BN

افتخار گیلانی



بھارتی مسلم لیڈران، علماء و کشمیر


ابھی حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر چوراہے پر بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کشمیر پر ہوئی یلغار پر مظاہرہ کا اہتمام کیا تھا۔ مگر کسی مسلم تنظیم کو وہاں آنا گوارا بھی نہیں ہوا۔ کشمیر نے بھی گجرات سے کچھ کم نہیں دیکھا۔ پچھلے 26برسوں کے دوران کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں اور اس کے حاشیہ برداروں کے ہاتھوں معصوم بچیو ں ‘ لڑکیوں اور عورتوں کی عصمتیں پامال کی گئی ہیں اس کا ہلکا سا اشارہ اینڈرن لیوی اور کیتھی اسکاٹ نے اپنی معرکتہ الآرا تصنیف The Meadows میں کیا ہے۔ ا ن برطانوی مصنفین نے
جمعه 20  ستمبر 2019ء

بھارتی مسلم لیڈران، علماء و کشمیر

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
ہندو قوم پرستوں کو بھی اس مسلم ووٹ کو بے وزن کروانے میں دانتوں پسینہ آجا تا تھا۔ مسلمان بالعموم انتخابات میں اپنی قوت‘ پسندیدگی یا ناراضگی کا مظاہرہ بھی کرتے رہے ہیں۔ شمالی بھارت میںسیاسی لحاظ سے کانگریس کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کی ناراضگی تھی۔1989 ء کے بھاگلپور فسادات کے بعد بہار میں اور 1992 ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں مسلم ووٹرجو کانگریس سے ناراض ہوگئے ، اس کی مار سے وہ ابھی تک ابھر نہیں پائی ہے۔ اسی طرح 2002 ء کے گجرات فسادات
مزید پڑھیے


بھارتی مسلم لیڈران، علماء و کشمیر

بدھ 18  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
شیخ عبداللہ کی موت کے ایک سال بعد 1983ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی، نیشنل کانفرنس کے خلاف خم ٹھوک کر میدان میں اتری تھی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا اپوزیشن لیڈروں این ٹی راما رائو، جیوتی باسو ، جارج فرنانڈیز کے ساتھ اتحاد و قربت سے وزیراعظم اندرا گاندھی سخت ناراض تھی۔ جموں خطے میں وزیر اعظم گاندھی نے خود ہی نو دن قیام کرکے بی جے پی کے موجود ہ صدر امیت شاہ کی طرز پر انتخابی مہم کو خوب فرقہ وارانہ رنگت دی۔ کشمیر میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور میرواعظ مولوی محمد فاروق کے اتحاد
مزید پڑھیے


بھارتی مسلم لیڈران، علماء و کشمیر

منگل 17  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل و تقسیم کرنے جیسے غیر آئینی یکطرفہ اقدامات کے بعد مواصلاتی ناکہ بندی اور ملٹری آپریشنز کے ذریعے مقامی آبادی کو ہراساں کرنے پر جہاں دنیا بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت پر لعن و طعن ہو رہی تھی، کہ بھارتی مسلمانوں کی قدیمی تنظیم جمعیت علماء ہند کے دونوں دھڑوں نے سادگی میں یا دانستہ ایسے قدم اٹھائے اور بیانات داغے کہ حکومت کی باچھیں کھل گئیں۔ غالباً پہلی بار یورپ و امریکہ میں سول سوسائٹی و میڈیاکو بھارت میں ابھرتے ہوئے فاشزم
مزید پڑھیے


آسام شہریت کا معاملہ : اُگلتے بنے نہ نگلتے (2)

منگل 10  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
معروف تجزیہ کار کلیان بروا کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں نہایت کم افراد ہی غیر ملکیوں کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جب یہ ایکسرسائز شروع ہو گئی تھی، تو چونکہ لگتا تھا اس کا ٹارگٹ مسلمان ہی ہونگے، اسلئے مسلم تنظیموں خاص طور پر جمعیت علماء ہند ، اسکے مقامی لیڈر بد رالدین اجمل ، ان کے ساتھیوں اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے مسلمانوں کو دستاویزات تیار کروانے اور قانونی مدد فراہم کروانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ اجمل ، جو آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف)کے
مزید پڑھیے




آسام شہریت کا معاملہ : اگلتے بنے نہ نگلتے

پیر 09  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان اور جنرل سیکرٹری کے عہدے پر براجماں تھے، تو ایک دن اشوکا روڑ پر پارٹی صدر دفتر میں یومیہ پریس بریفنگ کے دوران وہ بھارت کی روایتی مہمان نوازی ، ہندو کلچر کے بے پناہ برداشت اور تحمل پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے بھارت نے غیر ملکیوں کو پناہ دی اور ان کو سر آنکھوں پر بٹھا کر بلندیوں تک پہنچایا۔ دی ہندو کی پولیٹیکل ایڈیٹر نینا ویاس، جو بی جے پی کور کرتی تھیں، نے
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج… (3)

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
’’ہمارے پچھواڑے (کشمیر) عالمی دہشت گرد تنظیمیںالقائدہ ،آئی ایس ایس اور طالبان جیسی تنظیمیں اپنے نظریات کے ساتھ حاوی ہو رہی ہیں، اسلئے ان کو کچلنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔‘انہوںنے مزید کہا کہ بھارت کشمیر میں اس نظریہ کو روکنے اور سختی کے ساتھ کچلنے کیلئے وہی کچھ کر رہا ہے، جو امریکہ یا دیگر ممالک شام، عراق، افغانستان میں یا خود پاکستانی فوج اپنے علاقہ میں کر ر ہی ہے ۔ غرض کہ انہوں نے مبالغہ آمیزی سے کام لیکر کشمیر تحریک کو عالمی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑ کر خطہ پر اسکے مضمرات کا ایسا
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج (2)

بدھ 04  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
بی جے پی میں ان ہی کے قبیل کے ایک اور لیڈر جن کا میڈیا کے ساتھ ایک طرح سے ہم جولی کا رشتہ تھا پرمود مہاجن تھے، جن کا 2006ء میں ان کے اپنے ہی بھائی نے کسی گھریلو تنازعہ کی وجہ سے قتل کردیا۔ میں چونکہ ان ہی دنوںجرمن ریڈیو ڈائچے ویلے کی اردو سروس کیلئے بھی پارٹ ٹائم کام کرنے لگا تھا، تو اسٹوری کیلئے لیڈروں کے ساونڈ بائٹس کی ضرورت پڑتی تھی۔ جب بھی جیٹلی کو فون کیا، وہ کبھی منع نہیں کرتے تھے۔ کسی وقت ان کے گھر پر
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج

منگل 03  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
اگست کا مہینہ جہاں کشمیری قوم کیلئے آزمائشیں لیکر آیا، وہیں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کیلئے بھی خاصا بھاری رہا۔ اسکے تین مقتدر لیڈران سابق وزیر خارجہ سشما سوراج، سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال گور انتقال کر گئے۔ دیگر بی جے پی لیڈران کے برعکس بابو لال گور اکثر عیدین و دیگر موقعوں پر بھوپال کی تاج المساجد یا عید گاہ میں ٹوپی پہنے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ سوراج اور جیٹلی بی جے پی کی نئی پود ، صاف و
مزید پڑھیے


موجودہ صورت حال اور کشمیری پنڈتوں کا کردار

جمعرات 29  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
معروف مورخ جادو ناتھ سرکار کے مطابق مغل سلطنت کے دوران کشمیری مسلمانوں کو امور سلطنت سے دور رکھا گیا۔ اس طرح کشمیر کے بطن سے مغلوں نے ایک قابل اعتبار Fifth Coloumnistوطن فروش گھر کا بھیدی پیدا کیا۔ مسلمانوں پر فوج کے دروازے بند تھے، مگرپنڈتوں کیلئے کھلے تھے۔ کشمیری میرو پنڈت تو نو ر جہاںکی ذاتی فوج کا نگران اعلیٰ تھا۔ پنڈتوں کی یہ بالا دستی اورنگ زیب کے دور میں بھی جاری تھی۔ اس کے دربار میں مہیش شنکر داس پنڈت کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ افغان دورکی ظلم و ستم کی کہانیاں جہاں کشمیر میں
مزید پڑھیے