BN

احمد اعجاز



کیسے آدمی ہیں؟


سکول والی گلی گاڑیوں کے نیچے دَب چکی تھی۔ نرسری کلاسز کے بچوں کو چھٹی ہوچکی تھی۔ کچھ والدین فٹ پاتھ پر مرکزی گیٹ کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔ ایک شخص سیل فون پر بات کرتاآہستہ آہستہ جارہا تھا،وہ بے خبرتھا کہ پیچھے خاتون آگے نکلنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ خاتون کا بچہ یقینا ، اُسکا منتظر ہو گا۔ مگر وہ شخص فون پرمگن ،دُنیا و مافہیاسے بے خبر ہو چکا تھا۔ حالانکہ خاتون ’’پلیز راستہ دیجیئے‘‘باربارکہتی رہی۔ مَیںاُن دونوں کے پیچھے کچھ فاصلے پر تھا۔ خاتون کی بے بسی دیکھ کر مجھے اُس شخص پر بے حد غصہ آرہا تھا۔ کچھ دیربعددونوں گیٹ کے
منگل 09 اکتوبر 2018ء

اللہ کریسی چنگیاں

اتوار 09  ستمبر 2018ء
احمد اعجاز
افضل عاجز سے ہمارا رشتہ اُتنا ہی پُرانا ہے،جتنا تھل پُرانا ہے۔ اس کے تخلیق کردہ گیت جب عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی کی درد بھری آواز کا رُوپ دھارتے تو ٹاہلی کی بلند وبالا چوٹیوں پر بیٹھی فاختائوں کے آنسوچھلک پڑتے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے ،جب لوگ پیدل سفر کرتے ،سفید اُجلالباس پہنتے ۔ یہ اُسی زمانے کی بات ہے جب راتیں جاگتی تھیں۔ تب ہمیں معلوم نہیں تھا کہ عطاء اللہ خاں عیسیٰ خیلوی ،کہاں رہتا ہے اور لطیف جذبوں کا ترجمان شاعرکا گھر کندیاں میں ہے۔البتہ مسافر یہاں سے گزرتے تواُن کے دِل دھڑک اُٹھتے۔ او پھر مَدت بعد
مزید پڑھیے


ہم خانوں میں خوش ہیں

جمعه 07  ستمبر 2018ء
احمد اعجاز
ہم سب جس کمرے میں رہتے ہیں ،وہ کافی کشادہ ہے۔ اُس میں ہم سب اپنے اپنے خانوں میں رہتے ہیں۔ کچھ خانے چھوٹے ہیں ،کچھ بڑے۔اِن خانوں کا سائز اِن میں رہنے والوں کے وجود پر منحصرہے۔ اِن میںبسنے والے، ایک دوسرے کے خانوں میں جھانکتے رہتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے ،جب تنازعات جنم لے اُٹھتے ہیں۔ پھر ایک عرصہ خانوں سے نفرت پھوٹتی رہتی ہے۔ یوں بَدبُو جنم لے اُٹھتی ہے،جس میں زندہ رہنا مشکل ہو جاتاہے۔کچھ اس کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ مگر ذراتوقف کریں! اس کشادہ کمرے میں محض خانے ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے۔ جیسا کہ ہر وہ چیز،جس میں
مزید پڑھیے


پانچ بجے کی چائے

بدھ 29  اگست 2018ء
احمد اعجاز
قبرستان میںخاموشی تھی،جیسی ہمیشہ ہوتی ہے۔ یہ ایک گرم دِن تھا۔ وہ قبرستان پہنچا تو دِن کے گیارہ بج رہے تھے۔ ایک طرف ماں کی قبرتھی۔ دوسری قبروں کی طرف دھیان نہ جاسکا۔ اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ، قبروں کے اُس طرف گھر میں ماں چولھے پر چائے رکھ رہی تھی۔ وہ دودھ لینے محلے کی دُکان پر جارہا تھا۔ یہ پانچ بجے کا وقت تھا۔ مغرب کی سمت کے ہمسائے کی دیوار کی چھائوں میں چارپائی بچھی پڑی تھی، جہاں اُس کا باپ بیٹھا تھا اور ماں سے باتیں کررہا تھا۔ چائے تیار ہوئی،ماں نے تین پیالوں میں ڈالی۔ وہ واپس آیا تو پانچ بج رہے تھے۔وہ
مزید پڑھیے


شیخ رشید احمد اور خاتون

منگل 28  اگست 2018ء
احمد اعجاز
شیخ رشید احمد وفاقی وزیرِ ریلوے ہیں۔ مجرد زندگی بسر کرتے ہیں ،شاید اسی طرزِ زندگی میں خوشی اور سہولت محسوس کرتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا کی محبوب شخصیت ہیں۔ حالیہ عام انتخابات میں ایک حلقے سے جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں۔ گذشتہ دِنوں مبینہ طور پر انہوں نے ایک خاتون کو دھکا دیا ہے۔ پاکستانی میڈیااور راولپنڈی کے عوام کی محبوب شخصیت نے کہا کہ’’ اِنہوں نے کسی خاتون کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی۔بلکہ ایک خاتون ان کے گلے پڑگئی تھی۔ وہ خاتون مجھ سے زیادہ پیسے مانگ رہی تھی،مَیں پانچ سو یا ایک ہزار تو دے سکتا ہوں، اس سے زیادہ نہیں‘‘ اس دوران بتایا گیا
مزید پڑھیے




افغانستان سے پاکستان میں بھارتی سازشیں

جمعه 29 جون 2018ء
احمد اعجاز
افغانستان کے پاکستان کے ملحقہ علاقوں میں این جی اوز کے نام پر بھارتی ایجنسی را کے مراکزپاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ سنٹر سب سے زیادہ صوبہ خوست میں موجود ہیں جہاں سے براہ راست کرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔را کی زیر نگرانی کرم ایجنسی میںپاکستانی چیک پوسٹوں پر 80 سے زیادہ حملے کئے گئے۔ان علاقوں میں طالبان کے نہ ہونے کی وجہ سے را کے ایجنٹ کھلے عام گھومتے پھرتے ہیں۔ را کے مراکز کی ذمہ داری جنرل نقیب کے پاس ہے جسے کالعدم تحریک طالبان کا حامی سمجھا
مزید پڑھیے


سستے گھر

اتوار 24 جون 2018ء
احمد اعجاز
وہ دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ملازمت کے دوران باوجود کوشش کے گھر نہ بناسکے۔ بچوں کی تعلیم ،صحت اور دیگر ضروریاتِ زندگی… آخرِکارریٹائرمنٹ کا وقت آن پہنچا۔ پوری زندگی کرائے کے گھروں میں گزری۔ اُس کی بیوی کی شدید خواہش رہی کہ اپنا گھر بن جائے۔ جس کے لیے وہ کئی بار پیسے جوڑنے کی کوشش بھی کرتی رہی،مگر خواہش پوری نہ ہوسکی۔ یہ چند دِن اُدھر کی بات ہے،جب ٹی وی میں حکمرانوں کے گھروں کی قیمتیں منظرعام پر آئیں، تومیاں بیوی کو معلوم پڑا کہ قیمت اس قدر نیچے گرگئی ہے کہ وہ بھی گھر خرید سکتے ہیں۔ اگلے دِن قریبی ہائوسنگ سوسائٹی کے دفتر
مزید پڑھیے


سیاست دانوں اور ووٹرز کا اثاثہ

جمعه 22 جون 2018ء
احمد اعجاز
’’آصف علی زرداری کے پاس نقد رقم چھہترکروڑ ہے،چھ بلٹ پروف گاڑیاںاور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین بھی ہے۔ اُن کے پاس نوکروڑ کی مالیت کے گھوڑے ہیں۔ایک کروڑ اُنتیس لاکھ کا اسلحہ بھی رکھتے ہیں۔ عمران خان ایک سواَڑسٹھ ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔اُنہوں نے گزشتہ برس سینتالیس لاکھ سے زائد آمدن ظاہر کی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری کی آٹھ شہروں میں جائیداد ہے۔بلاول کے پاس کئی بنگلے ہیں ،جو اُن کو تحفے میں ملے ہیں۔ چار کروڑ سے زائد نقدرقم کے مالک بھی ہیں۔ مریم نواز کئی ملز کی شیئرہولڈرہیں۔متعدد دیگر منصوبوں میں مریم نے سرمایہ کاری بھی کررکھی ہے۔ اُن کے پاس لگ بھگ
مزید پڑھیے


خوشی کی عمر

جمعرات 21 جون 2018ء
احمد اعجاز
یہ پہلا روزہ تھا،جب اُس نے گائوں جانے کی منصوبہ بندی پر کام شروع کیا۔ ہر بار کی طرح ،اس بار بھی ، عید پر گائوں جانا چاہتا تھا۔ عید پر گائوں جانے کی بے پایاں خوشی ہوتی،اُن سے بھی ملاقات ہو جاتی،جن سے سال بھر نہ ہوپاتی۔ یہ انتیسواں روزہ تھا،جب گائوں کیلئے نکلا۔شام کو گھر پہنچاتو معلوم پڑا کہ کل عید نہیں ہے۔ یوں اس کو ایک دِن مزید وہاں رہنے کے لیے میسرآگیا۔ عید کے دِن ملاقاتوں اور دعوتوں میں گزرے۔ چھٹیاں ختم ہوئیں تو واپسی کی راہ لی۔ ایک طرح کی سرشاری کا احساس بھی ہمراہ آیا۔ اگلے دِن معمول کے مطابق
مزید پڑھیے


نثارعلی خان

بدھ 13 جون 2018ء
احمد اعجاز
’’پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دیے ہیں۔ ابھی اتناسیاسی یتیم نہیںہوں کہ ٹکٹ لینے کے لیے پارٹی سے بھیک مانگوں۔ نوازشریف عورت راج کے مخالف تھے،مگر آج اپنی بیٹی کو پارٹی پر مسلط کرکے عورت راج ہونے کا ثبوت دے چکے ہیں۔ مجھے چونتیس سال کی رفات منہ نہیں کھولنے دیتی۔ اگر مَیں نے منہ کھولاتو شریف خاندان کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گئے۔ مَیں نے دوقومی اور دوصوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ کارکنان محنت کریںاور زیادہ سے زیادہ محنت کریں۔ مجھے بچہ کہنے والے خود بچے ہیں۔میڈیا جن بیانات کو مجھ سے منسوب کرتا ہے،اُس میں حقیقت نہیں
مزید پڑھیے