BN

آصف محمود


موٹر وے سانحہ: چند گزارشات


موٹر وے پر سانحے کی صورت جو قیامت اتری اس کو تین زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے: انتظامی، قانونی اور سماجی۔ آئیے ان تینوں کا مختصر ترین جائزہ لیتے ہیں۔ حادثہ موٹر وے کے ساتھ لنک روڈ پر ہوا ۔سوال یہ ہے کہ ٹال پلازے سے باہر کا حصہ جو بسا اوقات کئی کلومیٹر پر مشتمل ہوتا ہے کس کی عملداری میں ہے؟ اسلام آباد ہی کو دیکھ لیجیے ٹال پلازے سے پشاور موڑ تک قریبا آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ ہے ، لاہور موٹر وے سے گوجرانولہ کا لنک روڈ تو اذیت کی حد تک طویل ہے۔ یہاں کبھی
هفته 12  ستمبر 2020ء

اسلام آباد کی ہائوسنگ سوسائیٹیاں ، بے بس عوام اور لاتعلق حکومت

منگل 08  ستمبر 2020ء
آصف محمود
اسلام آباد پھیل رہا ہے۔ایک دارالحکومت نے پھیلنا ہی ہوتا ہے۔ یہ پھیلائو اپنے ساتھ بہت سارے چیلنجز لا رہا ہے۔نئی نئی ہائوسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں۔مرضی کے ضابطے ہیں ۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوام بے بس ہیں اور حکومت ایک طرف لاتعلق بیٹھی دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہی ہے۔ آدمی حیرت سے سوچتا ہے کیا دارالحکومت ایسے آباد ہوتے ہیں؟ نیو ایئر پورٹ کے اطراف ہائوسنگ کالونیوں کا ایک جہاں آباد ہو چکا ہے۔ کچھ نجی ہیں اور کچھ سرکاری۔سارا شہر ان کے بینرز اور ہورڈنگز سے بھرا پڑا ہے۔ایک سوسائٹی نے مجھے بہت متاثر کیا۔عین موٹر وے کے
مزید پڑھیے


بلاول صاحب :امداد لیں مگر حساب دیں

هفته 05  ستمبر 2020ء
آصف محمود
بلاول صاحب کو وفاق سے مزید رقم کی توقع ہے اور ان کا مطالبہ ہے لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ان کی مدد کی جائے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے وسائل لے چکے ہیں تو اب وفاق سے مزید رقم کی توقع اور امداد کا مطالبہ کس لیے؟ کیا اس سوال سے جمہوریت کو کالی کھانسی ، نزلہ اور زکام جیسی دیگر مہلک بیماریاں لاحق ہونے کا خطرہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم میں حاصل ہونے والے وسائل کہاں گئے کہ اب وفاق سے مدد مانگی جا رہی ہے؟ اٹھارویں ترمیم کے سب
مزید پڑھیے


تحریک انصاف کو ’’ تحریک انصاف‘‘ کی ضرورت ہے

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
آصف محمود
تحریک انصاف کی حکومت کی اصل طاقت ’’ تحریک انصاف‘‘ ہے اور تحریک انصاف بھان متی کے اس کنبے کا نام نہیں ہے جسے وفاقی کابینہ کہتے ہیں۔ تحریک انصاف اس امید کا نام ہے جو دیرینہ کارکنان کی آنکھوں میں دیے کی صورت جگمگاتی ہے۔ الیاس مہربان کو دیکھتا ہوں تو صدیق الفاروق یاد آتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے صدیق الفاروق کو دیکھتا ہوں تو الیاس مہربان یاد آتے ہیں۔مشرف دور میں نیب نے صدیق الفاروق کو اٹھالیا۔ معاملہ عدالت میں پہنچا تو عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر سے سوال کیا صدیق الفاروق کہاں ہیں؟ پراسیکیوٹر غالبا فاروق
مزید پڑھیے


کراچی کے مسائل پر سیاست کیوں نہ کی جائے؟

منگل 01  ستمبر 2020ء
آصف محمود
جناب شاہد خاقان عباسی نے قوم کی رہنمائی فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کراچی کے مسائل پر سیاست نہ کی جائے اور مجھ جیسا طالب علم حیرت سے بیٹھا سوچ رہا ہے کہ پھر کیا کوٹلی ستیاں کے کریانہ سٹور پر پڑی چنے کی دال کے بھائو پر سیاست کی جائے؟ اہل سیاست کے تضادات کراچی کی بارشوں سے زیادہ سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں سے کراچی میں کھڑے پانی سے زیادہ تعفن اٹھ رہا ہے۔ جناب شاہد خاقان عباسی میدان سیاست کا ایک اہم کردار ہیں۔ ان کی بنیادی پہچان یہی سیاست ہے ورنہ تحصیل راولپنڈی
مزید پڑھیے



کچھ پتا بھی ہے آزادی رائے کیا ہوتی ہے؟

هفته 29  اگست 2020ء
آصف محمود
ہر دوسرا آدمی جب زہر تھوکتا ہے تو جواز یہی دیتا ہے کہ قانون مجھے آزادی رائے کا حق دیتا ہے۔ سوال یہ ہے آزادی رائے کے یہ لشکری کیا کچھ خبر بھی رکھتے ہیں کہ قانون کی روشنی میں آزادی رائے کی حدود کیا ہیں؟ ہر چودہ اگست کو یہاں ایک طبقے کو ابولکلام آزاد یاد آجاتے ہیں اور قوال تان اٹھاتے ہیں کہ ابولکلام آزاد نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا یہاں یہ ہو گا۔ قوالی کا اختتام بین السطور اس مدہوشی پر ہوتا ہے کہ پاکستان تو بننا ہی نہیں چاہیے تھا ۔اگست کا مہینہ شروع ہوتے
مزید پڑھیے


کورونا : بس خدا ہی یاد نہ رہا؟

جمعرات 27  اگست 2020ء
آصف محمود
کورونا عروج پر تھا تو ہم نے راتوں کو اذانیں دیں ، اللہ کو یاد کیا ، اس سے رحم کی درخواستیں کرتے رہے اور جب کورونا تھم گیا تو ہم نے دانشوری فرماناشروع کر دی ۔ کسی کے خیال میںیہ ہمارے موسم اور ہماری قوت مدافعت کا کمال ہے تو کوئی اسے جناب وزیر اعظم کی بصیرت کا اعجاز قرار دے رہا ہے۔ اس ساری ترک تازی میں ہم اس اللہ کو بھول گئے جس کے فضل و کرم سے یہ بلا ٹلی۔وبا کے دنوں میں جب جان کے لالے پڑے توہم نے رات دس بجے اذانیں دیں تو
مزید پڑھیے


نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے؟

منگل 25  اگست 2020ء
آصف محمود
سوال یہ ہے کہ نصاب میں کتنا اسلام ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب کسی ٹاک شو میں مرضی کے مہمان بلا کر اودھم مچانے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے نفرت کے ہیجان سے نکل کر معقول انداز سے بات کرنا ہو گی۔ ایک مکتب فکر نصاب میں اسلام کے تذکرے سے بد مزہ ہو جاتا ہے اور اعتراضات اٹھاتا ہے۔ ان اعتراضات کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے یہ اعتراض کیا جاتا رہا کہ مذہبی تعلیم صرف اسلامیات کے مضمون میں دی جانی چاہیے ، اردو اور مطالعہ پاکستان میں اسلام سے متعلقہ کوئی چیز نہیں
مزید پڑھیے


عتیقہ اوڈھو کیس : سوموٹو پر قانون سازی کی ضرورت !

هفته 22  اگست 2020ء
آصف محمود
عتیقہ اوڈھو کیس بطور قوم ہمیں دعوت فکر دے رہا ہے۔اب یہ ہمارے ذوق کا امتحان ہے ہم اپنے لا ابالی پن میں طنز کے چند فقرے اچھال کر آگے بڑھ جاتے ہیں یا ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ رک کر غور کرنے کو تیار ہیں کہ وقت کتنا بدل گیا ہے اور بدلتے وقت کے تقاضے کیا ہیں۔دو سال پہلے جناب چیف جسٹس آف پاکستان نے سوموٹو کی حدود اور دائرہ کار کے واضح تعین کی ضرورت پر زور دیا تھا۔عتیقہ اوڈھو کیس نے گویا یہی سوال ایک بار پھر قوم کے سامنے رکھ دیا ہے کہ کیا سوموٹو
مزید پڑھیے


شگفتہ شگفتہ بہانے ترے

جمعه 21  اگست 2020ء
آصف محمود
’’ہم پہلی بار اقتدار میں آئے تھے ، ہمیں تجربہ نہیں تھا‘‘ وزیر اعظم کا موقف سنا تو عبد الحمید عدم یاد آ گئے: وہ باتیں تری وہ فسانے ترے شگفتہ شگفتہ بہانے ترے لڑکپن کی اولین محبتوں میں تو ایسے بہانے چلتے ہوں گے ، میدان سیاست میں اتنی معصومیت پہلی بار دیکھی۔آدمی بیک وقت رونے ہنسنے پر قدرت نہیں رکھتا ورنہ جناب وزیر اعظم کی معصومیت کا استحقاق تھا لوگ ہنستے ہنستے رو دیں اور روتے روتے ہنس پڑیں۔ آئیے کابینہ پر ذرا ایک نگاہ ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں اس میں کتنے نونہال ایسے ہیں
مزید پڑھیے