BN

احسان الرحمٰن


شفقت دے نعرے وجن گے۔۔۔


مجھے کل پتہ چلا کہ پاکستان پہنچنے والا’’کورونا‘‘ کتنا جمہورئت پسند ہے اس انکشاف کے بعد تو مجھے کورونا سے کچھ انسیت سی ہونے لگی ہے اس کا رعب دبدبہ اپنی جگہ لیکن دل میں جمہوریت پسند کورونا کے لئے احترام کے جذبات محسوس کرنے لگا ہوں اور مجھے اسکا اعتراف کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچانا چاہئے ۔دنیا پر بھلے سے کورونا نے قہرڈھایاہوبلا کسی تفریق کے کشتوں کے پشتے لگائے ہوں کیا امریکہ اور کیا اٹلی کیاہندوستان اور کیا انگلستان ۔۔۔ کورونا نے ’’وردی‘‘ کا خیال کیا نہ ’’تھری پیس ‘‘کا اس نے بیوروکریٹ چھوڑے نہ وزیر مشیر
جمعرات 26 نومبر 2020ء

’’مریم نواز اور ہم نوا…‘‘

پیر 23 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
حضرت لقمان کوتاہ قامت کے ایک حبشی غلام تھے لیکن حکمت و دانائی اور تقویٰ میں ان کا قد کاٹھ غیرمعمولی تھاعرب کے شعراامراؤ القیس،لبید،طرفہ کے کلام میں بھی حضرت لقمان کا ذکر ملتا ہے انہوںنے اپنی حکمت ودانائی سے بڑا مقام اور مرتبہ پایا کہتے ہیں کہ اک بار حضرت لقمان کے مالک نے انہیں کہا کہ بکری ذبح کرو اور اس کے جسم کا سب سے بہترین اور نفیس حصہ پکا کرلے آؤ حضرت لقمان نے حکم کی تعمیل کی بکری ذبح کرکے اسکے دل اور زبان خوب اچھی طرح سے پکاکر اپنے آقا کی خدمت میں پیش
مزید پڑھیے


’’کھانا کھل گیاہے…! ‘‘

هفته 21 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
ان سے ایک دوست کے ولیمے پرملاقات ہوئی تھی میں تقریب میں غلطی سے وقت پر پہنچ کر بور ہورہا تھا اور وہ بھی میرے ہی طرح بیزار بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کا دکھ ساجھا تھا اس لئے جب ایک دو بار نظروں سے نظریں ملیں تو میں وقت گزارنے کے لئے انکے پاس آکر بیٹھ گیااور پھرتعارف اور رسمی گفتگو کے بعد بات چلی تو سیاست پر آکر ٹھہر گئی۔ وہ اسسٹنٹ پروفیسر باچا خان کی فکر کے پیروکاراورپختونستان کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون ثقافتی تہذیبی اعتبار سے ایک الگ قوم ہیں ۔حالا ت
مزید پڑھیے


’’سام ،دھام ،ڈنڈ ،بھید۔۔۔‘‘

پیر 16 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
20 نومبر2015ء کے دن تل ابیب نے سکھ کا سانس لیا جب امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کے الزام میں تیس برس کی سزا کاٹ کر جوناتھن پولار ڈ جیل سے باہر آیا اس اسرائیلی ایجنٹ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جوناتھن پولارڈ 1987ء میں گرفتاری کے وقت انتیس برس کا ایک بھرپور جوان تھا اور جب وہ تیس برس بعد جیل سے باہر آیا تو اسکی ہڈیوں سے گوشت لٹکنے لگا تھا سر کے بڑے حصے سے بال غائب اورداڑھی کے بال مکمل طور پر سفید ہوچکے تھے یہ دو ’’دوست ‘‘ ممالک کے درمیان
مزید پڑھیے


’’خدارا !تماشہ نہ لگائیں ‘‘

هفته 14 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے آج تک بوری سے نکالی جا نے والی مڑے تڑے بازؤں والی وہ لاش نہیں بھولتی جسے شور مچاتی ایمبولینس کراچی کے سول اسپتال کے مردہ خانے میں لے کر پہنچی تھی اس وقت اس بدقسمت کے لئے مردہ خانے میں جگہ نہ تھی ،مردہ خانہ خون آلود لاشوں سے بھر چکا تھا ، اسکے درودیوار نے بھی انسانوں کی درندگی کے سامنے ہاتھ جوڑ لئے تھے ،یہ ان دنوں کی بات ہے جب مختلف مافیاز نے کراچی کے حصے بخرے کر رکھے تھے ۔لیاری کا علاقہ پیپلز پارٹی کے اس وقت کے چہیتے عذیر بلوچ کے پاس تھا
مزید پڑھیے



’’پچھتائے کیا ہوت۔۔۔‘‘

بدھ 11 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ گیارہ ماہ پہلے بیس دسمبر کا سرد دن تھاجب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نخوت بھرے انداز میں بھارتی نژاد امریکی سیاست دان اور کانگریس کی خاتون رکن پرمیلا جے پال سے ملنے سے انکار کر دیا اور اس انکار کی وجہ سے امریکی وفد سے ہونے والی ملاقات ہی کینسل کردی ،جے شنکر کے اس اقدام کو نئی دہلی کے انتہا پسندوں نے خوب سراہا اور اانہیں سچا دیش بھگت قرار دیابے جی پی سرکار نے بھی اسے خوب کیش کرایا کہ ’’چوکیدار‘‘ کے دم سے بھارتی سرکار
مزید پڑھیے


’’ جرنیل سنگھ ماضی نہیں حال …‘‘

اتوار 08 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
وہ موبائل فون کے کیمرہ سے بنا ہوا تیس چالیس سیکنڈ کا وڈیو کلپ تھا لیکن یہ چھوٹا ساکلپ ’’پڑوس‘‘ میں پھیلی بے چینی کی بڑی نشانی تھا ،یہ بھارتی پنجاب کا کوئی علاقہ تھا جہاں بڑی بڑی داڑھی مونچھوں اور رنگین پگڑی والے سکھ نوجوان موٹرسائیکلوں پر بیٹھے جلوس کی صورت میں کہیں جارہے تھے مجھے بھلا ان سکھ نوجوانوں کے کہیں آنے جانے سے کیا دلچپسی ہو نی تھی قریب تھا کہ میں اسے بے معنی سمجھ کر دے کر آگے بڑھ جاتاکہ مجھے کلپ میں سامنے سے فوجی ٹرک آتے دکھائی دیئے دو رویہ سڑک پر ایک
مزید پڑھیے


’’جناح نے سچ کہا تھا‘‘

پیر 02 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
شیخ عبداللہ دو قومی نظریئے کے مخالف اور مقبوضہ کشمیر میں کانگریسی فکرکے داعی تھے یہ آزاد خودمختار کشمیر براستہ دہلی کے حامی توتھے لیکن انکی حریت پسندی کانگریس نے اقتدار کے سنہرے پنجرے میں قید کرڈالی تھی ۔یہ وزیر اعلیٰ ہوئے ان کے بعد ان کا بیٹا فاروق عبداللہ اور پھر ان کا پوتا عمر عبداللہ بھی وزیر اعلیٰ رہا ۔شیخ عبداللہ کشمیر کی سیاست کا بڑا نام تھے ان کے ذکر کے بغیر کشمیر کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی ۔شیخ عبداللہ کتاب دوست آدمی تھے انہوں نے آتش چنار کے نام سے اپنی سوانح حیات بھی لکھی ہے
مزید پڑھیے


’’کوئی ہوگو شاویز کوئی بورس یلسن ۔۔۔‘‘

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ غالبا نوے کی دہائی کی بات ہے میں کراچی کے نواحی ساحلی علاقے ماری پور میں رہائش پذیر تھا ،ماری پور گریکس پاکستان ائیر فورس بیس مسروراور پاکستان میرین اکیڈمی کے درمیان آبادہے کراچی کے خوبصورت ترین ساحل ہاکس بے ،پیراڈائزپوائنٹ اور چمکتی ریت کی قالین جیسے سینڈزپٹ پر پہنچنے کے لئے ماری پورسے ہی گزر نا پڑتا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے نیلے پانیوں اور جھاگ دار لہروں والی یہ ساحلی پٹی عام لوگوں کی دسترس سے دور تھی صرف متمول لوگ ہی ہفتہ وار تعطیل کے دن
مزید پڑھیے


’’عمران خان کے بعد ۔۔۔؟‘‘

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
لکھتے لکھاتے بیس برس ہوچکے ہیں ،ان دو دہائیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اشک آہوں بے سکونی اضطراب اورسیاسی نیتاؤں کے وعدوں دعوئوں کے سوا کچھ نہیں ملتا ،ان برسوں میں ہر آنے والا دن گزرے دن سے زیادہ تلخ کڑوا اور تیزابی رہا،اگرکل کوئی کراہ رہاتھا توآنے والے کل اسے درد کی شدت سے چلاتے دیکھا، کل کسی کی آنکھوں میں نمی تھی تو اگلے روز اسے خون کے آنسو روتے دیکھا، زندگی کہیں خوبصورت اور رنگین ہوتی ہوگی مملکت خدادد میں اسے بے رنگ ہی پایاجس میںرنگ بھرنے کے لئے کبھی جیالوں نے وعدے کئے اور
مزید پڑھیے