BN

اشرف شریف


مال روڈ کی کہانی……(2)


زمزمہ کو 1761ء میں پانی پت کی جنگ میں استعمال کیا گیا۔اس توپ کے متعلق بہت سی کہانیاں مشہور تھیں کہ جس کے پاس یہ ہو وہ لڑائی جیت جاتا ہے۔انگریز سے پہلے یہ توپ بھنگی مثل کے پاس رہی اس وجہ سے اسے بھنگیوں کی توپ بھی کہتے ہیں۔1870ء کے عشرے میں مال روڈ پر عجائب گھر کی بغل میں میو سکول آف انڈسٹریل آرٹ قائم کیا گیا۔جہاں آرٹ سکول تعمیر ہوا یہاں مغل اور سکھ عہد مین ایک باغ تھا۔یہ سکول آج این سی اے کے نام سے مشہور ہے۔1877ء میں گورنمنٹ کالج کی موجودہ عمارت مکمل
جمعه 23  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

مال روڈ کی کہانی

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
نیلی راوی کی بھینس جیسی رنگت والی سڑک ،درمیان اور دونوں کناروں پر گھنے پیڑ،کئی مقامات پر اوپر جا کر ایک دوسرے کی شاخیں پکڑے کھڑے۔بارش ہو تو مال روڈ پر ایستادہ درختوں کی سبز زلفوں سے ٹپکتا پانی ،درمیان میں لگی سوسن کے جھومتے پودے ،شہر میں تعطیل ہو تو شاہراہ کی سطوت اور بلند آہنگ سے بات کرنے لگتی ہے۔میں نے بارہا مال روڈ پر آتے ہی اپنا مزاج بدلتے محسوس کیا ۔برطانوی عہد کی تعمیرات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزوں نے پہلے سے موجود شہروں کی صفائی کا نظام بہتر کیا لیکن اکثر
مزید پڑھیے


تحریک پاکستان کے عہد کی اہم گواہی

منگل 20  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
ہاتھ میں ہمارے بزرگ اور شائد سب سے سینئر صحافی ریاض احمد چودھری کی تصنیف ’’تحریک پاکستان…چند یادیں…کچھ ملاقاتیں‘‘ ہے۔370صفحات کی کتاب بہت خاص ہے۔پہلا حوالہ یہ کہ مصنف تحریک آزادی کے بھرپور دور میں سرگرم تھے۔مارچ 1940ء میں قرار داد لاہور کی منظوری والے اجتماع میں اپنے دادا کے ساتھ شریک ہوئے‘ قائد اعظم کی زیارت کی۔بڑی بڑی شخصیات کو دیکھا‘ ان سے ملاقات کی۔دوسری وجہ یہ کہ ریاض احمد چودھری عہد موجود میں ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی یادداشت اور جسمانی مستعدی قابل رشک ہے۔92برس کی عمر میں وہ بزم اقبال کے معاملات بہترین
مزید پڑھیے


میا بائی کی قبر پر قبضہ اور چوبرجی

هفته 17  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
بچپن سے دیکھ رہے تھے مزنگ چونگی کی طرف سے آنے والی سڑک میانی صاحب قبرستان سے گزر کر ملتان روڈ کو چھوتی تو سامنے ایک خستہ حال عمارت نظر آتی۔کالج کے دنوں میں بس اکثر اسی طرف سے ہو کر جاتی۔ کئی بار دل چاہتا کہ آدھے منہدم میناروں‘ کونوں سے کھسکی ہوئی اینٹوں اور مٹتے ہوئے نقوش والی چوبرجی کے اندر داخل ہوں لیکن لوگوں نے اسے عوامی بیت الخلا بنا رکھا تھا۔دروازے کے ساتھ جو چبوترے سے باقی تھے ان پر کوئی ادھ ننگا‘ ذہنی توازن کھو چکا آدمی قابض ہوتا۔مغرب کی طرف والا حصہ بول و
مزید پڑھیے


چھجو دا چوبارہ

جمعرات 15  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
میو ہسپتال بننے سے پہلے یہ علاقہ ہری سنگھ تلوہ کا باغ تھی۔ رنجیت سنگھ کے سپہ سالار نے جب یہاں باغ نہیں بنایا تھا تو یہ علاقہ باغ مائی لاڈو کہلاتا تھا۔مائی لاڈو کی مسجد آج بھی ہسپتال کے مشرق میں موجود ہے۔مائی لاڈو کے باغ سے پہلے یہ ایک ویرانہ تھا جہاں مقامی بھگت‘ فقیر اور مسلم درویش ٹھکانہ بنا لیا کرتے۔انگریز دور میں ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا تو بہت سی یادگاریں‘ سمادھیاں اور قبریں تعمیراتی کام کے دوران آثار سے محروم ہو گئیں۔ہسپتال کے ایک حصے کے ساتھ چھجو بھگت کا چوبارہ اب بھی موجود ہے
مزید پڑھیے



سیلاب سے تباہ جنگلی حیات کی بحالی

پیر 12  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
جانوروں اور ان کے قدرتی ماحول سے پیار کرنے والوں کا ایک گروپ فہد ملک نے بنا رکھا ہے‘ ایک گروپ کیڑوںکی دنیا کے نام سے فیس بک پر موجود ہے۔اسے اعزاز احمد چلاتے ہیں۔ان گروپوں سے مجھے معلومات ملتی ہیں۔فہد ملک سانپوں سمیت خطرناک سمجھے جانے والے جانوروں اور حشرات کو آسانی سے پکڑ لیتے ہیں‘ کوئی جانور زخمی ہو تو اس کا علاج کرتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے جانور دوست افراد اکٹھے کر رکھے ہیں۔ مجھے یاد ہے کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے میں نے موٹر ویز کی وجہ سے جانوروں کے قدرتی
مزید پڑھیے


افغان تماشائی پاکستان سے ناراض کیوں ؟

هفته 10  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
چیئرمین کرکٹ بورڈ رمیز راجہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پاک افغان میچ کے بعد شارجہ سٹیڈیم میں افغان تماشائیوں کی جانب سے پاکستانی شائقین کے ساتھ غنڈہ گردی کی شکایت آئی سی سی سے کی جائے گی۔ میچ کے فوری بعد شارجہ سٹیڈیم میں موجود ایک دوست نے مجھے چار ویڈیو کلپ بھیجے۔ ٹی وی پر جب افغان بائولر فرید کے آصف علی کے ساتھ اشتعال انگیز سلوک کی خبریں چل رہی تھیں۔مجھے ان لوگوں کی حالت پر دکھ ہو رہا تھا جن پر افغان تماشائی سٹیڈیم کی کرسیاں اکھاڑ کر پھینک رہے تھے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے
مزید پڑھیے


سیلاب اور پاکستان کی بے زبان جنگلی حیات

بدھ 07  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
2005ء کا زلزلہ آیا تو دو دن بعد میں مظفر آباد پہنچا‘ہمارا دوست امتیاز اعوان کئی عزیز دفنا چکا تھا ، لوگ ملبے کے اوپر بیٹھے تھے اور ملبے میں ان کے پیارے دفن ہو چکے تھے۔مظفر آباد سٹیڈیم میں کئی اقسام کے ہیلی کاپٹر اتر رہے تھے۔سٹیڈیم کے اطراف اور پریس کلب والی سڑک پر ترکی‘ جاپان‘ ایران‘ جرمنی ‘ فرانس‘ چین‘ برطانیہ ‘کینیڈا، امریکہ اور دیگر ملکوں کے امدادی کیمپ اور رابطہ دفتر فعال تھے۔پاکستان کے اپنے ادارے بین الاقوامی ٹیموں کی معاونت کر رہے تھے۔انسانی و مالی نقصانات کا اندازہ لگایا جا چکا تھا۔مجھے لگا کہ رپورٹس
مزید پڑھیے


بھوک عام کرنے کا منصوبہ

هفته 03  ستمبر 2022ء
اشرف شریف
کہانی میں جن بھوت کے ساتھ ساتھ طاقت کو برے مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے ولن بھی ہوتے ہیں۔ ریاستوں میں بٹی ہوئی دنیا میں کئی طاقتیں ولن ہیں۔ یہ ولن سپلائی چین کو توڑنے کے لئے وائرس چھوڑتے ہیں ،جس طرح چند برس قبل برڈ فلو کا وائرس آیا‘ شائد حالیہ سیلاب سے قبل گائے‘ بھینسوں میں ہلاکت خیز لمپی سکن کا وائرس بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ہزاروں جانور لمپی سکن وائرس سے مر گئے‘ کئی مرنے کے قریب۔پاکستان اپنی ضرورت کی گندم اگا لیتا ہے‘ افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کی ضرورت بھی پوری
مزید پڑھیے


سُر کی پکی۔۔۔۔نیرہ نور

منگل 30  اگست 2022ء
اشرف شریف
ہم جن شخصیات سے متاثر ہوتے ہیں ان کے کمال کا پہلو سطحی طور پر زیر گفتگو لا کر سمجھتے ہیں حق ادا ہو گیا۔ نیرہ نور کی آواز ہمیشہ اس قدر پر تاثیر رہی کہ مجھے کبھی ان کی سادگی اور روحانی زندگی کو جاننے کی خواہش نہ ہوئی۔ سادگی کی صفت ان کے لئے اہم ہو گی جو گانا سننے کی بجائے دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نور الہدی شاہ نمایاں حیثیت کی مالک نثر نگار ہیں ، ان کی نیرہ نور سے ملاقات بھی رہی ،وفات پر ایک بے تاثر تحریر لکھ دی جسے لوگوں نے
مزید پڑھیے








اہم خبریں