BN

ارشاد احمد عارف


آئین کو مانیں بھی تو!


وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری اور علی محمد خان کی وضاحتوں پر کون یقین کرے گا؟ کمان سے نکلا تیر کب واپس آتا ہے؟۔ پاکستانی قوم عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے حساس ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی اُمہ کے شاطرانہ طرز عمل‘ ملک کے اسلامی تشخص سے الرجک لبرل سیکولر طبقے کے انداز فکر سے بخوبی واقف۔ اقلیتوں کے بارے میں قومی کمشن کی تشکیل اور اس میں قادیانی رکن کی شمولیت پر وہ شک و شبے میں مبتلا کیوں نہ ہو‘ دودھ کا جلا چھاچھ پھونک کر پیتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے حوالے سے خبر یہ
جمعه 01 مئی 2020ء

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں

جمعرات 30 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
ویڈیو لنک پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا میں نے باری آنے پر یہ سوال داغ دیا کہ حکومت پورے ملک ‘ ہر ضلع کے عوام کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے بجائے ان مخصوص علاقوں میں سخت لاک ڈائون پر توجہ کیوں نہیں دے رہی جہاں کورونا واقعی قیامت ڈھا رہا ہے اور بعض شعبوں میں کاروبار کی اجازت دینے کے باوجود یہ سوچنے سے کیوں قاصر ہے کہ ٹرانسپورٹ پر پابندی کے سبب ان شعبوں سے وابستہ کارکن اور مزدور تاحال گھروں میں بیٹھے ہیں۔ وفاقی وزیر اسد عمر کے
مزید پڑھیے


کہتی ہے تجھے خلق خدا غائبانہ کیا

منگل 28 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
جوش خطابت میں مولانا طارق جمیل نے وہی کچھ کہا جو ہم سب اپنی نجی محفلوں میں کہتے اور اپنی حق گوئی کا ڈنکا بجاتے ہیں مولانا نے پوری قوم‘ تاجروں اور میڈیا کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جو زیادتی ہے مگر اچھنبے کی بات نہیں ‘کہ ہم اہل صحافت اس سے کہیں زیادہ تلخ باتیں قوم‘ اس کے من پسند لیڈران‘ تاجروں اور اپنے ہی شعبہ کے بارے میں کرتے اور ایک دوسرے کی طرف داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ جھوٹ‘ مکروفریب اور دیگر سماجی برائیوں میں لت پت قوم کی تشخیص اور گراں فروشی‘ ذخیرہ اندوزی‘
مزید پڑھیے


کہا نقصان کا ڈر ہے‘ کہا نقصان تو ہو گا

جمعرات 23 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
مستقبل کا حال تو علیم و خبیر اللہ ہی جانتا ہے‘ فی الوقت کورونا کی وبا نے عمران خان کے راستے کے کانٹے چن دیے ہیں‘ اپوزیشن قرنطینہ میں ہے‘ پہلے وہ نیب سے خوفزدہ تھی اب کورونا کا ڈر ہے‘ حالت اس کی اونٹ کی سواری کے ڈرپوک شوقین کی ہے ؎ کہا‘ ہم اونٹ پر بیٹھیں‘ کہاں تم اونٹ پر بیٹھو کہا کوہان کا ڈر ہے‘ کہا کوہان تو ہو گا کہا‘ کابل کو جاناہے‘ کہا‘ کابل چلے جائو کہا افغان کا ڈر ہے‘ کہا افغان تو ہو گا کہا ہم پیار ہی کر لیں‘ کہاتم پیار بھی کر
مزید پڑھیے


جس نے اپنا کھیت نہ سینچا‘ وہ کیسا دہقان

منگل 21 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
مجھے میاں شہباز شریف کی بات قرین قیاس لگتی ہے‘2018ء کے عام انتخابات سے چارچھ ماہ پہلے تک وہی اسٹیبلشمنٹ کی ترجیح اوّل تھے۔ ایک سینئر اخبار نویس نے جوشریف فیملی اور مقتدر حلقوں میں قابل اعتماد رسائی رکھتے ہیں مجھے بتایا تھا کہ تحریک انصاف کی جدوجہد اور عمران خان کی عوامی مقبولیت اپنی جگہ مگر یہ حلقے مسلم لیگ اور میاں شہباز شریف سے معاملہ فہمی میں آسانی محسوس کرتے ہیںوہ بھی شائد نامہ و پیام کا فریضہ انجام دیتے رہے‘ حکمرانی کا تجربہ‘ زود فہمی اور تاجر برادری و بیورو کریسی میں اثرورسوخ مسلّم‘ اسی باعث بعض
مزید پڑھیے



کیا خوب سودا نقد ہے

جمعه 17 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان نے ٹویٹ میں دولت مند ممالک اور عالمی اداروں کو غریب اقوام کے قرضے معاف کرنے کا مشورہ دیا تو ناقدین نے مذاق اڑایا‘ کپتان کے صائب مشورے کو بے وقت کی راگنی قرار دیا۔ کورونا وائرس نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہر طرف پنجے گاڑے‘ بیس لاکھ انسانوں کو جکڑ لیا اور امریکہ و یورپ کی طاقتور معیشت لڑکھڑانے لگی تو پاکستان کے وزیر اعظم نے مختصر خطاب میں ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرایا ‘ عالمی رہنمائوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور مالیاتی اداروں کے سربراہوںسے کہا کہ
مزید پڑھیے


لمحوں نے خطا کی تھی‘ صدیوں نے سزا پائی

جمعرات 16 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
پوری دنیا میں کورونا کے مدمقابل حکومتیں اور طبی ماہرین ہیں‘ اور ابھی تک چین کے سوا کورونا کا پلڑا بھاری ہے‘ پاکستان میں مقابلہ کورونا اور بھوک کے مابین ہے اور حکومت کو ریفری کا کردار ادا کرنے کا شوق۔ بلا شبہ پاکستان میں غربت و افلاس بے حد و حساب ہے ‘طبی سہولتیں ناقابل رشک اور ڈسپلن نامی مخلوق ناپید مگر ڈسپلن اور طبی سہولتوں کے فقدان اور غربت و افلاس کے عفریت سے گھبرا کر کورونا کے آگے ہتھیار ڈال دینا تقاضائے دانش نہیں۔ مارچ کے چوتھے ہفتے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی
مزید پڑھیے


یا اللہ خیر

منگل 14 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
یااللہ خیر!۔ میرے سامنے دو معصوم بہن بھائیوں کی تصویر ہے جن کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے‘ دونوں بچے ایمبولینس میں بیٹھے ہسپتال جا رہے ہیں‘ دستانے پہنے نو دس سال عمر کے ان معصوم بہن بھائی نے منہ پر ماسک لگا رکھا ہے ۔سامنے کپڑوں کا بیگ اور ایک ہاتھ میں کتابوں کا بستہ ہے۔ بھائی کے ہاتھ میں ایک کتاب اور قرآن مجید کا نسخہ ہے۔ شفیق ماں نے بچوں کو کس طرح تیار کر کے اپنے ہاتھوں ایمبولینس میں بٹھایا اور ہسپتال روانہ کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر سچی بات ہے مجھے جھرجھری آ گئی‘ ہر
مزید پڑھیے


لوہا گرم ہے

اتوار 12 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
ریاست کو قدرت نے سنہری موقع عطا کیا ہے‘ کورونا نے دل موم کر دیے‘ ذہن بدل دیے اور تبدیلی کے مدمقابل کھڑے ہونے کا جذبہ کمزور پڑ گیا‘ ان لوگوں کے سوا جن کے دل پتھر ہیں‘ دماغ سن اور آنکھوں‘ کانوں پر پردے پڑ چکے‘ ہر کوئی موجودہ حالات سے چھٹکارا چاہتا ہے اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار‘ وہ لوگ بھی گھروں میں بیٹھ کر بیوی بچوں سے گپ شپ کرتے ہیں جو شام کی پرسکون ساعتیں اہلخانہ کے ساتھ گزارنا گناہ سمجھتے تھے‘ ایسے ایسے لوگوں کو کورونا کی موت سے پناہ مانگتے
مزید پڑھیے


کیا ربّ واقعی ہم سے خفا ہے؟

جمعه 10 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ نیو یارک کی ایک سنسان‘ اور کرفیو زدہ سڑک کا منظر ہے‘ سربفلک عمارتوں اور کھوے سے کھوا چھلتے راستوں پر ویرانی چھائی ہے۔ ایسی ویرانی جس کا تذکرہ غالب نے کیا تھا۔ ؎ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا یہ وہی نیو یارک ہے جس کی رنگین راتوں اور مصروف دنوں میں کھو کر انسان ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا جایا کرتا تھا‘اس عالم مدہوشی میں انسان کو خدا کہاں یاد رہتا ہے۔ اس نیو یارک کی ایک گلی وال سٹریٹ کے نام سے معروف ہے جہاں کے معمولی کاروباری
مزید پڑھیے