BN

ارشاد محمود



آج بے نظیر بھٹو بہت یادآئیں


لیاقت باغ راولپنڈی کے بغلی دروازے سے کل گزر ہوا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر دیکھ کر ٹھٹھر گیا۔ دسمبر کی ایک سرد شام تھی لیاقت باغ کے جلسے سے خطاب کے بعد محترمہ گھرلوٹ رہی تھیں کہ بے رحم قاتلوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور ان کی روح مالک حقیقی سے جاملی۔ ان کی شہادت نے ملک بھر میں کہرام مچا دیا۔ آہ و زاری میں دوست دشمن کی تمیز نہ رہی۔ ہر آنکھ نم اور چار سوماتم برپا تھا۔ حالیہ تاریخ میںغالباً یہ واحد سانحہ تھا جس نے اہل پاکستان کو اس قدر سوگوار کیا ۔شہادت
پیر 24 دسمبر 2018ء

وزیراعظم عمران خان کی جیل

جمعه 21 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
قرائن سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں کہ جیلوں کے دروازے چوپٹ کھلنے کو ہیں۔وزیراعظم عمران خان کاکرپشن کے مرتکب افراد کو حوالات میں بند کرنے کا خواب پورا ہوتا نظر آرہاہے۔چنانچہ پاکستان کی سیاست میں ٹھہراؤ کے بجائے بھونچال کی کیفیت میں مسلسل اضافہ ہوتاجارہاہے۔ آصف علی زرداری لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکے ہیں۔ حکمران جماعت کو وہ کم اور اداروں کو زیادہ لتاڑ رہے ہیں ۔میاں محمد نوازشریف کے گرد بھی گھیرا تنگ ہوچکا ۔ بعید نہیں کہ وہ ایک بار پھر اگلے ہفتے پس دیوار زنداں سدھار جائیں۔شہباز شریف اور سعد رفیق پہلے ہی زیر
مزید پڑھیے


مودی سرکار کو پہلادھچکا

جمعه 14 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کے ہاتھوںہونے والی عبرت ناک شکست نے بھارتی سیاست میں زبردست بھونچال پیداکردیا ہے۔ ناقابل شکست بی جے پی حکومت زخم خوردہ ہے اور اس کی مسلسل انتخابی فتوحات کا سحر قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس ایک بار پھر ابھر رہی ہے۔وہ ایک متبادل لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیںجو ایک ایسے بیانیہ رکھتاہے جسے بھارت کے طول وعرض میںتمام مذاہب کے پیروکاروں میں قبولیت مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے اور قومی دھارے
مزید پڑھیے


اورگلگت بلتستان صوبہ نہ بن سکا؟

پیر 10 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
گلگت بلتستان کی رائے عامہ اور سیاستدان غم وغصے سے لال پیلے ہورہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے انہیںدغادیا۔پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا لولی پاپ دیا ۔عین وقت پر د م دبا کر بھاگ گئی۔گزشتہ روز گلگت بلتستان اسمبلی میں دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ کشمیری لیڈرشپ کو خوب بے نقط سنائیں۔ وزیرتعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا: کشمیریوں کے حق میں کسی نے ریلی نکالی تو اس کی ٹانگیں توڑ دیں گے؟ مزید کہتے ہیں کہ ہمیں کشمیریوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگاورنہ وہ بعض نہیں آئیں گے۔ پیپلزپارٹی کے گلگت بلتستان کے لیڈروں نے
مزید پڑھیے


تین ماہ بہت ہوتے ہیں وزیراعظم صاحب

جمعه 07 دسمبر 2018ء
ارشاد محمود
حکومت کو اپوزیشن، میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا سینگوں پر اٹھاچکاہے۔ تین ماہ کی کارکردگی اور بعدازاں سرکار کی طرف سے کیے جانے والے اعلانات نے عوام کو زیادہ پسند نہیں کیا۔خاص طو ر پر ڈالر کی طوفانی اڑان نے کاروباری طبقات اور شہریوں کے کس بل نکال دیئے۔مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھا کہ حکومتی کارکردگی اس میں دب گئی۔ شہریوں کے لیے حکومت کی کارکردگی کا پیمانہ انہیں ملنے والی بجلی ، پانی کے بل اور روزمرہ کی اشیاء کی مناسب نرخوں پر فراوانی ہے۔پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے بھی شہریوں کو ششدر
مزید پڑھیے




نفرت کی دیواریں گرنی چاہئیں

جمعه 30 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دوست مسلسل اس کرب میں مبتلا ہیں کہ تحریک انصاف حزب اختلاف میں کرتارپور کی طرح کے اقدامات کو غداری قراردیتی تھی لیکن اب امن کی علمبردار کیوں بن گئی؟ محترمہ شیریں مزاری کی ایک تقریر باربار شیئر کی جاتی ہے جس میں واہگہ کی سرحد سے تجارت بھی بندکرانے کی وہ دہائی دیتی ہیں۔ نون لیگ کے لیڈروںکا دکھ دیدنی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہر انی شیٹیو کو شک کی نظر سے ہی نہیں دیکھا گیا بلکہ سبوتاژ بھی کیاگیا۔ عرض ہے کہ حضور! وقت اور منظر نامہ بدلتاہے تو سیاسی حکمت عملی بدلنا پڑتی ہے۔ پرانے
مزید پڑھیے


کرتار پورراہداری ایک نئے دور کا آغاز

اتوار 25 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دریائے راوی کے کنارے واقع سکھوں کا مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اب سکھ یاتریوں کے لیے کھولا جانے والا ہے۔سات دہائیوں کے بعد پاکستان اور بھارت تین کلومیٹر کا راستہ طے کرنے پرآمادہ ہوئے۔ نفرت، انتقام اور تاریخی زیادتیوں کے احساس نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی بات کرنے او رمشترکہ ورثے کو بروئے کار لاکر مستقبل میں جھانکے کی صلاح دینے والوں کو احمق اور بسا اوقات غیر محب وطن قراردیاگیا۔ بالاخر دونوں ممالک میں عقل و خرد نے غلبہ پایااور اس مذہبی اور تاریخی مقام کو یاتریوں کے کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند دنوں
مزید پڑھیے


امریکیوں سے لڑو نہ ڈرو

هفته 24 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے یکے بعد دیگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان مخالف ٹیویٹس کے جواب میں دیئے گئے بیانات نے یہ تاثر زائل کردیا کہ کوئی بیرونی قوت سول ملٹری لیڈرشپ میں خلیج پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ تعلقات حالیہ برسوں میںکئی ایک نشیب وفرازسے گزرے ہیں لیکن صدر ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان کو مسلسل آنکھیںدکھاتے اور لتاڑتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی الیکشن مہم اور بعدازاں منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد مسلسل پاکستان کو اس خطے میں عدم استحکام کا
مزید پڑھیے


یوٹرن کوئی بری بات نہیں

پیر 19 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
کاروبارسیاست نام ہے حکمت اور مسلسل تغیر کا ۔ جمود اور ٹھہراؤ کا یہاں کو ئی گزر نہیں۔ سیاسی فیصلے مخصوص حالات اور پس منظر میں کیے جاتے ہیں۔ منظر بدلتاہے تو پرانے فیصلے کوڑا دان کی نذر کردیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا یوٹرن کو کامیاب سیاسی زندگی کی کنجی قراردینا غلط نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتاہے جہاں لوگ سیاسی جدوجہد کے نصب العین یعنی حتمی منزل اور اس تک پہنچنے کے راستے یعنی حکمت عملی کے درمیان امتیاز کرنا بھول جاتے ہیں۔ نصب العین نہیں بدلنا چاہیے۔ تدبیر مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اسے بدلتے رہنا
مزید پڑھیے


افغانستان کے دریا پاکستان کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں

جمعه 16 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
کابل کے نواح میں بھارت ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم کررہاہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب بہنے والے پانی میں غیر معمولی کمی ہوجائے گی جو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ دنیا اس منصوبے کو ایک بڑے اور ابھرتے ہوئے تنازعے کے طورپر دیکھ رہی ہے۔ چند دن قبل معروف جریدے فارن پالیسی نے ایک تفصیلی مضمون ’’افغانستان کے دریا پاکستان کے خلاف بھارت کا اگلا ہتھیار ہوسکتا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ جس میں کہاگیا کہ
مزید پڑھیے