ، آج پھر بادلوں کا بسیرا
مزید پڑھیے


یہ گلمرگ کا پہاڑ تھا

جمعه 03 اپریل 2020ء
آصف محمود
یہ پورے چوبیس سال ادھر کی بات ہے جب اسلام آباد نوجوان تھا۔ شاہراہ دستور پر کوئل بولا کرتی تھی اور بلیو ایریا میں سر شام چڑیوں کا شور ہوتا تھا۔آصف پلازہ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا ہاسٹل ون تھا جہاںگرمیوں کے موسم میں ہم صبح سڑک پر کرکٹ کھیلتے تھے اور بارہ اوورز کی اننگز میں ایک آدھ بار ہی ایسا ہوتا تھا کہ کوئی گاڑی گزرے اور ہمیں کھیل روکنا پڑے۔ آج تو ایسی خاموشی اور سکون کا تصور ہی ممکن نہیں لیکن اس زمانے کے حسن کا عالم یہ تھا کہ اس ہاسٹل کو
مزید پڑھیے


کورونا کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے؟

جمعرات 02 اپریل 2020ء
آصف محمود
ہمارے فکری افلاس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم نے کورونا جیسی وبا کو بھی فرقہ واریت کا عنوان بنا دیا؟ صف بندی ہو چکی ہے اور جنگجوئوں کی شمشیر کی زد میں میں کورونا وائرس نہیں اپنے اپنے حریف ہیں۔فقہی بھی اور سیاسی بھی۔ دشنام بکف لشکری زبان حال سے گویا منادی دے رہے ہیں کہ کورونا سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ، ایک موقع ہاتھ آیا ہے تو اب حریفوں میں سے کسی کی دستار سلامت نہ رہنے پائے۔موضوع اب یہ نہیںرہا کہ کورونا کی ہلاکت خیزی سے نجات کی
مزید پڑھیے


کیا کرونا ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے؟

منگل 31 مارچ 2020ء
آصف محمود
کیا کرونا وائرس ایک حیاتیاتی ہتھیار ہے اور یہ کسی لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا مشکل ہے۔ تو کیا کرونا ایک قدرتی وائرس ہے جو کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں دینا انتہائی مشکل ہے۔ہر دو کے امکانات موجود ہیں اور جب تک کوئی چیز واضح طور ہمارے سامنے نہیں آتی تب تک کسی سازشی تھیوری کا ، کامل یقین کر لینا یا اسے آخری درجے میں رد کرنا ، دونوں ہی نا معتبر رویے ہیں۔ حیاتیاتی اسلحہ یا حیاتیاتی جنگ ، یہ کسی خیال
مزید پڑھیے