Common frontend top

اسد طاہر جپہ


جیدی میاں اور کرکٹ


جیدی میاں کے ساتھ میری گہری دوستی کی ایک بڑی وجہ کرکٹ رہی ہے۔ وہ بھی میری طرح سکول کے زمانے سے کرکٹ کھیلتا آیا ہے اور پاکستانی ٹیم سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ کالج پہنچ کر میں نے تعلیم پر زیادہ توجہ کے باعث کرکٹ کھیلنا کافی حد تک کم کر دیا تھا مگر جیدی میاں گورنمنٹ کالج لاہور کی ٹیم میں ایک منجھے ہوئے آل رائونڈر کے طور پر مسلسل کھیلتا رہا۔چند روز قبل پاکستانی ٹیم کی امریکہ کے ہاتھوں شکست پر وہ بہت رنجیدہ ہوا اور مجھے ایک لمبا چوڑا میسج کر کے اپنے غم و
بدھ 12 جون 2024ء مزید پڑھیے

قتل سے خود کشی تک

بدھ 05 جون 2024ء
اسد طاہر جپہ
میں بطور ایس ایچ او تھانہ صدر فیصل آباد حسبِ معمول بعداز دوپہر تھانہ کے صحن میں کسی سنگین مقدمے میں ملوث ملزمان سے پوچھ گچھ میں مصروف تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف کال کرنے والے شخص نے میرا نام تصدیق کر کے اپنے بارے میں بتایا کہ چند برس قبل اس کا بھائی میرے تھانے کی حدود میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس کا قاتل تا حال مفرور تھا اور قتل کے فوراً بعد کراچی بھاگ گیا تھا۔ آج وہ قاتل شخص سمندری کے ایک نواحی گائوں میں اپنی ہمشیرہ کے گھر
مزید پڑھیے


ولیم ورڈز ورتھ سے ملاقات

بدھ 29 مئی 2024ء
اسد طاہر جپہ
ہماری زندگی چھوٹے چھوٹے دائروں میں گھومتی رہتی ہے۔ بسا اوقات ہمیں انتہائی دلچسپ اور حیران کن واقعات اور تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ کارزارِ حیات میں منزل بہ منزل ہمارا سفرِ زندگی آگے بڑھاتا رہتا ہے اور ہم ذہنی پختگی کے مختلف مراحل طے کرتے جاتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا ہوتا کہ جن کرداروں کو ہم صرف کہانیوں میں پڑھتے ہیں یا وہ ہستیاں جنہیں آپ نے کئی دہائیاں قبل زمانہِ طالب علمی میں نصاب میں شامل ہونے کے سبب پڑھ رکھا ہو اور سات سمندر پار کئی سو سال پہلے وہ منوں مٹی کے نیچے آسودہِ
مزید پڑھیے


قبروں کی وراثت

بدھ 22 مئی 2024ء
اسد طاہر جپہ
ہر سال 22دسمبر کی رات سب سے طویل ہوتی ہے اور دن کا دورانیہ مختصر ترین ہوتا ہے مگر اس مرتبہ ہمارے لئے 15دسمبر کی رات قیامت خیز تھی، اتنی لمبی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی کیونکہ ہم اپنی جان سے پیاری والدہ ماجدہ کو اپنے آبائی گائوں کے قبرستان میں منوں مٹی کے حوالے کر آئے تھے اور ہمارا گھر ایک اجڑے ہوئے گلشن کا سماں پیش کر رہا تھا۔ چہار سو ویرانی اور وحشت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور ہمارے لئے زندگی کی تمام رعنائیاں بے معنی ہو چکی تھیں۔ غمِ شبِ فراق
مزید پڑھیے








اہم خبریں