BN

محمد اظہارالحق



جو ہو رہا ہے ہم اسی کے مستحق ہیں


کیا آپ کو یاد ہے مہاجن چوکی سامنے رکھے‘ دری پر بیٹھا ہوتا تھا؟ نواب صاحب کا منشی اس کے پاس آتا تھا۔ کہ نواب صاحب نے مزید قرض مانگا ہے۔ وہ کھاتہ دیکھتا تھا کہ پچھلا حساب کتنا ہے۔ پھر کچھ کہے یا پوچھے بغیر مطلوبہ رقم گن کر منشی کے حوالے کر دیتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قر ض واپسی آنا ہی آنا ہے اور مع سود آنا ہے۔ نواب صاحب کے پاس رقم نہ بھی ہوئی تو جاگیر تو کہیں نہیں گئی۔ یوں آہستہ آہستہ جاگیر قسطوں میں مہاجن کے نام منتقل ہوتی رہتی تھی۔ اس زمانے
اتوار 12 مئی 2019ء

بصارت یا بصیرت؟ یا دونوں؟

هفته 11 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
بہت سی مشینوں پر آنکھوں کا معائنہ ہوا۔ کبھی ہدایت کی گئی کہ نیچے دیکھیں‘ کبھی اوپر‘ کبھی دائیں‘ کبھی بائیں۔ پھر آنکھوں میں کسی دوا کے قطرے ڈالے گئے۔ شاید اس غرض سے کہ پتلیاں پھیلیں۔ اس سے چبھن ہوئی اور جلن! پھر دوبارہ مشینوں میں ٹھوڑی اور پیشانی فِٹ کرا کے بینائی کا امتحان ہوا۔ پھر باہر بیٹھ کر انتظارکرنے کو کہا گیا۔ پھر ڈاکٹر خود باہر آیا اور اپنے کمرے میں لے گیا۔ ان ملکوں میں یہی چلن ہے۔ ڈاکٹر اپنے کمرے سے باہر نکل کر انتظار گاہ میں آتا ہے اور مریض سے ہاتھ ملا کر
مزید پڑھیے


درخواست بخدمت سربراہ آئی ایم ایف

جمعرات 09 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
دوست عزیز جناب رئوف کلاسرہ نے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم کے سامنے میانوالی مظفر گڑھ روڈ کی تعمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ کل انہوں نے لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کی منظوری دے دی۔ یہ خوش رنگ خبر وزیر اعلیٰ نے کلاسرہ صاحب کو بنفس نفیس دی۔ کلاسرہ صاحب اس حوالے سے خوش بخت ہیں۔ خوش بختی کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے گرائیں ہیں۔ یعنی سرائیکی ہیں۔ سرائیکی سرائیکی پر جان چھڑکتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوئی کہ یہ شاہراہ وفاق کے دائرہ کار میں نہیں۔ اگر اسے وفاق
مزید پڑھیے


کلائیو کی واپسی اور فرار

منگل 07 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
ضمیر جعفری نے کہا تھا ؎ کلائیو کی یہ بات آئی پسند کہ وہ مر گیا مگر کچھ معجزے ضمیر جعفری کی وفات کے بعد رونما ہوئے۔ ان میں ایک معجزہ کلائیو کی واپسی تھی۔ رابرٹ کلائیو اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کے اٹھارہ سال بعد انگلستان میں پیدا ہوا، بد دماغی باپ سے ورثے میں ملی۔ کچھ عرصہ خالہ کے پاس رہا۔ خالو کی رپورٹ یہ تھی کہ لڑکے کے مزاج میں دنگا فساد ہے۔ جس سکول میں بھی گیا، گینگ بنایا، دکانوں سے بھتہ بھی لیتا رہا۔ 1744 ء میں ہندوستان آیا۔ ابتدائی ملازمت ’’اسسٹنٹ شاپ کیپر‘‘ کی
مزید پڑھیے


مادی ترقی کے لئے بھی سچ بولنا ضروری ہے

اتوار 05 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
جنوبی کوریا کے شہررنچن میں مقیم اختر محمود بتاتے ہیں کہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے وہاں کے بازار گئے۔ ایک شو روم میں گاڑی اپنی استطاعت کے حساب سے پسند کی۔ سودا ہو رہا تھا تو شوروم والے نے کہا کہ اس گاڑی میں جو مسائل آپ کے لئے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں وہ بتانے ضروری ہیں۔ اس کے بعد اس نے گاڑی کی خامیاں بتائیں اور اس قدر تفصیل سے بتائیں کہ خریدنے والے پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے شوروم کی طرف نکل گئے۔ ہر عمل دوسرے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پروردگار عالم
مزید پڑھیے




کیا کریں کہاں جائیں؟

هفته 04 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
’’کُتب آن لائن‘‘ کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ آن لائن کتابیں فروخت کی جائیں۔ مگر ٹھہریے! ابھی ایک اور مسئلہ! امیر المومنین عمر فاروق اعظمؓ کا عہد ہے حاطب ابن ابی بلتعہ ایک آسودہ حال شخص ہے۔ اس کے غلام اونٹ چُراتے ہیں۔ امیر المومنین کے سامنے مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔ اقرارِ جرم پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتے ہیں۔ ابھی ہاتھ نہیں کاٹے گئے کہ آپ روک دیتے ہیں۔ پھر وہ غلاموں کے مالک سے فرماتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم نہ ہوتا کہ تم اپنے غلاموں کو اس حد تک بھوکا
مزید پڑھیے


توازن اور ہوش!!

جمعرات 02 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
’’تمہاری نہ ختم ہونے والی بغاوت کے پیش نظر اب میرے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں طاقت کا استعمال کروں۔ یہ تمہاری شوریدہ سری کو میری آخری وارننگ ہے۔ اب غیر مشروط اطاعت ہی تمہیں میرے عتاب سے بچا سکتی ہے۔ ریاست کی سلامتی ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی‘‘ یہ اکبر اعظم کی وارننگ تھی۔ اپنے حقیقی فرزند کے نام! شہزادہ سلیم نے الہ آباد کو مستقر بنا کربغاوت کر دی تھی۔ اپنے نام کا سکہ جاری کرایا اپنے زعم میں تخت پر بیٹھا اور اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا۔ پھرستم یہ کیا کہ اکبر کے
مزید پڑھیے


اس سے زیادہ صاف تو مردار کا گوشت ہے

منگل 30 اپریل 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا فرق ہے ہم میں اور کسی دور افتادہ‘ جنگل کے درمیان واقع ایک وحشی قبیلے میں! اگر ترقی کا مطلب وسیع شاہراہیں‘ میلوں لمبے شاپنگ مال اور جدید ترین ہوائی اڈے ہوتا تو ایک دنیا شرق اوسط کے ملکوں میں زندگی بسر کرنے کی خواہش مند ہوتی! یہ سب کچھ وہاں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ!مگر کسی کے دل میں امنگ نہیں اٹھتی کہ وہاں جا کر بسے۔ اس لئے کہ ٹریفک کا حادثہ ہو گیا تو پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ مقامی کون ہے اور غیر مقامی کون؟ ایک پاکستانی نژاد امریکی نے جو واقعہ
مزید پڑھیے


قربان تیرے! پھر مجھے کہہ لے اسی طرح

اتوار 28 اپریل 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ حقیقت ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ثابت ہو چکی ہے کہ سوقیانہ زبان استعمال کرنے کے لئے جہالت ضروری نہیں!ان سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کون ہو سکتا تھا۔ تاہم سیاسی حریفوں کو وہ آلو اور ڈبل بیرل کہہ دیتے تھے۔ عوامی جلسوں میں بھی متانت کی سطح سے نیچے اترنا ان کا معمول تھا۔ عمران خان پر بھی برطانوی تعلیم اور ولایت میں قیام کا ٹھپہ لگا ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے خاندانی وارث کو انہوں نے صاحب کے بجائے صاحبہ کہا۔ اس جماعت کے وابستگان کا ردعمل فطری ہے۔ احتجاج ان کا حق ہے! انہیں بُرا
مزید پڑھیے


ایک امیر شہر جسے نوچنے والوں نے فقیر کر دیا

هفته 27 اپریل 2019ء
محمد اظہارالحق
خزاں ہے اور ایسی کہ درخت بجھ گئے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎ خزاں دلوں میں جڑیں چھوڑنے کی دُھن میں ہے کہاں گیا مرا پروردگار موسمِ گُل سبزہ پیلا پڑ گیا ہے۔ نامراد عاشق کے رخسار کی طرح رومی نے شمس تبریز کے نام پر پورا دیوان لکھ ڈالا۔ دیوان شمس تبریز! اور عاشق کے زرد رنگ کی طرف معشوق کی توجہ دلائی ؎ آخر تو شبی رحمی نہ کُن بر رنگِ رُخِ ہمچون زرِ من ایک رات بھی تو میرے سونے جیسے رنگ پر رحم نہیں کرتا۔ رنگ عاشق کا پیلا ہوتا ہے
مزید پڑھیے