BN

محمد اظہارالحق



آگ اور گھر کا چراغ


دوستوں سے قطع تعلق کر سکتے ہیں۔ رشتہ داروں سے نہیں! دور رہنے کی جتنی بھی کوشش کریں۔ موت اور خوشی کے مواقع پر ملنا ہی پڑتا ہے۔ ساتھ بیٹھنا ہی پڑتا ہے۔ پڑوسی‘ رشتہ دار نہیں ہوتے مگر پڑوسیوں سے بھی جان چھڑانا ناممکن ہے۔ گھر بیچ کر دوسرے محلے‘ دوسرے شہر دوسرے ملک کو ہجرت کر جائیں گے۔ مگر ملک کو کہاں لے جائیں گے؟ کچھ عرصہ ہوا اس کالم نگار نے ایک تحریر میں دعا کی تھی اور قدرت کی منت زاری کہ افغانستان کو اٹھا کر امریکہ لے جائے یا یورپ کی بے شک کوئی امیر ریاست
جمعرات 04 جولائی 2019ء

عقل مند چور یا دیانت دار جھلاّ۔؟

منگل 02 جولائی 2019ء
محمد اظہارالحق
وزیراعظم سے ملاقات کرنا، سیاست دانوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان اگر ملے ہیں تو گناہ نہیں سرزد کیا۔ نہ ہی وزیراعظم کے لئے مناسب ہے کہ کسی کو ملنے سے انکار کریں۔ ہاں ! اگر ثناء اللہ کا یہ الزام درست ہے کہ ’’لیگی ارکان کو توڑنے کے لئے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‘‘ اور ’’وزیراعظم ہائوس میں لوٹا کریسی کے لئے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے‘‘ تو یہ یقیناً قابل مذمت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر گزشتہ حکومتوں کی طرح ترغیب و تحریص کا دام بچھاتی ہے اور فنڈز
مزید پڑھیے


گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا

اتوار 30 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
سہ پہر ابھی نہیں ہوئی مگر کالی گھٹا نے جُھٹپٹے کا سماں پیدا کر رکھا ہے۔ قطرہ قطرہ بارش بے لباس درختوں کی ٹہنیوں سے ہوتی ہوئی‘ زمین پر گر رہی ہے۔ سڑک پر دور دور تک کوئی ذی روح نہیں! کبھی کبھی کوئی گاڑی زناٹے سے گزرتی ہے اس کے بعد پھر سناٹا چھا جاتا ہے۔ یہ گیند جسے ہم کرہ ارض کہتے ہیں‘ عجائبات کی زنبیل ہے۔ کبھی ایک عجوبہ نکلتا ہے‘ کبھی دوسرا‘ الاسکا سے لے کر نیوزی لینڈ تک۔ سائبیریا سے لے کر جزائر انڈیمان تک۔ کینیڈا کے انتہائی شمال سے لے کر چلّی کے جنوبی کونے
مزید پڑھیے


میلہ بلاول نے لُوٹا

هفته 29 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
اچکزئی صاحب اور اسفند یار ولی صاحب کی بات دوسری ہے‘ نمایاں پہلو یہ ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں مریم صفدر صاحبہ نے مولانا کی مکمل اور غیر مشروط تائید کی! آخر دونوں میں کیا قدر مشترک ہے؟ جواب کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ دونوں کی عمران خان سے دشمنی ہے۔ صرف دشمنی نہیں! نفرت! شدید نفرت! سیاست میں مخالفت تو عام ہے اور کبھی کبھی دشمنی بھی۔ مگر نفرت کا سکِہ کم ہی چلتا ہے! مولانا کو اور مریم بی بی کو عمران خان سے نفرت ہے! اتنی کہ اس نفرت کو دریا میں ڈالا جائے
مزید پڑھیے


دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

جمعرات 27 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
آسمانوں سے مدد اتری ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ایف بی آر کے انٹرنیشنل ٹیکس کے شعبے نے بتایا کہ صرف متحدہ عرب امارات سے 346ارب روپے کے اثاثے ظاہر کئے گئے۔ سوئٹزرلینڈ سے 114ارب روپے، برطانیہ سے 89ارب روپے‘ سنگا پور سے 87ارب روپے اور برٹش ورجن آئی لینڈز سے 48ارب روپے تسلیم کئے گئے۔ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی (ڈاکومنٹڈ) معیشت میں تبدیل کرنے کی طرف یہ ایک اہم اقدام ہے! اہم اور انقلابی اقدام! وہ زمانہ لد چکا جب ترقی یافتہ ملک منہ دوسری طرف پھیر لیتے تھے۔ اب ایسے قانونی اور دو طرفہ انتظامات
مزید پڑھیے




سدا نہ ماپے‘ حُسن، جوانی‘ سدا نہ صحبت یاراں

منگل 25 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
تو کیا وہی ہونے جا رہا ہے جو ہوتا آیا ہے؟ اب بھی عبادات سرکاری خزانے کے بل بوتے پر ہوں گی؟ اور وہی کریں گے جو آسانی کے ساتھ اپنی جیب سے کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟ نیکی کے پردے میں لپٹی ہوئی یہ لوٹ مار مرد مومن مردِ حق نے ابتدا کی! قومی خزانے کی مرحوم کی نظر میں وہی وقعت تھی جو آئین کی تھی! آئین ان کے نزدیک کیا تھا؟ کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا ! قومی خزانہ ان کے لئے کیا تھا؟ جیسے ایک بادشاہ کے لئے ہوتا ہے! کبھی تختِ طائوس بنوا لیا‘ کبھی تاج
مزید پڑھیے


آدمی کو انسان بھی ہونا چاہیے

اتوار 23 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
اُس شخص کا تو آپ کو معلوم ہی ہے جو خط لکھ رہا تھا ساتھ ایک مجہول کھڑا تھا اور خط پڑھے جا رہا تھا۔ خط لکھنے والے نے خط میں لکھا۔ ’’کچھ اور بھی لکھتا مگر ایک بے وقوف‘ میرے لکھنے کے دوران‘ خط پڑھ رہا ہے‘‘ اس پر اُس مجہول شخص نے احتجاج کیا کہ میں تو خط پڑھ ہی نہیں رہا اور آپ نے مجھے بے وقوف کا خطاب دے دیا‘‘ جس طرح ہم سڑک پر تھوکتے ہیں یا انگلی کو ناک کی مفصل سیر کراتے ہیں یا خلقِ خدا کے سامنے بغلیں کھجاتے ہیں یا ہمارے دکاندار
مزید پڑھیے


سویز کے اُس طرف اور اِس طرف!

هفته 22 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
ظلم کی ایک داستان نے سویز کے اُس طرف‘ نیل کے کنارے جنم لیا۔مرسی شہید کر دیے گئے۔ مصر نے اپنی روایت برقرار رکھی۔ حسن البنا۔ پھر سید قطب۔ ان کے بھائی محمد قطب۔ ان کی بہن حمیدہ قطب! مصر کے فرعونوں نے سب دیواریں گرا دیں۔ اپنا راستہ صاف کر دیا۔ مگر تقدیر ہنس رہی ہے۔ راستہ صاف نہیں کیا۔ کانٹوں سے بھر دیا! ظلم کی ایک داستان‘ سویز کے اِس طرف بھی رقم ہو رہی ہے۔ دریائے سندھ کے مشرق میں!دریائے جہلم کے مغرب میں! راوی کے بازئوں میں! نواز شریف اور آصف زرداری زنداں میں ڈال دیے گئے۔تاریخ
مزید پڑھیے


سروں پہ یہ بادشہ بہت دیر تک رہیں گے

جمعرات 20 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
ہمارا آخر کیا جھگڑا ہے؟ بے شک شجرے کھنگال لیے جائیں دور سے بھی کوئی عزیز داری نہیں! کوئی پگڈنڈی، کھیتوں کے درمیان، سانجھی نہیں۔ ہمارے صحن میں ان کا کوئی پر نالہ نہیں گرتا۔ کوئی کاروبار مشترک تھا نہ کسی شعبے میں مقابلہ نہ معاصرت! ہم جیسے عام پاکستانی کا شریف فیملی سے کیا مقابلہ! ہمارے تو پورے علاقے میں، ایک آدھ بار کے سوا وہ بھی مجبوراً، ان کا کبھی گزر ہی نہیں ہوا۔ ہماری ان سے کیا دشمنی! ہم رعیت وہ بادشاہ! ہم غریب وہ کھرب پتی، لندن کے جس علاقے میں ان کی جائیدادیں ہیں، ہم وہاں سانس لینے
مزید پڑھیے


خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ

منگل 18 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
اُن دنوں جس اخبار سے وابستہ تھا۔ شفیق مرزا مرحوم وہاں ادارتی صفحے کے انچارج تھے۔ ایک دن ان کے کمرے میں گیا تو ایک صاحب بیٹھے تھے۔ میچنگ شلوار قمیض اور واسکٹ۔ زریں کُھسّہ زیبِ پا۔ خوش شکل تعارف ہوا تو کہنے لگے’’آپ نے اپنی والدہ کی وفات پر جو کالم لکھا تھا‘ رقّت طاری کرنے والا تھا‘‘ یہ رحمت علی رازی تھے۔ دوستی کا ایسا جپھا مارا کہ پھر اپنے حصار سے نکلنے نہ دیا۔ زندہ دل۔ خوش گفتار فون جب بھی کرتے۔ آغاز مزاح سے کرتے اور کمال سنجیدگی سے کرتے ! کتنی ہی بیٹھکیں ان کے گھر
مزید پڑھیے