اسداللہ خان



تبدیلی سنجیدہ اذہان لاتے ہیں یا ایسے وزیر؟


جہاندیدہ ، پڑھے لکھے ، قابل اور عظیم دماغوں کے ذریعے تبدیلی لانا کونسا کمال کی بات ہے۔ دنیا میں اگر کسی نے قابل وزرا کے بل بوتے پر ایسا کر دکھایا ہے تو کیا کمال کیا۔اصل تعریف کے قابل تو عمران خان ہیں جو فیصل واوڈا جیسے وزرا کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔عمران خان کو یقین ہے کہ وہ انقلاب لائیں گے اور اپنے انہی با کمال وزیروں کے ذریعے ہی لائیں گے۔عمران خان کو دوہرا چیلنج درپیش ہے ، ایک، تباہ حال ملک کو اندھیروں سے نکالنا، اور دوسرا اُن چراغوں کے ذریعے روشنی کرنا جن کے اپنے
جمعرات 16 جنوری 2020ء

مفادات کا تحفظ

هفته 11 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
ستر کی دہائی ایران میں بڑے طمطراق سے طلوع ہوئی۔تیل کی شکل میں ایران کی جو لاٹری نکلی تھی اس کے ثمرات واضح طور پر دکھائی دینے لگے تھے۔پیسے کی ریل پیل نے ایران کی شکل اور ایرانیوں کا حلیہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ملکوں ملکوں شہنشاہ ایران کی تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے۔جب خوشحالی آتی ہے تو بہت سی معاشرتی تبدیلیاں بھی ساتھ لاتی ہے ۔ اسی تبدیلی کو بے راہ روی قرار دے کر امام خمینی کے انقلابی سراپا احتجاج تھے مگر اتنے سرگرم نہ تھے کہ کسی تبدیلی کا موجب بن سکیں ۔ایسے میں مغرب
مزید پڑھیے


مشکل فیصلے یا اصولوں پر سمجھوتہ؟

جمعرات 09 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
حکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے، نہایت مشکل۔ پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے فرمایاکہ’’ نیب میں ترمیم کا آرڈیننس لانا مشکل فیصلہ تھا کیونکہ احتساب حکومت کا مشن تھااور حکومت احتساب پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی تھی مگر کچھ وجوہات کی بنا پر ایسا کرنا پڑا ‘‘۔ بے بسی کے اس ا ظہار سے وزیر اعظم نے تسلیم کیا ہے کہ وہ کچھ قوتوں کے ہاتھوںبلیک میل ہو کر یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔نوکر شاہی اور بازار کی کچھ قوتوں نے ڈیڑھ سال تک سب کچھ منجمد کیے رکھا ، کام اور کاروبار نہ کرنے کی قسم کھا لی۔وزیر
مزید پڑھیے


چودھری نثار کو عزت دو

هفته 04 جنوری 2020ء
اسداللہ خان
چودھری نثار جیت گئے ، پرویز رشید ہار گئے۔ دیر سے ہی سہی چودھری نثار کے فلسفے سے اتفاق کر لیا گیا۔بیچارے چودھری نثار کیاکہتے تھے کہ مفاہمت کے راستے پر چلے بغیر سیاسی دوام حاصل نہیںکیاجا سکتا۔وہ کہتے تھے کہ جی ٹی روڈ کا راستہ پہلے جیل اور پھر لندن کی طرف جاتا ہے ۔ وہ بعد تک کہتے رہے کہ نواز شریف مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے توآج بھی وزیر اعظم ہوتے۔چودھری نثار کو جھٹلا دیا گیا ،ان کا نقطہ ٔ نظر ماننے سے انکار کر دیا گیا۔وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو کر جی ٹی روڈ سے لاہور
مزید پڑھیے


ضمانت کیسے ہو گئی؟

هفته 28 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
آخر ضمانت کیسے ہو گئی ؟تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ایک ، یا تو شہریار آفریدی کے پاس ثبوت تھے ہی نہیں ۔ دو، ثبوت تھے مگر مصلحتا عدالتوں کو دیے نہیں گئے اور رانا ثناء اللہ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ تین، تمام ثبوت عدالت کو دے دیے گئے تھے مگر پھر بھی عدالت نے رانا ثنا ء اللہ کو چھوڑ دیا۔ تیسری صورت قرین قیاس نہیں لگتی ، کیوں کہ اگر عدالت کو ثبوت دیے گئے ہوتے تو شہریار آفریدی ان تمام ثبوتوں کو میڈیا میں جاری کرتے اور بتاتے کہ وہ سچے ہیں اور رانا ثناء جھوٹے
مزید پڑھیے




مریم کی خاموشی

جمعه 27 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
اس خاموشی کی آخر وجہ کیا ہے ؟ یایہ خاموشی بے وجہ ہے؟ کیا آپ کو کسی نے خاموش رہنے کا پیغام دے رکھا ہے ؟ کیا یہ خاموشی ہی آپ کے لیے فائدہ مند ہے ؟ کیا یہ خاموشی آپ کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے؟ کیا یہ خاموشی کسی شرط پر ہے؟ کیا آپ اس لیے خاموش ہیں کہ آپ کو بولنا پسند نہیں ؟ کیا آ پ اس لیے خاموش ہیں کہ آپ کی زیادہ بولنے کی عادت نقصان دہ ثابت ہوئی ؟ کیا آپ اپنے چچا والی پالیسی پر چل نکلی ہیں؟ کیا آپ اور آپ
مزید پڑھیے


قانونی ماہرین سے چند سوال

هفته 21 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
چند سوال ہیں جو ایک عام آدمی کے ذہن میں ابھر رہے ہیں: کیا ایک فیصلے کی بنیاد پر کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایک پیرا گراف کی بنیاد پر پورا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈالا جا سکتا ہے ؟ کیا ریفرنس دائر ہونے سے فیصلہ بھی خود بہ خود کالعدم ہو جائے گا؟ اگر فیصلے کا ایک پیرا گراف قابل عمل نہ ہو تو کیا اس بنیاد پر باقی فیصلے پر بھی عمل درآمد نہ ہونے کا جواز دیا جا سکتا ہے؟ ایک پیرا گراف کی بنیاد پر کسی جج کو محض نالائق
مزید پڑھیے


عدالتوں کی توجہ کے منتظر چند کیسز

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
اور بھی کئی کیسز ہیں جو معزز عدالتوں کی توجہ کے طالب ہیں ۔ان میں سے کچھ کیسز کی عمر تو پرویز مشرف کے کیس سے بھی زیادہ ہے اور شاید اہمیت بھی ، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔یسی ہی خصوصی توجہ کچھ اور کیسز کو بھی درکار تھی ،ان میں سے چند کیسز کا ذکر کر لینے میں ہرج نہیں کہ شاید ہزاروں لوگوں کو انصاف مل سکے ۔ 12 مئی 2007 کو 50 سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا یا گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔شہر
مزید پڑھیے


’’۔۔۔۔۔۔۔گردی‘‘

هفته 14 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
بہت سے سابقے ہیں جو گردی کے ساتھ لگائے جا سکتے ہیںمثلا وکلا گردی، پولیس گردی، ڈاکٹرز گردی، طلبہ گردی، دہشت گردی، غنڈہ گردی وغیرہ ۔ اور یہ سب تراکیب ملا کر ایک تصویر بنائیں توکینوس پر پاکستان کے شدت پسند معاشرے کی تصویر بن کے ابھرے گی۔ایک ایسا معاشرہ جہاں جتھا ایک طاقت ہے، اخلاقیات سے ماورا اور قانون سے بالا تر۔ یہ جتھا مختلف رنگوں کے کوٹ پہن کر ہر چوتھے روز سڑک پہ نکلتا ہے اور خون ناحق سڑکوں پہ بہنے لگتا ہے ، دھبہ پہلے دن سرخ ہوتا ہے، دوسرے دن مٹیالا، تیسرے دن سیاہ
مزید پڑھیے


دھیلے کی کرپشن

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
اس ملک میں ایسے کئی خوش نصیب ہو گزرے ہیں جو دھیلا جیب میں لیے بغیر نوکری کرنے پہنچے اور انہیں کمپنیوں کا مالک بنا دیا گیا۔ کئی ایسے بھی ہیں جو کام تودھیلے کا نہیں کرتے مگر ان کا ریکارڈ دیکھ لیں تو اربوں کی ٹرانزیکشنز قوم کے ان دانشوروں کو منہ چڑا رہی ہوتی ہیں جن کا فلسفہ ہے کوئی کھاتا ہے تو کیا ، لگاتا بھی تو ہے ۔تو آیئے آج آپ کو ان خوش نصیب کرداروں سے ملواتے ہیں جنہوں نے خالی ہاتھ سلطنت شریفیہ میں قدم رکھا اور اب اربوں کا ہیر پھیر ان کے
مزید پڑھیے