BN

افتخار گیلانی



مقبول بٹ اور افضل گورو کیلئے دوہرا معیار کیوں


6فروری1984ء کی خنک آلود دوپہر جب دہلی سے انڈین ایئر لائنز کا طیارہ ریاست جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں ایئرپورٹ پہنچا، تو سانولے رنگ کا ایک پست قد شخص تیزی کے ساتھ سیڑھیاں طے کرتے ہوئے نیچے اترا۔ دیگر مسافر تو ایئرپورٹ بلڈنگ کی طرف روانہ ہوئے، یہ شخص ایک بریف کیس تھامے سیڑھی کے ساتھ ہی پارک کی گئی ایک ایمبسڈر کار میں بیٹھ گیا، جو فوراً ہی حرکت میں آگئی۔اس کی منزل سیکرٹریرٹ سے متصل جموں کا اسمبلی کمپلیکس تھا، جہاںجموں میں متعین بھارت کے خفیہ محکموں کے چند افراد پورچ میں بے چینی کے ساتھ
منگل 12 فروری 2019ء

منفرد سیاستدان، جارج فرنینڈس اور کشمیر… :2

بدھ 06 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
، ان کی سرکاری رہائش گاہ گیٹ کے بغیر تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی بنگلہ کے مقابل نرسمہا رائو حکومت میں وزیر داخلہ ایس بی چوان کی کوٹھی تھی۔ جب بھی وہ باہر نکلتے تھے تو پولیس راھگیروں کو کھدیڑ کر گلی کوچوں میں گھسنے پر مجبور کرتی تھی اور بقیہ تمام مکانوں کے گیٹ بند کرواتی تھی۔ جس سے خفا ہو کر انہوں نے اپنے بنگلہ کا گیٹ ہی اکھاڑ کر پھینک دیا۔ کچن میں چائے وغیرہ بنانے سے لیکر وہ اپنے کپڑے خود دھوتے تھے۔ تبت کے پناہ گزینوں سے لیکر، برما کے جمہوریت
مزید پڑھیے


منفرد سیاستدان، جارج فرنینڈس اور کشمیر

منگل 05 فروری 2019ء
افتخار گیلانی
سال 1990ء کشمیر کیلئے ایک قیامت تھا۔ 19جنوری کی رات جب جگموہن ملہوترہ نے گورنر ی کا چارج سنبھالا، سرینگر کے وسط میں گاوٗکدل علاقہ پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے نام پر 50افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ جنوری کے مہینے میں ہی وادی کے طول و عرض میں ایک اندازہ کے مطابق 300کے قریب افراد ہلاک کر دیئے گئے تھے۔ اسی سال مئی میں میر واعظ مولوی محمد فاروق کے جنازہ کے جلوس پر فائرنگ سے 60افراد ہلاک ہوگئے۔ دہلی میں گو کہ ان دنوں کشمیر طلبہ کی تعداد نہایت قلیل تھی،
مزید پڑھیے


قدرت اللہ شہاب سے شاہ فیصل تک

منگل 29 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
کشمیر کے آخری تاجدار یوسف شاہ چک کو جب مغل حکمرانوں نے پانچ صدی قبل قید اور بعد میں بسواک (بہار) جلاوطن کیا، محکوم و مجبور کشمیری قوم تب سے ہی کسی ایسی ہستی کی تلاش میں ہے، جو انکو بیدردی ایًام سے نجات دلاسکے۔ کشمیر کی آخری ملکہ حبہ خاتون (زون) کی دلدوز شاعری، جس میں دہلی کے حکمرانوں کی بد عہدی اور اپنے محبوب (یوسف شاہ) کی مصیبتوں کی داستان درج ہے، کشمیری لوک ریت کا ایک جزو ہے۔ اس مدت کے دوران اس مقہور قوم نے کئی ہستیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا، مگر کچھ عرصہ کے
مزید پڑھیے


عام انتخابات کا بغل او ر پھیکا پڑتا مودی کا جادو…(2)

بدھ 23 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
یعنی اعلیٰ اور کفایتی میڈیکل سہولیات کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ علاج کروانے آتے ہیں۔ مگر خود عوام کی کیا حالت ہے؟ آکسفام کی رپورٹ کے مطابق صحت پر خرچوں کی وجہ سے ملک میں ہر سال 63ملین افراد غریبی کے دائرہ میں چلے جاتے ہیں۔ صرف 11فیصد اسپتال اور 16فیصد پرائمری ہیلتھ سینٹرز میں ہی باضابط علاج و معالجہ کی سہولیات میسر ہیں۔ عوام کے ان سوالات سے عاجز مودی حکومت اپنی زنبیل سے نئے انتخابی حربے نکالنے کی فکر میں ہے۔ حال ہی میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے ہندو اعلیٰ ذاتوں کو لبھانے کیلئے نوکریوں
مزید پڑھیے




عام انتخابات کا بغل او ر پھیکا پڑتا مودی کا جادو

منگل 22 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
حال ہی میںبھارت میں حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جب پانچ صوبائی انتخابات میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، تو کسی نے تبصرہ کیا کہ حالیہ عرصہ میںپہلی بار کشمیر کی برف پوش چوٹیوں سے جنوبی صوبہ تامل ناڈو کے انتہائی کنارے کنہیا کماری تک کا سفر اب بی جے پی کے اقتدار والے صوبوں کو چھوئے بغیر کیا جاسکتا ہے۔ ان صوبوں با لخصوص مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے انتخابی نتائج سے جہاں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مصاحب خاص اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ کی
مزید پڑھیے


سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر

بدھ 16 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
ستم ظریفی یہ ہے کہ پرکاش سنگھ اس وقت بھارت میں پولیس میں اصلاحات اور فورسز میں انسانی حقوق کے تئیں بیدار ی لانے کے بڑے نقیب ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کی ہوئی ہے اور مختلف اخبارات میں پولیس ریفارمز پر لکھتے رہتے ہیں۔ کئی روز بعد دلّی سے مرکزی وزرا مکھن لال فوطیدار،غلام نبی آزاد کانگریس کی ریاستی شاخ کے صدر مرحوم غلام رسول کارکی معیت میں وارد ہوئے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کاوعدہ کیا۔ لیکن سوپور کے باشندوں نے حکومتی امداد قبول نہیں کی، بلکہ عوامی
مزید پڑھیے


سوپور کا قتل عام۔انصاف کا منتظر

منگل 15 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
یوں تو کشمیر میں ماہ جنوری ہر سال کئی خونچکاں یادوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے، جس میں گائو کدل، مگھرمل باغ، ہندوارہ اور برسہلا (ڈوڈہ) میں ہوئے قتل عام شامل ہیں، مگر 6 جنوری1993ء کا دن تجارتی مرکز سوپور کیلئے ایک ایسی قیامت تھی، جو بھلائے بھی نہیں بھلائی جاسکتی۔ دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ دارلحکومت دہلی کے کئی علاقے بھی فسادات کی زد میں آگئے تھے۔ صحافت کے ابتدائی دن تھے۔ سوچا کہ سوپور میں گھر پر والدین کے ساتھ
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت …2

بدھ 09 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
2001ء سے بھارت نے افغانستان میں تقریباًتین بلین ڈالر کی رقوم امداد میں صرف کی ہیں۔ جن میں 290ملین ڈالر ہرات میں واقع سلمہ ڈیم پر، 90ملین ڈالر افغان پارلیمنٹ بلڈنگ کی تعمیر پر اور 135ملین ڈالر دلارام سے ایرانی سرحد زارنج ہائی وے کی تعمیر پر خرچ کئے ہیں۔ اسکے علاوہ پاور ٹرانسمیشن لائن وغیرہ بچھانے پر بھی بھارت نے خاصی رقوم خرچ کی ہیں۔ چونکہ مغربی ممالک کے برعکس بھارت کے فوجی برسرپیکار نہیں ہیں، اسلئے عوام میں ان ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک خیر سگالی تو موجود ہے۔ اسکے علاوہ بھارت ہر سال ایک ہزار افغان
مزید پڑھیے


صدر ٹرمپ، افغانستان اور بھارت

منگل 08 جنوری 2019ء
افتخار گیلانی
افغانستان میں بھارت کے رول اور اسکی ترقیاتی امداد پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے طنزیہ ریمارکس سے ایک ہفتہ قبل ہی بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسربتا رہے تھے کہ توقعات کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی اور ٹرمپ کی یارباشی میں جو گرمیاں اور شوخیاں ایک سال قبل نظر آرہی تھیں ، وہ مفقود ہوگئی ہیں۔ جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوتا ہے کہ خارجہ تعلقات لیڈروںکی ذاتی یا نظریاتی ہم آہنگی سے زیادہ قومی مفادات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وزارت خارجہ کی سال بھر کی کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے اعلیٰ افسر نے فارن
مزید پڑھیے