BN

ارشاد احمد عارف


کثرت اور برکت


ایک غائبانہ خیر اندیش اور مہربان حاجی میاں منظور احمد نے یہ واقعہ شیئر کیا ہے‘ لکھتے ہیں: ’’ہماری فیکٹری کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ہے۔ اکثر وہاں ناشتہ کرنے جاتے ہیں۔ ناشتے والے کے پاس کافی رش ہوتا ہے۔ میں نے کئی مرتبہ مشاہدہ کیا کہ ایک شخص آتا اور بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر چپکے سے پیسے دیئے بغیر نکل جاتا ہے۔ ایک دن جب وہ کھانا کھا رہا تھا تو میں نے چپکے سے ناشتہ پوائنٹ کے مالک کو بتا دیا کہ ’’وہ والا بھائی‘‘ ناشتہ کر کے بغیر بل دئیے رش کا فائدہ اْٹھا کر نکل جاتا ہے۔آج
منگل 07 دسمبر 2021ء مزید پڑھیے

روز قیامت حضورﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟

اتوار 05 دسمبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
زبان گنگ ہے ‘قلم مفلوج‘ روح زخمی ہے‘ دماغ شل اور ندامت کا احساس ہے کہ قلب و نظر کو چھلنی کیے دیتا ہے۔ایک پوسٹر پر لکھے مقدس نعرے کی بے حرمتی کے الزام میں ہجوم نے عدالت کا روپ دھارا‘خود ہی مدعی اور گواہ بنا اور پاکستان میں خدمات انجام دینے والے سری لنکا کے شہری کو موت کی سزا سنائی‘سزا پر عملدرآمد کے بعد لاش سرعام جلا دی۔کسی محدث‘ فقیہہ اور مفسر نے نہیں‘رحمت دو عالمﷺ نے غیر مسلموں کے بارے میں اصول وضع فرمائے ‘آپ ﷺ نے جنگ موتہ کے لئے لشکر روانہ کیا تو امیر کو
مزید پڑھیے


دودھ کی رکھوالی

جمعرات 02 دسمبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
ایم این اے ریاض فتیانہ کو سچ بولنا مہنگا پڑ گیا‘انہوں نے گلاسگو کی ایک کانفرنس میں وزارت ماحولیات کے کرتا دھرتا افراد کی بیوی بچوں‘اور اپنے چہیتوں کے ساتھ شرکت‘باہمی توتکار اور پاکستانی مفادات سے روگردانی کا بھانڈا قومی اسمبلی کی کمیٹی میں پھوڑا تو عام خیال یہی تھا کہ انہیں سادگی کفایت شعاری اور دیانتداری کے علمبردار حکمران کی طرف سے داد ملے گی اور جن لوگوں نے ملک و قوم کے سرمائے پر عیاشی کی ‘وہ سزا پائیں گے ‘مگر اُلٹاریاض فتیانہ کو شوکاز نوٹس جاری ہو گیا کہ قومی خزانے کو حلوائی کی دکان سمجھ کر‘‘نانا
مزید پڑھیے


مریم نواز کی صاف گوئی

جمعرات 25 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
یہ شاید اعترافات کا موسم ہے‘ مریم نوازشریف اس صاف گوئی پر داد کی مستحق ہیں‘ یہ جرأت آج تک کسی سیاستدان نے نہیں دکھائی‘ خود ہی مان لیا کہ میاں نوازشریف کے دور اقتدار میں میڈیا ہائوسز کو سرکاری اشتہارات وزیر اطلاعات پرویز رشید یا سیکرٹری اطلاعات نہیں‘ محترمہ کی مرضی سے ملتے اور بند ہوتے تھے۔ جو از یہ پیش کیا کہ وہ مسلم لیگ ن کا میڈیا سیل چلاتی تھیں اور میڈیا سیل ہی یہ طے کرتا کہ کون سا میڈیا ہائوس سرکاری اشتہارات کا حق دار ہے‘ کون نہیں۔اس صاف گوئی کے بعد یہ سوال
مزید پڑھیے


نادر نسخہ

منگل 23 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
کورونا نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ تعلیمی نظام کو متاثر کیا۔ پاکستان میں کئی ماہ تک تعلیمی ادارے بند رہے اور بچوں کو سابقہ ریکارڈ کی بنیاد پر اگلی جماعتوں میں بھیج دیا گیا‘یہ کورونا کی مہربانی ہے کہ پورا سال طلبہ نے کلاسیں لیں نہ نصاب مکمل کیا گیا مگر میٹرک کے نتائج‘سامنے آئے تو ملک بھر میں سینکڑوں طلبہ کے نمبر گیارہ سو میں سے گیارہ سو تھے‘حتیٰ کہ آرٹس ‘(اردو‘ تاریخ ‘مطالعہ پاکستان اور اسلامیات )کے مضامین میں بھی پورے نمبر۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا اور آئندہ شائد عشروں نہیں صدیوں تک
مزید پڑھیے



نیو ٹرل ایمپائر

جمعه 19 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکومت نے اپنی عددی برتری ثابت کی۔ایک دو نہیں کم و بیش تینتیس بل منظور کرا لئے ۔تارکین وطن کو ووٹنگ کا حق اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابی عمل کی تکمیل سرفہرست ہیں۔اپوزیشن نے حکومت کو دھول تو خیر کیا چٹانی تھی‘اپنے اہم اراکین کو بھی اجلاس میں شرکت پر آمادہ نہ کر سکی ‘کوئی بیماری کے بہانے غیر حاضر رہا اور کسی نے بیرون ملک قیام میں عافیت جانی ۔نوید قمر‘نواب یوسف تالپور اور اختر مینگل ایسے نامور پارلیمنٹرین اور سابقہ حکومتی عہدیدار بھی غیر حاضر رہیں تو اپوزیشن رہنمائوں کے شور و
مزید پڑھیے


’’جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو‘‘

منگل 16 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خودنوشت’’داستان عزم‘‘ چند روز قبل ملی‘ علامہ عبدالستار عاصم‘ قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل کی شائع کردہ ہر کتاب محبت اور اہتمام سے ارسال کرتے ہیں اور ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کے مصداق کتاب بھیج کر بھول جاتے ہیں‘ تبصرہ کرنے کا تقاضہ نہ خبر شائع کرنے کی فرمائش۔’’داستان عزم‘‘یوں تو پوری کی پوری قابل مطالعہ ہے مگر جہاں جہاں ڈاکٹر صاحب نے اپنے علاوہ اپنے رفقا کار کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا ہے وہ صفحات پڑھ کر قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بحیثیت قوم آخر ہماری تخلیق میں
مزید پڑھیے


جس کی خوشبو سے مہک جائے شبستان وصال

جمعه 05 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
کیا باکمال شخص تھا‘دیانت کا پیکر‘شرافت کا پُتلا‘ قناعت کا استعارہ اور صحافت کا روشن چاند ستارہ‘قدرت اللہ چودھری کو مرحوم لکھتے کلیجہ مُنہ کو آتا ہے‘سال سواسال کے دوران میں اپنے چند محسن و مہربان دوستوں سے محروم ہو گیا‘پہل ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کی‘پچھلے سال کورونا سے لڑتے بھڑتے اگلے جہاں چل بسے‘رئوف طاہر نے جنوری میں الوداع کہا‘ عارف نظامی نے عیدالاضحی کے دن اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کیا اور کل قدرت اللہ چودھری خالق حقیقی سے جا ملے۔ قدرت اللہ چودھری سے ربط ضبط 1981ء میں بڑھا جب میں روزنامہ جنگ کے میگزین سیکشن کا
مزید پڑھیے


معاہدہ شکنی اور قانون شکنی کا کلچر

منگل 02 نومبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
رسیدہ بود بلائے‘ولے بخیر گذشت‘ حکومت کی بے تدبیری اور وعدہ خلافی سے جنم لینے والا بحران طاقت استعمال کئے بغیر ٹل گیا‘ایک ڈیڑھ ہفتہ اگرچہ عوام کے صبر کا امتحان لیا گیا‘جی ٹی روڈ کی بندش اور مختلف النوع قیاس آرائیوں نے پوری قوم کا سکون برباد کیا‘معیشت کا نقصان اس پر مستزاد‘آصف علی زرداری نے جب کہا ’’وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ تو سیاسی مخالفین اور میڈیا نے مذاق اڑایا‘تجزیہ نگاروں‘ کالم نویسوں اور ٹی وی اینکرز نے اس طرح مصرع پرخوب گرہ لگائی نوع بہ نوع مضامین کی غزلیں کہیں‘عمران خان کے دور میں مگر یہ
مزید پڑھیے


محبت گولیوں سے بو رہے ہو

اتوار 31 اکتوبر 2021ء
ارشاد احمد عارف
خدا کا شکر ہے کہ علماء کرام‘مشائخ عظام سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان کالعدم تحریک لبیک سے بامقصد مذاکرات اور قانونی تقاضوں کے تحت حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی پر آمادہ نظر آتے ہیں‘وقتی طور پر ہی سہی رٹ آف سٹیٹ بحال کرنے کے لئے رینجرز اور پنجاب پولیس کے ذریعے بے رحمانہ آپریشن کا خطرہ ٹل گیا ہے اور حکومت کے غیر سیاسی موقف میں لچک پیدا ہوئی ہے‘ورنہ بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد یوں نظر آتا تھا کہ گوجرانوالہ کے اردگرد لال مسجد سے ملتا جلتا سانحہ برپا ہوا کہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں