BN

ارشاد احمد عارف



عمرانو فوبیا


جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر پر مخالفانہ ردعمل بھارت سے زیادہ پاکستان میں دیکھنے کو ملا۔ بھارتی میڈیا پر عمران خان کی تقریر کے ناقدین کو وہ مخالفانہ نکات تک نہیں سوجھے جو وزیر اعظم کے پاکستانی مخالفین نے ریگولر اور سوشل میڈیا پر اٹھائے‘ واقعی انسان تعصب اور تنگ نظری کے موذی مرض میں مبتلا ہو تو اُسے ایک شاہکار تقریر بھی لفظوں کی تکرار لگتی ہے۔ جن دانشوروں اور سیاستدانوں نے سوچ رکھا تھا کہ عمران خان خودکش جیکٹ پہن کر اقوام متحدہ کی عمارت میں داخل ہوں گے‘ ڈائس پر آتے ہی دونوں بازو ہوا
منگل 01 اکتوبر 2019ء

جزاک اللہ

اتوار 29  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
جن لوگوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان‘ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کو سن رکھا ہے وہ اگر جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوئے تو شائد حق بجانب ہیں کہ یہ تینوں حکمران عمران خان سے زیادہ صاحب مطالعہ اور مختلف ایشوز کا گہرا ادراک رکھتے تھے مگر بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف سے لے کر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے دور میں سن بلوغ کو پہنچنے والا کوئی شخص اگر گزشتہ روز داد نہیں دے پایا تو پرلے درجے کا گائودی ہے‘ کم ظرف یا
مزید پڑھیے


کوئلوں کی دلالی سے گریز

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کیسی ہو گی؟ کل شام پتہ چل جائیگا۔ خارجہ تعلقات کمیٹی کے علاوہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کے لب و لہجے اور منطق و استدلال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے‘ یہ کہہ کر عمران خان نے عالمی برادری کو آئینہ دکھایا کہ اگر اسی لاکھ کشمیریوں کی طرح اتنے ہی یہودی یورپی یا صرف آٹھ امریکی پچاس دن سے محصور ہوتے تو کیا پھر بھی بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کا ردعمل اتنا ہی مایوس کن ہوتا جتنا اب ہے؟ یہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے
مزید پڑھیے


اندازے کی غلطی

منگل 24  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
میاں شہباز شریف کی قیادت میں سرکردہ ارکان پر مشتمل وفد سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن کی کیپٹن(ر) صفدر کے ساتھ ملاقات سے کیا مطلب اخذ کیا جائے؟ شریف خاندان میں اختلاف؟ میاں شہباز شریف کی قیادت میں مولانا سے ملاقات کرنے والے احسن اقبال‘ ایاز صادق‘ رانا تنویراور مریم اورنگزیب پر عدم اعتماد یا حسب سابق دوہری پالیسی؟ میاں شہباز شریف مسلم لیگ کے سربراہ ہیں‘ احسن اقبال سیکرٹری جنرل اور مریم اورنگزیب سیکرٹری اطلاعات مگر کیپٹن صفدر مولانا سے علیحدگی میں ملتے اور میاں نواز شریف کے علاوہ مریم نواز شریف کی طرف سے یقین دہانی
مزید پڑھیے


سبب کچھ اور ہے جس کو تو خود سمجھتا ہے

اتوار 22  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
کراچی‘کچرا کنڈی کیسے بنا؟ لیاقت قائم خوانی کی گرفتاری نے سب کچھ طشت ازبام کر دیا۔ مالی کے طور پر بھرتی ہونے والے شخص کے بطور ڈائریکٹر پارکس تقرر پر کم از کم مجھے اعتراض نہیں‘ یہ کہیں نہیں لکھا کہ کوئی کلرک ترقی نہیں کر سکتا یا مالی محنت‘ ریاضت ‘ اثرورسوخ اور تعلقات کی بنا پر آگے نہیں بڑھ سکتا‘ غریب گھرانے کے لوگ بھی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ غلام اسحق خان‘ جنرل موسیٰ خان اور بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد کلاسیکل مثال ہیں۔ مگر تحت
مزید پڑھیے




جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں‘ ہوں گے

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
تحریک انصاف کی حکومت کو اُڑتا تیر بغل میں لینے کا شوق بہت ہے‘ کہیں مہنگا نہ پڑ جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نیو یارک جانے کے لئے پابہ رکاب ہیں‘ گزشتہ پینتالیس دنوں میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے بین الاقوامی اداروں اورعالمی برادری کے سامنے بھارت اور نریندر مودی کا آمرانہ اور سفاکانہ چہرہ بے نقاب کیا‘ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان یہ بتانے جا رہے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اورسیکولر ریاست نے کشمیری عوام کوآزادی اظہار کے بنیادی انسانی حق سے محروم کر دیا ہے ‘جملہ ذرائع ابلاغ پر پابندی
مزید پڑھیے


مومن کی فراست

اتوار 15  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر مخلص مگر جذباتی سیاسی کارکن ہیں سیز فائر لائن توڑنے کی تجویز ان کے اخلاص اور جذباتیت کی مظہر ہے۔ عمران خان کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھی جذباتی فیصلے کرتا ہے مگر پہلے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اجلاس اور جمعہ کے روز مظفر آباد کے جلسہ عام میں فاروق حیدر کے اکسانے پر وزیر اعظم عمران خان طرح دے گئے‘ سیز فائر لائن توڑنے کے مطالبے پر کہا تو یہ کہ’’ فی الحالی کوئی اس بارے میں نہ سوچے‘ کشمیری عوام میری نیو یارک سے
مزید پڑھیے


ڈیل اور کشتی کا بوجھ

جمعه 13  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گرم ہیں اور دونوں طرف سے تردید و وضاحت کے باوجود لوگ یقین کرنے لگے ہیں‘ عمران خان کی حکومت اگر ایک سال کے دوران کچھ نیا کر دکھاتی‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور دوست نوازی و اقربا پوری پر نہ سہی‘ پولیس گردی پر قابو پا لیتی‘ خیبر پختونخوا کی طرح عام آدمی کو تھانے اور پٹوار خانے میں عزت ملتی‘ بغیر رشوت و سفارش لوگوں کے جائز کام ہوتے اور آئے روز پولیس تشدد کا واقعہ منظر عام پر نہ آتا تو کسی کو نواز شریف و زرداری سے دلچسپی ہوتی نہ
مزید پڑھیے


کیا میں قابل عزت ہوں

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
پنجاب پولیس کی کارگزاری اور عوامی شکایات کے حوالے سے میرے دو کالموں پر ردعمل خاصہ خوشگوار رہا‘ سابق پولیس افسر عزیز اللہ خان نے جو اب ماشاء اللہ وکالت کے شعبے سے منسلک ہیں‘ تفصیلی خط میں اپنانقطہ نظر پیش کیا جو ماتحت اہلکاروں کے دل کی آواز ہے۔ لکھتے ہیں: ’’37 سالہ پولیس سروس میں بے تحاشہ واقعات سے واسطہ پڑا ‘عوام کی پولیس سے موروثی نفرت بھی دیکھی اور افسران کا ماتحتوں سے بْرا رویہ بھی دیکھا اور سہا‘اپنی سروس اور تجربہ کی روشنی میں پولیس ڈپارٹمنٹ کی کچھ خامیاں شیئرکر رہا ہوں جس کی وجہ سے عوام
مزید پڑھیے


نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

منگل 10  ستمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
9/11کے بعد پاکستان میں کارگل کے ہیرو جنرل پرویز مشرف کی تو ٹانگیں کانپ رہی تھیں کہ کہیں امریکہ پاکستان پر نہ چڑھ دوڑے مگر ہمارے تھیٹرز میں لطیفے جنم لے رہے تھے۔ امان اللہ سے جو آج کل بستر علالت پر ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے، امریکہ پر حملہ ہوا تو ڈرامے کے دوران ساتھی فنکار نے پوچھا ’’اگر یہ واقعہ پاکستان میں ہوتا تو ہماری حکومت کیا کرتی؟‘‘ امان اللہ نے ترنت جواب دیا، ’’کرنا کیا تھا، ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی‘‘۔ اللہ اللہ خیر سلّا۔ یہ واقعہ مجھے رحیم یار خان، لاہور اور
مزید پڑھیے