BN

افتخار گیلانی



آسام شہریت کا معاملہ : اُگلتے بنے نہ نگلتے (2)


معروف تجزیہ کار کلیان بروا کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں نہایت کم افراد ہی غیر ملکیوں کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق جب یہ ایکسرسائز شروع ہو گئی تھی، تو چونکہ لگتا تھا اس کا ٹارگٹ مسلمان ہی ہونگے، اسلئے مسلم تنظیموں خاص طور پر جمعیت علماء ہند ، اسکے مقامی لیڈر بد رالدین اجمل ، ان کے ساتھیوں اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے مسلمانوں کو دستاویزات تیار کروانے اور قانونی مدد فراہم کروانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ اجمل ، جو آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف)کے
منگل 10  ستمبر 2019ء

آسام شہریت کا معاملہ : اگلتے بنے نہ نگلتے

پیر 09  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی ، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان اور جنرل سیکرٹری کے عہدے پر براجماں تھے، تو ایک دن اشوکا روڑ پر پارٹی صدر دفتر میں یومیہ پریس بریفنگ کے دوران وہ بھارت کی روایتی مہمان نوازی ، ہندو کلچر کے بے پناہ برداشت اور تحمل پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے بھارت نے غیر ملکیوں کو پناہ دی اور ان کو سر آنکھوں پر بٹھا کر بلندیوں تک پہنچایا۔ دی ہندو کی پولیٹیکل ایڈیٹر نینا ویاس، جو بی جے پی کور کرتی تھیں، نے
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج… (3)

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
’’ہمارے پچھواڑے (کشمیر) عالمی دہشت گرد تنظیمیںالقائدہ ،آئی ایس ایس اور طالبان جیسی تنظیمیں اپنے نظریات کے ساتھ حاوی ہو رہی ہیں، اسلئے ان کو کچلنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔‘انہوںنے مزید کہا کہ بھارت کشمیر میں اس نظریہ کو روکنے اور سختی کے ساتھ کچلنے کیلئے وہی کچھ کر رہا ہے، جو امریکہ یا دیگر ممالک شام، عراق، افغانستان میں یا خود پاکستانی فوج اپنے علاقہ میں کر ر ہی ہے ۔ غرض کہ انہوں نے مبالغہ آمیزی سے کام لیکر کشمیر تحریک کو عالمی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑ کر خطہ پر اسکے مضمرات کا ایسا
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج (2)

بدھ 04  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
بی جے پی میں ان ہی کے قبیل کے ایک اور لیڈر جن کا میڈیا کے ساتھ ایک طرح سے ہم جولی کا رشتہ تھا پرمود مہاجن تھے، جن کا 2006ء میں ان کے اپنے ہی بھائی نے کسی گھریلو تنازعہ کی وجہ سے قتل کردیا۔ میں چونکہ ان ہی دنوںجرمن ریڈیو ڈائچے ویلے کی اردو سروس کیلئے بھی پارٹ ٹائم کام کرنے لگا تھا، تو اسٹوری کیلئے لیڈروں کے ساونڈ بائٹس کی ضرورت پڑتی تھی۔ جب بھی جیٹلی کو فون کیا، وہ کبھی منع نہیں کرتے تھے۔ کسی وقت ان کے گھر پر
مزید پڑھیے


کچھ یادیں: ارون جیٹلی اور سشما سوراج

منگل 03  ستمبر 2019ء
افتخار گیلانی
اگست کا مہینہ جہاں کشمیری قوم کیلئے آزمائشیں لیکر آیا، وہیں بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کیلئے بھی خاصا بھاری رہا۔ اسکے تین مقتدر لیڈران سابق وزیر خارجہ سشما سوراج، سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال گور انتقال کر گئے۔ دیگر بی جے پی لیڈران کے برعکس بابو لال گور اکثر عیدین و دیگر موقعوں پر بھوپال کی تاج المساجد یا عید گاہ میں ٹوپی پہنے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ سوراج اور جیٹلی بی جے پی کی نئی پود ، صاف و
مزید پڑھیے




موجودہ صورت حال اور کشمیری پنڈتوں کا کردار

جمعرات 29  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
معروف مورخ جادو ناتھ سرکار کے مطابق مغل سلطنت کے دوران کشمیری مسلمانوں کو امور سلطنت سے دور رکھا گیا۔ اس طرح کشمیر کے بطن سے مغلوں نے ایک قابل اعتبار Fifth Coloumnistوطن فروش گھر کا بھیدی پیدا کیا۔ مسلمانوں پر فوج کے دروازے بند تھے، مگرپنڈتوں کیلئے کھلے تھے۔ کشمیری میرو پنڈت تو نو ر جہاںکی ذاتی فوج کا نگران اعلیٰ تھا۔ پنڈتوں کی یہ بالا دستی اورنگ زیب کے دور میں بھی جاری تھی۔ اس کے دربار میں مہیش شنکر داس پنڈت کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ افغان دورکی ظلم و ستم کی کہانیاں جہاں کشمیر میں
مزید پڑھیے


موجودہ صورت حال اور کشمیری پنڈتوں کا کردار

منگل 27  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
کشمیر ی قوم پر اسوقت جو آفت آن پڑی ہے اور جس طرح بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے انکے تشخص و انفرادیت پر کاری وار کیا ہے، ہونا تو چاہئے تھا کہ مذہبی عناد سے اوپر اٹھ کر اس کا مقابلہ کیا جاتا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ کشمیری پنڈتوں (ہندوٰں) کے بااثر طبقے اور اکثریت نے ایک بار پھر اپنے ہم وطنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر تاریخ کے مختلف ادوار کو دوہرا کر ظلم و جبر کے آلات (Instruments of Tyranny) بننے کا کام کیا۔ چند باشعور افراد جن میں سابق ایئر وائس مارشل
مزید پڑھیے


چین ، ایران اور کشمیر پر بھارت کے وعدے

منگل 20  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
تقریباً آدھی صدی کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بحث یقینا ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔ بھارت نے سلامتی کونسل کی اس میٹنگ کو رکوانے کیلئے تمام تر سفارتی وسائل بروئے کار لائے تھے۔ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کونسل کے سربراہ پولینڈ کے اپنے ہم منصب جیسیک سیزاپوٹوویزاور دہلی میں پولینڈ کے سفیر آدم بورکووشی پر ہر ممکن دبائو بنانے کی کوشش کی کہ کسی طرح یہ میٹنگ ٹل جائے اور اگر چین کی ایما پر منعقد بھی ہوتی ہے، تو اس کا کوئی مشترکہ اعلانیہ جار ی نہ
مزید پڑھیے


کشمیر کی بے بسی

بدھ 14  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے اور اسکو بھارتی یونین میں ضم کرنے، کے حکم نامہ کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے لیڈران بشمو ل ہریانہ صوبہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹرنے نوید سنائی کہ بھارت کے کنوارے نوجوان اب کشمیر کی گوری لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے طنز آمیز ، جنسی اور نسلی تعصب سے بھرے ہوئے جملے بھارت کے گلی کوچوں میں سنائے دے رہے ہیں۔ کئی افراد تو فون پر گلمرگ اور سونہ مرگ کی وادیوںمیں زمینوں کے بھاوٗ
مزید پڑھیے


کشمیر: جنت میں طوفان ہے کیوں

بدھ 07  اگست 2019ء
افتخار گیلانی
فاروق عبداللہ حکومت نے ا ن کو برخاست کر دیا تھا، بعد میں مفتی محمد سعید حکومت نے بھی ا ن کے خلاف چارہ جوئی کی کوشش کی ہی تھی، کہ کانگریس نے ان کی حکومت سے حمایت واپس لی اور غلام نبی آزاد وزیر اعلیٰ بنائے گئے ۔کرسی سنبھالتے ہی آزادنے نئی دہلی کے کہنے پر فاروق خان کو بحال کیا۔ جموں و کشمیر میں غیر ریاستی باشندو ں پر جائیدادیں خریدنے پر پابندی کا قانون 1927ء میں ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے کئی عوامل کی وجہ سے لاگوکیا تھا۔ ایک وجہ کشمیری پنڈتوںکا اس بات پر احتجاج تھا
مزید پڑھیے