BN

افتخار گیلانی


افغانستان: شمالی اتحاد اور بھارت کے روابط کی کہانی


26ستمبر1996ء کو جب طالبان نے برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی افواج کو شکست دیکر کابل پر قبضہ کرکے سابق صدر نجیب اللہ کو ہلاک کردیا،اسکے ایک ہفتے بعد تاجکستان کے دارلحکومت دوشنبہ میں رات گئے بھارتی سفیر بھرت راج متھو کمار کے گھر پر فون کی گھنٹی بجی،دوسری طرف معزول شدہ کابل انتظامیہ کے دوشنبہ میں نمائندے اور افغانستان کے موجودہ نائب صدر امر اللہ صالح لائن پر تھے۔ انہوں نے سفیر سے گزارش کی کہ ’’ کمانڈر‘‘(احمد شاہ مسعود) چند لمحے قبل دوشنبہ پہنچ گئے ہیں اور وہ بھارت کے سفیر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ویسے
منگل 22 جون 2021ء مزید پڑھیے

کشمیریوں کو ذہنی مریض بننے سے بچا ئیے!……(2)

بدھ 16 جون 2021ء
افتخار گیلانی
جموں ڈویژن میں مسلم اکثریتی پیر پنچال اور چناب ویلی علاقے پہلے ہی سے ہندو فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح کھٹکتے ہیں۔حتیٰ کہ نئی دہلی کے سیکولر راہنماوٗں نے بھی پچھلے 70 سالوں سے ان علاقوں کو وادی کشمیر سے الگ تھلگ رکھنے کی کوششیں کی ہیں۔ ان علاقوں کو پہلی بار 2004کے بعد مفتی محمد سعید اور غلام نبی آزاد کے دور میں پونچھ اور شوپیان کو ملانے والے مغل روڈ اور دیگر رابطوں کی تعمیر نے ملانے کا کام کیا تھا۔دوسری افواہ یہ ہے کہ شمالی کشمیر کو لداخ میں ضم کر کے ریاست
مزید پڑھیے


کشمیریوں کو ذہنی مریض بننے سے بچا ئیے!

منگل 15 جون 2021ء
افتخار گیلانی
پچھلے کئی ہفتوں سے کشمیر میں افواہوں کے بازار نے مکینوں کا چین چھین لیا ہے۔ لگتا ہے کہ کوئی طاقت کشمیر ی عوام کو مستقل عذاب میں مبتلا رکھ کے ان کو ذہنی مریض بنانا چاہتی ہے۔ ان افواہوں کا ماخذ خود حکومت کے ہی چندایسے اقدامات کے علاوہ دہلی اور جموں میں رہنے والے شدت پسند کشمیری پنڈتوں کا ایک اجتماع ہے، جہاںحال ہی میں کشمیری مسلمانوں پر مزید ظلم و ستم ڈھانے اور ان کو فلسطینوں کی طرح اپنے ہی گھروں میں بیگانہ کرنے کی تجاویزسجھائی گئیں۔ تقریباً 300 مزید نیم فوجی دستوںکی کمپنیوں کی تعیناتی اور
مزید پڑھیے


کشمیر کی تازہ زمینی صورت حال ……(2)

جمعرات 10 جون 2021ء
افتخار گیلانی
پاکستان اور اسکی پالیسی کے حوالے سے بھی عوام میں خاصی مایوسی ہے۔ کئی افراد نے اس گرو پ کو بتایا کہ ان کو توقع تھی کہ پاکستان کی ایما پر بین الاقوامی برادری یکجا ہوکر بھارت پر نکیل کس کے ان اقدامات کو واپس لینے پراسکو مجبور کردیگی۔ مگر یہ توقعات پوری نہیں ہوسکی ہیں۔ غالب اکثریت کا خیا ل ہے کہ ان کو بے یار و مددگار و اکیلے چھوڑدیا گیا ہے۔ پاکستانی لیڈرشپ کیلئے یہ رجحان لمحہ فکریہ ہے۔ اسکے علاوہ پہلی بار کشمیر ی عوام بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی پیش آنے والے واقعات کا
مزید پڑھیے


کشمیر کی تازہ زمینی صورت حال

منگل 08 جون 2021ء
افتخار گیلانی
جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان ہوئے سیز فائر کے100دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اس دوران دو معمولی واقعات کے علاوہ عمومی طور پر جنگ بندی پر دونوں افواج نے مکمل طور پر عمل کیاہے۔ جموں ڈوئژن کے اکھنور، بشنہ، سانبہ ، ہیرا نگر اور کٹھوعہ کے علاقوں میں کسان اس سال کھیت جوتتے اور فصلوں کی بوائی کرتے ہوئے نظر آئے۔ سرحدی علاقوں کی آبادی نے دونوں اطراف میں میں مارٹرز اور توپوں کی گھن گرج سے آزادی تو حاصل کرلی، مگر ان 100دنوں میں وادی کشمیر کے اندر 35کے
مزید پڑھیے



مسلم اکثریتی جزائر لکشدیپ بھارتی نشانے پر…(2)

بدھ 02 جون 2021ء
افتخار گیلانی
صاف و شفاف پانیوں، سفید نرم ریتیلے ساحل اور ناریل کے درختوں سے گھرے یہ جزائر موتی کے دانے لگتے تھے۔ معلوم ہوا کہ باقی دنیا سے رابط کیلئے بس یہ واحد فلائٹ روز لینڈ کرتی ہے اور ہفتے میں ایک بار کوچی سے بحری جہاز مسافروں کو لانے لیجانے اور ساز و سامان کے ساتھ وارد ہوتا ہے۔ 36جزائر میں بس 10میں ہی آبادی ہے۔ پانچ جزائر تو سیاحوں کیلئے بند ہیں ، کیونکہ ان میں بحریہ کے اڈے ہیں۔ ایک غیر آباد جزیرے بانگارام میں غیر ملکی سیاحوں کیلئے ریزورٹس کا انتظام ہے۔ یہ واحد جزیرہ ہے
مزید پڑھیے


مسلم اکثریتی جزائر لکشدیپ بھارتی نشانے پر

منگل 01 جون 2021ء
افتخار گیلانی
بھارت کے جنوبی صوبہ کیرالا اور خلیج عدن کے درمیان بحیرہ عرب کے نقشے کو اگر زوم کرکے غور سے دیکھا جائے، تو موتیوں کی ایک مالا بکھری ہوئی نظر آئیگی، جو جزائر لکشدیپ ہیں۔ ان جزائر کے باسی آجکل انتہائی اضطراب میں ہیں۔ کشمیریوں کی طرح ان کا بھی قصور بس اتنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور بھارت کے موجودہ ہندو قوم پرست حکمرانوں کی آنکھوں میں شہتیر کی طرح کھٹکتے ہیں۔ جس طرح 5اگست 2019کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے وہاں آبادیاتی تناسب کو بگاڑنے کی
مزید پڑھیے


اسرائیل، فلسطین جنگ اور ابو خان کی بکری

منگل 25 مئی 2021ء
افتخار گیلانی
اسرائیل کے ایک معروف کالم نویس گڈیون لیوی نے ایک بار وزیر اعظم ایہود براک سے جو 1999سے 2001تک اس عہدے پر فائز تھے، پوچھا کہ اگر وہ فلسطینیوں کی جگہ پر ہوتے، تو ان کے کیا احساسات ہوتے؟ براک نے برجستہ جواب دیا کہ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کے ممبر ہوتے۔ ان کے اس بیان نے اس وقت خاصا تنازعہ پیدا کر دیا تھا۔ یہودیوں کاکہنا تھا کہ انہوں نے فلسطینیوں کی عسکری تحریک کو جواز فراہم کردیا ہے، جبکہ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان کی سبھی تنظیموں کو دہشت گرد وں
مزید پڑھیے


یروشلم شہر سے مسلمانوں کی بے دخلی…(2)

بدھ 19 مئی 2021ء
افتخار گیلانی
سابق امریکی صدر ٹرمپ، یورپی یونین، ان کے عرب حلیف اور اسرائیل نے ڈیل آف سنچری کے نام سے جس فارمولہ کو فلسطینیوں پر تھوپنے کی کوشش کی، اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہونا ہی تھا۔ چند سا قبل ایک یہودی عالم ڈیوڈ روزن نے راقم کو بتایا تھا تمام تر جارحانہ کارروائیوں کے باوجود یہودیوں اور اسرائیلی حکام کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ وہ ناقابل تسخیر نہیں ہیں۔ ویسے تو اس کا اندازہ 1973کی جنگ مصر اور بعد میں 2006 میں جنگ لبنان کے موقع پر ہی ہوگیا تھا مگر حالیہ کچھ عرصے سے
مزید پڑھیے


یروشلم شہر سے مسلمانوں کی بے دخلی

منگل 18 مئی 2021ء
افتخار گیلانی
فلسطینی علاقے غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری اور اسکے نتیجے میں ہوئی ہلاکتوں و تباہی کے سبب فی الحال اس نئے قضیہ کے محرک یعنی مشرقی بیت المقدس (یروشلم) کے عرب اکثریتی علاقہ شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کا بزور انخلا اور پھر رمضان کی ستائیسویں کو شب قدر کے موقع پر مسجد الاقصیٰ میں عبادت کرتے نمازیوں پر حملے، مگر اسرائیل جس طرح اس مقدس شہر کا آبادیاتی تناسب اور اسکی پوزیشن تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے، وہ شاید ہی اس خطے میں امن و امان بحال ہونے دیگا۔ 1967کی چھ روزہ جنگ کے بعدجب اسرائیل نے
مزید پڑھیے








اہم خبریں