BN

احسان الرحمٰن


’’کوئی ہوگو شاویز کوئی بورس یلسن ۔۔۔‘‘


یہ غالبا نوے کی دہائی کی بات ہے میں کراچی کے نواحی ساحلی علاقے ماری پور میں رہائش پذیر تھا ،ماری پور گریکس پاکستان ائیر فورس بیس مسروراور پاکستان میرین اکیڈمی کے درمیان آبادہے کراچی کے خوبصورت ترین ساحل ہاکس بے ،پیراڈائزپوائنٹ اور چمکتی ریت کی قالین جیسے سینڈزپٹ پر پہنچنے کے لئے ماری پورسے ہی گزر نا پڑتا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے نیلے پانیوں اور جھاگ دار لہروں والی یہ ساحلی پٹی عام لوگوں کی دسترس سے دور تھی صرف متمول لوگ ہی ہفتہ وار تعطیل کے دن
جمعرات 29 اکتوبر 2020ء

’’عمران خان کے بعد ۔۔۔؟‘‘

بدھ 14 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
لکھتے لکھاتے بیس برس ہوچکے ہیں ،ان دو دہائیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اشک آہوں بے سکونی اضطراب اورسیاسی نیتاؤں کے وعدوں دعوئوں کے سوا کچھ نہیں ملتا ،ان برسوں میں ہر آنے والا دن گزرے دن سے زیادہ تلخ کڑوا اور تیزابی رہا،اگرکل کوئی کراہ رہاتھا توآنے والے کل اسے درد کی شدت سے چلاتے دیکھا، کل کسی کی آنکھوں میں نمی تھی تو اگلے روز اسے خون کے آنسو روتے دیکھا، زندگی کہیں خوبصورت اور رنگین ہوتی ہوگی مملکت خدادد میں اسے بے رنگ ہی پایاجس میںرنگ بھرنے کے لئے کبھی جیالوں نے وعدے کئے اور
مزید پڑھیے


’’ ائیربڈز ‘‘

اتوار 11 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
’’کیا۔۔۔!‘‘ اس شخص کی مدقوق آنکھیں جیسے کسی دھچکے سے باہر نکل آئی ہوں ،ان آنکھوں میں شدید بے یقینی تھی ایسی بے یقینی جس میں کرب کی گہری آمیزش ہوتی ہے اسکی نظریں شیشے کے شوکیس کے پار کھڑے سیلز مین پر تھیں وہ احتجاج کرنے لگا’’ابھی دس دن پہلے ہی تو میں لے کر گیا تھا،آپ لوگوں نے اچھا مذاق بنا لیا ہے ۔۔۔پانچ دس روپے بڑھ جائیں تو چلو بات سمجھ میں آتی ہے ،آپ کس حساب سے ساٹھ روپے کی دوا کے 219روپے مانگ رہے ہو‘‘۔اسکے بلند ہوتے ہوئے لہجے میں احتجاج شامل ہوتا چلا گیا
مزید پڑھیے


’’پس احتیاط لازم ہے‘‘

منگل 06 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ تقسیم سے پہلے کی بات ہے جب سرخ پوش رہنما باچا خان کانگریسی رہنما جواہر لعل نہرو کو لے کر وزیرستان پہنچے ان کے اس دورے کا مقصد پشتونوں کو ہندوستان کے بٹوارے کے نقصانات سے آگاہ کرنا اور متحدہ ہندستان کی ماتحتی کے لئے منانا تھا،باچا خان کی یہ کوشش خاصی مہنگی ثابت ہوسکتی تھی یہ دورہ جواہر لعل نہرو کے لئے خطرناک بھی ہوسکتا تھا کہ قبائلی علاقے اگرچہ دور دراز کے کٹے ہوئے علاقے تھے لیکن ایسا نہیں تھا کہ انہیں سیاسی صورتحال کا یکسر علم نہ تھا اور وہ ہندؤں کے عزائم سے واقف نہ
مزید پڑھیے


’’بدہضمی‘‘

اتوار 04 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر ایک طویل عرصے تک برطانیہ کی وزیر اعظم رہی ہیں وہ برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جو گیارہ سال تک برسراقتدار رہیں انہوں نے بڑے بڑے فیصلے کئے جن کا برطانیہ ہی نہیں یورپ کی سیاست اور معیشت پربھی اثر پڑا، انہیں ان دلیرآنہ فیصلوں کی وجہ سے آئرن لیڈی بھی کہا جاتاتھا لیکن دلچسپ بات یہ کہ اس آئرن لیڈی کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ ذہانت کے اعتبار سے بس ایک اوسط درجے کی ہی خاتون ہیں کوئی بہت ذہین فطین سیاست دان نہیں،یہ بات
مزید پڑھیے



’’ ہاکی ختم کردیں‘‘

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
احسان الرحمٰن
شائد کیا یقینامیں ہاکی کی اسیر رہنے والی آخری پاکستانی پیڑھی سے ہوں،میر ی یاداشت نے اب تک ہاکی کے بے بددل کمنٹیٹر ایس ایم نقی کی سمیع اللہ ،کلیم اللہ کے ناموں کی گردان محفوظ کررکھی ہے ایس ایم نقی جوش سے بھری آواز میں کہتے ’’گیند سمیع اللہ کے پاس۔۔انہوںنے ایک کھلاڑی کو ڈاج دیا آگے بڑھے بھارتی کپتان ان سے گیند چھینے کے لئے سامنے آئے انہوں نے کلیم اللہ کو پاس دے دیا کلیم اللہ تیز ی آگے بڑھے بھارتی کھلاڑی سائے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ ۔۔۔انہوںنے ایک کو ڈاج دی اور گیند
مزید پڑھیے


’’ کھبے کیوں نہ بولے ‘‘

اتوار 27  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ 2015ء کی بات ہے جب شہداد پور کے چھوٹے سے گاؤں تاجن ڈاھری میںایک پروفیسر کی زمین پر کھیتی باڑی کرنے والے ہندو خاندان نے ہجرت کا فیصلہ کیا،بھیل برادری سے تعلق رکھنے والے بڈھا بھیل کے اس ہاری خاندان کا خیال تھا کہ دیوی دیوتاؤں کی زمین ان کے سارے دکھ درد دور کردے گی آخر کو ہندوستان ان کا اپنا ’’ہندواستھان‘‘ جو ہے وہ وہاں گنگا جل میںاشنان کیا کریں گے ،مندر کے گھنٹے بجائیں گے ،بھجن گائیں گے ،پرشاد کھائیں گے ،محنت مزدوری کریں گے اور اچھے اچھے کرم کریں گے تاکہ بھگوان آنے والے
مزید پڑھیے


کراچی کو سننا ہوگا…

هفته 26  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
وہ تصویرغالبا کراچی کے ایک پیدل برج کی ہے جس پر قطار سے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے پرچم اس ترتیب سے لگے ہوئے ہیں کہ ایک پرچم ایم کیو ایم اور ایک جماعت اسلامی کا ،پل کی پرچم بردار ریلنگ پرجماعت اسلامی کا ایک بڑا سا بینر بھی آویزاں ہے جس پر جلی لفظوں میں تحریر ہے ’’ ہم تین کروڑ ہیں ڈیڑھ کروڑ نہیں ،جعلی مردم شماری نامنظور‘‘یہ تصویر کراچی کے بدل جانے والے سیاسی موسم کا پتہ دے رہی ہے ورنہ ایک ہی صف میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے پرچم کیسے لگ
مزید پڑھیے


’’کشمیریوں کا لہو’’لہو‘‘ نہیں‘‘

منگل 22  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
میں نہیں جانتا کہ اب وہ بچہ کہاںہوگا ،اگر وہ لہو میں لتھڑی جنت ارضی کو تقسیم کرنے والی خونیں لکیر پھر سے عبور کر گیا، توغالب گمان یہی ہے کہ اس کے کسی گوشے میں کہیں سینے پر زخموں کے کبھی نہ مرجھانے والے پھول لئے ابدی نیند سو رہا ہوگا، یہ 1998ء کی بات ہے جب کراچی کے صحافیوں کا ایک وفد جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شرکت کے لئے کراچی سے اسلام آباد پہنچاتھا اورپھر یہاں سے اسی مقبوضہ جنت ارضی کی جانب روانہ ہوا،اس وفد کے شرکاء میں اس وقت کے نوجوان اور نوآمیز
مزید پڑھیے


’’سترہ ستمبر۔۔۔‘‘

جمعه 18  ستمبر 2020ء
احسان الرحمٰن

ہائے ! وہ بھی کیا دن تھے ابھی سترہ ستمبر میں سترہ دنوں کی مسافت ہو اکرتی تھی کہ شہر قائد کی دیواریں ’’قائد‘‘ کی چاکنگ سے رنگین ہوجاتیں،کیا ایم اے جناح روڈ اور کیا شاہراہ فیصل ،کیا دہلی کالونی اور کیا ناگن چورنگی لیاری اور پشتون بلوچ،سندھی آبادیوں کو چھوڑ کر کراچی کے ہر علاقے میں ’’قائد‘‘کی جے جے کار ہوتی،اہل علاقہ پر سترہ ستمبر کے روز خیر مقدمی بینرزپوسٹر اور وال چاکنگ اور جشن فرض ہوا کرتی تھی کسی علاقے سے اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی تو اس پورے علاقے کواسکا اجتماعی کفارہ ادا کرناپڑتا جو
مزید پڑھیے