ذکیہ مشہدی

’ابا…‘‘ یہ چھوٹا سا، مختصر ترین لفظ عارف کے گلے میں ایک بڑا سا گولہ بن کر پھنس گیا۔

’’ابا…‘‘ اس نے بدقت تمام ہمت جمع کی۔

بڑی سی انگنائی، برآمدے کے کھمبے، ایک محراب میں ٹھکی میخ میں لٹکا مٹھو کا پنجرہ۔ یہ وہی مٹھو ہے کیا جو عارف نے پالا تھا اور اس کے گھر چھوڑنے کے وقت یہاںٹنگا رہتا تھا اور جسے منو ماموں نے گالیاں سکھائی تھیں تو ابا نے سخت ناراض ہو کر اماں کے پورے خاندان کا بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیا تھا؟ لیکن طوطے کتنی بھی لمبی عمر پاتے ہوں، چالیس برس تک تو
مزید پڑھیے