BN

اسداللہ خان



عدالتوں کی توجہ کے منتظر چند کیسز


اور بھی کئی کیسز ہیں جو معزز عدالتوں کی توجہ کے طالب ہیں ۔ان میں سے کچھ کیسز کی عمر تو پرویز مشرف کے کیس سے بھی زیادہ ہے اور شاید اہمیت بھی ، مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔یسی ہی خصوصی توجہ کچھ اور کیسز کو بھی درکار تھی ،ان میں سے چند کیسز کا ذکر کر لینے میں ہرج نہیں کہ شاید ہزاروں لوگوں کو انصاف مل سکے ۔ 12 مئی 2007 کو 50 سے زیادہ افراد کو زندہ جلا دیا گیا یا گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔شہر
جمعرات 19 دسمبر 2019ء

’’۔۔۔۔۔۔۔گردی‘‘

هفته 14 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
بہت سے سابقے ہیں جو گردی کے ساتھ لگائے جا سکتے ہیںمثلا وکلا گردی، پولیس گردی، ڈاکٹرز گردی، طلبہ گردی، دہشت گردی، غنڈہ گردی وغیرہ ۔ اور یہ سب تراکیب ملا کر ایک تصویر بنائیں توکینوس پر پاکستان کے شدت پسند معاشرے کی تصویر بن کے ابھرے گی۔ایک ایسا معاشرہ جہاں جتھا ایک طاقت ہے، اخلاقیات سے ماورا اور قانون سے بالا تر۔ یہ جتھا مختلف رنگوں کے کوٹ پہن کر ہر چوتھے روز سڑک پہ نکلتا ہے اور خون ناحق سڑکوں پہ بہنے لگتا ہے ، دھبہ پہلے دن سرخ ہوتا ہے، دوسرے دن مٹیالا، تیسرے دن سیاہ
مزید پڑھیے


دھیلے کی کرپشن

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
اس ملک میں ایسے کئی خوش نصیب ہو گزرے ہیں جو دھیلا جیب میں لیے بغیر نوکری کرنے پہنچے اور انہیں کمپنیوں کا مالک بنا دیا گیا۔ کئی ایسے بھی ہیں جو کام تودھیلے کا نہیں کرتے مگر ان کا ریکارڈ دیکھ لیں تو اربوں کی ٹرانزیکشنز قوم کے ان دانشوروں کو منہ چڑا رہی ہوتی ہیں جن کا فلسفہ ہے کوئی کھاتا ہے تو کیا ، لگاتا بھی تو ہے ۔تو آیئے آج آپ کو ان خوش نصیب کرداروں سے ملواتے ہیں جنہوں نے خالی ہاتھ سلطنت شریفیہ میں قدم رکھا اور اب اربوں کا ہیر پھیر ان کے
مزید پڑھیے


شہزاد اکبر کے 18 اور میرے12 سوالات

هفته 07 دسمبر 2019ء
اسداللہ خان
شہزاد اکبر نے شہباز شریف سے 18 سوال کیے ہیں یہ اٹھارہ کے اٹھارہ سوال ایسے ہیں جن کے جوابات شہباز شریف کی طرف سے اگر ’’ہاں‘‘ میں نہ دیے گئے تو نیب کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں جو شہباز شریف کو جھوٹا ثابت کر سکتی ہیں اسی لیے امکان یہی ہے کہ چونکہ شہباز شریف کے لیے ان سوالوں کے جواب میں’’نہیں‘‘ کہنا ممکن نہیں اس لیے وہ خاموش رہنے کو ترجیح دیں گے۔ لیکن اگر انہوں نے ان سوالوں کا جواب دے دیا تو مزید اٹھارہ سوال پیدا ہوں گے جو عوام ان سے پوچھنا چاہیں گے۔وہ
مزید پڑھیے


10 حکومتی فیصلے جوعدالتوں نے اڑا دیے

هفته 30 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
اب تو ڈیڑھ سال ہو گیا، یہ حکومت آخر کب تک اپنا مذاق بنواتی رہے گی۔ ایک سال اور چند ماہ کے عرصے میں حکومت نے کئی ایسے کمزور فیصلے کیے جویا تو ازخود نوٹسزکے ذریعے اڑا دیے گئے یا انہیں عدالتوں میں چیلنج کر دیا گیا اورنتیجہ وہی کہ حکومت کو سبکی اٹھانا پڑی ۔کوئی دس واقعات تو میں ابھی آپ کے گوش گزار کر دیتا ہوں، ذہن پہ زیادہ زور دیا جائے تو یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے ۔ جنوری میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے دو ممبران کے ریٹائر ہو جانے کے بعد آئینی و قانونی طور
مزید پڑھیے




خوف کا کاروبار

هفته 23 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
یہاں ہر کوئی خوف کے کاروبار سے وابستہ ہے،دوسروں کو خوف زدہ کر کے اپنا دھندہ چلاتا ہے۔سیاست کا دھندہ ، حکومت کا دھندہ، یہاں تک کہ قلم کا دھندہ بھی۔ایک قلمکار نے تصویر یوں بنائی ہے کہ سیاسی فلم درد ناک اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہیرو ولن بننے والا ہے، تصویر کے ایک کونے میں دوسروں کو رلانے کا دعوی کرنے والا خود روتا نظر آ رہا ہے ۔یہ خیالی تصویر پیش گوئی ہے، تجزیہ ہے،خواہش ہے یا خوف کا کاروبار؟ ایک اور خیالی تصویر میںدعوی کیا گیا ہے کہ تاریخ کے ایک بہت بڑے سیاسی
مزید پڑھیے


بیورو کریٹس بمقابلہ بیوروکریٹس

هفته 16 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
دھرنا اپنے اختتام کو پہنچا ، جو تھوڑی بہت تحریک باقی ہے وہ مختلف سڑکوں کے کنارے دم توڑ دے گی، تقریبا وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ نتائج حاصل ہونے کا امکان نہیں ۔اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ حکومت کے لیے چین کے دن آ گئے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حکومت کے اپنے کام اور گورننس کی طرف لوٹنے کے دن آ گئے ہیں ۔گورننس جو شاید اس وقت داخلی طور پر حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔تعلیم ، صحت اور معیشت کے میدان میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ
مزید پڑھیے


کیا پیپلز پارٹی کے ساتھ دھاندلی ہوئی؟

هفته 09 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
شور مچانے کا کیا ہے ، مچاتے جائیے، مگر ایک لمحے کو رک کر اعدادو شمار پر نظر ڈال لینے میں کیا ہرج ہے ؟پیپلز پارٹی نے سندھ میں 61 میں سے 38 سیٹیں حاصل کر رکھی ہیں ۔گویا سندھ کے نتائج پر پیپلز پارٹی کو اعتراض نہیں ، اصل مسئلہ باقی صوبوں بالخصوص پنجاب کا ہے جو سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے مجموعی نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے، گویا پیپلز پارٹی کا اعتراض یہی ہے کہ پنجاب میں دھاندلی ہوئی۔تو آئیے پہلے پنجاب کے انتخابی نتائج کا ایک الگ انداز میں تجزیہ کر کے دیکھتے
مزید پڑھیے


ریلوے کے ساتھ کیا ہوا؟

هفته 02 نومبر 2019ء
اسداللہ خان
زیادہ ٹرینیں چلانے کا شوق شیخ رشید اور ریلوے کو لے ڈوبا۔ریل کے نظام کی بنیادی سمجھ رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ شیخ رشید ریلوے کے ساتھ کیا ظلم کر رہے ہیں۔شیخ رشید کے دل میں 136 ٹرینیں چلانے کا شوق پیدا ہوا۔نئی ٹرینیں چلانے کے لیے کوچز اور انجن دستیاب نہیں تھے مگر ریلوے کو ٹرینیں چلانی تھیں ۔ سٹاف نہیں تھا مگر ٹرینوں کی تعداد بڑھانا تھی۔ انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ 136 ٹرینیں چلانے کے لیے ریلوے نے کیا کیا اور اس سے ریلوے کا نظام کیسے تباہ ہوا۔ پہلے ہر ٹرین
مزید پڑھیے


مگرپھر کیا ہو گا حضور؟

هفته 26 اکتوبر 2019ء
اسداللہ خان
اکتیس اکتوبر تو چھ دن میں ہو گزرے گا، لانگ مارچ یا دھرنا اس حکومت سے استعفی لیے بغیر گھر کا ہو لے گا۔طوفان تھم جائے گا، گرد بیٹھ جائے گی۔ دعوے ، نعرے اور تقریریں دو دن میں بے اثر ہونے لگیں گی۔ مگر پھر کیا ہو گا، کیا دھرنے کی ناکامی کے ساتھ ہی حکومت کے اچھے دن شروع ہو جائیں گے؟ کیا اعتماد میں اضافے کے ساتھ ہی دیرینہ مسائل ازخود حل ہونے لگیں گے؟ کیا دھرنے کی ناکامی حکومت کی کامیابی سے تعبیر ہو پائے گی ؟نہیں جناب پانچ بڑے داخلی چیلنجز یکم نومبر کو سر
مزید پڑھیے