BN

ارشاد محمود



تین ماہ بہت ہوتے ہیں وزیراعظم صاحب


حکومت کو اپوزیشن، میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا سینگوں پر اٹھاچکاہے۔ تین ماہ کی کارکردگی اور بعدازاں سرکار کی طرف سے کیے جانے والے اعلانات نے عوام کو زیادہ پسند نہیں کیا۔خاص طو ر پر ڈالر کی طوفانی اڑان نے کاروباری طبقات اور شہریوں کے کس بل نکال دیئے۔مہنگائی کا ایسا طوفان اٹھا کہ حکومتی کارکردگی اس میں دب گئی۔ شہریوں کے لیے حکومت کی کارکردگی کا پیمانہ انہیں ملنے والی بجلی ، پانی کے بل اور روزمرہ کی اشیاء کی مناسب نرخوں پر فراوانی ہے۔پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے بھی شہریوں کو ششدر
جمعه 07 دسمبر 2018ء

نفرت کی دیواریں گرنی چاہئیں

جمعه 30 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دوست مسلسل اس کرب میں مبتلا ہیں کہ تحریک انصاف حزب اختلاف میں کرتارپور کی طرح کے اقدامات کو غداری قراردیتی تھی لیکن اب امن کی علمبردار کیوں بن گئی؟ محترمہ شیریں مزاری کی ایک تقریر باربار شیئر کی جاتی ہے جس میں واہگہ کی سرحد سے تجارت بھی بندکرانے کی وہ دہائی دیتی ہیں۔ نون لیگ کے لیڈروںکا دکھ دیدنی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہر انی شیٹیو کو شک کی نظر سے ہی نہیں دیکھا گیا بلکہ سبوتاژ بھی کیاگیا۔ عرض ہے کہ حضور! وقت اور منظر نامہ بدلتاہے تو سیاسی حکمت عملی بدلنا پڑتی ہے۔ پرانے
مزید پڑھیے


کرتار پورراہداری ایک نئے دور کا آغاز

اتوار 25 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
دریائے راوی کے کنارے واقع سکھوں کا مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور اب سکھ یاتریوں کے لیے کھولا جانے والا ہے۔سات دہائیوں کے بعد پاکستان اور بھارت تین کلومیٹر کا راستہ طے کرنے پرآمادہ ہوئے۔ نفرت، انتقام اور تاریخی زیادتیوں کے احساس نے امن ،ترقی اور خوشحالی کی بات کرنے او رمشترکہ ورثے کو بروئے کار لاکر مستقبل میں جھانکے کی صلاح دینے والوں کو احمق اور بسا اوقات غیر محب وطن قراردیاگیا۔ بالاخر دونوں ممالک میں عقل و خرد نے غلبہ پایااور اس مذہبی اور تاریخی مقام کو یاتریوں کے کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند دنوں
مزید پڑھیے


امریکیوں سے لڑو نہ ڈرو

هفته 24 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے یکے بعد دیگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان مخالف ٹیویٹس کے جواب میں دیئے گئے بیانات نے یہ تاثر زائل کردیا کہ کوئی بیرونی قوت سول ملٹری لیڈرشپ میں خلیج پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کرسکتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ تعلقات حالیہ برسوں میںکئی ایک نشیب وفرازسے گزرے ہیں لیکن صدر ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستان کو مسلسل آنکھیںدکھاتے اور لتاڑتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی الیکشن مہم اور بعدازاں منصب صدارت پر فائز ہونے کے بعد مسلسل پاکستان کو اس خطے میں عدم استحکام کا
مزید پڑھیے


یوٹرن کوئی بری بات نہیں

پیر 19 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
کاروبارسیاست نام ہے حکمت اور مسلسل تغیر کا ۔ جمود اور ٹھہراؤ کا یہاں کو ئی گزر نہیں۔ سیاسی فیصلے مخصوص حالات اور پس منظر میں کیے جاتے ہیں۔ منظر بدلتاہے تو پرانے فیصلے کوڑا دان کی نذر کردیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا یوٹرن کو کامیاب سیاسی زندگی کی کنجی قراردینا غلط نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتاہے جہاں لوگ سیاسی جدوجہد کے نصب العین یعنی حتمی منزل اور اس تک پہنچنے کے راستے یعنی حکمت عملی کے درمیان امتیاز کرنا بھول جاتے ہیں۔ نصب العین نہیں بدلنا چاہیے۔ تدبیر مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اسے بدلتے رہنا
مزید پڑھیے




افغانستان کے دریا پاکستان کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں

جمعه 16 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
کابل کے نواح میں بھارت ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم کررہاہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی جانب بہنے والے پانی میں غیر معمولی کمی ہوجائے گی جو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود تنازعات اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی بلکہ دنیا اس منصوبے کو ایک بڑے اور ابھرتے ہوئے تنازعے کے طورپر دیکھ رہی ہے۔ چند دن قبل معروف جریدے فارن پالیسی نے ایک تفصیلی مضمون ’’افغانستان کے دریا پاکستان کے خلاف بھارت کا اگلا ہتھیار ہوسکتا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ جس میں کہاگیا کہ
مزید پڑھیے


پرتشدد احتجاج روکیں کیسے؟

هفته 10 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
حالیہ پرتشدد مظاہروں اور اسی دوران مولانا سمیع الحق کے ظالمانہ قتل نے حکومتی مشینری کی چولیں ہلادیں ہیں۔ ریاستی اداروں کو شدت سے احساس ہوا کہ پورا پاکستان چند گھنٹوںمیں جام کیاجاسکتاہے۔ اس دوران شرپسند عناصر سیاسی یا مذہبی احتجاج کی آڑ میں سرکاری اور نجی املاک نہ صرف لوٹتے ہیںبلکہ شہریوں کے جان ومال کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔ حکومت مخالف سیاسی گروہ بھی سرگرم ہوجاتے ہیں اور ملک دشمن عناصر بھی ایسے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج اور ہنگاموں نے بھی یہ حقیقت کھولی کہ احتجاج کا فائدہ اٹھاتے
مزید پڑھیے


آہ! سردار خالد ابراہیم بھی خالق حقیقی سے جاملے

پیر 05 نومبر 2018ء
ارشاد محمود
سردار خالد ابراہیم خان اگرچہ اس جہان فانی سے کوچ کرگئے لیکن وہ ایک بااصول اور کھرے سیاستدان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سیاست نام ہی نشیب وفراز کا ہے لیکن وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر کھڑے رہے۔جھکنا اور بکنا ان کی لغت میں تھا ہی نہیں۔اپنی بے لچک طبیعت کی بنا پر سیاست میں بے پناہ نقصان اٹھایا لیکن کبھی کسی تاسف کااظہار نہ کیا۔ مرحوم نے اپنے والد سردار محمد ابراہیم خان جو تحریک آزادی کے قائد اور آزادکشمیر کے بانی صدر تھے سے سیاست کے اسرار ورموز سیکھے۔ پیپلزپارٹی میں ذوالفقار علی بھٹو کے
مزید پڑھیے


بھارتی الیکشن اور کشمیر

پیر 29 اکتوبر 2018ء
ارشاد محمود
محض گزشتہ چار ہفتوں کے دوران 12شہری اور 26 کشمیری مزاحمت کار شہید ہوگئے جن میں ایک پی ایچ ڈی سکالر منان وانی بھی شامل ہیں۔درجنوں سیاسی کارکنوں کوحوالہ زنداں کیا گیا ۔ شہریوں کے مکانات کو بارود سے بھسم کیا گیا۔اگرچہ کشمیر میںتشدد کوئی نئی بات نہیں لیکن بھارت کے عام الیکشن جوں جوں قریب آرہے ہیں کشمیریوں کا عرصہ حیات زیادہ سرعت سے تنگ کیاجارہاہے۔بھارت کی سیاسی اور عسکری لیڈرشپ کا لب ولہجہ تلخ اور دھمکی آمیز ہوتا جارہاہے۔ عالم یہ ہے کہ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کہتے ہیں کہ جو لوگ قتل غارت و گری
مزید پڑھیے


شکریہ سعودی عرب

هفته 27 اکتوبر 2018ء
ارشاد محمود
دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑے پاکستان کو سعودی مالی امداد نے نہ صرف بچا لیا بلکہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط سے بھی محفوظ رکھا۔ روایتی دوستی کا حق سعودی عرب نے خوب ادا کیا جس پر اس کی تحسین کی جانی چاہیے لیکن یہ موقع ہے کہ حکومت پاکستان، سیاستدان اور تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے گریبان میں جھانکیں اور سوچیں کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے دنیا کے ایک بڑے طاقت ور ملک اور عظیم قوم کے ہاتھ میں کشکول تھمادیا ہے۔پاکستانی شہری دنیا بھر میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہم اس قابل
مزید پڑھیے