BN

ارشاد احمد عارف


سینٹ انتخابات۔ حکومت کی آزمائش


عمران خان کی طرف سے اوپن بیلٹنگ کی تجویز سینٹ انتخابات میں شفافیت لانے کے لئے تھی اور شائدنیک نیتی کا مظہر‘ اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لئے مگر مناسب ہوم ورک ہوا نہ بامقصد مشاورت اور نہ اس کے نتائج و عواقب پر سنجیدہ غور و فکر۔ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے بعد پارلیمنٹ سے رجوع اور پھر اچانک صدارتی آرڈی ننس کا اجراء عجلت پسندی اور غیر سنجیدگی کے سوا کیا ہے؟ گزشتہ روز وفاقی وزراء نے ایک ٹی وی چینل پر چلنے والی فوٹیجز کو اوپن بیلٹنگ کی تجویز کے حق میں
جمعرات 11 فروری 2021ء مزید پڑھیے

یہ خون خاک نشیناں تھا‘ رزق خاک ہوا

منگل 09 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
کوئٹہ میں ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے دن دیہاڑے ٹریفک سارجنٹ کو اپنی قیمتی گاڑی سے کچل کر موت کے گھاٹ اتارا تو کئی روز تک میڈیا میں شور مچا‘ سول سوسائٹی نے بھی قاتل کو قرار واقعی سزا دلانے کے لئے چیخ و پکار کی مگر بالآخر طاقتورقاتل مقامی عدالت سے باعزت بری ہوا‘ موقع کے گواہ‘ سیف سٹی کے ٹی وی کیمرے اور دیگر شواہد سب جھوٹے قرار پائے‘ اندھے گونگے ‘ بہرے نظام عدل نے صرف عبدالمجید اچکزئی کی بات مانی اور مقتول پولیس سارجنٹ کا خون رائیگاں چلا گیا‘ اسلام آباد میں وفاقی خاتون محتسب
مزید پڑھیے


نام بڑے درشن چھوٹے

جمعه 05 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
یہ ناقص مشاورت کا نتیجہ ہے یا محض پوائنٹ سکورنگ کی مجنونانہ خواہش؟ سینٹ کے انتخاب میں اوپن بیلٹنگ کی حکومتی تجویز بیک فائر کر گئی ہے۔ روز اوّل سے واضح تھا کہ آئین میں ترمیم کے بغیر سینٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ یا اوپن بیلٹنگ کے ذریعے کرانا ممکن نہیں‘ آئین اس معاملے میں واضح ہے اور آئینی سکیم سے چھیڑ چھاڑ پارلیمنٹ کو زیبا ہے۔ کوئی عدالت ازخود اس آئینی سکیم کو تبدیل کر سکتی ہے نہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی اور سینٹ میں مطلوبہ اکثریت موجود کہ وہ اپوزیشن کے تعاون کے بغیر آئینی ترمیم
مزید پڑھیے


مجبور ہیں اُف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے

منگل 02 فروری 2021ء
ارشاد احمد عارف
31۔جنوری بھی گزر گیا‘ عمران خان نے استعفیٰ دیا نہ حکومت میں کمزوری اور اندرونی انتشار کے آثار نظر آئے۔ پی ڈی ایم البتہ داخلی خلفشار کا شکار ہے۔ مریم نواز شریف‘ مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کے بارے میں جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ ایک ہی صفحے پر ہیں وہ بے خبر ہے یا عارضۂ نسیاں کا شکار۔ استعداد سے زیادہ و بڑے ہدف کا تعین اور تعاقب بالعموم انسان کو شرمندگی سے دوچار کرتا ہے مگر پی ڈی ایم کی تجربہ کار‘ حکمرانی کے اسرار و رموز سے آشنا قیادت کو یہ بات کیوں سمجھ
مزید پڑھیے


ٹیکس گزار قائد اعظمؒ

اتوار 31 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر سعد ایس خان کا بھلا کرے‘ انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کے ایک ایسے پہلو پر داد تحقیق دی جس پر ان کے سوانح نگاروں نے قرار واقعی توجہ نہیں دی‘ قائد اعظم کی سیاسی عظمت اور ذاتی بلند کرداری پر بہت کچھ لکھا گیا‘ ان کی امانت و دیانت کا اعتراف ہر ایک نے کیا‘ ڈاکٹر سعد ایس خان نے مگر قائد اعظم کو ایک ٹیکس گزار شہری کے طور پر پیش کیا ہے ‘ایسا ذمہ داری شہری جو اپنی آمدن پر عائد جملہ ٹیکس دیانتداری سے ادا کرتا اور دوسروں کے
مزید پڑھیے



مرعوب ذہنیت

جمعه 29 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
سینٹ انتخابات میں علانیہ رائے شماری (اوپن بیلٹنگ)کا تویہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ حکومت ہارس ٹریڈنگ کو روکنا چاہتی ہے لیکن فلور کراسنگ کو روکنے اور تارکین وطن پاکستانیوں کو نمائندگی دینے کی آڑ میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت؟ دال میںکچھ کالا ہے‘1973ء کے آئین میں عوامی نمائندگی کے لئے پاکستانی شہریت کی شرط سوچ سمجھ کر رکھی گئی‘ یہ مفادات کے تصادم اور منقسم وفاداری کو روکنے کی تدبیر ہے‘ پاکستان کی شہریت ترک کر کے کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنا یا پاکستان کے ساتھ ساتھ کسی
مزید پڑھیے


کثرت کی خواہش

جمعرات 28 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
نومسلم محمد اسد کی خودنوشت سوانح حیات پڑھ کر ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا جاننے کو ملتا ہے‘ قبول اسلام کے اسباب اور واقعات کو انہوں نے جس سادگی اور دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے وہ چشم کشا ہیں‘ ایک واقعہ آپ بھی پڑھیے۔ ’’ستمبر 26ء میں ایک مرتبہ اپنی بیوی کے ساتھ میں زمین دوز ٹرین پر سوار تھا کہ اچانک میری نظر ایک آدمی پر پڑی جو میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کوئی دولت مند اور خوشحال تاجر معلوم ہوتا تھا۔ ایک چھوٹا سا خوبصورت بیگ اس کی گود میں رکھا تھا اور ہیرے
مزید پڑھیے


آغاز بھی رسوائی‘ انجام بھی رسوائی

منگل 26 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
فارسی میں کہتے ہیں آنچہ کند دانا‘ ہم کند ناداں ولیک بعداز خرابی بسیار‘ مسلم لیگ (ن) نے بھی پیپلز پارٹی کی طرح انہی اسمبلیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا جنہیں اڑھائی سال تک دھاندلی کی پیداوار اور سلیکٹرز کی تخلیق قرار دیا گیا ؎ تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر مسلم لیگ (ن) کے ہمدرد اور میاں نواز شریف کی سیاسی بصیرت کے پرجوش مبلغ بھی آج یہ تسلیم کر رہے ہیں
مزید پڑھیے


اس قدر اضطراب؟

اتوار 24 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ‘ یکطرفہ منسوخی اور عدالتی فیصلے پر کروڑوں ڈالر جرمانہ کی ادائیگی ماضی کا قصہ ہے مگر طشت ازبام ہونے کے بعد پاکستان میں بھونچال آ گیا ہے‘ کیوے موساوی کے ایک انٹرویو کے بعد حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ اپوزیشن نے کی مگر حکومت کا جوابی حملہ کارگر رہا اور اب مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی دفاعی پوزیشن پر ہے‘ براڈشیٹ معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کی تشکیل اور اس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق نیک نام جج شیخ عظمت سعید کو سونپنے کے اعلان پر نیب کے زخم
مزید پڑھیے


’’میں نہیں جانتا‘‘

جمعه 22 جنوری 2021ء
ارشاد احمد عارف
ترکی کے صوفی شاعر یونس ایمرے جب جج کا عالیشان منصب چھوڑ کر نالیحان کے بزرگ شیخ تاپتک ایمرے کی درگاہ سے وابستہ ہوئے تو قونیہ کے اعلیٰ مدارس سے تعلیمی مدارج طے کرنے والے نوجوان کو تصوف و سلوک کی منازل اور علمی و روحانی اسرار و رموز سے روشناس کرانے کے لئے شیخ وقت کی طرف سے مختلف فرائض تفویض ہوئے جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ہر سوال کے جواب میں ’’میں نہیں جانتا‘‘ کی گردان کریں گے‘ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جج کے منصب سے سبکدوش ہونے والا نوجوان ہر بات کے جواب
مزید پڑھیے








اہم خبریں