BN

محمد اظہارالحق



شکوہ؟؟ شوبزنس سے؟؟


شوبزنس ایک پرستان ہے۔ حیرتوں سے چھلکتا!لطافتوں سے معمور! اس زمانے میں عجیب بات یہ ہوئی کہ یہ پرستان ہر گھر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ محل ہے یا مڈل کلاس کوٹھی، یا عام مکان! خاکروب کا گھر ہے یا گھروں میں کام کرنے والی مائی کا دو کمروں کا کوارٹر، شوبزنس کا پرستان ہر جگہ جلوہ نما ہے۔ ریموٹ کنرول کا بٹن دبائیے بمبئی سے کراچی اور لاہور تک کا شوبزنس آپ کے کمرے میں آموجود ہو گا! مگر مور کے پائوں بہرطور بدصورت ہیں۔ اس ہمہ وقت اور ہمہ جا موجودگی کے کچھ پہلو تلخ ہیں۔ بدصورت بھی! رمضان میں
منگل 23 جولائی 2019ء

NOW OR NEVER

اتوار 21 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
آپ نے چینی کھانا کئی بار کھایا ہو گیا۔ گھروں میں بھی اور ریستورانوں میں بھی! سب سے پہلے سُوپ پیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کھانا آتا ہے۔ کھانے کا ساٹھ ستر فیصد حصہ چاول پر مشتمل ہوتا ہے مگر کبھی آپ چین جائیں تو اصل چینی تو صرف چاول کھائے گا یا صرف نوڈلز ۔ ہاں دعوت میں بہت سے آئٹم ہوں گے مگر جو اہمیت یہاں سوپ اور چاول کی ہے، وہاں ہرگز نہیں! کافی دیر کے بعد چاول آئیں گے، وہ بھی قلیل مقدار میں اور سوپ تقریباً کھانے کے آخر میں!! اسی پر جمہوریت کو قیاس کر لیجئے۔
مزید پڑھیے


تاجروں کا بائیکاٹ کیجیے

هفته 20 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
ترقی یافتہ (اور بہت سے ترقی پذیر ملکوں) کے تاجر ریاست کو پورا پورا ٹیکس دیتے ہیں۔ گاہک کا احترام کرتے ہیں اور گاہک کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ پاکستانی تاجر ریاست کو ٹیکس دینے سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے ساتھ ساتھ گاہک کے حقوق پر رات دن ڈاکہ بھی ڈالتا ہے۔ ناروا تجاوزات اور ملاوٹ ‘ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی اس وقت بات نہیں کر رہے۔ گاہک کے صرف ایک حق کا ذکر کرلیتے ہیں۔ خریدا ہوا مال واپس کر کے اپنی رقم تاجر سے واپس لینا گاہک کا بنیادی حق ہے۔ ظاہر ہے
مزید پڑھیے


دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے

جمعرات 18 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟ اس نے کہا میرے پاس دو درہم ہیں حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا یہ تین درہم ہو جائیں گے۔ جا کر شہر سے ان تین درہم کی روٹیاں لے آئو۔ اسے تین درہم کی تین روٹیاں ملیں۔ راستے میں سوچنے لگا کہ حضرت ؑ نے تو ایک درہم دیا۔ میرے دو درہم ہیں۔ روٹیاں تین ہیں۔ مجھے گھاٹا پڑے گا۔ چنانچہ اس نے راستے
مزید پڑھیے


روک سکتے ہو تو روک لو

منگل 16 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ میں ابتدا ہی میں واضح کر دوں کہ میرا دین، ایمان، وطن، قبیلہ، خاندان، زبان، ایک ہے صرف ایک۔ اور وہ ہے پیسہ! وہ جو لطیفہ مشہور ہے کہ تاجر کو نزع کے وقت سب کلمہ پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے اور وہ ایک ہی بات کہے جا رہا تھا کہ دکان کا تالا چیک کرو۔ دکان کا تالا چیک کرو۔ تو وہ محض لطیفہ نہیں‘ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ حقیقت کیا ہے؟ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت ہے نہ آئن سٹائن بننے کی!حقیقت یہ ہے کہ میرا اوڑھنا بچھونا پیسہ
مزید پڑھیے




اقدار کی جنگ

اتوار 14 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
ایک کتاب کی تلاش تھی۔ لائبریری میں ڈھونڈی تو مل گئی۔ دو نسخے تھے۔ اتفاق سے ممبران نے دونوں لے رکھے تھے۔ ایک نسخہ اپنے لئے محفوظ کرا لیا۔ جس کا مطلب تھا کہ باری آنے پر مطلع کیا جائوں گا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ای میل موصول ہوئی کہ کتاب واپس آ چکی ہے فلاں تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر تب تک لائبریری جا کر ایشو نہ کرائی تو کسی اور منتظر رکن کو دے دی جائے گی۔ دوسرے دن لائبریری پہنچ گیا۔ رہائش گاہ سے لائبریری کا پیدل فاصلہ بیس پچیس منٹ کا ہے۔ ایک مخصوص الماری
مزید پڑھیے


ت سے تکّبر اور ت سے تاجر

هفته 13 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
دونوں کو قید کر دیا گیا ایک دبلا پتلا تھا۔ دن میں ایک وقت کھانا کھانے والا۔ دوسرا فربہ تھا۔ پیٹو! سب کا خیال تھا کہ یہ جو دبلا پتلا سوکھا سڑا ہے زنداں نہیں برداشت کر پائے گا مگر معاملہ الٹ ہوا۔ موٹے تازے آدمی کا جیل کے نپے تُلے کھانے پر گزارہ نہ ہو سکا، چل بسا۔ صحت مند وہ نہیں ہوتا جو بسیار خور ہو! اوپر گوشت اور اندر چربی کی تہیں ہوں۔ جسم غبارے کی طرح پھولا ہوا ہو۔ صحت مند وہ ہوتا ہے جس کا بدن چھریرا ہو۔ سریع الحرکت ہو۔ وزن اٹھا سکے۔ بات بات پر
مزید پڑھیے


جیسا بھی ہے اپنا تو ہے

جمعرات 11 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
یہ لکمبا ہے۔ سڈنی کے اندر ایک ڈھاکہ‘ ایک قاہرہ‘ ایک لاہور۔ سامنے میز پر نہاری ہے‘ پائے ہیں! اچار والے چنے ہیں۔ پوریاں اور پراٹھے ہیں۔ تانبے کے گلاس میں میٹھی لسّی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لئے سڈنی کو اور سڈنی کے لکمبا کو بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ بڑے مراحل سے گزرنا پڑا۔ یہ سفر دو سو تیس سال پہلے شروع ہوا۔ انگریز‘ امریکہ کھو بیٹھے تھے۔ اب نئی کالونیوں کی تلاش تھی قیدیوں کے لئے ایک نئے ’’کالا پانی‘‘ کی ضرورت تھی۔ ایک منجھے ہوئے جہاز ران آرتھر فلپ کو گیارہ بحری جہازوں کا بیڑہ دیا گیا۔ اس میں
مزید پڑھیے


ایک گمبھیر معاملہ

منگل 09 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
بچی گلی میں کھیل رہی تھی۔ گھر والے بے نیاز تھے۔ آئے دن اغوا کی خبریں پڑھنے اور سننے کے باوجود کسی نے فکر نہیں کی کہ باہر جا کر اسے دیکھے یا واپس گھر بلائے یا کسی بڑے کو، کسی ملازم کو، باہر کھڑا کرے کہ جب تک بچی کھیل رہی ہے، اس کا دھیان رکھے! بچی اغوا ہو گئی۔ ڈھنڈیا پڑی۔ مسجدوں سے اعلان کرائے گئے۔ پھر پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائی گئی۔ تھانے پر دبائو ڈالا اور ڈلوایاگیا ۔ فرض کیجئے بچی مل گی۔ اغوا کار پکڑا گیا۔ اب یہاں معاملے کے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔
مزید پڑھیے


دو پاکستان!مگر کب تک؟؟

هفته 06 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
سپاہی غلام قاسم‘ نائک شیر زمان‘ سپاہی طیب‘ سپاہی زہیب اور صوبیدار صادق نے اس دن بھی کچے گھروں میں کھیلتے اپنے بچوں کو یاد کیا تھا۔ نماز کے بعد اس دن بھی اپنی فتح کی دعا مانگی تھی۔ اس دن بھی شہادت کی آرزو کی تھی۔ پھر دھماکہ ہوا۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ لوہے کے ٹکڑے ہوا میں اڑ اڑ کر برسنے لگے۔ آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ صوبیدار صادق کی میت نیلم کے علاقے جورا کو روانہ ہوئی۔ سپاہی طیب کا جسد خاکی خوشاب بھیجا گیا۔ نائک شیر زمان کی لاش ضلع کرک کے گائوں شمہ شکی کی طرف
مزید پڑھیے