BN

ارشاد احمد عارف



بخیر گزشت


مولانا کا دھرنا ختم ہوا‘ میاں صاحب اللہ نے چاہا تو آج بغرض علاج بیرون ملک سدھار جائیں گے ۔لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مسلم لیگی لیڈر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہیں‘ کارکن البتہ محتاط ہیں‘ انہیں قیادت کا خوش فہمی پر مبنی وہ ردعمل یاد ہے جو سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سامنے آیا‘ ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرنے‘مبارکبادیں دینے اور خوشی سے پھولے نہ سمانے کے بعد ماتم ‘ سینہ کوبی اور ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان۔اب بھی کارکنوں کو ڈر ہے کہیں خوش فہمی ناک نہ
منگل 19 نومبر 2019ء

ایک دھچکا اور

جمعه 15 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنا کی ناکامی نوشتہ دیوار تھی، جسے ذہانت، چالاکی اور موقع شناسی کی شہرت رکھنے والے جمعیت علماء اسلام کے لیڈر پڑھ سکے نہ ان کے خوش فہم ہمنوا، عمران خان اور فوج سے ازلی بغض رکھنے والے دانشوروں، تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر آمَنَّا و صَدَّقْنَا کہا، قوم کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے علاوہ مولانا کے پیروکاروں کو ندامت سے دوچار کیا۔ مولانا کے اہداف میں سے ایک بہرحال حاصل ہوا، مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری، قوم اور مقامی
مزید پڑھیے


چوری کھانے والے مجنوں

جمعرات 14 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
1979ء میں آیت اللہ خمینی نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے ایرانی وزیر اعظم شاہ پور بختیار نے دھمکی دی کہ جونہی امام خمینی کا طیارہ ایرانی حدود میں داخل ہوا اُسے طیارہ شکن توپوں سے اڑا دیا جائے گا۔ امام خمینی نے جوابی بیان میںکہا کہ میں تو ایران جا رہا ہوں شاہ پور بختیاراپنی فکر کریں‘ جونہی میں ایرانی حدود میں داخل ہوا شاہ پور بختیار فرار ہو جائیں گے۔ ایرانی وزیر اعظم کے اعلان کے بعد مختلف ایئر لائنز شش و پنج میں پڑ گئیں اور آیت اللہ کے ساتھیوں کو خصوصی جہازچارٹر
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر۔ مولانا کی سفارتی خدمات

منگل 12 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کا دھرنا جاری ہے اور وہ ہر روز مسئلہ کشمیر ‘کرتار پور راہداری‘ تحفظ ناموس رسولؐ قانون اور ملکی معیشت کے حوالے سے عمران خان کی خوب درگت بنا رہے ہیں ۔مولانا عرصہ دراز تک بطور چیئرمین خارجہ امور کمیٹی و امور کشمیر کمیٹی(قومی اسمبلی) خدمات انجام دے چکے‘ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور خدمات کے حوالے سے پاکستان کے سابق سفارت کارکرامت غوری نے اپنی کتاب ’’بار آشنائی‘‘ میں اظہار خیال کیاہے ۔ کرامت غوری لکھتے ہیں! ’’مولانا فضل الرحمن (بحیثیت چیئرمین خارجہ اُمور کمیٹی)کویت کے سرکاری دورہ پر تشریف لائے۔ ان کی آمد سے
مزید پڑھیے


دانائی یاحب الوطنی کا امتحان

جمعه 08 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
بدھ کی شام دھرنا کے شرکاء سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب اندرونی ہیجان‘ اضطراب اور مایوسی کا شاہکار تھا‘ تقریر میں ربط مفقود تھا اور مزاج پر برہمی کا غلبہ۔ سبب وہ خود جانتے ہیں یا ان کے قریبی ساتھی‘ اتحادیوں نے انہیں مایوس کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ مولانا کی شہرت ایک زیرک‘ عملیت پسند اور موقع شناس مذہبی سیاستدان کی ہے۔ وہ اپنے قریبی مسلکی حلقے کے علاوہ کہیں مذہبی معاملات کو سیاسی گفتگو کا موضوع بناتے ہیں نہ مذہبی کارڈ کو استعمال کرنے کاتاثر دیتے ہیں‘ بدھ کی شام
مزید پڑھیے




تبدیلی

جمعرات 07 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پاکستان میں تبدیلی آ رہی ہے‘ آہستہ آہستہ خراماں خراماں‘ مشاہدہ مگر وہ کر سکتے ہیں جن کے دل و دماغ پر تعصب کے جالے ہیں نہ آنکھوں میں تنگ نظری کا خمار۔ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان میں پندرہ لاکھ افراد کا ہجوم لانے کی شرلی چھوڑی تو سیاست اور میڈیا کے بڑے بڑے جغادری ایمان لے آئے۔ وہ بھی جنہیں اللہ تعالیٰ کے مقدس کلام پر یقین نہ پیغمبر آخر الزمانؐ کے فرمودات پر آمناً و صدقناً کہنے کی توفیق‘ مولانا کے اعداد و شمار کو انہوں نے سچ مانا اور ایمان بالغیب کی نادرمثال قائم کی ‘مولانا سے
مزید پڑھیے


سول بالادستی کا جنازہ

اتوار 03 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کان پک گئے تھے یہ سن سن کر کہ وسطی پنجاب اسٹیبلشمنٹ سے سخت شاکی، بہت ناراض ہے‘ پہلی بار وسطی پنجاب میں بھی فوج کے حوالے سے وہی جذبات جنم لے رہے ہیں جن کا اظہار خیبر پختونخواہ ‘ بلوچستان کے قوم پرست برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں‘ یہ پروپیگنڈا بھی عروج پر تھا کہ پنجاب کے عوام عمران خان کی حکومت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری اور بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اگر مسلم لیگ نے جرأت نہ دکھائی تو قیادت کے بغیر شتر بے مہار عوامی تحریک جنم لے گی، جو سب کچھ بہا لے جائے
مزید پڑھیے


مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے

جمعه 01 نومبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
قدرت موقع ہر ایک کو عطا کرتی ہے‘ بھر پور فائدہ سب نہیں اٹھاتے‘ قدرت کا اشارہ سمجھنے والے فائدے میں رہتے ہیں۔ 2014ء میں ایک سو چھبیس دن کے دھرنے سے تحریک انصاف کا جان چھڑانا مشکل ہو گیا تھا۔تذبذب سے عمران خان دوچار تھے ڈاکٹر طاہر القادری سیانے نکلے ‘پہلے ہی حالات کا رخ بھانپ کر بھکر میں ہونے والے ایک ضمنی انتخاب میں مصروف ہو گئے‘ ایک موقع دونوں کو قدرت نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی صورت میں فراہم کیا تھا‘ فائدہ نہ اٹھا سکے ‘اب کسی طرف سے فیس سیونگ کی توقع تھی نہ یکطرفہ
مزید پڑھیے


منحصر ’’دھرنے‘‘پہ ہو جس کی اُمید

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملنے والے ریلیف سے شریف خاندان اور مسلم لیگ(ن) کے حوصلے بلند ہوئے ‘مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے وابستہ اُمیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ توقعات یہ وابستہ کی گئی تھیں کہ مولانا ‘سندھ اور بلوچستان سے کم از کم ڈیڑھ دو لاکھ جانثار کارکنوں کے ساتھ جب فاتحانہ پنجاب میں داخل ہوں گے تو بزدار حکومت پر کپکپی طاری ہو جائے گی‘ وہ کوٹ سبزل کے مقام پر کنٹینر لگا کر پرجوش مذہبی کارکنوں کو روکنے کی کوشش کرے گی‘ تصادم ہو گا اور مشتعل کارکن کشتوں کے پشتے لگا دیں
مزید پڑھیے


مفاہمت

منگل 29 اکتوبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن کا کاررواں بالآخر چل پڑا‘ کراچی میں شو اگرچہ متاثر کن نہ تھا اور مسلم لیگ و پیپلز پارٹی کی شرکت علامتی‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز تو خیر ہسپتال میں ہیں اور میاں شہباز شریف تیماری میں مصروف مگر احسن اقبال نے بھی شرکت کی زحمت گوارا نہ کی‘ محمد زبیر پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کی طرح شلجموں سے مٹی جھاڑنے آئے تھے۔ جھاڑ کر چلے گئے۔ پیپلز پارٹی چاہتی تو بلاول بھٹو نہ سہی کسی قابل ذکر لیڈر کو نمائندگی کے لئے بھیج سکتی تھی‘ مگر رضا ربانی آئے‘ جو پیپلز پارٹی میں
مزید پڑھیے