ارشاد احمد عارف



دلدل


برطانوی اخبار ڈیلی میل کی سٹوری پر شریف خاندان اور مسلم لیگی قیادت کا ردعمل روائتی اور پھسپھسا ہے‘ صحافی ڈیوڈ روز کی تحقیقی سٹوری کو عمران خان اور ان کے مشیر شہزاد اکبر کی کارستانی قرار دے کر شریف خاندان اتنے سنگین بلکہ مکروہ الزام کو آسانی سے رد کر سکتا ہے نہ قانونی کارروائی کی دھمکی دے کر پاکستانی عوام کے سامنے سرخرو‘ پچھلے سال غالباً 23جنوری کے شمارے میں ڈیوڈ روز نے ڈیلی میل میں لندن کے فلیٹوں پر ایک تہلکہ خیز سٹوری شائع کی تھی جس کا عنوان تھا''Pent House Pirates''مگر ’’پینٹ ہائوس کے قزاقوں‘‘ نے
منگل 16 جولائی 2019ء

مافیا

اتوار 14 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
بیان حلفی سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی گنجلک شخصیت سامنے آتی ہے۔ ذاتی زندگی میں ویسی بشری کمزوریاں ‘جس کا شکار ہم میں سے اکثر ہیں‘ مجلس آرائی کے شوقین‘ رنگین مزاج اور دوست نواز‘ اس کا فائدہ ملتان کے میاں طارق نے اٹھایا اور ناصر جنجوعہ و ناصر بٹ نے بھی۔ بیان حلفی پڑھ کر ناصر جنجوعہ اور ناصر بٹ کے بارے میں تفصیل سے پتہ چلتا ہے‘ میاں نواز شریف سے قربت‘ جج ارشد ملک کو رام کرنے کے لئے ترغیب اوردبائو کے حربے اور اندرون و بیرون ملک مشکوک ملاقاتوں کا اہتمام‘مگر میاں طارق
مزید پڑھیے


رنج لیڈر کو بہت ہیں

جمعرات 11 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
دھمکی تو مریم نواز شریف نے یہ دی تھی کہ اگر حکومت پنجاب اور جیل حکام نے میاں نواز شریف کو گھر کے کھانے سے محروم ‘ جیل کا کھانا کھانے پر مجبور کیا تو وہ کوٹ لکھپت جیل کے باہر بھوک ہڑتال کریں گی مگر تازہ خبر یہ ہے کہ جیل حکام نے گھر کا کھانا بند کر دیا ہے اور میاں نواز شریف کو وہ کھانا دیا جا رہا ہے جو بقول ترجمان حکومت پنجاب شہباز گل حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہے جبکہ شریف خاندان اب میاں صاحب کو گھریلو کھانے کی فراہمی کے لئے عدالت
مزید پڑھیے


بلیک میلنگ

منگل 09 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
مریم نواز شریف نے جوا کھیلا اور اپنے ساتھیوں کے علاوہ قومی میڈیا کو مشکل میں ڈال دیا۔ یہ فیصلہ فرانزک ماہرین کر سکتے ہیں کہ میڈیا کے سامنے پیش کردہ ویڈیو اور آڈیو کی اصلیت کیا ہے؟ آواز جج کی ہے یا ایجادبندہ؟ آواز جج صاحب کی ہے تو اس میں قطع و برید ہوئی؟ مرضی کے ٹوٹے جوڑ کر من پسند گفتگو سامنے لائی گئی یا من و عن پیش کر دی گئی؟ عام آدمی اور حقیقت کے متلاشی میڈیا کے لئے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے روبرو جعلی دستاویزات پیش کر کے
مزید پڑھیے


نسخۂ کیمیا

اتوار 07 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
منشیات کیس میں سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے اکثر رہنمائوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا ہے کہ وہ بھی جلد یا بدیر گرفتار ہو جائیں گے۔ سنگین مالیاتی جرائم میں ملوث ان لیڈروں کے میڈیا منیجر شب و روز اس پروپیگنڈے میں مصروف ہیں کہ عمرانی حکومت اپنی ناکامیوںکو چھپانے کے لئے انتقامی کارروائیوں پر اُتر آئی ہے اور فوج‘ نیب ‘ اے این یف سمیت تمام ریاستی ادارے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود چونکہ حکومت اب تک کسی
مزید پڑھیے




ناحق ہم مجبوروں پر

جمعه 05 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
ڈیرہ غازی خان جب بھی جاتا ہوں قابل اعتماد دوستوں سے وہاں کے پولیس اور انتظامی افسروں کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے عزیز و اقارب ‘ دوست احباب اور سیاسی حلیفوں کے بارے میں جاننے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں‘ آخری بار مارچ میں پندرہ دن کے وقفے سے دوبار شادی کی تقریبات میں شرکت کے لئے گیا تو لوگوں نے محکمہ انہار‘ شاہرات کے دو افسروں اور کمشنر و ڈپٹی کمشنر کے بارے میں منفی رائے دی(یہ افسران اب تبدیل ہو چکے ہیں) ان کے کرتوتوں کے باعث تحریک انصاف کی حکومت کی
مزید پڑھیے


اگلی باری کس کی؟

منگل 02 جولائی 2019ء
ارشاد احمد عارف
اینٹی نار کو ٹکس فورس کے ہاتھوں مسلم لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی گرفتاری بڑا واقعہ ہے۔ حنیف عباسی کے بعد رانا ثناء اللہ مسلم لیگ (ن) کے دوسرے لیڈر ہیں جن کو منشیات فروشوں سے تعلق کے سنگین الزام میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے گرفتار کیا۔ میاں شہباز شریف اور مریم نواز گرفتاری پر خواہ کچھ کہیں اور اس کا الزام وزیر اعظم عمران خان پر دھریں لیکن طویل عرصہ تک اقتدار میں رہنے کے باعث بخوبی جانتے ہیں کہ اے این ایف اچھی ساکھ کا قومی ادارہ ہے جس کی اب تک کسی کارروائی پر
مزید پڑھیے


غواّص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

اتوار 30 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
پاکستان میں اُصولی سیاست نے وصولی سیاست کا روپ کب دھارا؟ یہ طویل داستان ہے۔ اپوزیشن کا کام اختلاف برائے اختلاف اور حکومت کا فرض ’’میں نہ مانوں ہے‘‘ ؟یہ نصف صدی کا قصّہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔میاں شہباز شریف کو شکوہ ہے کہ حکومت نے بجٹ میں ہماری کوئی تجویز شامل نہیں کی جبکہ حکومتی ارکان برہم ہیں کہ اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کے دوران شور شرابے کے سوا کچھ نہیں کیا‘ کوئی ٹھوس تجویز پیش کی نہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کی طرف دست تعاون بڑھایا۔ میثاق معیشت کی تجویز پیش کی‘
مزید پڑھیے


کھودا پہاڑ نکلا چوہا

جمعرات 27 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن نے ساری اپوزیشن کو مشکل میں ڈال دیا‘ نگلنا آسان نہ اگلنا سہل۔ اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے اور چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک‘ کہنا آسان ہے کرنا مشکل۔ مولانا بھولے ہیں نہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی سوچ سے ناواقف۔ اگر اسمبلیوں سے استعفے دینے ہوتے تو آصف علی زرداری‘ بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف اپنے منتخب ساتھیوں سمیت پچھلے سال رکن اسمبلی کے طور پر حلف کیوں اٹھاتے‘ پبلک اکائونٹس سمیت قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کے لئے سر دھڑ کی بازی کیوں لگاتے اور نیب میں پیشیوں اور گرفتاریوں کے باوجود
مزید پڑھیے


خود کردہ را علاجے نیست

جمعه 21 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
میاں نواز شریف کو اللہ تعالیٰ شفا دے اور تادیر سلامت رکھے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد ہونا صرف اُن کے لئے نہیں‘ اہل خانہ‘ دوست احباب اور مداحوں کے لئے تکلیف دہ ہے مگر ذمہ دار‘ حکومت ہے نہ نیب ع اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست میاں نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سیاست میں کسی ارفع قومی مقصد کے حصول کے لئے آئے نہ جمہوریت کی ترویج و بقا ان کا نصب العین تھا اور نہ جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے انہوں نے سیاست کی
مزید پڑھیے