BN

ارشاد احمد عارف

جیسا راجہ ویسی پرجا


ترقی پذیر معاشروں میں علامتی اقدامات کی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ اقدامات اگر حقیقی تبدیلی کا پیشہ خیمہ ہوں اور نمائشی کلچر کے خاتمے میں مددگار‘تو سبحان اللہ۔ نئی حکومت قومی آمدن بڑھانے اور قرضوں کی معیشت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے اور گورنر ہائوسز سمیت بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کا مقصد یہی ہے۔ یہ بحث اگرچہ جاری ہے کہ ان اقدامات سے ملکی معیشت کس قدر بہتر ہو گی؟۔ قومی خزانے پر بوجھ کم یقینا ہو گا اور سادگی کا کلچر بھی فروغ پائے گا۔ مقروض ملک میں
جمعه 14  ستمبر 2018ء

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

جمعرات 13  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف

بالآخر بیگم کلثوم نواز چل بسیں۔ کینسر کا موذی مرض انسان کی جان لے کر ہی ٹلتا ہے البتہ جنہیں پہلی یا دوسری سٹیج پر پتہ چل جائے‘ شوکت خانم کینسر ہسپتال یا انمول جیسے ادارے میں علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہو ‘وہ خوش بخت اس کے مُنہ سے بچ نکلتے ہیں۔ جو خود یا ان کے عزیز و اقارب ان مراحل سے گزرے وہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں شوکت خانم ہسپتال کتنی بڑی نعمت ہے۔ موت سے مگر پھر بھی مفر نہیں۔ کل من علیہا فان     ؎

موت سے کس کو رُستگاری ہے

آج وہ‘ کل ہماری باری
مزید پڑھیے


صدیق ؓ کے لیے ہے خدا کا رسولؐ بس

منگل 11  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
1955-56ء میں عوامی جمہوریہ چین اور سوویت یونین کے مابین نظریاتی اختلافات اس حد تک بڑھے کہ روسی سائنس دانوں اور دفاعی و اقتصادی مشیروں نے بوریا بستر سمیٹا اور ماسکو چلے گئے۔ چین کا زیرتعمیر دفاعی اور صنعتی ڈھانچہ روسی ماہرین کا مرہون منت تھا اور سوویت حکمرانوں کا خیال تھا کہ چینی حکومت گھٹنے ٹیکنے میں دیر نہیں لگائے گی۔ روسی حکومت کو یہ زعم اس بنا پر بھی تھا کہ اس کے ماہرین اپنی نظریاتی حلیف ریاست کا ایٹمی پروگرام بھی چلا رہے تھے جو کوریا جنگ کی وجہ سے چین کی ضرورت تھا۔ چینی رہنما مائوزے
مزید پڑھیے


توں محنت کر‘ تے‘ محنت دا صلہ جانے‘ خدا جانے

اتوار 09  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف

ڈیم تو انشاء اللہ بن ہی جائیگا کہ حکومت کا عزم ہے‘ قوم کی خواہش اور پاکستان کو ہمیشہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے والے ربّ کی رضا۔ کون سے سیاسی‘ معاشی اُصول اور بین الاقوامی عوامل قیام پاکستان کی تائید کرتے تھے؟ طاقتور انگریز اور سیاست و معیشت کے سر چشموں پر قابض ہندو خلاف تھا‘ ماہرین معیشت اسے دیوانے کا خواب قرار دیتے اور مسلمان جاگیردار‘ بیشتر مذہبی رہنما اور سیکولر دانشور قائد اعظمؒ کے دشمن ۔مگر سات سال کی قلیل مدت میں یہ منصۂ شہود پر آ گیا۔ ساری منطق اور مخالفت دھری کی دھری رہ
مزید پڑھیے


بہ مصطفیؐ برساں خویش را

جمعرات 06  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
با خدا دیوانہ باش و با محمدؐہوشیار۔ ختم نبوتؐ کا معاملہ اتنا نازک اور حساس ہے کہ کچھ بولتے انسان اور کچھ لکھتے قلم کانپتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کو رپورٹر کا جواب دیتے سنا تو طبیعت مکدّر ہوئی، کہا یہ کہ ’’چند انتہا پسند عاطف میاں کے تقرر کی مخالفت کر رہے ہیں کیا اقلیتوں کے پاکستان میں حقوق نہیں‘‘ سبحان اللہ! ختم نبوتؐ کے ایک منکر کا تقرر جائز اور کروڑوں مسلمان انتہا پسند؟ جب علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کو اسلام اور ہندوستان کے غدار قرار دیا تو جواہر لال نہرو نے تعجب ظاہر کیا۔
مزید پڑھیے


صدارتی انتخاب کا معرکہ

منگل 04  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
بالفرض بیرسٹر اعتزاز احسن مقابلے سے دستبردار ہو جائیں تو مولانا فضل الرحمن صدارتی انتخاب جیت سکتے ہیں؟ خواب دیکھنے پر پابندی نہیں لیکن سینٹ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ووٹوں کے تناسب سے واقف ہر معقول شخص کا جواب نفی میں ہے۔1993ء میں صدارتی معرکہ برپا ہوا تو مسلم لیگ کو سینٹ میں برتری حاصل تھی اور پنجاب میں پوزیشن کم و بیش موجودہ عددی تناسب سے ملتی جلتی۔ پیپلز پارٹی خوفزدہ تھی اور اسٹیبلشمنٹ کی یہ خواہش کہ صدر کوئی غیر متنازعہ شخص ہو۔ ایئر مارشل اصغر خان کا نام دونوں جماعتوں کے متفقہ امیدوار کی حیثیت
مزید پڑھیے


تین ماہ کی مہلت

اتوار 02  ستمبر 2018ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان کی نگاہ بلند ہو گی‘ عزم فولادی اور جذبہ توانا مگر واسطہ اُن لوگوں سے پڑا ہے جو اپنی خوبیوں پر نہیں دوسروں کی کمزوریوں پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ عمران خان لاکھ کہے کہ میں پاکستان کو ایک خدا پرست‘ خود دار اور خود کفیل ریاست بنا کر دکھائوں گا مگر ہم اس میں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کا عکس تلاش کریں گے۔ اقربا پرور‘ دوست نواز‘ خوشامد پسند‘ فضول خرچ‘ طاقتوروں کے روبرو سراپا عجزو نیاز‘ برِیشم کی طرح نرم اور کمزوروں کے مقابل فرعون‘ ہٹلر اور نواب امیر محمد خان آف کالا
مزید پڑھیے


ہنگامہ ہے کیوں برپا

جمعه 31  اگست 2018ء
ارشاد احمد عارف
یہ تو پتہ چل گیا کہ پاکپتن میں پولیس نے زیادتی کی‘ خاور مانیکا اور بشریٰ خان کی صاحبزادی سے بدتمیزی کے مرتکب اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دینے کے بجائے ڈی پی او رضوان گوندل نے معاملے کو سیاسی رنگ دے کر میڈیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی سعی کی۔ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ خاور مانیکا نے پولیس اہلکاروں کو برا بھلا کہا تو تعجب کی بات کیاہے؟۔ ہر غیرت مند باپ اپنی بچی سے بدتمیزی بلکہ بے ہودگی کے مرتکب شخص کو بُرا بھلا کہے گا۔ پنجاب میں ایسے واقعات سر پھٹول بلکہ قتل و غارت
مزید پڑھیے


ہو فکر اگر خام تو آزادی ٔافکار

جمعرات 30  اگست 2018ء
ارشاد احمد عارف
منہ زور میڈیا اور پروردہ بیوروکریٹس‘ تحریک انصاف کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کوپانچ برس تک سکھ کا سانس لینے دیں گے؟ سوشل میڈیا نے ہیجان بپا کر رکھا ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس کی پیروی پرمجبور ہے۔ اتفاق سے تحریک انصاف کا پڑھا لکھا سپورٹر سوشل میڈیا سے متاثر ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا مسابقت کے شوق میں سوشل میڈیا پر موجود ہر رطب و یابس کو آگے بڑھانے کا خوگر۔ کیا قصور وار صرف پروردہ بیوروکریسی اور منہ پھٹ صحافت ہے یا تحریک انصاف کی قیادت بھی برابر کی ذمہ دار ہے؟ یہ اہم
مزید پڑھیے


تبدیلی کی اُمید

اتوار 26  اگست 2018ء
ارشاد احمد عارف
تقسیم بالکل واضح ہے۔ایک طبقہ تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے پر پُراُمید‘ پرجوش اور پرعزم ہے‘ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے برے دن بیت گئے‘ خرابی ہمارے مقدر میں نہ تھی کہ کبھی تبدیلی کا اس ریاست میں گزر نہ ہوتا۔ یقین ہے کہ ہماری قسمت بدلے گی‘ ترقی ہو گی‘ خوشحالی آئے گی اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گا مگر مایوسی اور بے یقینی کے مرض میں مبتلا ایک گروہ کی ضد ہے کہ نہیں! ایسا ممکن نہیں۔ یہ گروہ للکار رہا ہے کہ کوئی مائی کا لال اس قوم کے زوال کو عروج
مزید پڑھیے