اسداللہ خان



عمران خان کو گھر بھیجنے میں حائل رکاوٹیں!


وہ جو کہتے ہیں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات مثالی نہیں رہے۔ وہ جو سمجھتے ہیں کہ حکومت ڈیلیور نہیں کر سکی‘ اسٹیبلشمنٹ پریشان ہے اور عمران خان کے سامان باندھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے وہ جو پہلے دسمبر اور پھر مارچ کی تاریخ دے رہے تھے۔ وہ جو مائنس ون کی کہانی سناتے ہیں کبھی مائنس آل کی‘ کبھی قومی حکومت کی بات کرتے ہیں کبھی نئے انتخابات کی۔ شہر اقتدار میں بیٹھے ان تمام دوستوں سے اختلاف کی جسارت کرتے ہوئے دس دلائل ان کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں۔ 1۔ خطے کے حالات پاکستان میں کسی
جمعرات 05 مارچ 2020ء

حکومت مشکل راستے پر چل پڑی

هفته 29 فروری 2020ء
اسداللہ خان
آپ کو یاد ہو گا کہ نواز شریف کے ملک سے باہر جاتے ہی ایک تاثر یہ پیدا ہو ا تھا یا دیا گیا تھاکہ نواز شریف ڈیل کے تحت باہر گئے ہیںمگر عمران خان اس ڈیل کا حصہ نہیں۔اگر یہ تاثر درست تھا تو جان لیجئے کہ اب عمران خان نے نواز شریف کو باہر بھیجنے والوں سے تعلقات خراب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ بظاہر اس کہانی کے تین فریق ہے ، فریق اول ،عمران خان ، فریق دوم، نواز شریف اورفریق سوم، نواز شریف کو باہر بھیجنے والے۔اس کہانی پر یقین کرنے والوں کو لگتا ہے
مزید پڑھیے


ڈیرن سیمی سے ایک ملاقات

جمعرات 27 فروری 2020ء
اسداللہ خان
پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سمی سے سرِ راہ ملاقات ہو گئی۔ پاکستان کی شہریت ملنے کے بعد کافی خوش تو لگ رہے تھے لیکن میں نے محسوس کیا کہ کئی الجھنوں کا شکار ہیں۔ برسبیل تذکرہ میں نے پوچھا کہ جناب پاکستانی بننے کے بعد کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ اپنی مخصوص دلنشیں مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے کہنے لگے ، پاکستانی بننے کے بعد خود کو بڑا آزاد محسوس کر رہا ہوں، اب میں جہاں دل چاہے سڑک پہ کچرا پھینک سکتا ہوں، پان کھا کے تھوک سکتا ہوں، یہاں تک کہ جب اور جہاں دل چاہے رفع حاجت
مزید پڑھیے


حکومت نواز شریف کوواپس لانا ہی نہیں چاہتی

هفته 22 فروری 2020ء
اسداللہ خان
صاف نظر آتا ہے کہ حکومت پنجاب نواز شریف کو واپس لانے میں سنجیدہ نہیں ، نہ صرف یہ کہ سنجیدہ نہیں بلکہ اپنے اقدامات سے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ وہ واپس نہ آئیں۔ کیا یہی حکومت کے مفاد میں ہے ؟ کیا یہی حکمت عملی ہے ؟ کیا یہی ہے وہ جسے ڈیل نہیں ارینجمنٹ کہتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کی ضمانت دی اور حکم دیا کہ ضمانت میں توسیع درکار ہو تو حکومت پنجاب سے رجوع کیا جائے۔ طریقہ کار یہ طے پایا کہ نواز شریف اپنی میڈیکل رپورٹس
مزید پڑھیے


مریم کی تین درخواستیں ، پانچ سوال

جمعرات 20 فروری 2020ء
اسداللہ خان
نواز شریف بضد ہیں کہ مریم لندن نہیں آئیں گی تو آپریشن نہیں کرائوں گا، شہباز شریف بضدہیں کہ بھائی آپریشن نہیں کرائیں گے تو پاکستان واپس نہیں جائوں گااور مریم بضد ہیں کہ باہر نہیں جانے دیا جائے گا تو ابو صحت یاب نہیں ہوں گے۔ پاکستان پر سب سے زیادہ بار حکومت کرنے والے شریف خاندان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ ریاست اور قانون ضد پر نہیں چلتے ۔ مریم نواز کے کیس میں کئی تکنیکی پہلو ہیں جو ان کے بیرون ملک جانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے عدالت میں تین درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
مزید پڑھیے




ووٹ کا حق

هفته 15 فروری 2020ء
اسداللہ خان
جناب خورشید ندیم’’جمہوری کلچر کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر محو گفتگو تھے۔اپنے مخصوص دھیمے اور مدبرانہ انداز میں فصاحت کے ساتھ انہوں نے پہلے معاشرے کی تعریف کی ،پھر ریاست کی ،پھر کلچر کی، پھر جمہوریت کی اور پھر جمہوری کلچر کی۔ اپنے مخصوص دلنشین انداز میں انہوں نے سمجھایا کہ ریاست کا ادارہ کیوں وجود میں آیا ، قوانین کی ضرورت کیوں پڑی ، انسان قوانین کے تابع کیوں ہیں اور یہ کہ جمہوری نظام اور ریاست اور جمہور کا آپس میں کیا تعلق ہوتا ہے ۔ مختصر گفتگو کے بعد سوال وجواب کی نشست ہوئی تو بحث
مزید پڑھیے


جوتیوں سمیت آنکھوں میں اترے ہوئے لوگ

جمعرات 13 فروری 2020ء
اسداللہ خان
’’اگر کسی صوبے میں ترقی ہو رہی ہے تو وہ سندھ ہے ‘‘۔ حیرت ہے یہ جملہ کہتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کی زبان لڑکھڑائی ، نہ آنکھ شرمائی ۔ نہ چہرے پر کوئی گھبراہٹ کے آثار ، نہ سندھ کے محروم ووٹرز کے ناراض ہونے کا خوف۔ اردو کا ایک محاورہ ہے ، جوتیوں سمیت آنکھوں میں اترنا ، ہمارے سیاستدانوں کو اس میں ملکہ حاصل ہے ۔سندھ کو چھوڑیئے پہلے کراچی کی بات کیجئے، جسے چیف جسٹس آف پاکستان نے میگا پرابلم سٹی قرار دیا ہے ۔ پانی کی فراہمی ، سیوریج اور نکاسی ٔ
مزید پڑھیے


This is a Funny World

هفته 08 فروری 2020ء
اسداللہ خان
وقت بدلتا ہے تو بہت کچھ بدل جاتا ہے یہاں تک کہ الفاظ اور اصطلاحات کے معانی بھی۔زمانوں کاسفر قوموں کی ترجیحات بدلتا ہے تو مصلحت اور مفادات، اصول اور سچائی کی پرچھائیاں بن جاتی ہیں جو اپنے اصل سے یکسر مختلف ہوتی ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود مہذب دنیا منافقت کا لبادہ اوڑھے رکھتی ہے اور مہذب کہلوانے پر مصر رہتی ہے ، ہم تیسری دنیا کے باشندے مجبور ہیں کہ ان کی بتائی گئی Deffinitions کے مطابق بے معنی الفاظ سے اپنے دفترسیاہ کرتے رہیںحتیٰ کہ مقدر بھی۔ حقیقت میں دیکھیں تو ماضی
مزید پڑھیے


کشمیر کیسے آزاد ہو گا؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
اسداللہ خان
سمجھا جاتا ہے کہ ممکنہ طور پر کشمیر کا مسئلہ ان پانچ طریقوں سے حل ہو سکتا ہے ۔ -1 بات چیت کے ذریعے /-2 اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے/ -3 جہاد کے ذریعے/-4 خانہ جنگی کے ذریعے /-5 پاک بھارت جنگ کے ذریعے آئیے دیکھتے ہیں کہ بظاہر ان طریقوں سے کیا کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟با ت چیت کا عمل بند ہوئے برس ہا برس گزر گئے ،بھارت کسی مسئلے پر پاکستان سے بات کرنا ہی نہیں چاہتا ، کشمیر پر تو بالکل نہیں۔جب بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے
مزید پڑھیے


شہزاد اکبر سے چند سوال

هفته 01 فروری 2020ء
اسداللہ خان

پریس کانفرنسز کے ماہر بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک اور پریس کانفرنس میں پانچ نئے دعوے کیے ہیں۔ -1 نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ٹھیکیدار نے کک بیکس کی مد میں چودھری شوگر ملز کے اکائونٹس میں 560 ملین روپے منتقل کیے جو مریم نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ -2 چودھری شوگر ملز کے اثاثوں کی مالیت 6 ارب روپے ہے جبکہ 1991ء میں جب یہ قائم کی گئی تھی تو اس کی مالیت صرف 13 لاکھ روپے تھی۔فرضی قرضوں جعلی ٹی ٹیز اور براہ راست کک بیکس کے ذریعے چودھری شوگر ملز نے ترقی کی۔ -3 اسحاق ڈار
مزید پڑھیے