Common frontend top

احسان الرحمٰن


’’گنڈاپور صاحب!‘‘


حضور !مان لیاسیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن کیاسیاست کی ناک قوت شامہ سے بھی محروم ہوتی ہے کہ وہ آنے والے خطرے کی بو نہ سونگھ سکے ۔کیا سیاست کی آنکھیں بصارت بھی نہیں رکھتیں یقینی طور پر دماغ کے وجود سے انکار نہیں کہ سازشوں اور مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے سوجھ بوجھ اسی کی مرہون منت ہے لیکن یہ دماغ کچھ مثبت نہیں سوچ سکتا ؟ اور رہ گئی زبان تو کیا اس کا ہر وقت مچلنا ضروری ہے ؟جس روز تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ کی حکومت علی امین گنڈاپورصاحب کے حوالے کی
هفته 08 جون 2024ء مزید پڑھیے

تاریخ کے ساتھ سیاست !

اتوار 02 جون 2024ء
احسان الرحمٰن
مجھے یقین ہے گھنی مونچھوںاورطویل نام کے مالک سام ہرمزجی فرامجی جمشیدجی مانیکشاکو آپ نہیں جانتے ہوں گے لیکن فیلڈ مارشل سیم بہادر کا نام آپ نے یقیناََسن رکھا ہوگا، وہی فیلڈ مارشل جس نے اکہتر کی جنگ میں اندرا گاندھی کی خواہش پرجنگ لڑنے سے انکار کر دیا تھا،اندرا گاندھی مارچ اکہتر میں مشرقی پاکستان کی جانب بھارتی فوج کی پیش قدمی چاہتی تھیں انہوں نے یہ بات اپنے آرمی چیف سیم بہادر سے کہی تو اس پارسی جرنیل کا جواب نفی میں تھا،اندرا گاندھی جزبز ہوکر وضاحت طلب نظروں سے دیکھا تو اس نے الٹا سوال کردیا’’کیا آپ
مزید پڑھیے


’’خدا کا واسطہ چپ ہی رہ لیں ‘‘

منگل 28 مئی 2024ء
احسان الرحمٰن
نعمان کا کا خیل خیبر پختونخوا کا نوجوان ماہر طبیعات ہے یہ ان گوہرنایاب میں سے ہے جنہوں نے وطن عزیز میں نمو پائی،یہاں کے سکولوں کالجوں اوریونیورسٹیوں میں پڑھا اور اس کے بعد ہمارے سسٹم نے انہیں اڑان بھرنے پر مجبور کردیا نعمان کاکاخیل کی منزل جنوبی کوریا تھی یہاں نعمان نے فزکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اس کے بعد اس کی منزل یورپ کا متمول ملک آسٹریا قرار پائی۔ نعمان آج کل آسٹریا میں تعلیم و تحقیق سے وابستہ ہے۔ آسٹریا اس کی خدمات کے عوض اسے بہترین مراعات اور تنخواہ دے رہا ہے چند ماہ
مزید پڑھیے


’’تھوڑا سا سوئیڈش ہونا ہوگا‘‘

جمعرات 23 مئی 2024ء
احسان الرحمٰن
سہیل سے گفتگو کا اختتام ہمیشہ اداسی کی صورت میں نکلتا ہے جس سے نکلنے کے لئے مجھے اپنے سیل فون یا لیپ ٹاپ سے مدد لینی پڑتی ہے جہاں اناپ شناپ خبریں بہت سے عفریتوںکی طرح ایک مزدور قلم کا ر کا منہ کھولے انتظار کررہی ہوتی ہیں میں ٹھنڈی سانس لے کر ان کے شکم میں جااترتا ہوں اور پھر کون سہیل اور کیسی اداسی، اعصاب شل کر دینے والی مصروفیت مجھے کھا جاتی ہے ۔آج مجھے سہیل یونہی یاد آگیاگھڑی پر وقت دیکھا یہاں اور جنت کے وقت کا موازنہ کیا اسکی جنت ہم سے تین گھنٹے
مزید پڑھیے


’’حافظ نعیم الرحمن اور منجمد جماعت اسلامی ‘‘

بدھ 24 اپریل 2024ء
احسان الرحمٰن
سید مجتبیٰ سے پرانی یاد اللہ ہے آج کل لندن میں ہوتے ہیں کسی زمانے میں کراچی سے پبلک اخبار شائع ہوتا تھامیں اور سید مجتبیٰ نیوز ڈیسک پر ساتھ کام کرتے تھے پھر سید صاحب لندن سدھار گئے لیکن رابطے میں رہتے ہیں ۔ایک دن بتانے لگے کہ 2015 ء میں کچھ فرصت ملی تو سوچا پی ایچ ڈی کر لی جائے،2500 الفاظ کا پرپوزل تیار کیا اور برطانیہ کی دو یونیورسٹیوں کو بھیج دیا، دوما ہ بعد برمنگھم یونیورسٹی سے اسسٹنٹ پروفیسر کیتھرین براؤن نے رابطہ کیا میںملاقات کے لئے گیا تو انہوں نے موضوع کے انتخاب کو
مزید پڑھیے



’’احتیاط لازم رہے ۔۔۔‘‘

بدھ 17 اپریل 2024ء
احسان الرحمٰن
نومبر 2019کی بات ہے ،اسلام آباد کی شہ رگ کشمیر ہائی وے ٹریفک کے لئے بند تھی مولانا فضل الرحمٰن کے عقیدت مندوں نے ڈیرے ڈالررکھے تھے ،گھنے درختوں کے نیچے جمعیت علمائے اسلام کے سادہ مزاج باشرع کارکنوں کا ٹھکانہ تھا۔ملک بھر سے جمعیت کے کارکن اپنے قائد کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے یہاں آئے تھے اسی شاہرا ہ پر ایک پیدل برج کو اسٹیج بنا لیا گیا تھا ۔مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے قائد اس اسٹیج سے حکومت ِوقت کو للکارتے ، خطابت کے جوہر دکھاتے، کارکنوں کا لہو گرماتے ،نوید سناتے کہ
مزید پڑھیے


’’کون آئے گا اس خرابے میں ۔۔۔ ‘‘

بدھ 03 اپریل 2024ء
احسان الرحمٰن
کوئی دن نہیں جاتا کہ وطن عزیز میں ’’نیا چاند‘‘ نہ چڑھے بلکہ ایک دن میں کئی کئی چاند چڑھا دیئے جاتے ہیں ، سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کے لئے روز ہی وہ چاند چڑھا رہے ہوتے ہیں، اب تو اتنے چاند چڑھے ہوتے ہیں کہ لاہور میں پتنگیں کیا چڑھی ہوتی ہوں گی۔ دیکھنے والے تھک اور سننے والے بھی بیزار ہوچکے ہیں لیکن ان چاند بازوں کسی کو احساس ہی نہیںکہ وطن عزیزکے گرد کس طرح سے گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ،خزانہ خالی ہے ، قرض اور سود سے مشکیں کسی ہوئی ہیں ،توانائی
مزید پڑھیے


’’پاکستان نے کیا بگاڑا ہے ؟‘‘

جمعرات 28 مارچ 2024ء
احسان الرحمٰن
ترکی میں قیام کے دوران قدم قدم پر کوئی نہ کوئی حیرت کدہ میرا منتظر ہوتا تھا، وہاں جگہ جگہ افسوس میں غرق ہونے والے ترکوں کے شاندار ماضی کی نشانیاں دکھائی دیتیں توپ کاپی میوزم سے لے کراستنبول کے گرد کھنچی شہر کی فصیل تک ،انسان مرعوب ہوئے بنا نہیں رہ سکتا لیکن دن بھر کی آوارہ گردی کے بعدمیں جب میری کمر بستر سے لگتی تو خیال آتا کہ کاش سلطنت عثمانیہ ماضی کا کوئی اداس ورق نہ ہوتاتو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ سلطنت عثمانیہ کے عروج وزوال کے اسباب پر بڑی بڑی ضخیم
مزید پڑھیے


’’ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے نقش پا‘‘

منگل 19 مارچ 2024ء
احسان الرحمٰن
یہ کراچی کے ان دنوں کی بات ہے جب شہر پرایم کیو ایم کا راج تھا جس کے قائد ٹھنڈے ٹھار لندن کے مہنگے علاقے میں قوم کے غم میں دبلے ہوئے جاتے تھے۔ وہ بے شک کراچی میں نہیں تھے لیکن بھائی کا آرڈر چلتا تھا بھائی نے کہہ دیا دن ہے تو کسی کی مجال نہیں کہ اماوس کی رات کو بھی رات کہہ دے۔ بھائی نے کہہ دیا رات ہے تو سورج سوا نیزے پر آاترے ،روشنی ایسی ہو کہ بندہ بھوسے کے ڈھیر سے بھی سوئی کھوج لے وہ رات ہی کہلائے گی دن نہیں ۔ان
مزید پڑھیے


’’جس شاخ پر آشیانہ ہے اسے توبخش دیں ۔۔۔‘‘

بدھ 13 مارچ 2024ء
احسان الرحمٰن
تبدیلی آگئی ،عام انتخابات اور عام انتخابات کے بعدوزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر کے مکینوں کا بظاہرپانچ برسوں کے لئے فیصلہ ہو گیا ، شہبازشریف نے دوسری بارمشکل ترین وقت میں قوم کی قیادت سنبھالی ہے او ر آصف علی زرداری بھی دوسری بارصدر مملکت کے عہدے پر فائز ہوگئے اب ملکی قیادت کے سامنے مشکل ترین اہداف ہیں جس میں سب سے بڑا ہدف قرضوں کا وہ پہاڑ ہے جو سر ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اب حکومت نے کیا کرنا ہے اور کیا پالیسی اختیار کرنی ہے یہ عیاں ہے ہمارے پاس قرض چکانے کے لئے قرض
مزید پڑھیے








اہم خبریں