BN

ارشاد احمد عارف



دا غلطی گنجائش نشتہ


خیبر پختونخوا کابینہ کے سینئر وزیر عاطف خان کی فراغت صرف پی ٹی آئی کے وزیروں‘ مشیروں‘ ارکان اسمبلی ہی نہیں اتحادیوں کے لئے بھی عمران خان کا سخت اور دو ٹوک پیغام ہے‘ تحریک انصاف کی صفوں میں سازش قبول ہے نہ بلیک میلنگ ۔عاطف خان تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن ہیں اور 2018ء کے انتخابات کے بعد صوبے کی وزارت اعلیٰ کے سنجیدہ امیدوار تھے‘ پرویز خٹک مگر آڑے آئے اور قرعہ فال محمود خان کے نام نکلا‘ جنہیں لوگ خیبر پختونخوا کا عثمان خان بزدار قرار دیتے ہیں۔ مرنجان مرنج‘ کمزوراور تابع دار‘ عاطف خان روز اول
منگل 28 جنوری 2020ء

گیدڑ کاٹ نہ لے

اتوار 26 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اپوزیشن کی خود اعتمادی اور مسلم لیگ(ن) کی ابلاغی مہم کی سطح وہ تو نہیں جو اکتوبر کے دھرنا سے قبل مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کی تھی مگر یہ تاثر بہرحال پختہ ہو رہا ہے کہ وفاق نہ سہی‘ پنجاب کی حد تک سب اچھا نہیں‘ تحریک انصاف کے اتحادی مضطرب ہیں اور ارکان اسمبلی کنفیوزڈ۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ فروری مارچ میں کیا ہونے والا ہے؟ کچھ ہو گا بھی یا مولانا کے دھرنے کی طرح اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ(ن) کا غنچہ فصل گل کے آتے آتے‘ بن کھلے مر جا جائیگا؟
مزید پڑھیے


کرپشن

جمعه 24 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی‘ عمران خان کی حکومت سولہ ماہ بعد اگر کرپشن کا گراف کم کرنے میں ناکام رہی تو قصور عالمی ادارے کا ہے نہ اپوزیشن کا جسے میاں شہباز شریف کے بقول کپتان نے دیوار میں چنوا دیا ہے۔ اپوزیشن کے نمایاں لیڈر جیل میں ہیں یا ضمانت پر‘ باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘ تحریک انصاف نے 1996ء میں اپنی تشکیل کے بعد احتساب اور انصاف کا نعرہ بلند کیا تو کسی کو اُمید نہ تھی کہ ظلم کے عادی اس کرپشن زدہ معاشرے میں کوئی سیاسی جماعت احتساب کے نعرے پر
مزید پڑھیے


ایسی چنگاری بھی یا رب‘ اپنے خاکستر میں تھی

جمعرات 23 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میاں نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ انہوں نے غلام حیدر وائیں مرحوم کو چنا‘ غلام حیدر وائیں پرانے مسلم لیگی کارکن تھے‘1985ء سے مسلسل پنجاب اسمبلی کے رکن چلے آ رہے تھے اور اپنی دیانتداری کے علاوہ مرنجاں مرنج شخصیت کی بنا پر حکمران جماعت کے تمام دھڑوں کے لئے یکساں قابل قبول تھے‘ وزیر اعلیٰ مگر وہ ان خوبیوںکی بنا پر نہیں بلکہ کمزور شخصیت کے سبب بنائے گئے‘ صوبے کا کاروبار میاں شہباز شریف چلایا کرتے جو اس وقت اسمبلی کے رکن تھے نہ
مزید پڑھیے


خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ

اتوار 19 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اللہ تعالیٰ عمران خان کے حال پر رحم فرمائے‘ سولہ ماہ بعد بھی وہ وسیم اکرم پلس کے قصیدہ خواں ہیں‘ تحریک انصاف کے کارکن‘ لیڈر اور ارکان اسمبلی جس سے نالاں ہیں اور عوام بیزار۔ پولیس و انتظامیہ میں تین بار وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود ملک کے سب سے بڑے‘ دنیا کے کئی ممالک سے رقبے اور آبادی میں بڑے صوبے کا کوئی پرسان حال نہیں‘ سیاسی اور انتظامی ابتری سے وفاقی حکومت متاثر ہو رہی ہے اور پنجاب میں بُری حکمرانی سے تبدیلی کا نعرہ مذاق بن گیا ہے مگر عمران خان بضد ہیں کہ
مزید پڑھیے




میڈیا مینجمنٹ یا سیاسی حکمت عملی

جمعه 17 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
کمال کی میڈیا مینجمنٹ ہے اور بے مثال سیاسی منصوبہ بندی‘ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد میڈیا کی توپوں کا رخ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب تھا۔ میاں نواز شریف‘ مریم نواز‘ بلاول بھٹو کی پست ہمتی اور موقع پرستی پر خوب لے دے ہو رہی تھی‘ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کی سب سے زیادہ مٹی گزشتہ آٹھ دس روز میں پلید ہوئی اور مسلم لیگ (ن) میں دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی۔ شاہد خاقان عباسی اور کئی دوسروں نے حسب روائت میاں نواز شریف اور مریم نواز کے
مزید پڑھیے


نادان دوست

جمعرات 16 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان کے مخالفین اور ناقدین کے بارے میں تو وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ وہ دانا ہیں یا نادان‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں نادان دوست وافر مقدار میں عطا فرمائے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نادان دوست نہ دے کہ یہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک اور باعث ندامت ہوتے ہیں۔ گزشتہ سولہ ماہ کے دوران عمران خان کی ٹیم اور موجودہ حکومت کی کارگزاری کا دفاع تو اس کے مداح اور خیر خواہ کسی نہ کسی طور کرتے ہی رہے‘ سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار‘ ملک میں اقربا پروری اور دوست نوازی کا
مزید پڑھیے


ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

منگل 14 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے خصوصی عدالت کی تشکیل‘ ٹرائل اور فیصلے کو کالعدم قرار دے کر پرویز مشرف کے سر پر لٹکتی تلوار ہٹا دی‘خصوصی عدالت نے اپنی تشکیل پر غور کئے بغیر ملزم کی عدم موجودگی میں سزائے موت کا جو فیصلہ سنایا اسے ماہرین قانون نے روز اول ہی متنازعہ قرار دیا کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے ہوئے نہ فیصلے کے نتائج و مضمرات پر غور کیا گیا ‘ پاک فوج کے ترجمان نے فیصلہ آنے کے بعد جب یہ کہا کہ ’’پاک فوج میں اضطراب اور غصہ ہے ‘‘تو یار لوگوں نے معاملے
مزید پڑھیے


ریڈی میڈ اپوزیشن

اتوار 12 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
شیخ رشید احمد کی جگتوں سے ہر وہ شخص محظوظ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ذوق لطیف سے نوازا ہے کہ جگ بیتی کا تڑکہ لگا ہوتا ہے‘ تازہ ترین جگت میں انہوں نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو ’’ ریڈی میڈ اپوزیشن قرار دیا‘‘ جو چنداں غلط نہیں‘ مجھے یاد ہے 2002ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ(ن) کے بیس اکیس ارکان قومی اسمبلی میں پہنچے تو ان میں سے بعض جنرل (ر) پرویز مشرف کے ستائے ہوئے تھے اور بدلہ لینے کے جنون میں مبتلا‘ 1999ء تک ہیوی مینڈیٹ کے خمار سے سرشار منحنی پارلیمانی پارٹی
مزید پڑھیے


دائروں کا سفر

جمعرات 09 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
بات پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری سے چلی اور عدلیہ کی فعالیت تک پہنچ گئی ؎ ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تیری جوانی تک آج کل خلائی مخلوق کا ذکر معدوم ہے‘ جنہیں یہ ذکر مرغوب تھا جو سول بالادستی کے نام پر طعنہ زن تھے وہ قومی سلامتی اور مفاد کی خاطرغیر مشروط محبت میں مبتلا ہیں‘ اس قدر زیادہ کہ تحریک انصاف‘ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں امتیاز مشکل ہے ؎ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے اس کی زلفوں کے سب
مزید پڑھیے