Common frontend top

احسان الرحمٰن


’’بیچارہ صدر امریکہ اور اپنے خان صاحب‘‘


یہ 2005 کی بات ہے جب ایک کتے نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کے دو اہم اداروں کو الجھن میں ڈال دیا۔ دراصل مسئلہ’’بیلکن ‘‘ کا کتا ہونا یا بلغاریہ سے امریکہ آنانہیں تھا مسئلہ یہ بھی نہیں تھا کہ وہ ایک جیتا جاگتا بھاگتا دوڑتا اور بھونکتا ہوا کتا ہے۔ امریکہ میں لگ بھگ نو کروڑ کتے ہیں ان میں ایک بیلکن بھی ہوجاتا تو کسی کتے کا کیا بگڑ جاتا ؟لیکن مسئلہ یوںبن گیا کہ چھوٹا سا پلا بیلکن ایک تحفہ تھا اور دونوں اداروں کے درمیان جاری کشمکش کا سبب اس کا تحفہ ہونا ہی تھا،
بدھ 14 دسمبر 2022ء مزید پڑھیے

’’جنرل عاصم منیر ۔۔۔امام کعبہ کی دعا‘‘

اتوار 04 دسمبر 2022ء
احسان الرحمٰن
اس جوان العمر افسر نے پاکستانی کنسلٹنٹ کو مشکل میں ڈال دیا،وہ اگر کہیں رہائش کی بات کرتا تو اسکے لئے بہترین رہائش کا انتظام ہوسکتاتھاکہیں آنے جانے میں سہولت کا طالب ہوتا توڈرائیور بمع گاڑی کے دے دی جاتی کوئی اور مسئلہ ہوتا تو اس کے حل کی بھی کوشش ہوسکتی تھی لیکن اس نے بات ہی ایسی کی تھی جو مشکل تھی ، پاکستانی کنسلٹنٹ کی نظریں اسکے چہرے پر جم گئیں اسکی آنکھوں میں عقیدت کے چراغوں کی لو تھرتھرارہی تھی، پاکستانی کنسلٹنٹ نے کچھ دیر سوچا اور سفید سنگ مرمر کے شفاف فرش پر چلتے ہوئے
مزید پڑھیے


مہذب اقوام اور ہم!

بدھ 31  اگست 2022ء
احسان الرحمٰن
اکتالیس سالہ اینی اسپیگل جرمنی کی نوجوان سیاست دان ہیں ۔اینی نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 2006ء میں کیا، وہ فیملی سسٹم پر یقین رکھنے والی سیاست دان کے طور پر سامنے آئیں، اپنے اٹھارہ سالہ کیریئر میں اینی کی کارکردگی اچھی رہی، وہ اپنی جاندار مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں ۔چار بچوں کی ماں اینی جرمنی کی ریاست رہائن لینڈ پلانٹینٹے میں دو بار وزیر رہیں، ایک بار ڈپٹی منسٹر پریذیڈنٹ بھی رہیںآ۔خرکار وہ پچیس دسمبر 2021میں علاقائی سیاست سے جمپ کرکے جرمنی کی وفاقی کابینہ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔انہیں فیملی افیئرز کاقلمدان دیا گیا۔اینی
مزید پڑھیے


’’تیمور خان ۔۔۔ایک اور ہیرو‘‘

بدھ 17  اگست 2022ء
احسان الرحمٰن
چھوڑیں سیاسی گرما گرمی ،کیا ایک دوسرے کے مسے نوچنا،سوشل میڈیا پرگالیوں سے بندوق بھر کر مورچوںپر بیٹھ جانا ،کچھ دیر کے لئے اس ملامت، اکھاڑنے پچھاڑنے کے کھیل میں وقفہ دیں اور میرے ساتھ بنکاک چلیں اگر کیلنڈر کے ورق پلٹ سکتے ہوں تو تین اگست کو بنکاک کے باکسنگ رنگ میں آجائیں ،یہاں باکسنگ کے دلدادہ جمع ہیں جہاں ایشین چیمپئن کا فیصلہ ہونا ہے، باکسنگ دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں سے ہے ،اس کے عالمی مقابلوں میں سو سے زائد ممالک شریک ہوتے ہیں،یہ کھیل کہاں پسند نہیں کیا جاتا پاکستان میں بھی بہت پسندکیا
مزید پڑھیے


یہ بھی ایک طرز حکمرانی ہے!

جمعه 15 جولائی 2022ء
احسان الرحمٰن
وہ بوڑھی کیمسٹ دو کمروں کے فلیٹ میں رہتی ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے چارمنزلوں کی سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیںپرانی طرز کی اس عمارت میں لفٹ نہیں ہے۔ فلیٹ میں پہنچ کراسے اپنی بے ترتیب پھولی ہوئی سانسیں نارمل کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے سانسیں بحال ہونے کے بعد وہ اکثر بلیک کافی بنا کر اپنی پسندیدہ کرسی پر بیٹھ جاتی ہے اس کا بوڑھا شوہر گھر پر ہو تو وہ کافی بنانے میں مدددیتا ہے وہ کافی کا کپ لیتے ہوئے مسکراکرشکریہ ادا کرتی ہے او ر کہتی ہے اس بہترین کافی کپ کے بدلے میںآج آپ
مزید پڑھیے



’’کیلے کی گاچھ میں بیٹھنے والے ۔۔۔‘‘

جمعرات 07 جولائی 2022ء
احسان الرحمٰن
قدرت اللہ شہاب معروف بیوروکریٹ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ’’شہاب نامہ ‘‘ میںاقتدر کی غلام گردشوں کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے ،وہ اپنی اس کتاب میں رقم طراز ہیں کہ ’’قیام پاکستان کے بعد مجھے انڈر سیکرٹری کے طور پر امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ سیکشن کا انچارج بنایا گیا مسٹر آئی آئی چندریگر وزیر اور غلام محمد وزیر خزانہ تھے کراچی میں دفتری اور رہائشی ضروریات کے لیے نئی عمارتیں زیر تعمیر تھی اْن کے لیے سینٹری کا سامان درآمد کرنا تھا اس کے لیے ایک میٹنگ بلائی گئی میٹنگ میں چار وزیر اور کچھ افسر تھے۔ وزیروں
مزید پڑھیے


’’معما ‘‘

منگل 28 جون 2022ء
احسان الرحمٰن
بات پرانی ہے مگرطاق پر رکھے چراغ کے لوکی طرح آج بھی روشنی دے رہی ہے اس روشنی میں آپ اس سفید ریش نرم گومجدد کودیکھ سکتے ہیں درمیانہ قد، قدرے فربہی مائل جسم ،چہرہ پر سفید گھنی داڑھی کا ہالہ،ناک پر سیاہ کمانیوں والی عینک کا بوجھ ،فراخ پیشانی اور پیچھے کی جانب بنائے ہوئے بال ۔۔۔نورانی چہرے والے یہ بزرگ اس وقت اپنے ساتھیوں میں گھرے بیٹھے تھے بیٹھے کیا تھے کٹہرے میں کھڑے تھے سوالوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی ایک کے بعد ایک سوال اور ایک کے بعد ایک... وہ باظرف بزرگ خندہ پیشانی سے سب
مزید پڑھیے


’’ حضرت صدیق اکبرؓ اور ہمارے حکمران‘‘

هفته 25 جون 2022ء
احسان الرحمٰن
آنجہانی ہوگوشاویزوینزویلا کے دبنگ حکمران رہے ہیں ،تیل کی دولت سے مالاما ل یہ ملک امریکہ کاپڑوسی ہے۔ آنجہانی طویل عرصے تک ویزویلا کے صدر رہے ،وہ پہلی بار1999میں صدر منتخب ہوئے اور 2002تک اپنے عہدے پر فائز رہے۔ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو للکارنے کی پاداش میں ایک فوجی بغاوت نے انکا تختہ الٹ ،الگ بات ہے کہ یہ بغاوت عوامی طاقت نے کچل دی جس کے بعدوہ 2013تک امریکہ کے سینے پرمونگ دلتے رہے ۔یہاں تک کینسر نے انہیں سفر آخرت پر روانہ کرکے امریکہ کی جان چھڑا دی۔ ہوگو شاویز کی لیبیاکے صدرمرحوم معمر قذافی سے خوب
مزید پڑھیے


’’ظرف کا افلاس‘‘

جمعرات 16 جون 2022ء
احسان الرحمٰن
کہتے ہیں ایک بادشاہ کا منہ چڑھا مصاحب اپنے بچپن کے عرب دوست کو بادشاہ کے دربار میں لے گیا،بادشاہ نے تعارف چاہا تو مصاحب نے کہا: یہ سیاسی امور کا ماہر ہے،عربی میں سیاسی امور سے مراد افہام و تفہیم کرانے والا لیا جاتا ہے ، بادشاہ نے اسے زیادہ توجہ نہ دی اوراسپ خانہ دار بنادیا،چند دن بعد بادشاہ یونہی گھومتے گھومتے اصطبل پہنچا اور اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کی پشت پیار سے تھپتھپاتے ہوئے کہا ‘‘کہیں ایسا شاندار گھوڑادیکھا ہے ؟‘‘ جواب میں اس عرب نے دست بستہ عرض کیا ’’حضور! بس اچھا ہے
مزید پڑھیے


’’ شاہد خاقان عباسی صاحب ! شکرانے کے نفل پڑھیں ‘‘

بدھ 08 جون 2022ء
احسان الرحمٰن
کچھ دن پہلے وزیر اعظم شہباز شریف ترکی میں طیب اردگان سے ملاقات کر رہے تھے ،ترکی کے دورے میں شہباز شریف نے کیا ڈسکس کیا ،کن منصوبوں پر بات کی ،کیا مشورے ہوئے اس بارے میں دستیاب معلومات زیادہ نہیں ،ترکی کی کرنسی کافی عرصے سے دباؤ میں ہے ۔ مہنگائی نے ترکوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے لیکن وہ اس بحران کا مقابلہ کر رہے ہیں اور کر سکتے ہیں کہ وہ ’’قوم ‘‘ ہیں ۔ میرا دو بار ترکی جانے کا اتفاق ہوا اور ہر بار میںپہلے سے زیادہ حیران ہو کر واپس آیا ، ترک معاشرہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں