BN

ارشاد احمد عارف



غواّص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے


پاکستان میں اُصولی سیاست نے وصولی سیاست کا روپ کب دھارا؟ یہ طویل داستان ہے۔ اپوزیشن کا کام اختلاف برائے اختلاف اور حکومت کا فرض ’’میں نہ مانوں ہے‘‘ ؟یہ نصف صدی کا قصّہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔میاں شہباز شریف کو شکوہ ہے کہ حکومت نے بجٹ میں ہماری کوئی تجویز شامل نہیں کی جبکہ حکومتی ارکان برہم ہیں کہ اپوزیشن نے بجٹ اجلاس کے دوران شور شرابے کے سوا کچھ نہیں کیا‘ کوئی ٹھوس تجویز پیش کی نہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کی طرف دست تعاون بڑھایا۔ میثاق معیشت کی تجویز پیش کی‘
اتوار 30 جون 2019ء

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

جمعرات 27 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
مولانا فضل الرحمن نے ساری اپوزیشن کو مشکل میں ڈال دیا‘ نگلنا آسان نہ اگلنا سہل۔ اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے اور چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک‘ کہنا آسان ہے کرنا مشکل۔ مولانا بھولے ہیں نہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی سوچ سے ناواقف۔ اگر اسمبلیوں سے استعفے دینے ہوتے تو آصف علی زرداری‘ بلاول بھٹو اور میاں شہباز شریف اپنے منتخب ساتھیوں سمیت پچھلے سال رکن اسمبلی کے طور پر حلف کیوں اٹھاتے‘ پبلک اکائونٹس سمیت قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کے لئے سر دھڑ کی بازی کیوں لگاتے اور نیب میں پیشیوں اور گرفتاریوں کے باوجود
مزید پڑھیے


خود کردہ را علاجے نیست

جمعه 21 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
میاں نواز شریف کو اللہ تعالیٰ شفا دے اور تادیر سلامت رکھے‘ اسلام آباد ہائی کورٹ سے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد ہونا صرف اُن کے لئے نہیں‘ اہل خانہ‘ دوست احباب اور مداحوں کے لئے تکلیف دہ ہے مگر ذمہ دار‘ حکومت ہے نہ نیب ع اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست میاں نواز شریف ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سیاست میں کسی ارفع قومی مقصد کے حصول کے لئے آئے نہ جمہوریت کی ترویج و بقا ان کا نصب العین تھا اور نہ جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے انہوں نے سیاست کی
مزید پڑھیے


شیخ میخانے میں آنے کو مسلماں آیا

جمعرات 20 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
وزیر اعظم کی سربراہی میں نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے نام سے ایک نئے ادارے کی تشکیل اور اس میں آرمی چیف کی بطور رکن شمولیت موجودہ حکومت کی ترجیحات کا مظہر ہے۔ حیرت انگیز طور پر کونسل میں آرمی چیف کی رکنیت پر صرف سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اعتراض کیا یا ایک آدھ صحافی نے۔ بحیثیت مجموعی ردعمل حوصلہ افزا رہا‘ جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف اور ان کے ہمنوا میڈیا نے گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں ریاستی‘ سیاسی اور صحافتی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی
مزید پڑھیے


نیا زمانہ‘ نئے صبح شام

منگل 18 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
خوئے بدرا بہانہ بسیار‘ قومی اسمبلی میں گزشتہ ایک ہفتے سے جو تماشہ چل رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت؟ اپوزیشن؟ منتخب ارکان اسمبلی یا کوئی اور؟ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تو قوم کو مژدہ سنایا گیا کہ اب سیاسی قیادت پختگی کی عمر کو پہنچ چکی‘ حکومت اور اپوزیشن پارلیمانی جمہوری نظام نامی گاڑی کے دو پہیے ہیں جو مل کر چلیں تو قومی سفر طے ہوتا ہے۔ قسمیں کھائی گئیں کہ حکمران جماعت اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنائے گی نہ اپوزیشن کبھی حکومت کو عدم استحکام
مزید پڑھیے




دیسی گھی ہضم ہو تو کیسے؟

جمعه 14 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
عمران خان نے صرف اپوزیشن نہیں‘ احتساب کے عمل سے خائف دیگر طبقات کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ طرح طرح کے دلائل تراشے جا رہے ہیں کہ احتساب کا عمل جاری رہا تو معیشت کا بیڑا غرق ہو گا اور سرمایہ کار بھاگ جائے گاوغیرہ وغیرہ۔ چند ماہ قبل صحافیوں کے ایک وفد نے عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا’’انڈر سٹینڈ چائنا‘‘ تنظیم کے سربراہ ظفر محمود نے مہارت سے چین کے بڑے سرمایہ کار گروپوں سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا‘ جو پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ چین پاکستان کا آزمودہ یار
مزید پڑھیے


دودھ کا دودھ پانی کا پانی

جمعرات 13 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
انتظار بہت کرنا پڑا‘ طبیعت مکدّر ہوئی مگر تقریر سن کر مزہ آ گیا۔ نو دس ماہ گزرنے کے باوجود عمران خان بہتر میڈیا ٹیم کیوں نہیں بنا سکے ؟اور ہر بار دودھ میں مینگنیاں کیوں پڑ جاتی ہیں‘ اس سوال کا جواب ڈھونڈے سے نہیں مل رہا۔ تقریر اگر بروقت نہ ہو پائی تو دوسرے دن کرنے میں کیا حرج تھا ؟رات بارہ بجے جب اسی نوے فیصد لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے یہ تقریر نشر کرنے کی کیا مجبوری تھی ؟اور دوران تقریر تین بار تسلسل کا ٹوٹنا؟ کم از کم اپنی صحافتی زندگی میں کسی
مزید پڑھیے


ریاست کی انگڑائی

منگل 11 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
بجٹ اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کا پیغام کیا ہے؟ جرم اور سیاست کے ملاپ کو زمینی حقیقت اور جمہوری تقاضہ سمجھنے والوں جو اب ہو گا نیب کی ناعاقبت اندیشی اور انتقامی ذہنیت‘ میاں شہباز شریف اور مریم نواز شریف ایسے آصف علی زرداری کے تازہ خیر خواہوں بلکہ مداحوں کے نقطہ نظر سے عمران خان کی بوکھلاہٹ اور منہ کھائے آنکھ شرمائے پر ایمان لانے والے دانشوروں‘ تجزیہ نگاروں اور قلمکاروں کے نزدیک غیر جمہوری‘ غیر سیاسی اقدام مگر جنہیں شخصیات اور مفاد پرست گروہوں سے زیادہ ملک اور معاشرہ عزیز ے‘ ان
مزید پڑھیے


کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

اتوار 09 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
شمالی وزیرستان میں دہشت گرد ایک بار پھر سرگرم عمل ہیں اور تخریب کاری بڑھنے لگی ہے۔ پاک فوج کے تین افسروں اور ایک جوان کی شہادت معمولی سانحہ ہے نہ ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن کے بعد سکھ کا سانس لینے والی قوم کے لئے قابل برداشت صدمہ۔ خارکمر کیمپ کے علاقہ میں چند ہفتوں کے دوران دس فوجی افسر و اہلکار شہید اور پینتیس زخمی ہو چکے‘ جس کا مطلب ہے کہ دہشت گرد تازہ دم ہو کر نئے بھیس میں قومی امن و سلامتی پر حملہ آور ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے پر پرزے نکالے تو ابتدا میں
مزید پڑھیے


سوال برقرار ہے

منگل 04 جون 2019ء
ارشاد احمد عارف
بنیادی سوال برقرار ہے اور تسلی بخش جواب سیاستدانوں کو سوجھ رہا ہے نہ وکلاکے قابل احترام نمائندوں اور دانشوروں‘ تجزیہ کاروں کو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر عام و خاص‘ ادنیٰ و اعلیٰ کا محاسبہ کرنے والے اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان قابل احتساب ہیں یا نہیں؟ اس سے جڑا ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ اگر آئینی و قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے حکومت صدر مملکت کے توسط سے کسی جج کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کرے تو اس اعلیٰ ادارے کو حق سماعت حاصل ہے یا نہیں؟ سیاستدان تو الاماشاء اللہ منطق و
مزید پڑھیے