BN

احسان الرحمٰن


’’کشمیریوں کا لہو’’لہو‘‘ نہیں‘‘


میں نہیں جانتا کہ اب وہ بچہ کہاںہوگا ،اگر وہ لہو میں لتھڑی جنت ارضی کو تقسیم کرنے والی خونیں لکیر پھر سے عبور کر گیا، توغالب گمان یہی ہے کہ اس کے کسی گوشے میں کہیں سینے پر زخموں کے کبھی نہ مرجھانے والے پھول لئے ابدی نیند سو رہا ہوگا، یہ 1998ء کی بات ہے جب کراچی کے صحافیوں کا ایک وفد جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شرکت کے لئے کراچی سے اسلام آباد پہنچاتھا اورپھر یہاں سے اسی مقبوضہ جنت ارضی کی جانب روانہ ہوا،اس وفد کے شرکاء میں اس وقت کے نوجوان اور نوآمیز
منگل 22  ستمبر 2020ء

’’سترہ ستمبر۔۔۔‘‘

جمعه 18  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن

ہائے ! وہ بھی کیا دن تھے ابھی سترہ ستمبر میں سترہ دنوں کی مسافت ہو اکرتی تھی کہ شہر قائد کی دیواریں ’’قائد‘‘ کی چاکنگ سے رنگین ہوجاتیں،کیا ایم اے جناح روڈ اور کیا شاہراہ فیصل ،کیا دہلی کالونی اور کیا ناگن چورنگی لیاری اور پشتون بلوچ،سندھی آبادیوں کو چھوڑ کر کراچی کے ہر علاقے میں ’’قائد‘‘کی جے جے کار ہوتی،اہل علاقہ پر سترہ ستمبر کے روز خیر مقدمی بینرزپوسٹر اور وال چاکنگ اور جشن فرض ہوا کرتی تھی کسی علاقے سے اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی تو اس پورے علاقے کواسکا اجتماعی کفارہ ادا کرناپڑتا جو
مزید پڑھیے


’’گونگے مظالم ‘‘

بدھ 16  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
وہ میرے گھنگھریالے بالوں اور گندمی رنگت سے مجھے بلوچ سمجھا تھا میں چہرے مہرے سے بلوچ ہی لگتا ہوں ،کراچی کے علاقہ لیاری پیپلزپارٹی کا گڑھ جانا جاتا ہے یہاں بلوچوں کی اکثریت ہے۔ صحافتی ذمہ داریاں جب کبھی یہاں لے جاتیں تو یہاں کے مقامی بھی مجھے بلوچ ہی سمجھتے اور بلوچی میں گپ شپ کرنے لگے جاتے تھے، اسی لئے جب اس نوجوان نے مجھے واجا کہہ کر بلوچی میں مخاطب کیا تو مجھے کچھ عجیب سا نہ لگا ،وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ میں بلوچوں کے کس قبیلے سے ہوں ،میں نے مسکراتے ہوئے
مزید پڑھیے


’’فلٹر ہی خراب ہے ‘‘

هفته 12  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ 2009ء کی بات ہے یورپ کے خوبصورت ملک سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا ،زندگی اپنے راستے پر رواں دواں تھی لیکن اسی شہر میں ایک سڑک پر ایک ستر سالہ بوڑھے کے لئے سب ٹھیک نہ تھا وہ قطار میں لگی گاڑیوں میں اپنی کارلگائے ہوئے بی چینی سے پہلو بدل رہا تھا اور اسکی لٹکی ہوئی پرگوشت ٹھو ڑی والے سرخ وسپید چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی اسکی تشویش کا سبب وہ سپاہی تھا جو ہاتھ میں کوئی آلہ لئے ایک ایک گاڑی کے پاس جارہاتھا یہ آلہ دارصل
مزید پڑھیے


’’ہائے وہ کراچی ۔۔۔!‘‘

بدھ 02  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
’’بھائی ! دل خون کے آنسو روتا ہے ،سچ کہتا ہوں کراچی اپنی تاریخ کے بدترین دنوں سے گزر رہا ہے پورا شہر کچی آبادی کی کچرہ کنڈی بن چکا ہے کیا خدا کی بستی اور کیا ڈیفنس سب کا ایک ہی دکھ ہے ‘‘۔سید صاحب سردآہ بھرنے کے بعد کہنے لگے یہ وہ کراچی ہے ہی نہیں جو میری یاداشتوں میں محفوظ ہے ۔کراچی صرف بلدیاتی تنزلی کا ہی شکار نہیں ہوا بلکہ معاشرتی اور تہذیبی طورپر بھی بہت پیچھے چلا گیا ہے،سید شوکت سلطان میرا وہ اثاثہ ہیں جنہیں کراچی میں چھوڑنے کا قلق شائد کبھی ختم نہ
مزید پڑھیے



مینگل صاحب! فرق کیوں!

اتوار 30  اگست 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ گزشتہ برس اپریل کی ایک بدقسمت رات تھی جاڑے کی خنکی ابھی نہیں اتری تھی ،رات کے دامن میں اندھیرا تو ہوتا ہی ہے لیکن وہ رات کچھ زیادہ ہی کالی اور سیاہ تھی چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا گوادر سے چلنے والی مسافربردار بس کی دو پیلی ہیڈلائٹس یہ تاریکی چیر کرڈرائیور کو راستہ دکھا رہی تھیں ،بس کا ڈرائیور جانے پہچانے راستوں سے ہوتا ہوا کراچی کی جانب بڑھ رہا تھا ،بس میں سوار زیادہ تر مسافر سو اور چند ایک اونگھ رہے تھے وہ منتظر تھے کہ کب ہیبت ناک پہاڑوں کا یہ راستہ ختم
مزید پڑھیے


ملکی سیاست اور خارجہ تعلقات

پیر 24  اگست 2020ء
احسان الرحمٰن
میرا خیال تھا کہ طویل ملازمت کے بعد وہ اب ریٹائرڈ زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہیں گے اتوار کے دن جینز اور ٹی شرٹ پہن کر پی کیپ لگائے بیگم کے ساتھ سبزی خریدتے ملیں گے چن چن کر پھل خریدتے نظر آئیں گے یا پھر شام کو اسلام آباد گالف کورس کے سرسبز میدان میںگالف اسٹک جچا تلا اسٹروک لگاتے پائے جائیں گے لیکن صاحب ایک نجی ادارے سے منسلک ہوگئے جہاں اب ان سے ہفتے دو ہفتے بعد کھلی ملاقات ہوتی ہے بنا شکر کے سبز چائے یا کڑک دودھ پتی کے گرم محلول کی چسکیاں لیتے
مزید پڑھیے


تعلیمی سہولیات پر توجہ کی ضرورت

اتوار 23  اگست 2020ء
احسان الرحمٰن
دس برسوں نے آفریدی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اسکا چھریرا بدن فربہی مائل اوربال بھی قدرے کم ہوچکے ہیں اور جتنے بھی ہیں ان میں بھی سفیدی کی زیادتی ہے۔ میں کبھی آفریدی کو دیکھتااور کبھی اس چمکتی ہوئی نئی نکور گاڑی کوجس سے وہ برآمد ہوا تھاآفریدی مجھ سے ویسے ہی محبت سے ملاویسے ہی گرمجوشی سے جپھی ڈالی اور اسی لب و لہجے میں حال چال پوچھا جس کی اشاعت ممکن نہیں ،میں نے بھی اس کی محبت کا جواب اسی ’’محبت ‘‘ سے دیا اوربیٹھک میں لے آیا،آفریدی کے ہاتھ میں ایک باسکٹ تھی
مزید پڑھیے


’’ایک بلوچ نوجون کا شکوہ‘‘

بدھ 19  اگست 2020ء
احسان الرحمٰن
اسلام آباد میں شدید حبس کے بعد چلنے والی ہوا میں ریستوران کے باہر بیٹھنا بھلا لگ رہا تھا میں اپنے دوست کے ساتھ کھانا کھا کر اٹھنے کو تھا کہ تین موٹرسائیکلوں پر چھ نوجوانوں کو آتادیکھ کر میں چونک گیا ،میرے چونکنے کی وجہ انکا لباس اور لباس میں وہ مخصوص بلوچی گھیر دار شلوار یں تھیں جب انہوں نے موٹرسائیکلیں کھڑی کرکے بلوچی میں بات چیت شروع کی تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں ان کے پاس چلا گیا’’شماچے حال ہے ؟ـ‘‘شستہ بلوچی لہجے میں حال پوچھنے پرپہلے تو وہ حیران ہوئے اور پھر مسکراتے
مزید پڑھیے


’’آخریہ چپ کیوں !‘‘

اتوار 16  اگست 2020ء
احسان الرحمٰن
لگ بھگ چار برس تو ہونے کو ہیں لیکن لگتا ہے یہ جیسے کل کی بات ہو ،بڑ ے سے ہال میںپچیس تیس افراد میزوں کے گرد کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے اور سامنے ایک خوبصورت ترک نوجوان ترکی زبان میں ہم سے مخاطب تھا،یہ ترکی کا سرحدی شہر ریحانلی تھا جس کے دوسری طرف خون آشام بشار یوں نے غارت گری مچارکھی تھی ،شامی فوجوں کی کوشش تھی حکومت مخالف یا تو بارود کی بارش سے اپنی نسلوں سمیت جھلس جائیں یا پھر شام چھوڑدیں ،لاکھوں کی تعداد میں مجبور بے بس شامی گھر بار چھوڑ کر ترکی میں داخل
مزید پڑھیے