BN

ارشاد احمد عارف



دائروں کا سفر


بات پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری سے چلی اور عدلیہ کی فعالیت تک پہنچ گئی ؎ ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا بات پہنچی تیری جوانی تک آج کل خلائی مخلوق کا ذکر معدوم ہے‘ جنہیں یہ ذکر مرغوب تھا جو سول بالادستی کے نام پر طعنہ زن تھے وہ قومی سلامتی اور مفاد کی خاطرغیر مشروط محبت میں مبتلا ہیں‘ اس قدر زیادہ کہ تحریک انصاف‘ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں امتیاز مشکل ہے ؎ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے اس کی زلفوں کے سب
جمعرات 09 جنوری 2020ء

شیطان اور گہرے سمندر کے درمیان

منگل 07 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ بغداد میں ہوا، بغداد واشنگٹن کا اتحادی ہے اور ایک اتحادی ریاست کی خود مختاری سپرپاور نے پامال کی، پاکستان تین میں نہ تیرہ میں مگر ایک بار پھر 9/11کی کیفیت سے دوچار ہے۔ 9/11کے واقعہ میں ایک بھی پاکستانی شہری ملوث تھا نہ ان میں سے کسی کا تعلق پاکستان میں موجود گروہ سے ثابت ہو، لیکن افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سب سے زیادہ نقصان ہم نے برداشت کیا۔ یہی صورتحال اس وقت نظر آتی ہے۔ پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے، تاریخی ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں منسلک ہمسایہ، یہ ہمسائیگی
مزید پڑھیے


خدا خیر کرے

اتوار 05 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
امریکہ نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو بغداد میں قتل کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایک سپر پاور کے طور پر وہ اپنے اور دوسروں کے نفع نقصان کی پروا کئے بغیر طاقت استعمال کر سکتا ہے‘ اُسے نتائج کی فکر ہے نہ عالمی ردعمل سے سروکار۔ قاسم سلیمانی ایرانی قوم کا ہیرو تھا اور عراق سے شام‘ لیبیا سے یمن تک امریکہ کے لئے ڈرائونا خواب۔شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لئے امریکہ اور اس کے یورپی و عرب اتحادیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر قاسم سلیمانی کی حکمت
مزید پڑھیے


ہنگامہ ہے کیوں برپا

جمعه 03 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
سوشل میڈیا پر خواہ مخواہ ہنگامہ برپا ہے‘ مجھے تو مسلم لیگ(ن) کا فیصلہ صائب لگا‘ آرمی ایکٹ میں ترمیم اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی حکومت کی مجبوری ہے‘ سپریم کورٹ کا حکم ہے جس سے سرتابی ممکن نہیں‘ اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ماننا پڑتا ہے۔ مہذب معاشروں میں عدالتی فیصلہ آنے کے بعد متاثرہ فریق ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا شور مچاتا ہے نہ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر عوام اور سیاسی کارکنوں کو حکم عدولی پر اکساتا ہے‘ امریکی انتخابات کے نتائج سامنے آئے
مزید پڑھیے


یہ کیا نہیں‘ وہ ہوا نہیں‘ یہ ملا نہیں‘ وہ رہا نہیں

جمعرات 02 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
2019ء گزر گیا‘ ہر سال کی طرح یہ بھی کسی کے لئے مسرت و شادمانی کا سال تھا اور کچھ کے لئے مصائب و مشکلات کا دور۔ حاصل و موجود سے بیزاری اور لاحاصل کی تمناّ وبے قراری انسان کی سرشت میںہے ۔الاّ ہر حال میںخوش اور مطمئن رہنے والے بندگان خاص۔ سال گزرنے پر عموماً ہم کیا کھویا‘ کیا پایا پر غور کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ جو کھویا وہ اپنی ہی غلطیوں‘ کمزوریوں اور بے تدبیریوں کا صلہ تھا اور یہ مقام شکر ہے کہ زندگی کا ایک مزید سال اپنی غلطیوں کو سدھارنے اور کمزوریوں
مزید پڑھیے




جو مزہ چھجو کے چوبارے

منگل 31 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
بیجنگ میں ہمیں ایک بڑی چینی کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملنے کا موقع ملا‘ گپ شپ کے دوران ہمارے شریک سفر صحافی حبیب اکرم نے عہدیدار سے پوچھا آپ پنجاب‘ سندھ اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آپ کو کس چیز نے راغب کیا ‘ صرف ایک اہم پوائنٹ؟عہدیدار نے جواب دیا’’پرکشش منافع‘‘ تفصیل ہم نے پوچھی نہ اس نے بتائی مگر جواب جامع تھا۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے صنعت کاروں‘ تاجروں اور سرمایہ کاری نے شور مچا رکھا ہے کہ مہنگی لیبر‘گیس اور بجلی‘ ٹیکسوں
مزید پڑھیے


این آر او پلس

اتوار 29 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
تاجربرادری اور بیورو کریسی کو نیب کے دائرہ کار سے نکال کر حکومت نے قومی معیشت کا پہیہ چلانے کی تدبیر کی ہے۔ معیشت کا پہیہ چلا‘ یا نہیں‘ اگلے چند ہفتوں میں سب دیکھ لیں گے۔ عام خیال یہ ہے کہ عمران خان کے مفاد پرست حواری انہیں اس گھاٹ پر لے آئے ہیں جہاں شوکت عزیز نے پرویز مشرف کو لا کر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار کیا اور فوجی آمر اس کے ہاتھوں میں کھیلتے کھیلتے 3نومبر یعنی ایمرجنسی پلس کے انجام سے دوچار ہوا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے قریبی ساتھی جنرل (ر) شاہد عزیز نے
مزید پڑھیے


نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے

جمعه 27 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
صد شکر کہ قائد اعظم کے یوم پیدائش پر پاکستانی قوم کے علاوہ ناقدین نے بھی عظیم اور بے مثل لیڈر کی دور اندیشی کا احساس و اعتراف کیا۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد تو مداح اور عقیدت مند ہی قائد کی بصیرت کے گن گاتے تھے یا چند انصاف پسند ناقدین‘ مگر اب خراج تحسین وہ پیش کر رہے ہیں جنہوں نے کئی عشروں تک دو قومی نظریے کو ہندو دشمنی اور تنگ نظری پر محمول کیا‘ ابوالکلام آزاد‘مدنی گروپ‘ عبدالغفار خان‘ عبدالصمد اچکزئی اور کئی دوسرے قائد اعظم کی آزاد وطن کے لئے جدوجہد اور تحریک پاکستان
مزید پڑھیے


شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

منگل 24 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
شکوہ و شکائت کے ہم عادی ہیں۔ مصحفی نے اڑھائی تین صدی قبل جو بات کہی وہ ہم پر صادق آتی ہے ؎ یہ زمانہ وہ ہے جس میں ہیں بزرگ و خورد جتنے انہیں فرض ہو گیا ہے‘ گلۂ حیات کرنا ملک سے گلہ‘ حکومت سے شکوہ اور اپنے مقدر سے شکائت ‘ خود کو ہم بدلتے نہیں اور دوسروں سے اُمیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ عمران خان نے غلطی کی مہاتیر محمد اور طیب اردوان سے پیمان کر بیٹھے‘ اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور اعلیٰ سطحی کانفرنس کا دعوت نامہ قبول کر لیا۔ یہ
مزید پڑھیے


بگاڑ کر بنائے جا‘ ابھار کر مٹائے جا

اتوار 22 دسمبر 2019ء
ارشاد احمد عارف
فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے بارے میں خصوصی عدالت کا فیصلہ پڑھ کر منیر نیازی مرحوم یاد آئے ؎ منیرؔاس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ دو فوجی آمروں ایوب خان اور یحییٰ خان کے بعد پاکستان کے پلّے ذوالفقار علی بھٹو ایسا جینئس پڑا ‘مطالعہ کارسیا‘ عوام کا نبض شناس اور قوم پرست مگر خودپرست و منتقم مزاج‘ ایوب دور کی صنعتی و تعلیمی ترقی کو ریورس گیئر لگا دیا‘ سیاسی کارکنوں کو کرپشن اور صنعتی کارکنوں کو کام چوری کی عادت ڈالی‘ جج
مزید پڑھیے