Common frontend top

BN

احسان الرحمٰن


’’دہشت وحشت کی بساط‘‘


وہی دہشت و وحشت کی دہائیوں پرانی کہانی ، آہیں کراہیں اور کبھی ختم نہ ہونے والے اشک ۔۔۔وقت ،مقام ،کردار بدل گئے لیکن کہانی وہی تھی ، نمازیوں سے بھری مسجد ،صفوں میں کاندھے سے کاندھا ملائے نمازی ،نظریں جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے تھے کہ دھماکا ہوا اور جو رب کے حضور کھڑے تھے وہ رب کے حضور پیش ہوگئے ،پولیس لائنزپشاور کی مسجدمیں دھماکے کے بعد دھواں چھٹا تو وہی منظر تھا ،مسجد کے فرش پر کٹے پھٹے انسانی اعضاء بکھرے اور دیواروں پر گوشت کے لوتھڑے چپکے ہوئے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں زندگیاں موت
هفته 04 فروری 2023ء مزید پڑھیے

’’ انگور کھٹے ہوگئے۔۔۔‘‘

جمعرات 02 فروری 2023ء
احسان الرحمٰن
اب سن یاد نہیں آرہا لیکن یہ خوب یاد ہے کہ کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہفت روزہ تکبیرکے مدیر صلاح الدین شہید کے یوم شہادت کا پروگرام تھا، جنرل حمید گل صاحب بھی اس پروگرام میں مدعو تھے۔ ہم ان دنوں ایک اردو روزنامے سے وابستہ تھے اور اس اخبار میں کام کرتے تھے جس کے مالک و ایڈیٹرکے جنرل صاحب سے قریبی مراسم تھے وہ انہیں انکل کہا کرتے تھے اور ان کا گھر کے کسی بڑے کی طرح ہی احترام کرتے تھے، حمید گل صاحب اک مخصوص مزاحمتی سوچ کے علمبردار تھے ۔جہاد افغانستان میں ان
مزید پڑھیے


’’نیلسن منڈیلا اور فواد چوہدری‘‘

اتوار 29 جنوری 2023ء
احسان الرحمٰن
یہ ان دنوں کی بات ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کا سورج نصف النہار پر تھا۔روشن دن میںسب کچھ واضح تھا، حد نگاہ بھی بہترین تھی دور تک دکھائی دے رہا تھا اور دن کی روشنی میںدیکھا جا سکتا تھاکہ سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے ،شطرنج کی بچھی بساط پر حریف آمنے سامنے تھے۔ وقت کی یاوری سے’’ کپتان ‘‘شہ مات کا نعرہ لگا کر تخت نشین ہوتو چکے تھے لیکن کھیل ختم نہیں ہوا تھا ۔کھیل ختم بھی نہیں ہونا ۔صبح قیامت تک بساط بچھی رہنی ہے ۔۔۔سازشوں اور خواہشوں کے شہر اسلام آباد میں بچھی
مزید پڑھیے


’’پاک سعودیہ تعلقات‘‘

هفته 21 جنوری 2023ء
احسان الرحمٰن
یہ جاتے برس کا ایک اداس دن تھا ، دیواروں پرکلینڈر 71ء کا سن اور 16دسمبر کا دن بتا رہاتھا،دنیامیں ایک ہی خبر موضوع بحث اور عالمی نشریاتی اداروں کی ہیڈلائن تھی کہ پاکستان دو لخت ہوگیا ، مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے جدا ہو کر بنگلہ دیش بن چکا ہے ،یہ خبر پاکستانیوں کے لئے روح فرسا تو تھی ہی پاکستان کے خیر خواہوں کے لئے بھی افسوس ناک تھی ،اسلام آباد سے 4000کلومیٹر دور سعودی عرب میں جب یہ خبر سعودی فرماں روا شاہ فیصل تک پہنچی تووہ اس وقت ام القراء کی معتبر ہستیوں کے ساتھ تھے
مزید پڑھیے


’’ انگور کھٹے ہوگئے۔۔۔‘‘

منگل 03 جنوری 2023ء
احسان الرحمٰن
اب سن یاد نہیں آرہا لیکن یہ خوب یاد ہے کہ کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں ہفت روزہ تکبیرکے مدیر صلاح الدین شہید کے یوم شہادت کا پروگرام تھا، جنرل حمید گل صاحب بھی اس پروگرام میں مدعو تھے ہم ان دنوں ایک اردو روزنامے سے وابستہ تھے اور اس اخبار میں کام کرتے تھے، جس کے مالک و ایڈیٹرکے جنرل صاحب سے قریبی مراسم تھے وہ انہیں انکل کہا کرتے تھے اور ان کا گھر کے کسی بڑے کی طرح ہی احترام کرتے تھے،حمید گل صاحب اک مخصوص مزاحمتی سوچ کے علمبردار تھے، جہاد افغانستان میں ان کا
مزید پڑھیے



’’ سر شرم سے جھک گئے۔۔۔‘‘

جمعرات 29 دسمبر 2022ء
احسان الرحمٰن
این ڈی خان پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنما ہیں ،یہ چڑھی جوانی میں ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں مبتلا ہوئے اورپھر زندگی اسی عشق میں گھول دی اب بھی اسی عشق کے ساتھ پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ڈھلتی عمرکی اداس شامیں گزار رہے ہیں ، یہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیربھی رہ چکے ہیں ۔اب سیاست سے الگ تھلگ ہیں۔ویسے بھی آج کل کی متعفن سیاست ان کے بس کی بات نہیں۔برسرِآمد مطلب آج وہ اوران کے سیاسی حریف و’’مشیر‘‘ پروفیسر غفوراحمد صاحب بے طرح یاد آرہے ہیں۔۔۔ آپ چونک پڑیں ہوںگے کہ جماعت
مزید پڑھیے


’’اچھا ہے آج قائد اعظم حیات نہیں !‘‘

پیر 26 دسمبر 2022ء
احسان الرحمٰن
وہ نوجوان خاصا پرجوش اور فکر مند تھا ۔اسکے چہرے کی تمتماہٹ بتا رہی تھی کہ اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کرلیا ہے لیکن ساتھ ہی آنکھوں سے فکرمندی اور تشویش بھی جھلک رہی تھی ۔وہ کسی سے ملاقات کا منتظر تھاجو بہت ہی غیر معمولی اور اہم تھی۔ بلآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ اس دھان پان سے ’’ہیوی ویٹ‘‘ کے سامنے بیٹھ گیا جس نے تاج برطانیہ اور ان کے کاسہ لیسوںکو وخت ڈال رکھا تھا ، نوجوان نے تیزی سے چند رسمی جملے کہے مختصر سی تمہید باندھی اورایک فائل سامنے کردی ،
مزید پڑھیے


’’بیچارہ صدر امریکہ اور اپنے خان صاحب‘‘

بدھ 14 دسمبر 2022ء
احسان الرحمٰن
یہ 2005 کی بات ہے جب ایک کتے نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کے دو اہم اداروں کو الجھن میں ڈال دیا۔ دراصل مسئلہ’’بیلکن ‘‘ کا کتا ہونا یا بلغاریہ سے امریکہ آنانہیں تھا مسئلہ یہ بھی نہیں تھا کہ وہ ایک جیتا جاگتا بھاگتا دوڑتا اور بھونکتا ہوا کتا ہے۔ امریکہ میں لگ بھگ نو کروڑ کتے ہیں ان میں ایک بیلکن بھی ہوجاتا تو کسی کتے کا کیا بگڑ جاتا ؟لیکن مسئلہ یوںبن گیا کہ چھوٹا سا پلا بیلکن ایک تحفہ تھا اور دونوں اداروں کے درمیان جاری کشمکش کا سبب اس کا تحفہ ہونا ہی تھا،
مزید پڑھیے


’’جنرل عاصم منیر ۔۔۔امام کعبہ کی دعا‘‘

اتوار 04 دسمبر 2022ء
احسان الرحمٰن
اس جوان العمر افسر نے پاکستانی کنسلٹنٹ کو مشکل میں ڈال دیا،وہ اگر کہیں رہائش کی بات کرتا تو اسکے لئے بہترین رہائش کا انتظام ہوسکتاتھاکہیں آنے جانے میں سہولت کا طالب ہوتا توڈرائیور بمع گاڑی کے دے دی جاتی کوئی اور مسئلہ ہوتا تو اس کے حل کی بھی کوشش ہوسکتی تھی لیکن اس نے بات ہی ایسی کی تھی جو مشکل تھی ، پاکستانی کنسلٹنٹ کی نظریں اسکے چہرے پر جم گئیں اسکی آنکھوں میں عقیدت کے چراغوں کی لو تھرتھرارہی تھی، پاکستانی کنسلٹنٹ نے کچھ دیر سوچا اور سفید سنگ مرمر کے شفاف فرش پر چلتے ہوئے
مزید پڑھیے


مہذب اقوام اور ہم!

بدھ 31  اگست 2022ء
احسان الرحمٰن
اکتالیس سالہ اینی اسپیگل جرمنی کی نوجوان سیاست دان ہیں ۔اینی نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 2006ء میں کیا، وہ فیملی سسٹم پر یقین رکھنے والی سیاست دان کے طور پر سامنے آئیں، اپنے اٹھارہ سالہ کیریئر میں اینی کی کارکردگی اچھی رہی، وہ اپنی جاندار مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں ۔چار بچوں کی ماں اینی جرمنی کی ریاست رہائن لینڈ پلانٹینٹے میں دو بار وزیر رہیں، ایک بار ڈپٹی منسٹر پریذیڈنٹ بھی رہیںآ۔خرکار وہ پچیس دسمبر 2021میں علاقائی سیاست سے جمپ کرکے جرمنی کی وفاقی کابینہ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔انہیں فیملی افیئرز کاقلمدان دیا گیا۔اینی
مزید پڑھیے








اہم خبریں