BN

افتخار گیلانی



سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر


ستم ظریفی یہ ہے کہ پرکاش سنگھ اس وقت بھارت میں پولیس میں اصلاحات اور فورسز میں انسانی حقوق کے تئیں بیدار ی لانے کے بڑے نقیب ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کی ہوئی ہے اور مختلف اخبارات میں پولیس ریفارمز پر لکھتے رہتے ہیں۔ کئی روز بعد دلّی سے مرکزی وزرا مکھن لال فوطیدار،غلام نبی آزاد کانگریس کی ریاستی شاخ کے صدر مرحوم غلام رسول کارکی معیت میں وارد ہوئے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کاوعدہ کیا۔ لیکن سوپور کے باشندوں نے حکومتی امداد قبول نہیں کی، بلکہ عوامی
بدھ 16 جنوری 2019ء

سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر

منگل 15 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
یوں تو کشمیر میں ماہ جنوری ہر سال کئی خونچکاں یادوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے، جس میں گائو کدل، مگھرمل باغ، ہندوارہ اور برسہلا (ڈوڈہ) میں ہوئے قتل عام شامل ہیں، مگر 6 جنوری1993ء کا دن تجارتی مرکز سوپور کیلئے ایک ایسی قیامت تھی، جو بھلائے بھی نہیں بھلائی جاسکتی۔ دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ دارلحکومت دہلی کے کئی علاقے بھی فسادات کی زد میں آگئے تھے۔ صحافت کے ابتدائی دن تھے۔ سوچا کہ سوپور میں گھر پر والدین کے ساتھ
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت …2

بدھ 09 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
2001ء سے بھارت نے افغانستان میں تقریباًتین بلین ڈالر کی رقوم امداد میں صرف کی ہیں۔ جن میں 290ملین ڈالر ہرات میں واقع سلمہ ڈیم پر، 90ملین ڈالر افغان پارلیمنٹ بلڈنگ کی تعمیر پر اور 135ملین ڈالر دلارام سے ایرانی سرحد زارنج ہائی وے کی تعمیر پر خرچ کئے ہیں۔ اسکے علاوہ پاور ٹرانسمیشن لائن وغیرہ بچھانے پر بھی بھارت نے خاصی رقوم خرچ کی ہیں۔ چونکہ مغربی ممالک کے برعکس بھارت کے فوجی برسرپیکار نہیں ہیں، اسلئے عوام میں ان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک خیر سگالی تو موجود ہے۔ اسکے علاوہ بھارت ہر سال ایک ہزار افغان
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت

منگل 08 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
افغانستان میں بھارت کے رول اور اسکی ترقیاتی امداد پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے طنزیہ ریمارکس سے ایک ہفتہ قبل ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسربتا رہے تھے کہ توقعات کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی اور ٹرمپ کی یارباشی میں جو گرمیاں اور شوخیاں ایک سال قبل نظر آرہی تھیں ، وہ مفقود ہوگئی ہیں۔ جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ خارجہ تعلقات لیڈروںکی ذاتی یا نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ قومی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وزارت خارجہ کی سال بھر کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے اعلیٰ افسر نے فارن
مزید پڑھیے


داعش اور بھارت۔سازش یا حقیقت

منگل 01 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
حال ہی میں بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی یعنی این آئی اے نے دہلی اور اترپردیش میں تقریباً16مقامات پر چھاپہ ماری کرکے 10افراد کو حراست میں لیا۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش یا آئی ایس آئی ایس کے نئے ماڈل حرکت الحرب الاسلام کے بینر تلے یہ افراد 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی کے پولیس ہیڈکوارٹر اور ہندو انتہا پسندو ں کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے دفتر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسی دوران سرینگر میں چند نقاب پوش نوجوانوں نے نماز جمعہ کے
مزید پڑھیے




بابری مسجد بنام لاہور کی شہید گنج مسجد۔کون ہے کتنا لبرل اور سیکولر

بدھ 26 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
ہائی کورٹ کے جج صاحبان نے اپنے طویل فیصلے میں مسلم حکمرانوں کے خلاف بھی ایک لمبا چوڑا تبصرہ کیا اور ان کے دور میں ہندو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کے عمل کو بھی اپنے فیصلے کا جواز بنایا۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہندو حکمرانوں کے ذریعے لاتعداد بدھ خانقاہوں کی بے حرمتی اور ان کی مسماری کس کے کھاتے میں ڈالی جائے؟ کشمیر کے ایک ہندو بادشاہ ہرش دیو نے اپنے خالی خزانوں کو بھرنے کے لیے جنوبی کشمیر کے مندروں کو لوٹا اور جب پجاریوں نے مزاحمت کی تو ان کو تہہ تیغ کر
مزید پڑھیے


بابری مسجد بنام لاہور کی شہید گنج مسجد۔کون ہے کتنا لبرل اور سیکولر

منگل 25 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
ایک امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوشن کے ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق اگلے سال مئی 2019ء کے عام انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 543رکنی لوک سبھا میں 179نشستوں پر سمٹ جائیگی۔ یعنی اگر موجودہ عوامی رجحان برقرار رہتا ہے ، تو 2014ء کے مقابلے اسکی 107سیٹیں کم ہوجائیں گی۔ شاید وزیرا عظم کو بھی اس کا ادراک ہوچکا ہے، اسلئے وہ عندیہ دے رہے ہیں کہ 2019ء میں اقتدار میں واضع منڈیٹ کے ساتھ واپسی کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔
مزید پڑھیے


آخر کشمیر ہی نظر انداز کیوں؟

بدھ 19 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
جب میں نے ان سے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر جانے کیلئے سرکاری اجازت کی ضرورت ہوتی ہے تو متعدد دیگر صحافیوں نے بھی کہا، کہ اس طرح کی کسی پابندی کا سامنا انکو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں کبھی نہیں کرنا پڑا ہے۔ کشمیر پر اگر رپورٹنگ ہوئی بھی ہے تو بھی دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہوسکی ہے۔ حتیٰ کہ سرینگر کا مقامی میڈیا بھی بیشتر علاقوں میں جانے سے قاصر ہے۔ چند برس قبل بھارت کے ایک معروف کالم نویس اور قانون دان اے جی نورانی کے ہمراہ میں نے شمالی کشمیر میں لنگیٹ
مزید پڑھیے


آخر کشمیر ہی نظر انداز کیوں؟

منگل 18 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
بھارت میں حال ہی میں پانچ صوبائی اسمبلی انتخابات میں جس طرح حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس سے لگتا ہے کہ ابتر ہوتی ہوئی معیشت، کسانوں کی بد حالی اور دو سال قبل نوٹ بندی اور نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے تاجر طبقہ کو ہوئی پریشانیوںکی وجہ سے اس کا روایتی ووٹ بینک ٹوٹ گیا ہے۔ اب شاید اگلے چند مہینوں میںکسانوں اور تاجروں کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی مراعات کی بارش کردینگے اور اسکے لئے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس بھی جنوری کے آخری ہفتہ میں ہی بلانے کی تجویز
مزید پڑھیے


دوبئی کی شہزادی لطیفہ اور مودی حکومت

بدھ 12 دسمبر 2018ء
افتخار گیلانی
معاشی محاذ پر ناکامی اور اپوزیشن کانگریس کی طرف سے فرانس سے ہوئے رافیل جنگی طیاروں کے سودے میں ہوئی مبینہ بد عنوانیوں کو اچھالنے سے مودی حکومت کی خاصی سبکی ہورہی تھی۔ جوں جوں عام انتخابات قریب آرہے ہیں اور رافیل کے حوالے سے آئے دن نئے انکشافات کی وجہ سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیر اعظم مودی خاصے تذبذب میں نظر آرہے تھے۔ اس کا توڑ کرنے کیلئے اور کانگریس کو اسی کی زبان میں جواب دینے کیلئے دوبئی حکومت سے درخواست کی گئی کہ برطانوی شہری اور اسلحہ ڈیلر مشعل کو بھارتی
مزید پڑھیے