BN

احمد اعجاز


پی ٹی آئی برسرِ اقتدار کب آئے گی؟


یہ جولائی کا مہینہ ہے ،کہیں شدید گرمی،کہیں طوفا نی بارشیں۔یہ دوسال اُدھر کی بات ہے۔یہی دِن تھے،سن تھا دوہزاراَٹھارہ۔ملک بھر میں نئے انتخابات ہونے جارہے تھے۔جولائی عام انتخابات کا مہینہ تھا۔ملک کی انتخابی تاریخ میں یہ گیارھویں عام انتخابات تھے اور دوہزارآٹھ کے بعد دوسری بار اقتدار ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت کو منتقل ہو ناتھا۔ انتخابی عمل کا یہ تسلسل ،حقیقی تبدیلی کا نشان سمجھاجارہا تھا۔پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی آمنے سامنے تھیں۔پی ایم ایل این کے کئی اہم رہنما پی ٹی آئی کا حصہ بن چکے تھے۔یوں پی ٹی آئی کا پلڑا
جمعرات 09 جولائی 2020ء

فوادچودھری کے بیانات کی سماجی و سیاسی معنویت

جمعرات 02 جولائی 2020ء
احمد اعجاز
فواد چودھری کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو کو پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دو حوالوں سے زیربحث لایاگیا۔ایک حوالہ یہ تراشا گیا کہ فوادچودھری کو میڈیا میں اِن رہنے کا ہنر آتا ہے۔اس پہلو کی دلیل کے لیے اِن کے کیریئر پر نظر ڈالی گئی۔2018ء کے انتخابات کے بعد یہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات رہے ،مگر یہ وزارت مختصر مُدت کیلئے رہی،اس وزارت کے دوران یہ مسلسل میڈیا میں اِن رہے۔جب وزارت اطلاعات لے کر سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی تو یہ تاثر قائم کروایا گیا کہ اب فوادکی رُونمائی میڈیا پر زیادہ نہیں
مزید پڑھیے


زرتاج گُل نے راج بی بی کی چیخ کیوں نہ سنی؟

اتوار 28 جون 2020ء
احمد اعجاز
2018ء کے عام انتخابات میں،جب ڈی جی خان کے حلقہ این اے 191 سے زرتاج گل منتخب ہوتی ہے،تو یہ غیر معمولی واقعہ بن جاتا ہے۔اس حلقہ سے روایتی سرداروں کو مات دینا، وہ بھی ایک خاتون اُمیدوارکی حیثیت سے ،ملکی انتخابی تاریخ کا ایک واقعہ قراردیاجاسکتا ہے۔یہ حلقہ ڈی جی خان کی شہری آبادی پر محیط ہے ، شہر کے علاوہ سخی سرور، فورٹ منرو اور رونگھن کے علاقے بھی اس میں شامل ہیں ۔اس حلقہ کی شہری آبادی جہاںکھوسہ ،لغاری اور دوسرے اہم اور بڑے خاندانوں کو ووٹ دیتی آئی ہے‘ وہاں مجموعی پارٹی فضا کو بھی
مزید پڑھیے


یہ ہیں میاں شہباز شریف صاحب!!

اتوار 21 جون 2020ء
احمد اعجاز

’’کینسر کا مریض ہوں ،عمر اُنہتر برس ہے،قوتِ مدافعت انتہائی کم ہے،نیب میں پیش نہیں ہو سکتا‘‘ یہ سطر ،قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اورتین بار وزیرِ اعلیٰ رہنے والے میاں شہباز شریف کے اُس خط سے لی گئی ہے ،جو چند دِن اُدھر نیب کو لکھا گیاتھا۔اُنہوں نے اس خط میں نیب سے استدعا کی کہ لاک ڈائون کے خاتمے، کورونا وباء کے خطرے تک ،اُنہیں مہلت دی جائے۔شہباز شریف ستمبر1951ء میں پیدا ہوئے ،عملی سیاست میں 1988ء میں قدم رکھا ،یہ تین بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہے ،1997ء کے انتخابات میں پہلی بار یہ منصب سنبھالا،بعدازاں
مزید پڑھیے


کورونا وباء ،معاملہ ہمارے روّیے کا ہے

اتوار 14 جون 2020ء
احمد اعجاز
اس وقت ملک میں کورونا وباء کی شدت کا موسم ہے۔یہ خوف اور موت کا موسم زیادہ عرصہ برقراررہنے کا امکان رکھتا ہے۔کوئی بھی بیماری ،وباء یا پھر بحران کتنا عرصہ رہ سکتے ہیں؟یہ علاج اور طریقہ ٔ علاج پر منحصر ہوتا ہے۔طریقۂ علاج میں بیماری ،وبا ء اور بحران سے نمٹنے والے کا روّیہ آجاتا ہے۔ابھی تک کورونا وباء کا علاج دریافت نہیں ہوا۔کسی دوا یا ویکسین کے آنے تک ،اس کا علاج انسانی روّیے سے جڑچکا ہے۔انسانی روّیہ کی بدولت کورونا وباء سے جلد چھٹکارا پایاجاسکتا ہے یا طوالت دی جاسکتی ہے۔جن انسانی آبادیوں میں انسانی روّیہ’’ احتیاط‘‘کا
مزید پڑھیے



بوڑھی عورت،چڑیاںاور آلنا

اتوار 07 جون 2020ء
احمد اعجاز
یہ پرانے دَور کا کمرہ تھا،اُونچا اور چوڑا، دو شہتیروں اوردودرجن کڑیوںنے چھت کا وزن اُٹھارکھا تھا۔سامنے اور پچھلی دیوار میں دو،دوروشن دان تھے۔دروازے کے دائیں بائیں کھڑکیاں تھیں۔پچھلی دیوار میں روشن دانوں سے تین فٹ نیچے سفیل تھی،جس میں تانبے،چینی ،سلور اور سٹیل کے برتن سجے تھے۔ کمرے کی ایک نکڑ میں، بڑی سی پیٹی اور پیٹی کے اُوپر تین ٹرنک موجود تھے۔بوڑھی عورت کی کھاٹ ایک شہتیر کے عین نیچے تھی۔بوڑھی عورت کے تین بیٹے تھے ،جو ایک مُدت پہلے الگ ہوئے،گھرٹکڑوں میں بَٹ گیا ،دو بیٹے شہر کے پوش علاقے میں اپنے بیوی بچوں سمیت جابسے،تیسرا سب سے
مزید پڑھیے


کٹاپھٹا

اتوار 31 مئی 2020ء
احمد اعجاز
ہم کہاں جارہے تھے؟معلوم نہیں ،مگر ہم جارہے تھے ،مناظر تھے فکر انگیز۔ایک موٹر سائیکل سوار،جس کی گردن پیچھے کو مڑی ہوئی تھی،بڑی مشکل سے سامنے کی اُور دیکھ پارہا تھا ،چلا آرہا تھا،یہ دودھ فروش تھا،موٹر سائیکل دودھ کے بڑے برتنوں کے نیچے دَبی پڑی تھی۔پوچھا’’گردن پیچھے کو کیوں مڑی ہوئی ہے؟‘‘بتایا ’’ایک مُدت ہوئی ایکسیڈنٹ ہوا ،تب سے اَب تک گردن ٹھیک نہ ہوئی،کام بھی مجبوری ہے‘‘اُسی جگہ ایک شخص گدھا ریڑھی میں بیٹھا اُونچی آواز میں گیت گائے جارہا تھا،جس کے بول سمجھ میں نہیں پڑرہے تھے،اُس کی بابت بتایا گیا کہ مجذوب ہے،بستی کا ہر آدمی
مزید پڑھیے


وہ تین راتیں اورڈاکٹر محمد اسلم بھلر

اتوار 17 مئی 2020ء
احمد اعجاز
وہ سال اُنیس صدستانوے ،مہینا دسمبر کا اور شدید پالے پڑنے کے دِن تھے۔یہ سردی پڑتی کہ ہڈیوں کے گُودے میں اُتر جاتی۔گہری دُھند،جو ماہِ نومبر سے شروع ہوگئی تھی ،نے دِن اور رات کی تمیزمٹاڈالی تھی۔دِن دوسے تین کے درمیان ذرادیر کو سورج دُھندسے جھانکتا پھر غائب ہوجاتا۔اِن خوف ناک شب وروز میں سے کوئی ایک لمحہ تھا کہ مجھے بخار نے آلیا۔بخار نے پہلا حملہ میری نیند پر کیا۔اُس شام جب ہم چولہے والے کمرے سے اُٹھ کر سونے والے کمرے میں گئے توآٹھ بج رہے تھے۔سب اپنے اپنے بستروں میں دُبک گئے۔تھوڑی دیر بعد خراٹوں سے کمرہ
مزید پڑھیے


سیاسی قیادت کے فیصلوں کا خراج

اتوار 10 مئی 2020ء
احمد اعجاز
دُنیا بھر میں کورونا کے وار جاری ہیں ۔ہرسُو کورونا سے متعلق ہی خبریں گردش کرتی پائی جاتی ہیں۔ہر ملک اپنے تئیں ،اس وباء سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔زمین کے ہر خطہ کے انسان اس وباء کی بدولت خوف میں مبتلا ہیں۔یہ خوف اُس وقت وہاں دوچند ہو جاتا ہے ،جہاں کے ممالک کورونا وباء کی روک تھام میں بے بسی کا مظاہرہ یا غلط فیصلے کررہے ہوں۔یہ غلط فیصلے ،گھبراہٹ ،عجلت،بغیر منصوبہ بندی و ناقص حکمتِ عملی اور مقامی سطح پر سیاسی تنازعات تعصبات کی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور عوام کو گہرے زخم دے جاتے ہیں۔بدقسمتی
مزید پڑھیے


ایک عام آدمی کے سوالات

اتوار 03 مئی 2020ء
احمد اعجاز
اس وقت پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ،وزیرِ اعظم عمران خان اور مذہبی علماء و قیادت کے رحم وکرم پر ہیں۔گذشتہ روز ہفتہ کی صبح جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں ،اُس وقت تک دُنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد تینتیس لاکھ سے اُوپر ہوچکی تھی اور مرنے والوں کی تعداد دولاکھ اَڑتیس ہزار سے تجاوز کرچکی تھی۔امریکا میں ایک ہی دِن میں اَٹھارہ سوتراسی افراد موت کے منہ میں جانے سے وہاں مریضوں کی کل تعداد گیارہ لاکھ ہوچکی تھی اور چونسٹھ ہزار سے زائدافراد لقمۂ اَجل بن چکے تھے۔پاکستان میں اَٹھارہ ہزار سات سو
مزید پڑھیے