Common frontend top

BN

اسداللہ خان


روپے کی کہانی


روپے کی کہانی دراصل پاکستان کی کہانی ہے۔جب جب پاکستان کے سفر میں نازک موڑ آئے،ڈالر کی چودھراہٹ میں اضافہ ہوا۔اندرونی اور بیرونی سازشوں کا ہر وار پاکستانی روپے نے اپنے سینے پر جھیلا۔آئیے ڈالر سے جنگ کرنے والے روپے کی دردناک کہانی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 1947 میں ایک امریکی ڈالر3روپے 31پیسے کا تھا اور 1954 تک چپ چاپ اسی ریٹ پہ چلتا رہا۔پھر روپیہ مسلسل سیاسی عدم استحکام اور باربار حکومتوں کی تبدیلی کے سامنے ہار گیا یوں 1955 میں ڈالر پہلی بار بڑھ کے 3روپے 91 پیسے کا ہو گیا۔ 1956 میں مارشل لاء کو دیکھ
جمعه 03 فروری 2023ء مزید پڑھیے

عدالت میں سیاست

بدھ 01 فروری 2023ء
اسداللہ خان
اسی عنوان سے ایس ایم ظفر نے برسوں پہلے ایک کتاب لکھی، لگتا ہے آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ آج بھی سیاست عدالت میں ہو رہی ہے۔کون سا فیصلہ ہے جو سیاست دان مل بیٹھ کے کر پاتے ہیں۔الیکشن کی تاریخ لینی ہو یا وزیر اعلیٰ نے حلف اٹھانا ہو، اعتماد کے ووٹ کا معاملہ ہو یاکسی سیاست دان کے انتخاب لڑنے کی بحث ، ہر فیصلہ عدالت جا کر ہی ہوتا ہے ۔ یہی نہیں سیاست دانوں کی نااہلی کے لیے بھی یہی گھر مناسب مان لیا گیا ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں کی توثیق بھی اب یہیں سے ہوتی
مزید پڑھیے


نظام دم توڑ چکا

بدھ 25 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
ایسی قوم جسے اپنے نظام ، آئین و قانون اور ریاست کے اہم اداروں پر اعتماد نہ رہے اس کی بے چینی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں متعدد بار تواتر سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم کسی نظام کے تحت رہتے ہیں ؟نظام جو ریاست کو چلانے کے کا لازمی جزو ہے،اپنا وجود رکھتا ہے؟سیاسی اخلاقیات جو بسا اوقات نظام سے اہم ہوتی ہیں،اپنا وجود رکھتی ہیں؟قانون کو چکما دینے کا چلن، اختیارات کا ناجائز استعمال،عدالتوں سے کھلواڑ،ڈھٹائی ، ضد ، انا اور بے شرمی۔ ہماری
مزید پڑھیے


اداروں کی وقعت کیسے بحال ہو !

جمعه 20 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
چند ہی دن کی بات ہے توشہ خانہ پہ بڑا شور مچا تھا، کہا جا رہا تھاعمران خان توشہ خانہ سے گھڑی لے اُڑے۔پھر یہ ہوا کہ ایک درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ کے پاس گیا اور درخواست کی کہ توشہ خانہ کا ریکارڈ عام کیا جائے۔ عدالت نے حکم دیا تو حکومت نے معذرت کر لی کہ توشہ خانہ کا ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے وجہ پوچھی تو ایک تحریری جواب جمع کرایا گیا۔ اس جواب میں کہا گیا کہ توشہ خانہ کا ریکارڈ پبلک کرنے سے بین الاقوامی تعلقات متاثر ہوں گے اور ملکی سلامتی کو خطرات
مزید پڑھیے


کیا سوچ کے مصطفی کمال نے یہ قدم اٹھایا؟

بدھ 18 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
ایک چالاک لومڑی نے خونخوار بھیڑیے کو چاند کا عکس دکھا کر کہاکہ وہ دیکھو چربی کا ایک ٹکڑا وہاں پڑا ہوا ہے اور بیوقوف بھیڑیے نے اس ٹکڑے کی طلب میں دریا میں چھلانگ لگا دی ۔ڈوب کے مر گیا بیچارہ۔ مصطفی کمال نے نہ جانے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ابھی انہیں لگا ہو گا یا بتایا گیا ہو گا کہ وہ ناکام ہونے جا رہے ہیں اوریہ کہ انہیں آئندہ انتخابات سے بھی کچھ نہیں ملنے والا۔اِس وقت تو حالات واقعی ایسے ہی تھے، مگر مستقل مزاجی ہی
مزید پڑھیے



بالآخر

هفته 14 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
کئی بار پرویز الٰہی کو لگا انہوں نے عمران خان کو منا لیا ہے یا ڈرا لیا ہے۔ کئی بار انہیں محسوس ہوا عمران خان اسمبلیاں نہ توڑنے پر راضی ہو جائیں گے۔نہایت اعتماد کے ساتھ انہوں نے ٹی وی پر انٹرویو بھی دے ڈالا کہ مارچ تک تو کچھ نہیں ہونے والا۔لیکن عمران خان ضد پہ اڑے رہے اور پرویز الٰہی کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔انہوں نے بالآخر وہ کر ہی ڈالاجس کا راولپنڈی کے جلسے میں اعلان کیا تھا۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ عمران خان کا فیصلہ صحیح ہے یا غلط لیکن بظاہر لگتا ہے وفاق کی
مزید پڑھیے


آئو جشن منائیں

بدھ 11 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
شرم اتر جائے تو بھیک مانگنے میںعار کیا۔اورمل جائے تو خوشی چھپائے نہیں چھپتی۔اچھا بھکاری بھیک کے حصول کو بھی اپنی کامیابی تصور کرتا ہے،اچھی کمائی ہو جانے پر دوسروں سے داد بھی مانگتا ہے۔کمال ہو گیا بھئی دیکھو ہم کامیابی سے بھیک مانگ لائے ہیں ۔یہ ہمارا ہی منہ ہے کہ بھیک مل جاتی ہے تمہیں تو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ کامیابی کے پیمانے بدل گئے ہیں ۔ آجکل نت نئے طریقے نکل آئے ہیں ۔ پہلے بھیک مانگنے والے ڈھونگی سڑک پہ نکلتے تھے تو پھٹے پرانے کپڑے نکال کر پہن لیتے تھے کہ خستہ حال لگیں،سائیکل
مزید پڑھیے


مشعل کا پرندہ

جمعه 06 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
روسی شاعر رسول حمزہ توف نے ایک بار ٹیگور کے بارے میں لکھا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کی روح میں ایک پرندے نے جنم لیا تھا ، اس سے پہلے اس طرح کے پرندے کا کوئی وجود نہ تھااور اسی لیے جب انہوں نے اسے ادب کے میدان میں آزاد کیا تو دنیا پکار اٹھی یہ ٹیگور اور صرف ٹیگور کا پرندہ ہے ۔ مشعل کے پاس بھی ایک ایسا ہی پرندہ تھا، خالص اس کا اپنا پرندہ ۔جسے وہ ہر جگہ اڑائے پھرتی تھی۔ایک ایسا پرندہ جو اپنی پہلی اڑان کے خمار میں رہتا اور ہر اڑان ایسے بھرتا جیسے
مزید پڑھیے


سرتھا بھی یا نہیں ؟؟

بدھ 04 جنوری 2023ء
اسداللہ خان
مشہور کہاوت ہے کہ’’ آپ کے پاس لکڑی کا کتنا ہی خوبصورت خنجر کیوں نہ ہوآپ اس سے چوزے کو بھی حلال نہیں کر سکتے ، بہت ہوا تو یہ کر سکتے ہیں کہ لگا تار برستے پانی کی دھار کاٹ دیں‘‘۔ اقتدار بھی ایسا ہی ہوتا ہے کسی کے پاس واقعی ہوتا ہے اور کسی کو بس محسوس ہوتا رہتا ہے کہ اس کے پاس ہے۔مگر کبھی کبھی کوئی مقتدر چوک بھی تو سکتا ہے۔ حیرت ہے ہمارے مقتدر جنرل باجوہ عمران خان کو اقتدار سے نکالتے ہوئے چُوک کیسے گئے اور کیوں یہ بھانپ نہ سکے کہ وہ تاریخ کی
مزید پڑھیے


استعفوں کا وقت قبولیت کب آئے گا؟

جمعه 30 دسمبر 2022ء
اسداللہ خان
راجہ پرویز اشرف نے تہیہ کر لیا ہے کہ استعفے منظور نہیں کرنے تو بس نہیں کرنے ۔ گذشتہ روز اسپیکر کے چیمبر میں ایک طویل بیٹھک ہوئی۔ ایک گھنٹے سے زائدجاری رہنے والی ملاقات میں نہ جانے کیا کیا باتیں ہوئیں ،ہمیں تو بس مختصر حال سنا دیا گیا۔اسلام آباد کے رپورٹرز اسپیکر روم کے باہر کھڑے تھے اور طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔سب سے اہم سوال یہ تھا کہ شاہ محمود قریشی ، اسد عمر اور پرویز خٹک کیوں نہ آئے؟کیا پی ٹی آئی بھی اب اندر سے یہی چاہتی ہے کہ استعفے قبول نہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں