Common frontend top

ارشاد احمد عارف


افغان باقی‘کہسار باقی


بیس سال بعد افغان طالبان کی دارالحکومت کابل میں فاتحانہ واپسی پر واشنگٹن سے لے کر لندن اور بیجنگ سے لے کر ماسکو تک ہر عسکری ماہر‘دانشور اور تجزیہ کار حیران ہے‘کسی کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ امریکہ و نیٹو کو انخلا پر مجبور کرنے والے طالبان سرعت سے‘چند ہفتوں میں پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ یہ مناظر دیکھ کر ہر کلمہ گو کا اپنے اللہ بزرگ و برتر پر ایمان و یقین مزید پختہ ہوا‘وتعز من تشاء و تذل من تشاء بیدک الخیر انک علیٰ کلی شیِٔ قدیر (اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے
منگل 17  اگست 2021ء مزید پڑھیے

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

جمعه 13  اگست 2021ء
ارشاد احمد عارف
امریکی اور برطانوی میڈیا ہی نہیں سپر پاور کے انٹیلی جنس ادارے بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ افغان حکومت اور افغان نیشنل آرمی جنگجو طالبان کا مقابلہ کرنے کی اہلیت و صلاحیت سے محروم ہے۔چند دنوں میں طالبان نے دس صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر کے اپنے مخالفین کو حیران کر دیا ۔امریکی تربیت یافتہ افغان نیشنل آرمی کے بارے میں یہ حسن ظن پایا جاتا تھا کہ وہ کم از کم تین سال تک طالبان کا مقابلہ کرے گی اور انہیں قندوز‘غزنی‘ شبر غان‘فراہ ‘فیض آباد جیسے شہروں میں داخل نہیں ہونے دے گی‘طالبان اگلے چند
مزید پڑھیے


تیسری غلطی

بدھ 11  اگست 2021ء
ارشاد احمد عارف
1988ء میں امریکہ اور سوویت یونین نے باہم مل کر افغانستان سے روسی فوجوں کے انخلا کا شیڈول طے کیا تو پاکستان سمیت کسی کو یقین نہ آیا‘ عالمی برادری حیران تھی کہ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ میں سرخ ریچھ نے جہاں جہاں پنجے گاڑے‘ کہیں سے واپسی کا نام نہ لیا‘ آگے بڑھتا ہی چلا گیا۔ بھارت جیسے پاکستان دشمن ممالک کو امید تھی کہ کریملن کا اگلا پڑائو پاکستان ہوگا کہ گرم پانیوں تک رسائی زار روس سے لے کر برزنیف تک ہر حکمران کی دیرینہ خواہش رہی۔وزیراعظم محمد خان جونیجو نے کچھ امریکی دبائو‘ قدرے ضیاء
مزید پڑھیے


حسن کے راز نہاں‘شرح بیاں تک پہنچے

جمعرات 05  اگست 2021ء
ارشاد احمد عارف
مسلم لیگ(ن) کی اندرونی کشمکش اب ٹی وی چینلز کی سکرین اور اخبارات کے صفحات کی زینت بننے لگی ہے‘آف دی ریکارڈ کچھ نہیں رہا‘سب آن دی ریکارڈ ہے۔بقول محمد دین تاثیر ؎ حسن کے راز نہاں ‘شرح بیاں تک پہنچے بات چل نکلی ہے‘ اب دیکھیں کہاں تک پہنچے مسلم لیگ(ن) کے صدر میاں شہباز شریف سے سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق‘سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر ملے‘بقول ایاز صادق ایک ماہ کے وقفے کے بعد ملاقات کا مقصد شہباز شریف سے عید ملنا‘خیریت دریافت کرنا
مزید پڑھیے


مجرم ایک‘قصور وار سب

جمعه 30 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
سابق سفارت کار شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کی واردات نے سچی بات ہے وفاقی دارالحکومت کو لرزا دیا‘نور مقدم کے والد شوکت مقدم اور ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر جدید تعلیم یافتہ‘مالدار اور بارسوخ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کے بچوں کو اندرون اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھنے اور ماڈرن طور طریقے سیکھنے کا موقع ملا‘والدین کی طرح ان بچوں کو مغربی آداب معاشرت سے لگائو تھا اور ہر طرح کی مادر پدر آزادی حاصل‘اس آزادی کے باعث وہ گھر سے باہر ہوٹلوں‘کلبوں اور شبینہ محفلوں میں جاتے اور شب
مزید پڑھیے



’’ربّ ڈانگاں نئیں مت ماردا‘‘

منگل 27 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
دسمبر 2012ء میں سپین کے ایک شہر میں دوڑ کے مقابلوں کے دوران یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آیا‘ مقابلے میں فنش لائن سے چند فٹ کے فاصلے پر کینیا کا اتھلیٹ ابوالمطیع سب سے آگے تھا‘ اسے احساس ہوا کہ وہ دوڑ جیت چکا ہے چنانچہ رک گیا اسپین کا اتھلیٹ ایون فرڈیننڈز اس کے بالکل پیچھے دوڑ رہا تھا۔ مطیع کے رکنے پر وہ بآسانی چند قدم آگے فنش لائن پر پہنچ کر اپنی فتح کو یقینی بنا سکتا تھا مگر اس نے جان لیا کہ مطیع غلط فہمی کا شکار ہے لہٰذا اس نے آواز دی کہ’’
مزید پڑھیے


نہلے پہ دہلا

اتوار 25 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
آزاد کشمیر میں عمران خان کی تقریروں کا عمومی تاثر مثبت ہے‘ مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو کی سطح پر وہ نہیں اُترے اور کہیں بھی نریندر مودی کو بھولے نہ اس کے آر ایس ایس نظریے کو فراموش کیا‘ گیلپ سروے نے ان کی ذاتی مقبولیت اور تحریک انصاف کی بطور جماعت عوامی پذیرائی کی تصدیق کی ۔ سروے کے مطابق شخصی مقبولیت میں مریم نواز شریف پانچویں‘میاں نواز شریف چوتھے‘ میاں شہباز شریف تیسرے اور بلاول بھٹو دوسرے نمبر پر ہیں‘ گویا پیپلز پارٹی کم بیک کر رہی ہے اور راجہ فاروق حیدر کے پانچ سالہ دوراقتدار
مزید پڑھیے


روئیے کس کے لئے‘ کس کس کا ماتم کیجیے

هفته 24 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
عارف نظامی مرحوم کے بارے میں لکھتے ہوئے میں سچی بات ہے‘عجز بیاں کا شکار ہوں۔ سینتیس اڑتیس سالہ پیشہ ورانہ رفاقت ‘ باہمی احترام‘اور قربت و اعتماد کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے اور کبھی لوٹ کے نہ آنے والے کی یادوں کو سمیٹناآساں نہیں۔ عارف نظامی صاحب یکم جولائی سے ہسپتال میں تھے اور چلتی ‘ رکتی ابھرتی ڈوبتی نبضیں اُن کے اہل خانہ کی طرح ہم ایسے خیر خواہوں کو پریشان رکھتیں‘ دھڑکا ہر وقت لگا رہتامگر بُری خبر سننے کو کوئی تیار نہ تھا‘ اطلاع ملی تو زبان سے بے ساختہ نکلا ع یا
مزید پڑھیے


بے نظیر بھٹو کی فرمائش

منگل 20 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ میں جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ نے سیاستدانوں کے ساتھ باہمی ربط و ضبط‘ان کے انداز حکمرانی اور محلاتی ریشہ دوانیوں کا ذکر تفصیل سے کیا ہے بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بتاتے ہیں: ’’بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں مجھے محترمہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا‘ یہ ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ میرا محترمہ کے ساتھ بھی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح احترام و عزت کا رشتہ تھا‘ جنہوں نے تدبر و ذہانت سے ایک تھوڑے سے عرصے میں 1971ء کی شکست کے بعد پاکستان کی عزت کو بحال کیا اور او
مزید پڑھیے


’’اقتدار کی مجبوریاں‘‘ (دوسرا حصہ)

پیر 19 جولائی 2021ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شمولیت ہمارے لئے ایک قومی سانحہ تھا۔ جنگ شروع ہوئی اور امریکہ نے ظلم و بربریت (Shock and Awe)کی بدترین مثال پیش کر کے مہذب دنیا کا اصل چہرہ دکھا دیا۔ طالبان پیچھے ہٹ گئے اور کوہ و دمن کی پناہ گاہوں میں چھپ گئے‘ ہارنہیں مانی‘ بدلہ لینے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ دو سال گزر گئے اسی دوران 2003ء میں جلال الدین حقانی پاکستان تشریف لائے۔ جنرل حمید گل کے گھر عشائیے پر ان سے میری ملاقات ہوئی ۔ میں نے پوچھا: ’’دشمن تو پورے ملک پر قابض ہے‘ اب آپ کا
مزید پڑھیے








اہم خبریں