BN

اثر چوہان



’’ بابریؔ مسجد کیس، رامؔ تیری گنگا میلی ؔ ہوگئی؟‘‘


معزز قارئین!۔مَیں خرابیٔ صحت کی بنا پر بروقت کالم نہیں لِکھ سکا لیکن 9 نومبر کو بھارتی سپریم کورٹ کے ہندو چیف جسٹس مسٹر رنجن گوگی، کی سربراہی میں جسٹس شردھا وند بوبدے ، جسٹس دھننجیا یشونت چندراشُدھ ، جسٹس اشوک بھوشن اور (مسلمان) جسٹس عبداُلنذیر نے 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا کی ’’بابری مسجد ‘‘ کی شہادت اور متنازع ’’ رام مندر‘‘ کے حق میں فیصلہ کر کے جو، بھارت اور وِشنو دؔیوتا کے اوتار ، قدیم ایودھیا کے (268سے 330 قبل از مسیح تک )راجا رامؔ چندر کے نام کو جط طرح بدنام کِیا گیا ہے ، اُسے
هفته 16 نومبر 2019ء

’’دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کردے !‘‘

منگل 12 نومبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔پاکستان قائم ہُوا تو ، میری عُمر تقریباً 11 سال تھی۔ اُس سے قبل 12 ربیع الاوّل (3 فروری ) 1947ء کو مشرقی ( اب بھارتی ) پنجاب کی سِکھ ریاست نابھہ میں مجھے ، اپنے والد صاحب ’’ تحریک پاکستان ‘‘ کے (گولڈ میڈلسٹ) کارکن رانا فضل محمد چوہان ، دو چچائوں رانا فتح محمد چوہان اور رانا عطاء محمد چوہان کے ساتھ ، پہلی بار ، عید میلاد اُلنبیؐ کا شاندار جلوس دیکھنے کا موقع مِلا۔ مَیں حیران تھا کہ ’’ میرے بڑے چچا ، جلوس میں شامل کچھ دوسرے مسلمانوں کی طرح ، اونٹ
مزید پڑھیے


’’ فضل اُلرؔحمن صاحب، علاّمہ ؔاقبالؒ کے بھی شیداؔئی؟‘‘

هفته 09 نومبر 2019ء
اثر چوہان
مَیں حیران ہُوں کہ ’’ شاید نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت ’’ امیر جمعیت عُلماء اسلام‘‘ (فضل اُلرحمن گروپ) کی سیاست میں بھی ’’ تبدیلی‘‘ (Alteration) آگئی ہے یا آتی جا رہی ہے ؟۔ (3 ربیع الاوّل بروز جمعہ ) یکم نومبر کو ، فضل اُلرحمن صاحب ، جب اسلام آباد کے پشاور موڑ پر اپنے ’’آزادی مارچ ‘‘کے سٹیج پر رُو نما ہُوئے تو ، الیکٹرانک میڈیا پر مَیں نے دیکھا کہ ’’ وہاں کھڑے ایک باریش نوجوان نے ’’ قائدِ ملّت اِسلامیہ، مولانا فضل اُلرحمن زندہ باد‘‘ اور ’’ قائد انقلاب مولانا فضل اُلرحمن زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے
مزید پڑھیے


برکت ِ نشان ِحیدرؑؔ، فوج ۔ریاستؔ کا پانچواںؔ ستون!

بدھ 06 نومبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ اسلام آباد پسندؔ امیر جمعیت عُلماء اسلام فضل اُلرحمن گروپ کی طرف سے پارلیمنٹ میں صِرف پندرہ ارکان کے ’’بَل بوتے پر ‘‘متبرک مہینے ربیع الاوّل میں ،دھما چوکڑی مچاتے ہُوئے نہ صِرف وزیراعظم عمران خان اور اُن کی حکومت پر زبان و بیان کے گُل کھلائے جا رہے ہیں بلکہ ، قومی اداروںکے بارے میں بھی ناروا روّیہ اختیار کِیا جا رہا ہے ؟۔ اداروںؔ کے حوالے سے فضل اُلرحمن صاحب نے ، پاک فوج پر جس طرح زبان طعن دراز کی ، اُس پر پاکستان کے محب وطن حلقوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار
مزید پڑھیے


’’ مولانا نے میلا ؔلُوٹ لِیا، چودھری شجاعت! مِٹی پائو!ؔ‘‘

منگل 05 نومبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ 3 ربیع الاوّل بروز جمعتہ اُلمبارک (یکم نومبر ) کو امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) نے اسلام آباد کے پشاور موڑ ( اتوار بازار ) میں (بقولِ خُود ) عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہُوئے سمندر سے خطاب کرتے ہُوئے وزیراعظم عمران خان کو "Deadline" دِی تھی کہ ’’ اگرآپ دو دِن تک وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی نہ ہُوئے تو پشاور موڑ پر ڈیرہ جمائے عوام یہ ’’ قدرت ‘‘ ( Power) رکھتے ہیں کہ ’’ وہ وزیراعظم ہائوس پہنچ کر آپ کو گرفتار کرلیں!‘‘۔ "Deadline and Lifeline" "Palmistry" (دست شناسی)
مزید پڑھیے




’’اسلام آباد پسندؔ، قائد ِؔ انقلابِ مُک ؔمُکا؟‘‘

پیر 04 نومبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ 3 ربیع الاوّل بروز جمعہ ،یکم نومبر کو ، جب مَیں نے الیکٹرانک میڈیا پر اسلام آباد کے پشاور موڑ پر امیر جمعیت عُلماء اسلام ( فضل اُلرحمن گروپ ) کو خطاب کرتے ہوئے دیکھا اور سُنا تو، سٹیج پر کھڑے ہُوئے اُن کے ایک باریش نوجوان کارکن نے نعرے لگائے ’’ قائد ِ ملّت اسلامیہ ،مولانا فضل اُلرحمن زندہ اور قائد ِ انقلاب مولانا فضل اُلرحمن زندہ باد ‘‘ تو، مجھے کوئی خاص تعجب نہیں ہُوا تھا کہ ہر دَور میں ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کے کارکن اپنے قائد کے بارے میں اِسی طرح کے
مزید پڑھیے


’’تیز گاؔم، فضل اُلرحمن صاحب / تیز گامؔ ایکسپریس‘‘

هفته 02 نومبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ گام ؔ ۔ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں ’’ پائوں،ؔ قدمؔ اور وہ مسافت ؔجو چلنے میں دونوں پائوں کے درمیان رہے۔ لگامؔ کو بھی گام ؔ ہی کہتے ہیں اور سُست رفتار گھوڑے کو بھی ‘‘ ۔ ’’ تیز گام ‘‘ کے معنی ہیں ’’ جلدی جلدی قدم اُٹھانے والا‘‘۔ انگریزی لفظ "March" کے معنی ہیں ’’ نپی تُلی فوجی چال سے چلنا‘‘۔ فضل اُلرحمن صاحب کے بزرگ انگریزی زبان سے سخت نفرت کرتے رہے ہیں لیکن، 28 جولائی 2019ء کو کوئٹہ میں (بقول اُن کے ) اُنہوں نے اپنی جمعیت عُلماء
مزید پڑھیے


فضل اُلرحمن صاحب کا طبلِ ؔجنگ اور "Toll Tax"

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ آخری اطلاعات آنے تک امیر جمعیت عُلماء اسلام (فضل اُلرحمن گروپ) کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ ؔکے شُرکاء نے 28 اکتوبر کی شب پنجاب کے تاریخی شہر ’’ مدینۃ اُلاولیاء ‘‘ ۔ملتان میں پڑائو ڈال دِیا تھا ۔ اُستاد شاعر حضرت داغ ؔدہلوی کے دَر پر بھی ، اُن کے یارو ںنے پڑائو ڈالا تھا تو، اُنہوں نے نہ جانے کسے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ مجھ کو وحشی سمجھ کے ، یاروںؔ نے ! میرے در پر، پڑائو، ڈال دِیا! خبر کے مطابق ’’شُرکائے آزادی مارچ ‘‘ نے ملتان میں بہاولپور کے "Bypass" کے
مزید پڑھیے


دوستوں کی یادیں ؔاور پاکستان میں چراغاںؔ!

منگل 29 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
معزز قارئین!۔ یوں تو، میرے مرحوم دوست ، تحریک ِ پاکستان کے کارکن ، مرزا شجاع اُلدّین بیگ کی سالگرہ اُن کے بیٹے، چیئرمین "P.E.M.R.A" پروفیسر ، مرزا محمد سلیم بیگ لاہور میں اپنی والدہ صاحبہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ مناتے ہیں لیکن، مَیں بھی کبھی کبھی لاہور اور اسلام آباد میں محمد سلیم بیگ کی موجودگی میں ، اپنے مُخلص دوست کی سالگرہ منا لیتا ہُوں ۔تین دِن قبل لاہور میں میرے ڈیرے پر یہی اہتمام تھا۔ جہاں دوستوں نے ، قائداعظمؒ کے بچے کھچے پاکستان میں تحریک پاکستان کے مخالفین ’’ کانگریسی مولویت کی باقیات‘‘
مزید پڑھیے


"Containerization of The Politics?"

پیر 28 اکتوبر 2019ء
اثر چوہان
26 اکتوبر کو اسلام آباد میں دو (پاکستانی) افغان لیڈروں، وزیر دفاع پاکستان جناب پرویز خٹک اور ’’ جمعیت عُلماء اسلام‘‘ (فضل اُلرحمن گروپ) کے اکرم درانی صاحب نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے کہا کہ ’’31 اکتوبر ،کو آزادی ماؔرچ (کا) احتجاج اسلام آباد "Red Zone" اور "D-Chowk" میں نہیں ہوگا۔ بلکہ ’’اتوار بازاؔر۔ پشاور موؔڑ‘‘ پر ہوگا۔ مَیں اِسے ’’راضی نامہ ‘‘ ہی کہوں گا ، ’’ مُک مُکا‘‘ ہر گز نہیں کہوں گا!۔ اگر یہ ’’ راضی نامہ‘‘ واقعی خلوص دِل سے ہُوا ہے تو اِس کا خیر مقدم کیوں نہ کِیا جائے؟
مزید پڑھیے