احمد اعجاز


ضرورت


ماہِ رمضان کا تیسراعشرہ شروع ہو چکا تھا۔ اُس نے اوسط قیمت کا سوٹ دفتر کے ملازم کے لیے خریدا۔ دفتر کا یہ ملازم ،اُس کی خدمت پر مامور تھا۔ اُس نے سوچ رکھا تھا کہ عید پرایک سوٹ خرید کر دے گا ۔ اگلے دِن ،جب دفتر پہنچاتو ملازم نہیں تھا۔ اُس نے سوٹ ایک طرف رکھا اور کام میں مصروف ہوگیا۔ دفتر کی مسجد میںظہر کی نماز پڑھ کرواپس آیا تو ملازم موجود تھا۔ ’’ کہاں تھے؟‘‘ ’’صبح اُٹھ کرسامان پیک کیا،پھر گھر جانے کے لیے ٹرین کی ٹکٹ لینے چلا گیا‘‘ پھر بولا’’عید کے بعد واپس نہیں آئوں گا،اُدھر ہی کوئی کام کروں گا‘‘
جمعرات 07 جون 2018ء

مزدور کی سوچ

بدھ 30 مئی 2018ء
احمد اعجاز
عید آنے میں ابھی کافی دِن تھے، مگر عید کی آمد کا خیال ، پریشان کررہاتھا۔ اُس کی بیوی روزانہ فون کرکے پوچھتی ’’تنخواہ آئی؟‘‘وہ جواب دیتا ’’ابھی تو کافی دِن ہیں‘‘ آگے سے بے بسی سے کہتی ’’کب بچوں کے کپڑے جوتے خریدیں گے؟‘‘ یہ ارشد ہے، لاہور میں، فیکٹری میں ملازم ہے،رہنے والا مظفرگڑھ کا ہے۔ ماہِ رمضان شروع ہوا تو مزدوروں کو اُمید بندھی کہ تنخواہ کے ساتھ بونس بھی ملے گا ۔ مگر بونس تو رہا ایک طرف، وقت پر تنخواہ ملنے کا امکان بھی معدوم تھا۔ آج تو اُسکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ افطاری کر سکے۔ وہ
مزید پڑھیے


محلے کی مسجد

منگل 29 مئی 2018ء
احمد اعجاز
سحری کے بعد،اذان ہوئی تو اُس نے مسجد کا رُخ کیا۔ آج پہلی بار ایسا ہواکہ وہ گھر سے وضو کرکے نہیں نکلا۔ گھر اور مسجد کے بیچ ایک گلی پڑتی ہے،کچھ ہی دیر میںوہ مسجد میں تھا۔ اُس نے واش روم کا رُخ کیا،ٹوٹے پھوٹے واش رُومز،مستزادگندگی زَدہ۔ وضو کرنے بیٹھا،نَل سے پانی قطرہ قطرہ آرہا تھا،نَل بھی ٹوٹے پھوٹے۔ نماز پڑھ کر ، امام صاحب کو جالیا،جو متولی بھی ہیں۔ ’’حضرت!واش رومز کی حالت خراب ہے،گٹر اُبلاپڑا ہے،و ضوکرنا بھی محال ‘‘وہ بولا۔ امام صاحب نے جواب دیا۔ ’’محترم!یہ مسجد یہاںکے مخیر حضرات کے چندے پرقائم ہے۔ ماہِ رمضان میںصاحبِ ثروت حضرات
مزید پڑھیے


حق دار کی تلاش کیوں؟

پیر 28 مئی 2018ء
احمد اعجاز
وہ دفتر سے نکلاتو بے حد خوش تھا،اُس کے اکائونٹ میں دوچار’’پارٹیوں‘‘کی طرف سے ’’عیدی‘‘منتقل ہو چکی تھی۔ اُس نے اے ٹی ایم سے پچیس ہزار نکالے،جو مسجد میں اے سی کے لیے تھے۔ مسجد میں اے سی لگوانے میں ’’ حصہ ‘‘ڈالنے کے تصور نے، اُس کو مزید خوش اور مطمئن کردیا۔ گھر پہنچا تو، بیوی سامنے کچھ پیسے رکھ کر حساب کتاب کررہی تھی۔ ’’پانچ ہزار گھر میں کام کرنے والی ماسی کے،دس ہزار بچوںکی عید کی خریداری کے، اور یہ دوہزار خیرات کے۔ یہ دوہزار ماسی کو دوں،دفتر کے بوڑھے چپڑاسی کویا کسی اور کو ؟‘‘ وہ بولا ’’یہ معمولی رقم کسی کو بھی دے دو،سوچ
مزید پڑھیے


یہاں گہرے بادل ہیں

جمعه 25 مئی 2018ء
احمد اعجاز

کچھ دِن ہوئے،مَیں سپرمارکیٹ میں تھا،عینک بیچنے والا آگیا۔

اُس نے کئی عینکیں ،زبردستی مجھے دکھائیں،ہر ایک کی الگ خوبی بھی بیان کی۔

ایک عینک کی خوبی یہ بتائی، آنکھوںپر لگا ئوگے تو یوںلگے گا جیسے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

مذکورہ عینک میںمیری دلچسپی دیکھ کر ، مزید کئی خوبیاں بھی گنوادیں۔

جب قیمت پوچھی تو بولا’’پندرہ سورپے‘‘

مَیں نے قیمت سن کر فوراًواپس کرنا چاہی،مگر اُس نے نہ لی،اور پوچھا’’کتنے کی خریدیں گے؟‘‘

مَیں نے کہا ’’تین سو‘‘یہ سن کر عینک فوراًمیرے ہاتھ سے لے لی۔

مَیں بھی چل پڑا،تو وہ گاہک ہاتھ سے جاتا دیکھ کر بولا۔

’’یہ لیں ،کیا یادکریںگے‘‘مجبوراًمجھے لینا پڑگئی۔

ملک میں گرمی کی
مزید پڑھیے



ہماری سبیکا

جمعرات 24 مئی 2018ء
احمد اعجاز
امریکیو!ہماری معصوم طالبہ سبیکا کو تمہارا ملک پسند تھا۔ جب تمہارا ملک ،دُنیا بھر میں اپنا اعتماد کھورہا تھا،تب ہماری بچی نے اعتماد کیا۔ اے ڈونلڈ ٹرمپ!کتاب بچی کے اعتماد کا یہ صلہ؟؟ سبیکا کا ملک ،جنگ کی لپیٹ میں رہا،یہ جنگ تمہاری تھی،جو ہماری بنائی گئی۔ مگر جو جنگ تمہارے اندر ہے، اُس سے ہماری بچی کا کیا تعلق؟ امریکیو!تمہیں ہمارے کہانی نویس احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’’ہیروشیما سے پہلے ، ہیروشیما کے بعد‘‘ کواپنے نصابوں میں شامل کرنا چاہیے۔ تاکہ تم جان سکو، ایک علاقے کی جنگ ،دُنیا کے آخری گائوں تک کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ امریکیو!تم یہاں سے اپنے بندوں کو
مزید پڑھیے


ایک وزیرموصوف کی کتھا

بدھ 23 مئی 2018ء
احمد اعجاز
مہر اعجاز احمد اچلانہ ،اُس سیاسی جماعت کیصوبائی وزیر ہیں، جس کے سربراہ کرپشن کی بدولت نااہل ہو کر ملک دُشمنی پر اُترے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیںجانتے کہ کس محکمے کے وزیر ہیں؟ اب یہ بھی نہیں کہ نرے اَن پڑھ یا اپنے قائد جیسے ہیں؟تھوڑے بہت مختلف ہیں۔ اپنے علاقے میں تعلیمی ادارے بنانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اہلِ علاقہ اپنے ایم پی اے کے مذکورہ جنون کی ایک بڑی وجہ یہ بتاتے ہیںکہ ’’ پہلے تعلیمی ادارے بنواتے ہیں ،پھر وہاں سال بھر اساتذہ کے تبادلے کرواتے رہتے ہیں۔ وہ تعلیمی ادارے بنانے سے زیادہ شہرت ،اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے
مزید پڑھیے


ہجرت کا موسم

هفته 19 مئی 2018ء
احمد اعجاز
موسم تبدیل ہوتے ہی پرندے ہجرت کیوں شروع کردیتے ہیں؟ مثال کے طورپر سردیاں شروع ہوتے ہی لاکھوں پرندے برفانی علاقوں سے میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں۔ کسی کے کہنے پر ایسا کرتے ہیں؟ ایک جواب تو یہ ہے کہ وہ ایسا خوراک کے لیے کرتے ہیں، دریائوں کے کناروں پر قیام کرتے ہیں۔ لیکن اس قدر طویل اور پُرخطر سفر صرف خوراک کے حصول کے لیے کرتے ہیں؟یا مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں ؟ مگر موسمی پرندوں کے مقاصد اور کیا ہوسکتے ہیں؟ لیکن پرندوں کے ماہر نے ایک اہم سوال کھڑاکیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’جب پُرخطر اورطویل سفر کے بعد ایک
مزید پڑھیے


کرنل سہیل شہید اور وارث

جمعه 18 مئی 2018ء
احمد اعجاز
بلوچستان کے علاقے کلی الماس کو سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ یہ گذشتہ روز کا واقعہ ہے۔ وہاںایک سو سے زائد معصوم افراد کا مجرمچھپا بیٹھا تھا۔ پاک فوج کے بہادر سپاہیوں نے ،انسانیت کے قاتل کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ ایک سوسے زائد معصوم افراد کا قاتل پلک جھپکتے ہی موت کے منہ میں جا پہنچا۔ دوسری طرف دُشمن کو نیست ونابود کرنے والے کرنل سہیل شہید نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اگلے دِن شہید سپاہی کی میت کو اُن کے آبائی گھرلایاگیا۔وہاں چالیس کروڑ آنکھیں ،منتظر تھیں۔ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ جب شہید سپاہی کو لحد میں
مزید پڑھیے


میز پر کہانی پڑی تھی

بدھ 16 مئی 2018ء
احمد اعجاز
وہ دفتر پہنچا تو میز پر کہانی پڑی تھی۔ ’’مَیں بوڑھی اور بے سہارا ہوں۔دوبیٹیاں ہیں، ایک بیٹا ہے،سب پڑھ رہے ہیں۔ مَیں نے بطور ٹیچر ساری عمر خدمات سرانجام دیں۔ ریٹائرمنٹ پر گھر بنایا تو آٹھ لاکھ کر قرض سر پر چڑھ گیا۔اب رات کو نیند آتی ہے ،نہ دِن میں سکون میسر ہے۔ مجھے آٹھ لاکھ کی امداد چاہیے۔ ایسا قرض جو واپس نہ لیا جائے۔ اگر مجھے آٹھ لاکھ نہ ملے تو میرے گھر پر قبضہ ہو جائے گا۔ میری بچیاں ،میرا بچہ اور مَیں اُجڑ جائیں گے۔ آپ ہی بتائیں ،مَیں دربدر ہو کر کہاں جائوں گی؟ گلشن آراء زوجہ محمد بنارس،سرسید سٹریٹ،گلی نمبر
مزید پڑھیے