BN

افتخار گیلانی

کشمیر :ڈ وگرہ راج کی واپسی اور شمالی اتحاد

بدھ 18 جولائی 2018ء
مگر پچھلے تین برسوں میں ایسا لگا کہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر اس کو تار تار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بیک ڈور سے غیر ریاستی ہندو مہاجرین کو رہائشی پرمٹ دینا، علیحدہ پنڈت کالونیاں بسانا ، آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم ولادت پر تعطیل کے لئے اسمبلی سے قرارداد پاس کروانے کی کوششیں کشمیریوں کو ان کی سیاسی بے وزنی کا احساس دلانے کی آخری حد تھی۔ مگر پھر بھی ڈو مور کے مطالبوں کو تسلیم کرتے کرتے بھی وہ
مزید پڑھیے


کشمیر :ڈ وگرہ راج کی واپسی اور شمالی اتحاد

منگل 17 جولائی 2018ء
پاکستان میں جہاں حکومت، سیاسی جماعتیںاور عوام انتخابی گہماگہمیوں میں مصروف ہیں، وہیں جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر بڑی دوررس تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جن سے خطہ میں حالات مزید ابتر اور سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ 19جون کو ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یکایک وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے حمایت واپس لیکر مخلوط حکومت کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ اسی کے ساتھ ریاستی گورنر این این ووہرا نے حکومت کی زمام ِ کار سنبھالی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب گورنر این این
مزید پڑھیے


پاکستان کے عام انتخابات اور بھارت

منگل 10 جولائی 2018ء
پاکستان میں عام انتخابات کی مہم اب اپنے عروج پر ہے۔ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پر جہاں دنیا بھر کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں، وہیں بھارت میں بھی حکومتی حلقے اور تجزیہ کار ان پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے انتخابات کے برعکس پاکستان کے موجودہ انتخابی عمل سے یہاں ایک طرح سے تذبذب کی سی کیفیت ہے۔ ماضی میں چونکہ اقتدار کی دیوی نواز شریف کی مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے گرد ہی گردش کرکے کسی ایک کی چوکھٹ پر بیٹھتی آئی ہے، اس لیے ا ن کی پالیسیوں اور ان کے لیڈروں سے متعلق
مزید پڑھیے


بھارت - پاکستان کے سیاستدان اور ڈنمارک …(2)

بدھ 04 جولائی 2018ء
معلوم ہوا کہ کہ معمر اسپیکر صاحب روزانہ دس کلومیٹر کی مسافت سائیکل کے ذریعہ طے کرکے اپنے دفتر پہنچتے ہیں۔ ان سے بھی میں نے سوال کیا تھا کہ ان کا ملک بد عنوانی سے کیسے پاک ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی نظام میں بد عنوانی کی گنجائش نہیں ہے۔ مثال کے طور پر انتخابی مہم چلانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو قومی خزانے سے رقم دی جاتی ہے۔ لائکے ٹافٹ نے بتایا کہ ’’اس کا طریقہ کاریہ ہے کہ سابقہ الیکشن میں جو پارٹی قومی او رعلاقائی سطح پر
مزید پڑھیے


بھارت - پاکستان کے سیاستدان اور ڈنمارک

منگل 03 جولائی 2018ء
جہاں پاکستان میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے، وہیں بھارت میں بھی شاید وزیر اعظم نریندر مودی اگلے سال مئی کا انتظار کرنے کے بجائے قبل از وقت انتخابات کا بغل بجائیں گے۔ ان کے حواریوں کے حوالے سے جو خبریں چھن چھن کر آرہی ہیں، ان کے مطابق پارٹی اور اتحادیوں کو انتخابات کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ بھارت میں مڈل کلاس جو حکمرا ن بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے ریڑھ کی حیثیت رکھتا تھا، معیشت کی ابتری اور نوٹ بندی کی وجہ سے مودی سے خاصا ناراض ہے۔ اس سے پہلے یہ طبقہ کسی
مزید پڑھیے


شجاعت بخاری :کشمیری صحافت کا آفتاب غروب ہوگیا…

بدھ 27 جون 2018ء
ٹیلیفون اور فیکس کی عدم دستیابی کے سبب سوپور سے سرینگر کی طرف روانہ ہونے والی آخری بس کا ڈرائیور پیغام بر ہوتا تھا۔ سبھی نامہ نگاراپنی رپورٹ اسی کے حوالے کرتے تھے۔ آفس کا اسٹاف سرینگر بس اڈہ سے پیکٹ وصول کرتا تھا۔کالج مکمل کرنے کے بعد میں دہلی آیا اور شجاعت کے ساتھ رابطہ ٹوٹ گیا۔ معلوم ہوا کہ اس نے اکائونٹنٹ جنرل کے دفتر میں سرکاری نوکری جوائن کی تھی۔ عسکریت کا آغاز ہوچکا تھا۔ اسی دوران منظورالحق بیگ ن ’’تکبیر نو‘‘کو دوبارہ اجرا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ مسعود حسین کی ادارت میں اس ہفت روزہ
مزید پڑھیے


شجاعت بخاری :کشمیری صحافت کا آفتاب غروب ہوگیا

منگل 26 جون 2018ء
29رمضان المبارک کی شام۔ دفتر میں بس روزہ کھولنے ہی والا تھا کہ سرینگر سے قریبی دوست کا فون آیا کہ معروف کشمیر صحافی اور دی رائزنگ کشمیر گروپ کے ایڈیٹرانچیف شجاعت بخاری نے جام شہاد ت نوش کیا ہے۔ چند ساعتوں کے بعد بریکنگ نیوز آنا شروع ہوگئی۔ یقین کرنا مشکل تھا۔ شجاعت کو مرحوم لکھتے ہوئے قلم لرز رہا ہے۔ گورنمنٹ کالج سوپوراور بعد میں صحافتی سفرمیں پچھلے 30سالوں سے جو شخص ہم سفر و ہمرکاب رہا ہو، اس کا یوں اچانک جدا ہونا ، کلیجہ چھلنی ہورہا ہے۔ اس دیرینہ رفاقت میں کم از کم دوبار
مزید پڑھیے


افطار پارٹیاں اور مسلمانوں کی سیاسی یتیمی

منگل 12 جون 2018ء
ماہ رمضان خیر و برکت کی نوید لیکر تو آتا ہی ہے، مگر عرصہ دراز سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں یہ خبروں کے متلاشی صحافیوں، طبقہ اشرافیہ، سیاسی و مذہبی لیڈروں نیز سفارت کاروں کیلئے نعمت مترقبہ لیکر نازل ہوتا آیا ہے۔ آئے دن کی افطار پارٹیوں کی بدولت، ڈنر ٹیبل صحافیوں کیلئے سیاسی و سفارتی شخصیات کے ساتھ غیررسمی روابط اور حالات و واقعات کی آگہی کا ذریعہ بھی بنتے تھے۔اگر کہا جائے کہ اس مقدس ما ہ میں بھارت میں سیاسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوتی تھیں تو بے جا نہ ہوگا۔ نیوز رومز میں افطار پارٹیوں
مزید پڑھیے


تحریک کشمیر کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش…2

بدھ 06 جون 2018ء
ایک دہائی قبل کشمیر یونیورسٹی نے انسانی حقوق کا ڈپلومہ کورس شروع کیا تھا، چند سال بعد ہی اسکی بساط لپیٹ لی گئی کیونکہ طالب علم سیاسی اور جمہوری حقوق کے متعلق سوال پوچھنے لگے تھے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کی وجہ بتائی گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے فیلڈ میں کیریئر یا روزگار کی کمی ہے۔ میں نے کہا کہ متبادل جمہوری مخرجوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مساجد کو سیاسی طور پر استعمال کرنا تو ایک مجبوری بن گئی ہے اور یہ کشمیر کی پچھلے 500سالوں کی تاریخ ہے۔ وزیر نے یہ بھی بتایا
مزید پڑھیے


تحریک کشمیر کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش

منگل 05 جون 2018ء
جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جب کشمیر میں حالات کسی بھی صورت میں قابو میں نہیں آرہے تھے،نیز بھارتی میڈیا آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہا تھا، غالباً وزیر اعظم نریندر مودی کے ایما اور جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی استدعا پر میڈیا کے چنیدہ ایڈیٹروں کو حالات کی سنگینی کا احساس کروانے کیلئے حکومتی سطح پر بریفنگ کا اہتمام کیا گیا ۔ ملک بھر کے 17ایڈیٹر اور سینئر صحافی وزارت اطلاعات کے صدر دفتر میں سینئر وزراء کی ایک ٹیم کے روبرو تھے۔ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے
مزید پڑھیے