BN

ارشاد احمد عارف



قابل داد پیش قدمی


8مارچ کو عورت مارچ کے منتظمین اور شرکاء کی ثابت قدمی قابل داد ہے، ثابت قدمی نہیں، بلکہ پیش قدمی۔ ناقدین کے تمام دعوئوں، جملہ خدشات کو انہوں نے درست ثابت کیا، حامیوں اور مخالفین پر واضح کر دیا کہ یہ حقوق نسواں کی تحریک ہے نہ پاکستان کے طول و عرض میں خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف جذباتی ردعمل۔ کاروکاری، ونی اور سوارا کی بے ہودہ رسموں کی مخالفت مطلوب تھی تو مارچ ان جاگیرداروں کے خلاف ہوتا جو جرگوں کی سربراہی اور خواتین کے علاوہ ان کے والدین، بھائیوں، عزیز و اقارب کے خلاف فیصلے فرماتے
منگل 10 مارچ 2020ء

فتنہ

اتوار 08 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
مان لیا کہ پاکستان میں خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں جو ایک جدید مثالی اسلامی‘ جمہوری ریاست میں حاصل ہونے چاہئیں۔ معاشرے میں بیٹے اور بیٹی ‘ بھائی اور بہن کے مابین فرق روا رکھا جاتا ہے۔ شوہر بیویوں سے مثالی سلوک نہیں کرتے۔ بعض پسماندہ علاقوں میں عورت کو پائوں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ بچیوں کو جوان ہونے پر پوچھے بغیر ایسے مرد سے بیاہ دیا جاتا ہے جو انہیں پسند ہوتا ہے نہ تعلیم‘ ذہنی سطح اور شکل و صورت میں ان کے پاسنگ۔ پسند کی شادی کو جرم سمجھ کر باپ‘ بھائی اور رشتے دار حیوانیت پر اُتر
مزید پڑھیے


’’میرا جسم‘ میری مرضی‘‘

جمعه 06 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
پچھلے سال عورت مارچ میں جو بینر نمایاں ہوئے ان پر تحریر نعروں میں سے ‘محتاط اور ذمہ دار پرنٹ میڈیا نے صرف ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کو قابل اشاعت سمجھا‘ باقی نعرے اس قدر لغو‘ غلیظ اور دلآزار تھے کہ عورت مارچ کے علمبردار اور حامی الیکٹرانک میڈیا اور اینکرز کو بھی دکھانے کی جرأت نہ ہوئی‘ بے ہودگی اور غلاظت کا یہ سودا اس بار پھر بکنے کو تیارہے‘ تکنیک البتہ اس بار مختلف اختیار کی گئی ۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان اور پریس کانفرنسوں میں بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کی حمائت
مزید پڑھیے


ڈالر بھلے یا گائیڈز کیولری

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر(ر) آفتاب احمد کی کتاب’’کھیڈن ہار فقیرا‘‘ کا مطالعہ جاری ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن ظفر تم نے ہمیں یہ تو بتایا ہی نہیں کہ معیار کیوں دن بدن گر رہا ہے۔‘‘پریذیڈنٹ سلیکشن بورڈ بریگیڈیئر ظفر حیات سیمینار سے فراغت کے بعد جب اپنے آفس میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کو بورڈ کے اندرونی معاملات پہ تعارف اور تفصیل کے اختتام پر پہنچے تو جنرل ضیاء کو شاید یاد آ گیا کہ وہ مرکزی نقطہ جس کی خاطر انہوں نے یہاں آنے کی دعوت قبول کی تھی اس کا تو پورے فسانے میں کہیں
مزید پڑھیے


کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ!

منگل 03 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان کے کٹھ پتلی صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے امریکہ طالبان معاہدے کے مطابق پانچ ہزار طالبان قیدی رہا کرنے سے یہ کہہ کرانکار کر دیا ہے کہ انہوں نے ان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ نہیں کیا‘ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں اشرف غنی شریک تھے نہ فریق‘ کابل میں ان کی حیثیت وہی ہے جوہمارے دیہاتوں میں سردار کے کسی گماشتے کی‘ تین لاکھ سے زائد افغان فوج وجود میں آ چکی ہے مگر موصوف اپنی سکیورٹی کے لئے امریکیوں کے محتاج ہیں‘ حالیہ صدارتی الیکشن کے نتائج کو ڈاکٹر عبداللہ
مزید پڑھیے




افغان باقی‘ کہسار باقی

اتوار 01 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
اکیسویں صدی کی واحد سپر پاور امریکہ کا کا نمائندہ زلمے خلیل زاد عالمی میڈیا اور پچاس ممالک کے عہدیداروں‘ وزراء اور سفیروں کے سامنے افغان طالبان کے رکن ملّا عبدالغنی برادر کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر رہا تھا اور میرے دل و دماغ میں ایک اُلوہی وعدے نے ہلچل مچا رکھی تھی کم من فئۃٍ قلیلۃٍ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللّٰہ واللّٰہ مع الصابرین۔ (اکثر چھوٹے گروہ‘ بڑی بڑی جماعتوں اور قوموں پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب آ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) ؎ فضائے بدر
مزید پڑھیے


ہارن کھیڈ فقیرا

جمعه 28 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر آفتاب مزید لکھتے ہیں ’’تم نے جنرل اقبال کے بارے میں کچھ نہیں بتایا‘‘ جنرل نے اپنی تنی ہوئی بھنوئوں سے کھیلتے ہوئے پوچھا۔ ’’کون سے اقبال؟‘‘ میں نے پوچھا ۔اس وقت آرمی میں اقبال نام کے تین جنرل تھے۔اگرچہ میں سمجھ گیا تھا اس کا اشارہ اپنے سے سینئر پوٹھوہاری پفر جنرل کی طرف تھا جو اس سے سینئر بھی تھے‘خاردار بھی اور نسبتاً اچھی شہرت کے مالک بھی۔ ’’وہ مونچھوں والا اقبال‘‘ لاہوری جنرل خود کلین شیو تھا لیکن اس نے بالائی ہونٹ کے اوپر دائیں بائیں اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ یقینا چاہتا تھا کہ میں لڑاکا فوج کے ’مونچھوں
مزید پڑھیے


ہارن کھیڈ فقیرا

جمعرات 27 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
میجر (ر) آفتاب سے تعارف برادرم فرخ سہیل گوئندی نے دالیم شریف الحق ‘کی کتاب کے مترجم کے طور پر کرایا‘ چند ملاقاتوں میں لگا کہ حب الوطنی کے پیکر میجر آفتاب پاکستان کو قرار واقعی اقبالؒ و قائدؒ کے خوابوں کی تعبیر‘ اسلام اور جمہوریت کا گہوارہ دیکھنے کے متنی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے جوانی سے بڑھاپے کے سفر جہد مسلسل میں مگن ‘میجر آفتاب گزشتہ روز اپنی تازہ تصنیف ’’ہارن کھیڈ فقیرا(خود نوشت)دے کر گئے تو سرسری ورق گردانی کے دوران ضخیم کتاب کے سینکڑوں صفحات پڑھ ڈالے۔ جنرل ضیاء الحق دور میں پانچ
مزید پڑھیے


ہشیار‘خبردار

منگل 25 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
افغانستان میں سیز فائر کا عمل شروع ہے اور اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا تو 29فروری کو صدر ٹرمپ امن معاہدے پر دستخط کر دیں گے‘ امریکہ افغانستان سے اپنی فوج نکال لے گا اور صدر اشرف غنی بدلخواستہ ہی طالبان کی خوشنودی کے جتن کریں گے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ پچھلے سال جنوری ‘فروری میں سیز فائر اور مئی میں امن معاہدہ چاہتے تھے مگر طالبان نہیں مانے‘ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آیا اپنی مرضی سے تھا‘ جائے گا ہماری مرضی سے‘ ٹائم شیڈول بھی ہم دیں گے‘ امریکی صدر نے درمیان میں
مزید پڑھیے


یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا لیا

اتوار 23 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اٹھارہ ماہ بعد عمران خان کو سمجھ آ ہی گئی کہ یہ قوم پکی پکائی مچھلی کا ٹکڑا مانگتی ہے مچھلی پکڑنے کا طریقہ سیکھنا اس کا مزاج نہ عادت۔انسان مزاجاً جلد باز اور ناشکرا ہے‘ مگر اتنا بھی نہیں جتنے ہم! ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی خواہش مند اس قوم نے ستر سال تجربات میں ضائع کر دیے‘ ناکام تجربات کو بار بار دھرایا اور پچھتائی آج تک نہیں‘ جس حکمران نے فروغ صنعت وتعلیم کے ذریعے پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ڈالی اُسے ہم نے کتا کتا کہہ کے ایوان اقتدار سے نکالا اور صنعتی و تعلیمی
مزید پڑھیے