احمد اعجاز



’’جھاؤ‘‘


یہ ایک دِن کا واقعہ ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم نے ہمیشہ کی طرح بہت ’’شاندار اور انوکھی‘‘تقریر کی۔فرمایا’’نوجوان تنخواہ اور پنشن والی نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں،ایسی نوکری کا مطلب اپنی صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے،ذہنی غلام کبھی ترقی نہیں کرسکتا،آزاد ذہن ہی نئی سوچ ،نئے راستوں کا تعیّن کرتے ہیں ،نوجوانوں کوآزادی دینے والا معاشرہ ہی آگے بڑھتا ہے،چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے بعد کامیابی آپ کا مقدر بنتی ہے‘‘ اُسی دِن یک عجیب سا لفظ’’جھائو‘‘میرے مطالعہ میں آیا۔ میری کم علمی کی بدولت اس کے معانی معلوم نہ تھے،یوں اِدھر اُدھر سے اس لفظ کا تعاقب کیا تو
اتوار 16 فروری 2020ء

متوازن اور اعتدال پسند سماج کی تشکیل کیسے؟

اتوار 09 فروری 2020ء
احمد اعجاز
جب افراد مختلف بندھنوں،ضرورتوں اور آزادانہ طرزِ اظہار کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ، تو اِن کا مل جل کر رہناہی سماج کہلاتا ہے۔اس مل جل کررہنے میں اخلاقیات،قواعد و ضوابط، روایات اور اقدار کی کارفرمائی ضروری ٹھہرتی ہے ،کہ ان کے بغیر سماج کا ڈھانچہ برقرار نہیں رہ پاتا۔یوں آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سماج سے مُراد، افراد کا وہ مجموعہ ہے جو قواعد و ضوابط، اخلاقیات، اقدار، روایات، آزادی، مختلف بندھنوں اور ضرورتوں کے تحت مل جل کر رہتا ہے۔سماج کے مختلف طبقات کا ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بے حد
مزید پڑھیے


اُمید کی موت

اتوار 02 فروری 2020ء
احمد اعجاز
یہ جامد سماج ہے ،اس کی سماجی و معاشی نمو رُکی ہوئی ہے،ایک سچی مڈل کلاس جو اپنی بھرپور پیداواری صلاحیتوں سے سماج میں خوشحالی پیداکرتی ہے ،وہ پیدا نہیں ہوئی،جامد سماج نے غریب طبقہ میں معاشی ترقی کا عمل ختم کر دیا ہے۔یہاں سماج کی ساخت اور طبقات کی درجہ بندی سے سماجی ترقی کے امکانات کا جائزہ ضروری ہے۔ سماج کا سب سے نچلا طبقہ غربت زَدہ لوگوں کا ہوتاہے۔یہ وہ طبقہ ہوتا ہے جو خطِ غربت سے بہت نیچے زندگی بسر کرتا ہے۔اس کی حیثیت فصل میں جڑی بوٹیوں کی مانند ہوتی ہے۔یہ جڑی بوٹیاں لحظہ بھر کے
مزید پڑھیے


یقین سے خالی زندگی

اتوار 26 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
ایک دُھند ہے بے یقینی کی جو سماج پر تہہ دَر تہہ چھائی ہے۔لمحہ ٔ موجود تک بے یقین ٹھہرے تو آنے والے لمحے کا بھروسہ چہ معنی؟ہر کام کی ابتدابے یقینی کی دستک سے ہوتو کام تکمیل تک کیسے پہنچے؟بے یقین بستیوں کے مکینوں کی زندگیاں تک بے یقین ہو چکی ہیں ،معلوم ہی نہیںپڑتا کہ کون کس وقت مارا جاتا ہے۔یہ جو بے یقینی ہے ،یہی دَرحقیقت مصیبت ہے ،مگر یہ مصیبت ہے ،کوئی مانتا ہی نہیں۔یہ محض مصیبت ہی نہیں ،مصیبتوں کی ماں ہے۔بے زاری اور فراریت ،اس کی سگی بیٹیاں ہیں۔بے زاری اور فراریت آدمی سے
مزید پڑھیے


بات آگے نکل چکی ہے

اتوار 19 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
یہ سیاست دانوں کی خوش بختی ہے کہ عوام کی جانب سے،اُنہیں کبھی اور کسی بڑے امتحان میں نہیں ڈالا گیا۔البتہ ہر دَور میں حکمران خود اور عوام کوامتحانات میں ڈالتے چلے آئے ہیں ۔سیاسی حکمرانوں نے اپنے عمل سے بارہا عوام کے حوصلے کا امتحان بھی لیاہے اورنئے تنازعہ میں اُلجھایا بھی ہے۔ا س ملک یا عوام پر جس قدر بحران نازل کیے گئے وہ سارے کے سارے حکمرانوں کی کج فہم عمل کا نتیجہ ہی تو تھے۔عوام نے اگر کسی حکمران کی غلطی کا ردِ عمل دیا بھی تو محض علامتی نوعیت کے احتجاج کی صورت ۔ا س
مزید پڑھیے




چودھری نثار علی خان کی یاد میں

اتوار 12 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
میاں نواز شریف اور اُن کی پارٹی نے اپنے ’’خیالی بیانیہ‘‘سے جیسے ہی یوٹرن لیا،بہت سارے لوگوں کو چودھری نثارعلی خان کی یادستانے لگی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اُس وقت پی ایم ایل این چودھری نثارعلی خان کے مشوروں پر عمل کرتی تو آج شہبازشریف ملک کے وزیرِ اعظم ہوتے اور میاں نوازشریف جیل جاتے نہ بیمار پڑتے۔واقعی!چودھری نثارعلی خان کی سیاسی بصیرت بلنددرجہ کی تھی اور میاں نواز شریف نے اُن کے مشوروں پر عمل نہ کرکے اپنا اور پارٹی کاسیاسی نقصان کیا؟اس کے لیے چودھری نثارعلی خان کے طرزِ سیاست کا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ اُنیس سوپچاسی
مزید پڑھیے


امریکا کی ایک اور غلطی

اتوار 05 جنوری 2020ء
احمد اعجاز
آج کی دُنیا بہ ظاہر بہت مہذب ہوچکی ہے اور تہذیب کا سفر جارہی ہے ،مگر یہ دُنیا جنگوں سے بھی نہیں نکل پارہی ،قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے ۔اگر دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کی شروعات ہی جنگ سے ہوئی تھی ،تب سے اب تک یہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا،ابتدا ہی میں چند ایک ممالک پوری طرح جنگوں کی لپیٹ میں آئے اور کسی طور ،وہاں جنگ کے شعلے بجھتے ہوئے پائے نہیں جارہے ۔کوئی دِن نہیں جاتا جب بڑے پیمانے پر انسانوں کے مارنے کے اعلانات نہ کیے جاتے ہوں ۔ایک افسوس ناک پہلو
مزید پڑھیے


میاں نواز شریف کا بیانیہ،ایک مغالطہ

هفته 28 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
پانامہ اسکینڈل کے بعد کہا گیا کہ نوازشریف نظریاتی ہوچکے اور اپنا ایک بیانیہ تشکیل دے چکے ہیں۔نوازشریف کے بیانیہ کے ساتھ ساتھ میاں شہباز شریف اور مریم نواز کے بیانیہ کا بھی چرچا رہا۔میاں نواز شریف کو جیل ہوئی تو سوال اُٹھائے گئے کہ اب اِن کے بیانیہ کو آگے کون بڑھائے گا؟ جواب دیا جاتا رہا،مریم نواز…کہ میاں شہباز شریف کا تو اپنا الگ بیانیہ ہے۔ لیکن میاں نواز شریف ،شہباز شریف اور مریم نواز نے پہلے خاموشی اُوڑھی پھرلندن کا رختِ سفرباندھا ، مریم نواز بدستور خاموش اور باہر جانے کے لیے بے تاب ہیں تواب بھی
مزید پڑھیے


ایک تاثر کی موت

هفته 21 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
جولائی دوہزار اَٹھارہ میں، عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان کے وزیرِ اعظم بنتے ہی سیاسی وسماجی سطح پر تین طرح کے تاثرات پائے گئے تھے ۔ اول: یہ الیکٹ ایبلزکی بدولت وزیرِ اعظم بنے ہیں۔دوم:پی ٹی آئی ،کی جیت دھاندلی سے ممکن ہوئی ہے ۔ سوم : انتخابات کا نتیجہ ’’ عوام کی آواز ‘‘ تھا۔ ہر عام انتخابات کے بعدجیتنے والی پارٹی اور منتخب وزیرِ اعظم کے بارے ،اسی نوع کے تاثرات پائے جاتے رہے ہیں۔سماجی و سیاسی سطح پر اس نکتے کو سمجھے بغیر کہ جملہ فیکٹرز کے باوجودانتخابات کے نتائج ’’عوام
مزید پڑھیے


برطانیہ:پانچ برس میں تین عام انتخابات،ہوکیارہاہے؟

هفته 14 دسمبر 2019ء
احمد اعجاز
جون دوہزار سولہ برطانیہ میں ایک ریفرنڈم ہوا،اُس ریفرنڈم کے نتائج میں باون فیصدبرطانوی عوام نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں جبکہ اَڑتالیس فیصدنے مخالفت میں فیصلہ دیاتھا۔ تو یہ قرار پایا کہ اُنتیس مارچ دوہزار اُنیس کو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو جائے گا۔مگر یہ بظاہر سادہ سا نظر آنے والا معاملہ سادہ نہیں تھا۔اس ساڑھے تین برس کے عرصہ میں بریگزٹ کی بدولت ڈیوڈ کیمرون اور تھریسامے کو 10ڈائوننگ اسٹریٹ کو چھوڑنا پڑگیا۔جون دوہزار سولہ کے ریفرنڈم کے بعد ڈیوڈ کیمرون جو کہ برطانوی وزیرِ اعظم تھے ،نے فوری بنیادوں پرمستعفی ہونے کا اعلان
مزید پڑھیے