BN

احمد اعجاز

افغانستان سے پاکستان میں بھارتی سازشیں

جمعه 29 جون 2018ء
افغانستان کے پاکستان کے ملحقہ علاقوں میں این جی اوز کے نام پر بھارتی ایجنسی را کے مراکزپاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سنٹر سب سے زیادہ صوبہ خوست میں موجود ہیں جہاں سے براہ راست کرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔را کی زیر نگرانی کرم ایجنسی میںپاکستانی چیک پوسٹوں پر 80 سے زیادہ حملے کئے گئے۔ان علاقوں میں طالبان کے نہ ہونے کی وجہ سے را کے ایجنٹ کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں۔ را کے مراکز کی ذمہ داری جنرل نقیب کے پاس ہے جسے کالعدم تحریک طالبان کا حامی سمجھا
مزید پڑھیے


سستے گھر

اتوار 24 جون 2018ء
وہ دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ملازمت کے دوران باوجود کوشش کے گھر نہ بناسکے۔ بچوں کی تعلیم ،صحت اور دیگر ضروریاتِ زندگی… آخرِکارریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچا۔ پوری زندگی کرائے کے گھروں میں گزری۔ اُس کی بیوی کی شدید خواہش رہی کہ اپنا گھر بن جائے۔ جس کے لیے وہ کئی بار پیسے جوڑنے کی کوشش بھی کرتی رہی،مگر خواہش پوری نہ ہوسکی۔ یہ چند دِن اُدھر کی بات ہے،جب ٹی وی میں حکمرانوں کے گھروں کی قیمتیں منظرعام پر آئیں، تومیاں بیوی کو معلوم پڑا کہ قیمت اس قدر نیچے گرگئی ہے کہ وہ بھی گھر خرید سکتے ہیں۔ اگلے دِن قریبی ہائوسنگ سوسائٹی کے دفتر
مزید پڑھیے


سیاست دانوں اور ووٹرز کا اثاثہ

جمعه 22 جون 2018ء
’’آصف علی زرداری کے پاس نقد رقم چھہترکروڑ ہے،چھ بلٹ پروف گاڑیاںاور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین بھی ہے۔ اُن کے پاس نوکروڑ کی مالیت کے گھوڑے ہیں۔ایک کروڑ اُنتیس لاکھ کا اسلحہ بھی رکھتے ہیں۔ عمران خان ایک سواَڑسٹھ ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔اُنہوں نے گزشتہ برس سینتالیس لاکھ سے زائد آمدن ظاہر کی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری کی آٹھ شہروں میں جائیداد ہے۔بلاول کے پاس کئی بنگلے ہیں ،جو اُن کو تحفے میں ملے ہیں۔ چار کروڑ سے زائد نقدرقم کے مالک بھی ہیں۔ مریم نواز کئی ملز کی شیئرہولڈرہیں۔متعدد دیگر منصوبوں میں مریم نے سرمایہ کاری بھی کررکھی ہے۔ اُن کے پاس لگ بھگ
مزید پڑھیے


خوشی کی عمر

جمعرات 21 جون 2018ء
یہ پہلا روزہ تھا،جب اُس نے گائوں جانے کی منصوبہ بندی پر کام شروع کیا۔ ہر بار کی طرح ،اس بار بھی ، عید پر گائوں جانا چاہتا تھا۔ عید پر گائوں جانے کی بے پایاں خوشی ہوتی،اُن سے بھی ملاقات ہو جاتی،جن سے سال بھر نہ ہوپاتی۔ یہ انتیسواں روزہ تھا،جب گائوں کیلئے نکلا۔شام کو گھر پہنچاتو معلوم پڑا کہ کل عید نہیں ہے۔ یوں اس کو ایک دِن مزید وہاں رہنے کے لیے میسرآگیا۔ عید کے دِن ملاقاتوں اور دعوتوں میں گزرے۔ چھٹیاں ختم ہوئیں تو واپسی کی راہ لی۔ ایک طرح کی سرشاری کا احساس بھی ہمراہ آیا۔ اگلے دِن معمول کے مطابق
مزید پڑھیے


نثارعلی خان

بدھ 13 جون 2018ء
’’پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دیے ہیں۔ ابھی اتناسیاسی یتیم نہیںہوں کہ ٹکٹ لینے کے لیے پارٹی سے بھیک مانگوں۔ نوازشریف عورت راج کے مخالف تھے،مگر آج اپنی بیٹی کو پارٹی پر مسلط کرکے عورت راج ہونے کا ثبوت دے چکے ہیں۔ مجھے چونتیس سال کی رفات منہ نہیں کھولنے دیتی۔ اگر مَیں نے منہ کھولاتو شریف خاندان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گئے۔ مَیں نے دوقومی اور دوصوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ کارکنان محنت کریںاور زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔ مجھے بچہ کہنے والے خود بچے ہیں۔میڈیا جن بیانات کو مجھ سے منسوب کرتا ہے،اُس میں حقیقت نہیں
مزید پڑھیے


ایماندارکاروباری

پیر 11 جون 2018ء
جان عالم میرا بچپن کا دوست ہے۔ ہم ایک ساتھ بڑے ہوئے۔ تاہم ،میٹرک کے بعداُس نے پنجاب یونی روسٹی سے ایم ایس سی فزکس کی ڈگری لی۔ جبکہ ،مَیں نے شہر کے پوسٹ گریجویٹ کالج سے (جہاں سے پنجاب یونیورسٹی چارسوکلومیٹر دورپڑتی ہے)ایم اے اُردوکیا۔ مَیں نے روزگار کے لیے شہر کوچھوڑا،وہ واپس آ کر کاروبارکرنے لگ گیا۔ اُس کو کسان بننے کا شوق تھا۔زمین ٹھیکے پر لے کر کھیتی باڑی شروع کردی۔ یہ کام ،اُس کے مزاج کے مطابق تھا۔ مگر پانچ سات سال اور لاکھوں کا نقصان کرواچکنے کے بعد،آج کل وکالت کررہا ہے۔ وہ کیسا وکیل ہے؟اس کے لیے ’’جولی ایل ایل بی ‘‘کے
مزید پڑھیے


زندگی کی خوشی

اتوار 10 جون 2018ء
وہ دفتر سے نکلا، بادل گرج رہے تھے،بارش آیا ہی چاہتی تھی۔ شدید گرمی کی لہر نے ہر چیز مرجھا کر رکھ دی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر اے سی آن کیا اورگھر کی طرف ہولیا۔ اُس سے آگے بغیر چھت کے پک اَپ جارہی تھی۔جس میں درجن کے قریب بچے تھے،تین لڑکیاں، ایک پختہ عمر کی عورت، ایک نوجوان شخص۔ سب نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے،لڑکیوں نے میک اَپ بھی کر رکھا تھا۔ یہ سوچ کر کہ بار ش سے سب بھیگ جائیں گئے،پریشان ساہوگیا۔ پھرتیز بارش شروع ہوگئی۔تیز اور تیز۔اُس نے گاڑی ،پک اَپ کے پیچھے رکھی۔ اُس نے وہاںبارش کی آوازمیں قہقہے
مزید پڑھیے


کتاب اور پگڑی

جمعه 08 جون 2018ء
ملک میں عام انتخابات قریب تھے،کتاب پرنٹ ہونے کا بہترین موقع تھا۔ وہ مسودہ لے کر پبلشر کے پاس پہنچا ۔ بتایا’’یہ پانچ برس کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس میں ملکی عام انتخابات کی محض تاریخ ہی بیان نہیں کی گئی، بلکہ دھاندلی جیسے اہم مسئلے کو بھی مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے۔ اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ سیاسی نظام کن مسائل کا شکار رہا ہے؟‘‘ وہ خاموش ہواتو پبلشر نے مسودے سے نظریں ہٹا کر پوچھا ’’آج کل ٹی وی پر کتابوں کے چرچے ہیں۔ریہام کی کتاب تو پرنٹ ہونے سے پہلے بیسٹ سیلر بن چکی ہے۔ ایسی باتیں بھی اس میں
مزید پڑھیے


ضرورت

جمعرات 07 جون 2018ء
ماہِ رمضان کا تیسراعشرہ شروع ہو چکا تھا۔ اُس نے اوسط قیمت کا سوٹ دفتر کے ملازم کے لیے خریدا۔ دفتر کا یہ ملازم ،اُس کی خدمت پر مامور تھا۔ اُس نے سوچ رکھا تھا کہ عید پرایک سوٹ خرید کر دے گا ۔ اگلے دِن ،جب دفتر پہنچاتو ملازم نہیں تھا۔ اُس نے سوٹ ایک طرف رکھا اور کام میں مصروف ہوگیا۔ دفتر کی مسجد میںظہر کی نماز پڑھ کرواپس آیا تو ملازم موجود تھا۔ ’’ کہاں تھے؟‘‘ ’’صبح اُٹھ کرسامان پیک کیا،پھر گھر جانے کے لیے ٹرین کی ٹکٹ لینے چلا گیا‘‘ پھر بولا’’عید کے بعد واپس نہیں آئوں گا،اُدھر ہی کوئی کام کروں گا‘‘
مزید پڑھیے


مزدور کی سوچ

بدھ 30 مئی 2018ء
عید آنے میں ابھی کافی دِن تھے، مگر عید کی آمد کا خیال ، پریشان کررہاتھا۔ اُس کی بیوی روزانہ فون کرکے پوچھتی ’’تنخواہ آئی؟‘‘وہ جواب دیتا ’’ابھی تو کافی دِن ہیں‘‘ آگے سے بے بسی سے کہتی ’’کب بچوں کے کپڑے جوتے خریدیں گے؟‘‘ یہ ارشد ہے، لاہور میں، فیکٹری میں ملازم ہے،رہنے والا مظفرگڑھ کا ہے۔ ماہِ رمضان شروع ہوا تو مزدوروں کو اُمید بندھی کہ تنخواہ کے ساتھ بونس بھی ملے گا ۔ مگر بونس تو رہا ایک طرف، وقت پر تنخواہ ملنے کا امکان بھی معدوم تھا۔ آج تو اُسکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ افطاری کر سکے۔ وہ
مزید پڑھیے