BN

اصغر خان عسکری


مسئلہ کشمیر اور اوآئی سی کی متفقہ قرارداد


اسلامی تعاون تنظیم کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس نائیجرکے دارالحکومت نیامے میں 27 نومبر کو منعقد ہونا تھا۔اجلاس سے چند روز قبل جب ایجنڈا سامنے آیا تو اس میں سے مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ غائب تھا۔اخبارات میں خبر پڑھنے کے بعد اسلامی تعاون تنظیم کی ویب سائٹ پر جاکر دیکھا تو واقعی ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کا ذکر ہی نہیں تھا ۔دل میں خیال آیا کہ یہ تو پاکستان کی بہت بڑی ناکامی ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونے والا ہے اور مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ ان کے
منگل 01 دسمبر 2020ء

پی ڈی ایم کی قیادت اور قول و فعل کا تضاد !

جمعرات 26 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
22 نومبر ، اتوار کا دن اور سخت سردی ۔ پشاور میں حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد پی ڈی ایم کا جلسہ ۔قائدین سٹیج پر تشریف فرماہیں۔سردار اختر مینگل خطاب کے لئے آئے ۔ آتے ہی انھوں نے اشارہ کیا کہ بلوچستان کوقابو کرنے کے لئے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) قائم کی گئی ۔جنھوں نے بلوچستان قابو کرنے کے لئے باپ قائم کی ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ یہ ان کے فرائض منصبی میں شامل نہیں ، لیکن ان کے لئے گنجائش پیدا کرنے اور ان کو اقتدار میں لانے والے سہولت کار پیپلز
مزید پڑھیے


وزیر اعظم عمران خان کا دورہ افغانستان

اتوار 22 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا یہ پہلا دورہ کابل ہے ۔اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ سعودی عرب میں مئی 2019 ء میں او آئی سی اجلاس کے دوران ملاقات کر چکے ہیں ،جبکہ اس ملاقات کے بعد صدر ڈاکٹر اشرف غنی جون 2019ء میں اسلام آباد کا دو روزہ دورہ بھی کر چکے ہیں جس میںاانہوں نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اوروزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتیں کی تھیں۔وزیر اعظم عمران خان کا حا لیہ دورہ اہم اس لئے
مزید پڑھیے


بھارت کا انتہاپسندانہ اور دہشت گرد چہرہ

منگل 17 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے پر یس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ بھارت ،پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گر دی میں ملوث ہے ۔ انھوں نے ثبوتوں کے ساتھ تمام شواہد دنیا کے سامنے رکھے ۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت ،پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر رہا ہے ۔ وہاں دہشت گردوں کو اکھٹا کرکے ان کو تربیت اور اسلحہ دینے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کو فروغ دینے کے لئے استعما ل کیا جاتا ہے ۔بلوچستان، کراچی اور وفاق کے زیر انتظام
مزید پڑھیے


گلگت بلتستان انتخابات اور روایتی سیاسی منافقت

جمعرات 12 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
گلگت بلتستان انتخابات میں چند ہی روز باقی ہیں ۔وفاق میں حکمران جماعت تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے ۔تحریک انصاف کے وفاقی وزراء گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری بھی وہاں مقیم ہیں ۔گلگت بلتستان انتخابات میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں وہی روایتی سیاست کا اظہار کر رہی ہیں ،بلکہ یوں سمجھ لیں کہ وہاں کے عوام کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہے ۔ وہاں کے عوام کو وعدوں سے لبھانے
مزید پڑھیے



جہانگیر ترین کی واپسی

پیر 09 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
وزیراعظم عمران خان کے سابق قریبی ساتھی جہانگیر ترین کی وطن واپسی نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دی ہے ۔جہانگیر ترین ،تحریک انصاف کی جارحانہ سیاست میں برداشت ، مفاہمت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا استعارہ تھے ۔تحریک انصاف میں زیادہ تر الیکٹ ایبلز کوشامل کرنے کا کریڈٹ انہی کو جاتا ہے ۔گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری جہانگیر ترین ہی نے کی تھی۔وزیر اعظم عمران خان کے زیادہ تر انتخابی اخراجات انھوں نے برداشت کئے تھے ۔سپریم کورٹ سے نااہلی کے باوجود وہ عمران خان کے قریب ہی رہے
مزید پڑھیے


پاک افغان تجارت کا مستقبل

منگل 03 نومبر 2020ء
اصغر خان عسکری
کورونا وائرس وبا کی وجہ سے افغانستان جانے والے گیارہ ہزار سے زائد کنٹینروں کی پاکستان میں پھنسے ہونے کی اطلاعات تھی ۔ قومی اسمبلی نے اس معاملے کا نوٹس لیا ۔سپیکر اسد قیصر نے پاکستان ۔ افغانستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے تحت چار پارلیمانی ٹاسک فورسز تشکیل دیں تاکہ متعلقہ سٹیک ہولڈر زکے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کیا جا سکے ۔ٹاسک فورسز نے 20 سے زائد اجلاس منعقد کئے ۔ بندرگا ہوں اور کراسنگ پوائنٹس کے متعدد دورے کئے تاکہ درپیش مسائل کا حل نکا لا جائے ۔مختلف وزارتوں کے درمیان بھر پور رابطے کی وجہ
مزید پڑھیے


اب کیا ہوگا؟

بدھ 28 اکتوبر 2020ء
اصغر خان عسکری
طبل جنگ بج چکا ہے ۔سیاسی درجہ حرارت نقطہ پگھلائو سے بھی اوپر ہے ۔حزب اختلاف کی گیارہ سیاسی جماعتیں تین صوبوں میں طاقت کا مظاہرہ کر چکی ہے ۔پی ڈی ایم میں شامل سب بڑی جماعت کے قائد میاں نواز شریف نے نام لے کر نہ صرف الزامات لگائے ہیں بلکہ ان سے جواب دینے کا بھی کہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان بھی نواز شریف کی کشتی کے سوار ہیں ۔محمود خان اچکزئی اوراختر جان مینگل بھی نوازشریف کے ساتھی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے ابھی سرخ لکیر عبور نہیں کی ہے ۔عوامی نیشنل پارٹی بھی
مزید پڑھیے


سابق افغان وزیراعظم حکمت یار کا دورہ اسلام آباد

هفته 24 اکتوبر 2020ء
اصغر خان عسکری
افغانستان کے سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ حکمت یار گلبدین نہ صرف ایک جنگجو کمانڈرہے بلکہ وہ سیاسی ،مشاورتی ، مجلسی اور مذہبی شخصیت بھی ہیں۔اسلام آباد میں اعلی حکومتی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں میں انھوںنے افغانستان میں قیام امن کے لئے جاری کوششوں میں موجود کوتاہیوں کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ مسائل کے حل کے لئے تجاویز بھی دی ہیں۔ اعلی حکومتی شخصیات کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے ساتھ ملاقات اور گفتگو میں بھی انھوں نے اپنے موقف کو بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کیا۔میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران انھوں نے
مزید پڑھیے


جماعت اسلامی نے مولانا فضل الرحمان سے راہیں کیوں جداکیں؟

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
اصغر خان عسکری
جولائی 2018 ء میں قومی انتخابات میں شکست کے فوری بعد جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں کارکنوں کا ایک اہم اجلاس ایک ہوٹل میں طلب کیا تھا۔ اس اجتماع میں بعض مرکزی قائدین کے ساتھ اسلام آباد اور پنجاب کے صوبائی ذمہ دار بھی شریک تھے۔محفل میں موجود کارکنوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے خوب اپنے دل کی بھڑاس نکال لی ۔انھوں نے انتخابات سے چند مہینے قبل ایم ایم اے میں شمولیت پر ناراضی کا اظہار کیا۔ محفل میں موجود کارکن اس حد تک جذباتی ہوگئے تھے کہ وہ روتے ہوئے اپنا
مزید پڑھیے