BN

احسان الرحمٰن


’’قائداعظم کتنے سیکولر ‘‘


یہ رواج سا ہوتا جارہا ہے کہ پچیس دسمبر آتے ہی سیکولرزم کے سیلز مین کپڑے جھاڑ کردکان کے باہر آکھڑے ہیں ،بالکل بچت بازار کے ان پھل فروشوں کی طرح جو شام ہوتے ہی سامنے پڑا سامان بیچنے کے لئے ’’ہوگئی شام گرگیا دام ۔۔۔ہوگئی شام گرگیا دام ‘‘کی آوازیں لگانا شروع کردیتے ہیں ،یوم قائد آتے ہی لبرل بازاراور سیکولر منڈی کے بزعم خودمسنددانش پر براجمان سیلزمین کپڑے جھاڑ کر منہ کے دہانے کے ساتھ کھڑی ہتھیلی لگا کرآوازیں لگانے لگتے ہیں کہ قائد اعظم سیکولر تھے قائد اعظم لبرل تھے ۔۔۔ ان سیلز مینوں کے پاس قائد
هفته 26 دسمبر 2020ء مزید پڑھیے

’’کاش میں ہم کوئی شیر سنگھ بھی ہوتا‘‘

اتوار 20 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ دو کہانیاں ہیں پہلی کہانی 180سال پہلے کے ایک قید ی دروازے کی ہے یہ تب کی بات ہے جب پشاور میں بھی راجہ رنجیت سنگھ کی نوبت بجتی تھی ،سکھوں کی حکومت کا دور دورہ تھا پشتون اس وقت بھی باغی تھے مہمند قبائل کے جانباز اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر سکھاشاہی کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے تھے ،ان حریت پسندوں کا پسندیدہ کام گوریلا کارروائیاں تھا ،رنجیت سنگھ نے پشتون باغیوں پر نظر رکھنے کے لئے پشاور کے قریب دو دریاؤںکے بیچ ایک علاقے میں قلعے کی تعمیر کا فیصلہ کیا ،یہ علاقہ شریف کور
مزید پڑھیے


’’ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔۔۔‘‘

بدھ 16 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
مینار پاکستان پر حزب اختلاف کی قوت کا مظاہرہ کتنا کامیاب رہاا ور کتنا ناکام ،یہ لاکھوں لوگوں کا ٹھاٹے مارتا سمندر تھا یہ کوئی چھوٹی موٹی موج،یہ بھرپور جلسہ تھا یا محض جلسی ۔۔۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، حکومت اسے ناکام شو قراردے کر پھبتیاں کس رہی ہے اور اپوزیشن اسے بھرپور جلسہ کہہ کرمسلز دکھارہی ہے۔ جلسہ نہ ہوگیا اندھیرے میں ہونے والی لڑائی ہوگئی مار کھانے والے کا پتہ چل رہا ہے نہ پٹائی کرنے والے کا علم ہو رہا ہے۔ دونوں ہی مونچھوں کو تاؤ دے کر رستم زماں کا پوز دے رہے ہیں
مزید پڑھیے


’’سانپ نہ پالیں ‘‘

اتوار 13 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ کوئی نئی بات ہے نہ اچھوتی مجھے تواس پر بالکل حیرت نہیں ہوئی بلکہ اگر کسی سمجھ دار بندے کو حیرت ہوئی ہے تو مجھے اسکی حیرت اور سمجھ پر حیرت ہے۔ بھارت نے یہی کچھ کرنا تھا یہ سب نہ ہوتا تو حیرت ہوتی ،اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو ٹیکسلا کی مٹی سے اٹھنے والے ہندو دانشور چانکیہ کی خارجہ پالیسی کے چھ نکات بتانا چاہتاہوں ، 283قبل مسیح میں پیدا ہونے والاٹیکسلا کا یہ برہمن زادہ بلا کا ذہین فطین شخص تھا،چانکیہوشنو گپت کی دانائی ذہانت اپنی جگہ لیکن اس میں پائی جانے
مزید پڑھیے


’’بس کرپشن رہ جائے گی!! ‘‘

جمعرات 10 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ غالبا 2000ء کی بات ہے میں اس وقت صحافت سے راہ فرار اختیار کرکے ایک پے کارڈ فون کمپنی میں بطور ڈپٹی ایڈمن منیجر ملازمت کررہا تھا بلوچ کالونی کراچی میں واقع دفتر میں میرے ذمہ ّآگ بگولہ صارفین پر ٹھنڈا پانی بھی ڈالنا تھا ان دنوں موبائل فونزاتنے عام نہیں تھے اور پبلک کال آفس کا کاروبار زوروں پر تھا دفتر میں ہر روز درجنوں لوگ فون لگوانے آتے تھے اور اتنے ہی وہ آگ بگولہ بھیِ ،جو رجسٹریشن کروانے اور رقم کی ادائیگی کے بعد بھی پی سی او کی نعمت سے محروم تھے ان ہی دنوں
مزید پڑھیے



’’کاون اور نصف بیوائیں ‘‘

هفته 05 دسمبر 2020ء
احسان الرحمٰن
سری لنکا میں پیدا ہونے والا کاون صرف چار سال کا تھا جب اسے سری لنکا سے پاکستان لایا گیا،اس وقت پاکستان کے حکمران جنرل محمد ضیاء الحق نے سر ی لنکن حکومت سے درخواست کرکے کاون کو مانگا تھا ،تامل ٹائیگر کی بغاوت کچلنے میں مدد دینے پر سری لنکن حکومت پاکستان کی ممنون تھی جنرل ضیاء الحق سری لنکا میں محسن کے طور پر جانے جاتے تھے جنرل صاحب کی فرمائش پر سونڈ لہراتا جھومتا جھامتا کاون اسلام آبا دمیں مارگلہ کی سرسبز پہاڑیوں کے قریب بنائے گئے چڑیا گھر منتقل کر دیا گیا، اسلام آبا
مزید پڑھیے


’’بڑا ہولینے دو !‘‘

پیر 30 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
یہ گیارہ مارچ 1948ء کا ایک خوشگوار دن تھا ، مسلم لیگ کے چارٹر سے پاکستان دنیا کے نقشے پر آچکا تھا ،قائد اعظم بیماریوں کے ساتھ ساتھ اس نوزائیدہ مملکت کے دشمنوں سے بھی پنجہ آزمائی کر رہے تھے۔ پاکستان پڑوسیوں کے معاملے میں کچھ زیادہ خوش نصیب واقع نہیں ہوا ۔ایک طرف افغانستان تھا جس نے ماتھے پر آنکھیں رکھی ہوئی تھیں اور دوسری جانب بھارت تھا جسکی قیادت پاکستان کی عمر چھ ماہ سے زائد نہ سمجھتی تھی۔ مسلم لیگ کے قیام پاکستان کے مطالبے پر نہرو کی بے اعتنائی سے کی گئی یہ پیشن گوئی کہ
مزید پڑھیے


شفقت دے نعرے وجن گے۔۔۔

جمعرات 26 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
مجھے کل پتہ چلا کہ پاکستان پہنچنے والا’’کورونا‘‘ کتنا جمہورئت پسند ہے اس انکشاف کے بعد تو مجھے کورونا سے کچھ انسیت سی ہونے لگی ہے اس کا رعب دبدبہ اپنی جگہ لیکن دل میں جمہوریت پسند کورونا کے لئے احترام کے جذبات محسوس کرنے لگا ہوں اور مجھے اسکا اعتراف کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچانا چاہئے ۔دنیا پر بھلے سے کورونا نے قہرڈھایاہوبلا کسی تفریق کے کشتوں کے پشتے لگائے ہوں کیا امریکہ اور کیا اٹلی کیاہندوستان اور کیا انگلستان ۔۔۔ کورونا نے ’’وردی‘‘ کا خیال کیا نہ ’’تھری پیس ‘‘کا اس نے بیوروکریٹ چھوڑے نہ وزیر مشیر
مزید پڑھیے


’’مریم نواز اور ہم نوا…‘‘

پیر 23 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
حضرت لقمان کوتاہ قامت کے ایک حبشی غلام تھے لیکن حکمت و دانائی اور تقویٰ میں ان کا قد کاٹھ غیرمعمولی تھاعرب کے شعراامراؤ القیس،لبید،طرفہ کے کلام میں بھی حضرت لقمان کا ذکر ملتا ہے انہوںنے اپنی حکمت ودانائی سے بڑا مقام اور مرتبہ پایا کہتے ہیں کہ اک بار حضرت لقمان کے مالک نے انہیں کہا کہ بکری ذبح کرو اور اس کے جسم کا سب سے بہترین اور نفیس حصہ پکا کرلے آؤ حضرت لقمان نے حکم کی تعمیل کی بکری ذبح کرکے اسکے دل اور زبان خوب اچھی طرح سے پکاکر اپنے آقا کی خدمت میں پیش
مزید پڑھیے


’’کھانا کھل گیاہے…! ‘‘

هفته 21 نومبر 2020ء
احسان الرحمٰن
ان سے ایک دوست کے ولیمے پرملاقات ہوئی تھی میں تقریب میں غلطی سے وقت پر پہنچ کر بور ہورہا تھا اور وہ بھی میرے ہی طرح بیزار بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کا دکھ ساجھا تھا اس لئے جب ایک دو بار نظروں سے نظریں ملیں تو میں وقت گزارنے کے لئے انکے پاس آکر بیٹھ گیااور پھرتعارف اور رسمی گفتگو کے بعد بات چلی تو سیاست پر آکر ٹھہر گئی۔ وہ اسسٹنٹ پروفیسر باچا خان کی فکر کے پیروکاراورپختونستان کے حامی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون ثقافتی تہذیبی اعتبار سے ایک الگ قوم ہیں ۔حالا ت
مزید پڑھیے








اہم خبریں