BN

احسان الرحمٰن


’’ ہزارہ ہی کیوں،کھیل کو سمجھیں ‘‘


یہ لگ بھگ تین برس پہلے کی بات ہے جب اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے ریل گاڑی میں میری ملاقات مچی ہو ئی آنکھوں والی ہزارہ فیملی سے ہوئی ،گورا رنگ ،چینی تبتیوں کی طرح سیاہ چمکددار چھوٹی چھوٹی آنکھیں پہلی نظر میں یہی گمان ہوا کہ وہ کوئی مسلم چینی فیملی ہے لیکن جب انہوں نے برتھ پر سامان رکھتے ہوئے فارسی میں بات کرنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ یہ کوئٹہ کے ہزارہ ہیں یہ میری کسی بھی ہزارہ فیملی سے پہلی ملاقات تھی وہ تین لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا ایک لڑکی کے ہاتھوں پر
پیر 11 جنوری 2021ء

’’امر جیت سنگھ کا آخری خط ‘‘

جمعرات 07 جنوری 2021ء
احسان الرحمٰن
یہ گئے برس 2020کے مئی کی بات ہے جب کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونیں لکیر کے پار بھارتی فوج نے ایک مشکوک کبوتر کو اڑتے دیکھا ،دیش بھگت بھارتی پولیس کے کان کھڑے ہوگئے جھٹ سے کبوتر باز بلائے گئے اورکتنے ہی جتن کرکے وہ کبوتر نیچے اتار اگیا اورخبراڑادی گئی کہ بھارتی فورسز نے پاکستانی جاسوس کبوتر ’’گرفتار‘‘کر لیا ،کبوتر خفیہ مشن پر تھا جس کے پاؤں میں پڑے چھلے پر کچھ نمبر بھی درج ہیں ،سنسنی خیزی کی کاشت میں دنیا بھرمیں سرفہرست بھارتی میڈیا نے حد ہی کردی ،جاسوس کبوتر کی گرفتاری کو ہیڈلائینز میں لے
مزید پڑھیے


’’جینے کا لائسنس ‘‘

منگل 05 جنوری 2021ء
احسان الرحمٰن
پندرہ بر س تو ہو چکے ہوں گے لیکن میں اس نوجوان کی آنکھوں میں چھپا خوف آج تک نہیں بھلا سکا ،وہ اکیس بائیس برس کا ایک میمن سیلزمین تھا ،کراچی میں رہنے والے جانتے ہیں کہ کراچی کے میمن کارو باری لوگ ہوتے ہیں یہ کسی پنگے میں نہیں پڑتے صبح سے شام تک کاروبار اور رات دیر تک کسی چائے خانے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر دودھ پتی چائے کی چسکیاں اور گپیں ہانکنا انکا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے وہ بھی ایسا ہی ایک میمن نوجوان تھا پتلا دبلا اور درمیانے قدکا، وہ ایک سیٹھ کے
مزید پڑھیے


’’ایسا سوچتا کون ہے !‘‘

جمعه 01 جنوری 2021ء
احسان الرحمٰن
صاحب نے گرم چائے کی چسکی لی، پسندیدگی کا اظہار کیا اور گویا ہوئے ’’1998ء یاد تو ہوگا انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی کے واجپائی جی وزیراعظم بن کر دہلی پہنچ چکے تھے اندازہ تھا کہ اب کچھ نہ کچھ ہوکر رہے گا بھارت کی ہندو توا سوچ اب کھل کرکھیلنے کی پوزیشن میں تھی اور پھر ایسا ہی ہوا واجپائی نے ’’پوکھران ٹو‘‘ اور ’’آپریشن شکتی ‘‘کی منظوری دے دی پھربھارت نے گیارہ اورتیرہ مئی1998ء کو راجھستان کے علاقے پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کرکے نیو کلیئر کلب کی رکنیت لے لی ،کامیاب ایٹمی دھماکوں کے
مزید پڑھیے


’’قائداعظم کتنے سیکولر ‘‘

هفته 26 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ رواج سا ہوتا جارہا ہے کہ پچیس دسمبر آتے ہی سیکولرزم کے سیلز مین کپڑے جھاڑ کردکان کے باہر آکھڑے ہیں ،بالکل بچت بازار کے ان پھل فروشوں کی طرح جو شام ہوتے ہی سامنے پڑا سامان بیچنے کے لئے ’’ہوگئی شام گرگیا دام ۔۔۔ہوگئی شام گرگیا دام ‘‘کی آوازیں لگانا شروع کردیتے ہیں ،یوم قائد آتے ہی لبرل بازاراور سیکولر منڈی کے بزعم خودمسنددانش پر براجمان سیلزمین کپڑے جھاڑ کر منہ کے دہانے کے ساتھ کھڑی ہتھیلی لگا کرآوازیں لگانے لگتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر تھے قائد اعظم لبرل تھے ۔۔۔ ان سیلز مینوں کے پاس قائد
مزید پڑھیے



’’کاش میں ہم کوئی شیر سنگھ بھی ہوتا‘‘

اتوار 20 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ دو کہانیاں ہیں پہلی کہانی 180سال پہلے کے ایک قید ی دروازے کی ہے یہ تب کی بات ہے جب پشاور میں بھی راجہ رنجیت سنگھ کی نوبت بجتی تھی ،سکھوں کی حکومت کا دور دورہ تھا پشتون اس وقت بھی باغی تھے مہمند قبائل کے جانباز اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر سکھاشاہی کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے تھے ،ان حریت پسندوں کا پسندیدہ کام گوریلا کارروائیاں تھا ،رنجیت سنگھ نے پشتون باغیوں پر نظر رکھنے کے لئے پشاور کے قریب دو دریاؤںکے بیچ ایک علاقے میں قلعے کی تعمیر کا فیصلہ کیا ،یہ علاقہ شریف کور
مزید پڑھیے


’’ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔۔۔‘‘

بدھ 16 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
مینار پاکستان پر حزب اختلاف کی قوت کا مظاہرہ کتنا کامیاب رہاا ور کتنا ناکام ،یہ لاکھوں لوگوں کا ٹھاٹے مارتا سمندر تھا یہ کوئی چھوٹی موٹی موج،یہ بھرپور جلسہ تھا یا محض جلسی ۔۔۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، حکومت اسے ناکام شو قراردے کر پھبتیاں کس رہی ہے اور اپوزیشن اسے بھرپور جلسہ کہہ کرمسلز دکھارہی ہے۔ جلسہ نہ ہوگیا اندھیرے میں ہونے والی لڑائی ہوگئی مار کھانے والے کا پتہ چل رہا ہے نہ پٹائی کرنے والے کا علم ہو رہا ہے۔ دونوں ہی مونچھوں کو تاؤ دے کر رستم زماں کا پوز دے رہے ہیں
مزید پڑھیے


’’سانپ نہ پالیں ‘‘

اتوار 13 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ کوئی نئی بات ہے نہ اچھوتی مجھے تواس پر بالکل حیرت نہیں ہوئی بلکہ اگر کسی سمجھ دار بندے کو حیرت ہوئی ہے تو مجھے اسکی حیرت اور سمجھ پر حیرت ہے۔ بھارت نے یہی کچھ کرنا تھا یہ سب نہ ہوتا تو حیرت ہوتی ،اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو ٹیکسلا کی مٹی سے اٹھنے والے ہندو دانشور چانکیہ کی خارجہ پالیسی کے چھ نکات بتانا چاہتاہوں ، 283قبل مسیح میں پیدا ہونے والاٹیکسلا کا یہ برہمن زادہ بلا کا ذہین فطین شخص تھا،چانکیہوشنو گپت کی دانائی ذہانت اپنی جگہ لیکن اس میں پائی جانے
مزید پڑھیے


’’بس کرپشن رہ جائے گی!! ‘‘

جمعرات 10 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ غالبا 2000ء کی بات ہے میں اس وقت صحافت سے راہ فرار اختیار کرکے ایک پے کارڈ فون کمپنی میں بطور ڈپٹی ایڈمن منیجر ملازمت کررہا تھا بلوچ کالونی کراچی میں واقع دفتر میں میرے ذمہ ّآگ بگولہ صارفین پر ٹھنڈا پانی بھی ڈالنا تھا ان دنوں موبائل فونزاتنے عام نہیں تھے اور پبلک کال آفس کا کاروبار زوروں پر تھا دفتر میں ہر روز درجنوں لوگ فون لگوانے آتے تھے اور اتنے ہی وہ آگ بگولہ بھیِ ،جو رجسٹریشن کروانے اور رقم کی ادائیگی کے بعد بھی پی سی او کی نعمت سے محروم تھے ان ہی دنوں
مزید پڑھیے


’’کاون اور نصف بیوائیں ‘‘

هفته 05 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
سری لنکا میں پیدا ہونے والا کاون صرف چار سال کا تھا جب اسے سری لنکا سے پاکستان لایا گیا،اس وقت پاکستان کے حکمران جنرل محمد ضیاء الحق نے سر ی لنکن حکومت سے درخواست کرکے کاون کو مانگا تھا ،تامل ٹائیگر کی بغاوت کچلنے میں مدد دینے پر سری لنکن حکومت پاکستان کی ممنون تھی جنرل ضیاء الحق سری لنکا میں محسن کے طور پر جانے جاتے تھے جنرل صاحب کی فرمائش پر سونڈ لہراتا جھومتا جھامتا کاون اسلام آبا دمیں مارگلہ کی سرسبز پہاڑیوں کے قریب بنائے گئے چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا، اسلام آبا
مزید پڑھیے