BN

ارشاد احمد عارف


اصل امتحان


مولانا فضل الرحمن پھر برہم ہیں‘ صرف حکومت نہیں‘ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی پر بھی۔ کل انہوں نے یہ راز افشا کیا کہ ان سے وزیر اعظم سمیت تین استعفوں کا وعدہ کیا گیا تھا جو قانون سازی میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے غیر مشروط تعاون کے باعث ایفا نہ ہوا۔ وعدہ کس نے کیا تھا اور ضامن کون ہے؟کسی نے پوچھا بھی تو مولانا نے بتایا نہیں ‘البتہ چودھری پرویز الٰہی سے فرمائش ضرور کی کہ وہ ان کے حوالے سے جو امانت سینے میں لئے پھرتے ہیں اسے اب افشا
منگل 11 فروری 2020ء

مچھر چھاننے‘اونٹ سموچا نگلنے کی عادت

اتوار 09 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
سخت ہو یا نرم سزا، اس وقت وحشیانہ لگتی ہے جب انسان مجرمانہ ذہنیت‘ مجرمانہ نفسیات کے ساتھ‘ مجرمانہ نظر سے دیکھے‘ قصور میں معصوم بچی زینب بدترین جنسی تشدد کا نشانہ بنی‘ وحشی درندے نے زیادتی کے بعد معصوم جان لے لی اور لاش کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دی‘ جانوروں کی نوچی لاش برآمد ہوئی تو ملک بھر میں کہرام مچ گیا‘ ہر صاحب اولاد نے سوگ منایا اور قاتل کو سرعام پھانسی کا مطالبہ کیا‘ زینب کے سوگوار والد ین کا مطالبہ بھی یہی تھا مگر قوانین آڑے آئے اور قاتل کو مروجہ قوانین کے مطابق پھانسی
مزید پڑھیے


ذرا سوچیں تو

منگل 04 فروری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اتحادیوں کے نخرے اور حکومت کی بے اعتنائی دیکھ کر وثوق سے کہا نہیں جا سکتا کہ اقتدار کی راہداریوں میں سب اچھا ہے۔ موجودہ حکومت کے لئے جہانگیر خان ترین کی حیثیت امرت دھارا کی ہے۔ اس موقع پر مگر جہانگیر خان ترین بھی ملک سے باہر ہیں‘ جہانگیر خان ترین کا بیرون ملک آنا جانا لگا رہتا ہے‘ بسا اوقات وہ علاج معالجے کے لئے برطانیہ جاتے ہیں اور گاہے کاروباری مصروفیات کی بنا پر ملک سے غیر حاضر ہوتے ہیں‘ کسی متمول شخص کا بیرون ملک جانا اچھنبے کی بات نہیں کہ پاکستان ہماری اشرافیہ کے نزدیک
مزید پڑھیے


استحقاق

جمعه 31 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
لگتا ہے عمران خان پھر فارم میں آ گئے ہیں‘ اتوار کے روز انہوں نے خیبر پختونخوا میںاپنے دو چہیتے وزیروں کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر فارغ کیا اور جمعرات کے روز پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی تحریک استحقاق پر انسپکٹر جنرل پولیس شعیب دستگیر کی طلبی کا نوٹس لیا‘ وزیر اعظم کو تشویش اس بات پر ہے ارکان اسمبلی پولیس اور انتظامیہ کو تابع سہل بنانے اور من مانی کرنے پر تُل گئے ہیں اور وہی حرکتیں کرنے لگے ہیں جو ماضی کی حکومتوں اور اسمبلیوں کا طرّہ امتیاز تھی۔1985ء میں غیر جماعتی
مزید پڑھیے


درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

جمعرات 30 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ سیاست ہے‘ جمہوری اختلاف یا قبائلی دنگا ‘ فساد‘ لڑائی جھگڑا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جاہلانہ روائت؟۔ حکومت اور اپوزیشن باہم دست و گریباں ‘وفاق اور صوبہ مدمقابل اور ایک ہی جماعت و گروہ میں تفرقہ ونفاق۔ زمانہ جاہلیت کا عربستان یاد آتا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی یادگار زمانہ مسدّس میں جس کی نقشہ کشی کی ہے ؎ قبیلے قبیلے کا بُت ا ک جدا تھا کسی کا ہُبل تھا‘ کسی کا صفاتھا یہ غزاّ‘ وہ نائلہ پر فدا تھا اسی طرح گھر گھر نیا اِک خدا تھا چلن ان کے جتنے تھے سب
مزید پڑھیے



دا غلطی گنجائش نشتہ

منگل 28 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
خیبر پختونخوا کابینہ کے سینئر وزیر عاطف خان کی فراغت صرف پی ٹی آئی کے وزیروں‘ مشیروں‘ ارکان اسمبلی ہی نہیں اتحادیوں کے لئے بھی عمران خان کا سخت اور دو ٹوک پیغام ہے‘ تحریک انصاف کی صفوں میں سازش قبول ہے نہ بلیک میلنگ ۔عاطف خان تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن ہیں اور 2018ء کے انتخابات کے بعد صوبے کی وزارت اعلیٰ کے سنجیدہ امیدوار تھے‘ پرویز خٹک مگر آڑے آئے اور قرعہ فال محمود خان کے نام نکلا‘ جنہیں لوگ خیبر پختونخوا کا عثمان خان بزدار قرار دیتے ہیں۔ مرنجان مرنج‘ کمزوراور تابع دار‘ عاطف خان روز اول
مزید پڑھیے


گیدڑ کاٹ نہ لے

اتوار 26 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اپوزیشن کی خود اعتمادی اور مسلم لیگ(ن) کی ابلاغی مہم کی سطح وہ تو نہیں جو اکتوبر کے دھرنا سے قبل مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کی تھی مگر یہ تاثر بہرحال پختہ ہو رہا ہے کہ وفاق نہ سہی‘ پنجاب کی حد تک سب اچھا نہیں‘ تحریک انصاف کے اتحادی مضطرب ہیں اور ارکان اسمبلی کنفیوزڈ۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ فروری مارچ میں کیا ہونے والا ہے؟ کچھ ہو گا بھی یا مولانا کے دھرنے کی طرح اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ(ن) کا غنچہ فصل گل کے آتے آتے‘ بن کھلے مر جا جائیگا؟
مزید پڑھیے


کرپشن

جمعه 24 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پڑھ کر مایوسی ہوئی‘ عمران خان کی حکومت سولہ ماہ بعد اگر کرپشن کا گراف کم کرنے میں ناکام رہی تو قصور عالمی ادارے کا ہے نہ اپوزیشن کا جسے میاں شہباز شریف کے بقول کپتان نے دیوار میں چنوا دیا ہے۔ اپوزیشن کے نمایاں لیڈر جیل میں ہیں یا ضمانت پر‘ باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘ تحریک انصاف نے 1996ء میں اپنی تشکیل کے بعد احتساب اور انصاف کا نعرہ بلند کیا تو کسی کو اُمید نہ تھی کہ ظلم کے عادی اس کرپشن زدہ معاشرے میں کوئی سیاسی جماعت احتساب کے نعرے پر
مزید پڑھیے


ایسی چنگاری بھی یا رب‘ اپنے خاکستر میں تھی

جمعرات 23 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میاں نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے اور پنجاب کا وزیر اعلیٰ انہوں نے غلام حیدر وائیں مرحوم کو چنا‘ غلام حیدر وائیں پرانے مسلم لیگی کارکن تھے‘1985ء سے مسلسل پنجاب اسمبلی کے رکن چلے آ رہے تھے اور اپنی دیانتداری کے علاوہ مرنجاں مرنج شخصیت کی بنا پر حکمران جماعت کے تمام دھڑوں کے لئے یکساں قابل قبول تھے‘ وزیر اعلیٰ مگر وہ ان خوبیوںکی بنا پر نہیں بلکہ کمزور شخصیت کے سبب بنائے گئے‘ صوبے کا کاروبار میاں شہباز شریف چلایا کرتے جو اس وقت اسمبلی کے رکن تھے نہ
مزید پڑھیے


خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ

اتوار 19 جنوری 2020ء
ارشاد احمد عارف
اللہ تعالیٰ عمران خان کے حال پر رحم فرمائے‘ سولہ ماہ بعد بھی وہ وسیم اکرم پلس کے قصیدہ خواں ہیں‘ تحریک انصاف کے کارکن‘ لیڈر اور ارکان اسمبلی جس سے نالاں ہیں اور عوام بیزار۔ پولیس و انتظامیہ میں تین بار وسیع پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود ملک کے سب سے بڑے‘ دنیا کے کئی ممالک سے رقبے اور آبادی میں بڑے صوبے کا کوئی پرسان حال نہیں‘ سیاسی اور انتظامی ابتری سے وفاقی حکومت متاثر ہو رہی ہے اور پنجاب میں بُری حکمرانی سے تبدیلی کا نعرہ مذاق بن گیا ہے مگر عمران خان بضد ہیں کہ
مزید پڑھیے