BN

محمد اظہارالحق



وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی آسمان کی طرف دیکھیں


مرض تھا اور ایسا کہ ناقابل بیان!طبیب سر جوڑ کر بیٹھے مگر تشخیص نہ کر پائے۔ کئی دن کے بعد ایک طبیب نے کہ ممتاز تھا، کہا بادشاہ کو فلاں بیماری ہے اور علاج اس کا ایک ہی ہے۔ نوجوان شخص کا پِتّہ! اور وہ نوجوان شخص بھی فلاں فلاں خاصیتوں کا حامل ہو! سرکاری گماشتے سلطنت میں پھیل گئے۔ بالآخر ایک دہقان زادہ ملا جس میں مطلوبہ خاصیتیں موجود تھیں۔ اس کے ماں باپ کو سمجھایا گیا کہ رعایا میں سے ایک نوجوان کی قربانی سربراہ ملک کی سلامتی کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ ساتھ ہی زر وسیم بہت
اتوار 16 جون 2019ء

جناب مفتی منیب الرحمن کے مکتوب گرامی کا جواب

هفته 15 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
محترم مفتی منیب الرحمن صاحب! سلام مسنون! معذرت خواہ ہوں کہ جو مکتوب آپ نے ای میل کے ذریعے ارسال فرمایا‘ میں نے اسے کالم میں شائع کیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کا موقف‘ بلا کم و کاست‘ قارئین تک پہنچ جائے۔ آپ کی شفقت ہے کہ اس بے سواد وکم مایہ کو صاحبِ علم کہا۔ میں فقط طالب علم ہوں! اور آپ جیسے فضلا سے استفادہ کرنے کا متمنی!یہ جو آپ نے فرمایا کہ میری شخصیت کا تضاد ہے کہ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتا ہوں اور لبرل ازم بھی میرے مزاج کا حصہ ہے‘ تو
مزید پڑھیے


جناب مفتی منیب الرحمن کا مکتوب

جمعرات 13 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
محترم جناب اظہار الحق صاحب السلام علیکم و رحمتہ و برکاتہ! دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے حفظ و امان اور عافیت میں رکھے۔ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں‘ آپ صاحبِ علم ہیں‘ آپ کی شخصیت کا تضاد یہ کہ آپ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتے ہیں اور لبرل ازم بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے‘ علماء سے بھی آپ اکثر ناراض رہتے ہیں۔ رویتِ ہلال کے حوالے سے آپ کا موقف میں پڑھتا رہا ہوں‘ آپ نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ(ISNA) کے سائنسی کیلنڈر کا بھی
مزید پڑھیے


ماں صدقے !کیا عقل پائی ہے!!

منگل 11 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
’’سستالے بار بار۔ مہنگالے ایک بار!‘‘پروفیسر منہاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ان سے پوچھا یہ تھا کہ ڈرائیور کو اتنی زیادہ تنخواہ کیوں دے رہے ہیں؟ کلب پہنچیں گے تو ڈرائیور کو پانچ سو دیں گے حالانکہ وہاں وہ ڈیڑھ سو میں اچھا خاصا معقول لنچ کر سکتا ہے۔ کپڑوں کا ایک جوڑا نہیں ایک وقت میں دو تین جوڑے لے کر دیں گے۔جوتے لے کر دیں گے تو مہنگے‘ اسی معیار کے جس کے وہ خود لیتے ہیں۔ پروفیسر صاحب یہ سارے کام نرم دلی کے سبب یا ثواب کی خاطر نہیں کر رہے۔ یہ چاق و چوبند ڈرائیور سالہا
مزید پڑھیے


یہ ہمارے گھروں کے اندر گھس آئے ہیں

پیر 10 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
قتل ہو گئیں عید کی خوشیاں قتل ہو گئیں۔انا للہ و انا الیہ راجعون اگر معلوم ہوتا کہ عید کی خوشیاں مفتی صاحب اور پوپلزئی صاحب اور فواد چودھری صاحب اور شوکت یوسف زئی صاحب کے درمیان معلق ہو کر بے بسی سے اپنا تماشہ دیکھ رہی ہوں گی تو پوشاک تار تار کر لیتے اور ان جنگلوں کا رُخ کرتے جہاں انسان تو کیا سورج کی کرن تک تلاش نہیں کی جا سکتی ع نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا ہمیں ان دنوں کیا پرواہ تھی کہ عید ایک ہو رہی ہے یا دو! یا اس سے بھی زیادہ! یا
مزید پڑھیے




اس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا

هفته 08 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
رضا ربانی کو مبارک ہو کہ اٹھارھویں ترمیم کی غایتِ اولیٰ پوری ہوئی اور صوبوں نے خود مختاری کی طرف پہلا قدم بڑھا لیا۔ نیک شگون یہ ہوا کہ اس عہد ساز تبدیلی کا آغاز اس صوبے سے ہوا جہاں تحریک انصاف نے سب سے پہلے اقتدار حاصل کیا اور بدستور وہاں حکمران ہے! صوبے نے وفاق سے کامیاب ٹکر لی اور اپنی عید‘ سرکاری سطح پر الگ منائی۔ صوبے کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ خیبر پختون خواہ نے باقی ملک سے الگ عید‘ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد کی ہے! تری آواز مکے اور مدینے ! وزیر اعظم
مزید پڑھیے


جُوتے

منگل 04 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
بادشاہ تھا یا کوئی اور۔ اسے بتایا گیا کہ درزی کپڑا ضرور چوری کرتے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں باز رکھ سکتا۔ اس نے درزی کو کپڑا اور سلائی مشین دے کر کمرے میں مقید کر دیا اور باہر پہرا بٹھا دیا۔ گھر سے درزی کا بیٹا آیا اور کمرے کی کھڑکی سے لگ کر باپ سے باتیں کرنے لگا۔ باپ کو اس کی کسی بات پر غصہ آ گیا۔ اسے کھینچ کر جوتا دے مارا۔ جوتا کھڑکی سے ہو کر‘ باہر‘ دورجاگرا۔ بیٹے نے جوتے کے اندر ٹُھنسا ہوا کپڑا نکالا‘ نیفے میں اڑسا‘ جوتا باپ کو واپس دیا اور گھر
مزید پڑھیے


تم اس وقت کیا تھے؟

اتوار 02 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
اس نے تہمد باندھا ہوا تھا۔ سر پر ایک دھجی پٹکے کے طور پر لپیٹی ہوئی تھی بیٹا اسے گلے مل رہا تھا۔ بیٹے نے کیڈٹ کی چمکتی ہوئی دلکش وردی پہنی ہوئی تھی۔ کاکول میں پاسنگ آئوٹ پریڈ تھی۔ در دروازے کے پاس یہ منظر اپنی آنکھوں سے اس کالم نگار نے دیکھا۔ برس بیت گئے آج تک دل میں جیسے کُھدا ہوا ہے۔ سالہا سال یہ پریڈ‘ سامنے بیٹھ کر دیکھی۔ سالہا سال نوٹ کیا کہ اگر دنیا میں کوئی غیر طبقاتی (class-less)سوسائٹی ہے تو وہ کاکول سے کامیاب ہو کر نکلنے والے کیڈٹوں کے والدین ہیں۔ پاکستان میں صرف
مزید پڑھیے


قمری کیلنڈر اور ذہنوں میں اٹھتے سوالات…(2

هفته 01 جون 2019ء
محمد اظہارالحق
گزشتہ نشست میں عرض کیا گیا تھا کہ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ (المجلس الاروبی للا فتاء والبحوث) کا جس کے بانی سربراہ علامہ یوسف القمر ضاوی تھے۔ موقف یہ ہے کہ رویت یعنی چاند کا دیکھنا مطلوب و مقصود نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے نئے مہینے کے آغاز کو جاننے کا! اور اب نیا مہینہ حساب کے ذریعے جانا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر فقہ کونسل آف شمالی امریکہ نے اگلے پچیس برس کا کیلنڈر بنایا۔ جو گروہ رویت کو لازم قرار دے رہا ہے‘ ہم اس کے خلوص نیت کی قدر کرتے ہیں۔ بہر طور بطور طالب
مزید پڑھیے


اگلے پچیس سال کا قمری کیلنڈر جو استعمال ہو رہا ہے!

جمعرات 30 مئی 2019ء
محمد اظہارالحق
’’فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ‘‘(FCNA)نے مختلف تشکیلی مراحل گزار کر1986ء میں موجودہ شکل اختیار کی۔ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کے مسلمانوں کی فکری‘ نظریاتی اور فقہی رہنمائی کرتی ہے۔ڈاکٹر مزمل صدیقی اس کے چیئرمین ہیں‘اعلیٰ ترین مذہبی تعلیم کے مالک ہونے کے علاوہ ڈاکٹر مزمل صدیقی مکہ مکرمہ کی کونسل آف علما کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ہیں۔ آپ مصر کی ’’سپریم اسلامی کونسل‘‘ کے بھی ممبر ہیں اور مکہ مکرمہ میں قائم مساجد کی سپریم کونسل کے بھی رکن ہیں۔ ڈاکٹر زینب الوانی فقہ کونسل کی وائس چیئرمین ہیں۔ کونسل کے ارکان میں مساجد کے ائمہ اور
مزید پڑھیے