BN

ارشاد احمد عارف

اے شمع تجھ پہ رات یہ بھاری ہے جس طرح

پیر 16 جولائی 2018ء
اڈیالہ جیل پہنچنے کے بیس گھنٹے بعد والدہ محترمہ‘ بھائی اور دیگر افراد خانہ سے ملاقات میں میاں صاحب نے وہ ساری شکائتیں کیں جو 1999ء میں اٹک قلعہ اور لانڈھی جیل میں قیام کے دوران ان کی زبان پر تھیں۔ گرمی لگتی ہے‘ مچھر کاٹتے ہیں اور واش روم بدبو دار ہیں۔ دنیا جہان کی سہولتوں سے آراستہ محلات میں بسنے والوں کو نان ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں مخملیں بستر کے بجائے معمولی گدے پر رات بسر کرنی پڑے تو شکایت فطری ہے۔ لیکن ایک لیڈر جس کا دل قومی درد سے معمور اور دماغ سول بالادستی کے
مزید پڑھیے


فلاپ شو

اتوار 15 جولائی 2018ء
مسلم لیگ(ن) کی مصلحت پسند قیادت کے پاس وضاحتوں کے سوا اب رکھا کیا ہے؟۔ میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر وہ لاہور میں اتنے لوگ بھی اکٹھے نہ کر سکی جو ڈاکٹر طاہر القادری اور حافظ سعید بآسانی کر لیتے ہیں۔ ایئر پورٹ کا محاصرہ تو خیر مسلم لیگیوں کے بس کی بات نہیںکہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار مسلم لیگی کارکن ایسی غیر قانونی حرکتوں کو درست سمجھتے ہیں نہ وہ اپنی قیادت کی طرح عقل سے پیدل ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنانے پر تُل جائیں۔ عافیت پسندی ان کے مزاج کا حصہ ہے اور
مزید پڑھیے


جیسی کرنی ویسی بھرنی

جمعه 13 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف کو یہ داد تو دینی چاہیے کہ انہوں نے پاکستان ‘ اس کی عدلیہ‘ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات کھل کر بیان کیے۔ چند ماہ قبل انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے سینے میں چھپے راز ظاہر کریں گے۔ بدھ کے روز لندن کے ایک کنونشن میں انہوں نے پاکستان کو ایک بڑی جیل سے تشبیہ دی ‘ دنیا بھر کی دہشت گردی میں ملوث ریاست اور نان سٹیٹ ایکٹرز کی پناہ گاہ۔ پاک فوج کو انہوں نے سیاست زدہ فوج قرار دیا جس کے سپاہی اور جوان تو
مزید پڑھیے


آزمائش

بدھ 11 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف کی مشکلات تو اپنی پیدا کردہ ہیں یا اُن ’’نظریاتی‘‘ (ابن الوقتوں اور مفاد پرستوں کو نظریاتی لکھتے ہوئے قلم شرما رہا ہے) مشیروں کی جو گھیر گھار کر شریف خاندان کو اس گھاٹ پر لائے ‘مگر لاہور پہنچنے کی کال دے کر میاں صاحب نے اپنے ٹکٹ ہولڈرز اور کارکنوں کو مزیدآزمائش میںڈال دیا ہے۔ پولنگ ڈے سے دس بارہ دن قبل امیدواروں کو اپنی رابطہ عوام مہم ترک کر کے لاہور آنے اور پولیس و انتظامیہ سے بھڑجانے کی ہدائت صرف وہی شخص کر سکتا ہے جسے 25جولائی کے انتخابات اور اپنی جماعت کے مستقبل
مزید پڑھیے


مجبوری

منگل 10 جولائی 2018ء
میاں نواز شریف واقعی 13جولائی کو وطن واپس آ رہے ہیں؟ پرواز نمبر تک مشتہر ہو گیا مگر شکوک و شبہات ختم نہیں ہوئے۔ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کا فیصلہ دلیری اور مجبوری کا امتزاج ہے، واپس نہ آئیں تو بزدل کہلائیں‘ بچی کھچی مسلم لیگ اور سیاست سے ہاتھ دھوئیں‘ احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میںاپیل کے حق سے محروم ہو کر مفرور قرار پائیں۔آئے تو داخل زنداں ہوں۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔1993ء میں اپنی مشہور زمانہ تقریر’’ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ اسمبلی نہیں توڑوں گا‘ استعفیٰ نہیں دوں گا‘‘ سے دستبردارہو کر جنرل
مزید پڑھیے


فیصلہ

اتوار 08 جولائی 2018ء
شریف خاندان نے احتساب عدالت میں کوئی گواہ‘ دستاویزی ثبوت اور معقول دلیل پیش نہ کر کے اس یادگار فیصلے کی راہ ہموار کی جو قابل احترام جج محمد بشیر نے جمعہ کے روز سنایا۔ فیصلے میں فاضل جج نے ایون فیلڈ فلیٹس کی ملکیت ‘ شریف خاندان کی غلط بیانیوں اور جائز وسائل سے بڑھ کر اثاثوں کی تفصیل بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح ایک قطری خط اور جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے احتساب عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کو گمراہ کیا گیا۔ حسین نواز اور حسن نواز سیانے نکلے قبل از وقت
مزید پڑھیے


خطرے کی گھنٹی

جمعرات 05 جولائی 2018ء
فواد حسن فواد کی گرفتاری شریف خاندان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کا پرنسپل سیکرٹری رازوں کی پٹاری ہے اور میاں صاحب ہی کے بعض معتمد خاص انہیں قابل اعتبار نہیں سمجھتے۔ ایک ممتاز کالم نگار تو انہیں ماضی میں میاں نواز شریف کا ’’مسعود محمود‘‘قرار دے چکے ہیں۔ نوجوان نسل مسعود محمود سے واقف نہیں۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے سوویت یونین کی کے جی بی اور ایران کی ساواک سے متاثر ہو کر ایک فیڈرل سکیورٹی فورس تشکیل دی جو صرف وزیر اعظم کو جوابدہ تھی۔ بھٹو کے دور
مزید پڑھیے


شہر کو برباد کر کے رکھ دیا اُس نے منیر

جمعرات 05 جولائی 2018ء
لاہور صرف پنجاب کا دارالحکومت اور پاکستان کا دل نہیں‘ شریف برادران کی سیاست کا قلعہ ہے۔ پیپلز پارٹی سے لاہور چھین کر ہی میاں نواز شریف نے قومی سطح پر اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کی اور پھر بار بار وزیر اعظم بنے۔2011ء میں عمران خان نے مینار پاکستان پر تاریخی اجتماع سے مسلم لیگ (ن) کو لرزہ براندام کیا مگر 2013ء کے انتخابات میں وہ یہ قلعہ فتح نہ کر پائے۔ منگل کے روز مگر بارش نے شریف برادران کے اس سیاسی قلعے کی دیواروں میں دراڑ اور زندہ دلان لاہور کے دلوں میں بدگمانی ڈال دی ۔پہلی
مزید پڑھیے


بے ڈھنگی چال

منگل 03 جولائی 2018ء
عام انتخابات تو شائد وقت پر ہو جائیں کہ رسم دنیا بھی ہے‘ موقع بھی ہے‘ دستور بھی ہے لیکن ان انتخابات کی ساکھ 2013ء کے انتخابات سے بہتر ہو گی یا نہیں؟ یہ اہم سوال ہے‘ میاں نواز شریف نے 28جولائی کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے‘ اپنے گریباں میں جھانکنے اور ذاتی و خاندانی غلطیوں کو سدھارنے کے بجائے چومکھی لڑنے کا فیصلہ کیا۔ عدلیہ‘ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو عضو ضعیف سمجھ کر اپنی نااہلی کا ملبہ گرانے کی سعی کی‘ سگے بھائی میاں شہباز شریف اور دیرینہ دوست نثار علی خاں سمیت ہر
مزید پڑھیے


کیا سیکھا؟

اتوار 24 جون 2018ء
1997ء کے الیکشن سے چند ہفتے قبل ایک معروف کالم نگار نے میاں نواز شریف کو اپنے گھر پر مدعو کیا‘ ظہرانے میں معروف ادیب اشفاق احمد مرحوم اور بزرگ صحافی مجید نظامی مرحوم سمیت کئی دانشور اور اخبار نویس شریک تھے۔ مسلم لیگ میں ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس پر نیو یارک سے آئے ایک مسلم لیگی کارکن نے موقف اختیار کیا کہ اگلے انتخابات میں مسلم لیگ کی جیت یقینی ہے۔ میاں صاحب کو چاہیے وہ مخلص‘ باکردار اور اُصول پسند کارکنوں کو ٹکٹ دیں تاکہ الیکشن جیت کر ترقی اور سول بالادستی
مزید پڑھیے